تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
قیامِ امن میں خواتین کا کردار
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 22 صفر 1435هـ - 26 دسمبر 2013م KSA 07:10 - GMT 04:10
قیامِ امن میں خواتین کا کردار

انگریز فلسفی ہابز کہتا ہے کہ انسان فطری طور پر ایک خونخوار بھیڑیا ہے مگر تہذیب کے ملمع نے اس کی فطرت کی جارحیت کو چھپا رکھا ہے۔ ہزاروں کروڑوں سال بیت گئے، علم و شعور کی کئی منزلیں طے ہو چکیں، ادراک اور آگہی کے کئی جہان دریافت کئے جا چکے، زمین کا ذرہ ذرہ ذہن کی لیبارٹری سے گزر چکا مگر سمندر کی تہوں سے سات آسمان تلک رسائی کا علمبردار انسان ابھی تک خود اپنے آپ کو معلوم نہیں کر سکا یعنی وہ فطرت میں موجود شر اور تخریب پر قابو پا کر خیر کی علامت نہیں بن سکا۔ اسے کائنات آشنائی کا شرف حاصل ہے مگر اپنی ذات، اپنے دل اور اپنے ذہن کے حوالے سے وہ تشکیک اور بیگانگی کا شکار ہے۔ خواہشوں، آرزوئوں اور آدرشوں کے بھیس میں حملہ آور ہونے والی جبلت اس کے امتیازی وصف، عقلی اور روحانی اہلیت کو بھی بے بس کر دیتی ہے۔ ہر کوئی ایک آدم کی اولاد ہونے کا اقرار تو کرتا ہے مگر ایک ہونے کی طرف پیش قدمی نہیں کرتا۔

ابھی تک رنگ، نسل، قوم، قبیلے، فرقے اور عقیدے کے تعصبات سے اس کی نظروں کا آئینہ دھندلا ہے۔ وہ عقل اور وِجدان کی روشنی سے اس دھند کو مٹانے کی تدبیر اور اپنی بصیرت کو استعمال کرنے کے بجائے اندھے عقائد کی انگلی پکڑے مزید اندھیروں کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔ ابھی تک وہ تعمیر اور تخریب میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے قابل نہیں ہو سکا۔ وہ علم کی طاقت کے بجائے ہتھیاروں کی دہشت پر ناز کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کی پوری تاریخ فتح و شکست، عروج و زوال اور جنگوں کے عالی شان بیان سے آراستہ ہے جس میں مالِ غنیمت، قتل و غارت اور حیوانیت کے مظاہرے کے خاص تذکرے ہیں مگر زمانۂ امن میں ہونے والی معاشی، سماجی، ثقافتی اور ادبی ترقی سمیت امن اور نیکی کا کہیں کوئی پرچار نہیں یعنی تاریخ امن کے بجائے جنگ کے زمانوں کا احاطہ کرتی ہے جس طرح نفسیات میں مثبت کے بجائے منفی پہلوئوں پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔

شاید اس رجحان کے باعث انسان کا مزاج ہی اچھائی کے بجائے برائی کی طرف زیادہ مائل نظر آتا ہے اور کسی بھی نامور انسان کی زندگی بھر کی اچھائی کو یاد کرنے کے بجائے اس کی چھوٹی سی کوتاہی اس کا تعارف بن جاتی ہے۔ مادی و معاشی مفادات بھی اپنی جگہ اہم مگر ملکیت کا احساس اور تعصب انسان کو دوسروں کو غلام بنانے اور لوٹ مار پر مائل کرتا ہے۔ آج بھی حضرت اشرف المخلوقات عقل کے بجائے جبلت کے مطیع ہیں، اگرچہ جدید دور کی ترقی نے اس کے رویوں کو مختلف معنی عطا کر دیئے ہیں اور اس کے اظہار کے طریقے بھی مختلف ہیں مگر نتیجہ وہی ہے بلکہ پہلے سے زیادہ بھیانک ہے۔ کسی ایک علاقے، ملک یا براعظم میں بدامنی سے اب صرف وہاں کے باشندے متاثر نہیں ہوتے بلکہ پوری دنیا متاثر ہوتی ہے کیوں کہ تجارتی، ثقافتی، سماجی اور سیاسی رابطے بھی مجروح ہوتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ اور رسل و رسائل کی سہولتوں نے زمینی فاصلوں کو ختم کر کے دنیا کو ایک گلوبل ولیج میں تبدیل کر دیا ہے جہاں کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک سے مکمل طور پر لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ کائنات کے اس بڑے سے گائوں کے ایک چھوٹے سے محلے برصغیر میں دو ملک آباد ہیں جن میں تہذیب و ثقافت کے حوالے سے کئی سانجھی قدریں موجود ہیں اس کے باوجود وہ کبھی اچھے ہمسائے نہیں بن سکے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تقسیم کے وقت چاکلیٹ کیک کاٹنے کی رسم ہوتی اور یہ عہد کیا جاتا کہ اگر ایک گھر میں مل کر نہیں رہ سکے تو الگ الگ گھروں میں خود بھی سکون سے رہیں گے اور دوسروں کو بھی بے چین نہیں کریں گے مگر ایسا نہ ہو سکا۔

دشمنی اور نفرت کی فضا پیدا کرنے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی اور اس کی آڑ میں دونوں کے وسائل چوری ہوتے رہے اور تجوریاں سود کے قرضوں سے مصنوعی طور پر سجتی رہیں مگر دوستی اور اچھی ہمسائیگی کے کھیت میں پھولوں کی فصل کی کاشت کو انا کا مسئلہ بنا کر ٹالا جاتا رہا۔ عالمی طور پر دنیا میں قیامِ امن کے حوالے سے خواتین کے کردار کی بات کریں تو پہلی مثبت بات تو یہ ہے کہ عورت فطرتاً صلح جو اور نرم دِل مخلوق ہے۔ اس کی اپنی اولاد کی محبت اور بقا جہان کی سلامتی کے ساتھ مشروط ہوتی ہے اس لئے وہ دنیا میں امن کی خواہاں ہوتی ہے۔ آج بھی دونوں ملکوں کے عوام دوستی کے خواہاں ہیں اور اپنے بیٹوں کی سلامتی کے پیشِ نظر عورتیں یعنی مائیں اس دوستی کے لئے زیادہ متحرک دکھائی دیتی ہیں۔ دونوں ملکوں کی خواتین لکھاری اپنی شاعری اور نثر میں پرانی رنجشوں کو بھلا کر اور اختلافات کو باہمی مشاورت سے طے کرنے کے مشورے کے ساتھ نئے سفر کے آغاز کی نوید دیتی نظر آتی ہیں۔ دونوں ملکوں کی فلموں اور ڈراموں میں بھی دشمنی کے مناظر کے بجائے دوستی کی بات کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

عالمی امن کو ذہن میں رکھیں تو یہ بات تسلیم کرنی پڑے گی کہ دنیا کے عظیم دانشوروں، محققین اور فلسفیوں کی علمی بصیرت اور دانشمندی انسان کی فطرت کو خیر کی طرف مبذول کرنے کی سعی میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکی۔ تربیت اور تعلیم کی آماجگاہیں انسان کو تہذیب اور امن کا داعی بنانے کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کر سکیں۔ افلاطون کی یوٹوپیا کی آرزو قتل ہو چکی تو صرف ایک ہی درسگاہ، ایک ہی ہستی باقی رہ جاتی ہے جو ماں کی ہستی ہے، جو اپنے وجود میں اک نئے وجود کی تخلیق کرتی ہے۔ اب اسے ہی انسان کی فطرت کو خیر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ میں پاکستان اور ہندوستان کی مائوں سے التجا کرتی ہوں کہ وہ اپنے بچوں کی پرورش میں کسی تعصب کو پروان نہ چڑھائیں، انہیں یہ سبق نہ دیں کہ پاکستان یا ہندوستان ان کا دشمن ملک ہے انہیں آزاد فضا میں بڑا ہونے دیں۔ ان میں چیتے اور شیر کی صفات پیدا کرنے کے بجائے انسانیت کی مثبت قدروں کو اجاگر کریں۔ صرف یہی صورت ہے کہ وہ بڑے ہو کر اچھے انسان بن سکیں۔ وہ اچھے انسان بن گئے تو وہ اچھے ہمسائے بنیں گے،اس ہمسائیگی کے مثبت نتائج کا اثر پوری دنیا پر ہو گا۔ (ورلڈ پنجابی کانگریس کی طرف سے منعقدہ امن کانفرنس میں پڑھا گیا)

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند