تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مصر: گزرے سال کا احوال
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 1 رجب 1441هـ - 25 فروری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 21 صفر 1435هـ - 25 دسمبر 2013م KSA 11:15 - GMT 08:15
مصر: گزرے سال کا احوال

 تین سال قبل عرب بہار جسے عرب انقلاب کا بھی نام دیا جاتا ہے، عرب دنیا میں اس وقت متعارف ہوئی جب عرب دنیا کے عوام نے اپنے ممالک میں برسوں سے موجود فوجی آمریت کو ختم کرنے کیلئے ٹھان لی۔

اس قسم کے انقلابات کا آغاز پہلے تیونس پھر مصر میں ہوا۔مصر میں عرب بہار کے انقلاب نے حسنی مبارک کو استعفا دینے پر مجبور کردیا جو ایک طویل عرصے سے مصر پر فوجی آمر کی حیثیت سے بلا شرکت غیرے حکومت کر رہے تھے۔

اس وقت جبکہ 2013ء اختتام پذیر ہے، مصر میں حالات نئی کروٹ لے رہے ہیں۔ مصریوں کو دوبارہ کہا جا رہا ہے کہ جنوری کے وسط میں وہ ایک ایسے نئے آئین کے حق میں ووٹ دیں جس کے تحت مذہب، صنف، ذات اور رنگ سے قطع نظر، تمام مصریوں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

اس کے بعد چھ ماہ بعد وہ ایک نئے صدر اور پارلیمان کا انتخاب کریں گے۔ مصر میں منعقد کیے گئے مختلف جائزوں کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ مصریوں کی اکثریت مصری فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتح ایسیسی کو ملک کا سربراہ دیکھنا چاہتی ہے۔

اب تقریباً تین تکلیف دہ اور پریشان کن برس گزر چکے ہیں کہ جب ملک حسنی مبارک کی آہنی گرفت سے آزاد ہوا تھا لیکن مصریوں نے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ۔ان کا کہنا ہے کہ اس وقت گزشتہ سال کی نسبت سیاسی منظرنامہ غیریقینی ہے جب محمد مرسی نے ایک ریفرینڈم کے ذریعے غیرمعمولی اختیارات حاصل کر لیے تھے۔

پھر کچھ عرصے بعد مرسی کے حامیوں اور ان کے مخالفین کے درمیان متشدد کارروائیوں کا آغاز ہو گیا تھا جنہوں نے صدارتی محل پر حملہ کیا۔

روشن خیال، جنہوں نے اس امید پر اخوان المسلمون کو ووٹ دیے تھے کہ حسنی مبارک کے بعد انہیں ایک ایسا متبادل امیدوار میسر ہو گا جوان کے ساتھ روداری اور برابری کا سلوک کرے گا، سخت مایوس ہوئے۔

جب محمد مرسی برسراقتدار آئے تو انہیںیہ خدشہ پریشان کرنے لگا کہ ان کا صدر ایک ایسی بین الاقوامی اسلامی تنظیم کا وفادار ہے جو اب تک دنیا کے ساٹھ سے زیادہ ممالک میں اپنے نقوش جما چکی ہے۔

جنوری کے آخر تک مرسی نے ہنگامی حالات نافذ کر دی جسے ہزاروں مظاہرین نے مسترد کر دیا۔ پھر فوج کی طرف سے خبردارکیے جانے کے باوجود مرسی نے حالات درست کرنے کی طر ف توجہ نہ دی اور بالآخر فوج نے محمدمرسی کی حکوت کاتختہ الٹ دیا اور ایک عبوری حکومت قائم کر دی گئی ۔

مارچ تک مصر میں ملک کی معاشی حالت اس قدر پتلی ہو چکی تھی کہ ملک کا دوسرا دولت مند ترین شخص نجیب سواریس، اپنے اثاثوں کی حفاظت کے متعلق سوچنے لگا۔

اس کا کہنا تھا کہ مصر میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ان حالا ت کے متراد ف ہے جب فاشسٹ اٹلی میں مسولینی کا عروج تھا۔ اپریل کے مہینے میں مصر کے سیاسی اور معاشی حالا ت بہت ہی بگڑ چکے تھے۔ مئی کے مہینے میں عوام کا دامن کسی بھی امید سے خالی ہو چکا تھا اور مایوسی ان پر چھا رہی تھی۔

بہرحال، مصری فوج نے حالات کی سنگینی دیکھتے ہوئے حکومت پر قبضہ کر لیا اور مرسی کو جیل بھیج دیا۔ اس وقت مصری حیران رہ گئے جب امریکیوں نے مصر میں عبوری حکوت اور فوج کی مخالفت کر دی جس کے باعث اس سازش کی تصدیق ہو گئی کہ امریکہ اور اخوان المسلمون کے درمیان ایک خفیہ معاہد ہ موجود تھا۔

اکتوبر میں امریکہ نے مصر کی فوجی اور معاشی امداد بند کرنے کا اعلان کیا جس کے باعث مصر، ماسکو کے قریب ہو گیا۔ سعودی عرب،کویت اور متحدہ عرب امارات نے فوجی اقدام اور عبوری حکومت کے قیام کی حمایت کی اور مصر کو کروڑوں ڈالر کی امداد دی۔
چونکہ قطر اور ترکی کی طرف سے اخوان المسلمون کے لیے ہمدردانہ رویہ اپنایا گیا تھا، اس لیے ان دونوں ممالک کے ساتھ مصر کے تعلقات بگڑ گئے۔

آج مصر میں اخوان المسلمون اپنی بقاکی جنگ میں مصروف ہے۔ اس کے قائدین یا تو قید میں ہیں یا پھر وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے زیرزمین چلے گئے ہیں۔

اب تو جمعہ کی نمازوں میں بھی اخوان المسلموں کے حامی کچھ زیادہ نظر نہیں آتے۔ محمد مرسی کو عدالتوں میں مختلف الزاما ت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس اثنا میں امریکہ کی سینٹ نے ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت مصر کو مکمل امریکی امداد بحال کر دی گئی ہے جبکہ کئی ممالک نے مصر کے سفر پر عائد پابندیاں اٹھالی ہیں جو مصر کے سیاحت کے شعبے کے لیے نیک شگون ہے۔ مصر کا مستقبل اگرچہ پریشان کن نظر آتا ہے لیکن امکان ہے کہ 2014ء میں امیدوں کے چراغ روشن ہوں گے۔

بشکریہ روزنامہ"نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند