تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاک ترک دوستی کیوں؟ ایک اہم نکتہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 23 صفر 1435هـ - 27 دسمبر 2013م KSA 07:34 - GMT 04:34
پاک ترک دوستی کیوں؟ ایک اہم نکتہ

میں جو نکتہ اب بیان کرنا چاہتا ہوں، وہ ایسا تو نہیں ہے جو رومی ورازی کے بس کی بات نہ ہو، بس عام سی بات ہے ، مگر اہم اور معنی خیز ہے۔ میں اس بات پر آپ کے ساتھ مل کر، اس پر غور کرنا چاہتا ہوں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ شریف برادران کی حکومت کا رجحان ترکی کی طرف ہے سعودی عرب کی طرف نہیں۔ یہ بھی ایک علامتی سوال پوچھا ہے۔ آگے چل کر اس میں ذرا پھیلائو آجائے گا۔

عام اندازہ یہ تھا اور مسلم لیگ کے کارکن اس بات کو عام کرتے دکھائی دیتے تھے کہ بس ہماری حکومت آئی اور میاں صاحب سیدھے عمرہ کرنے سعودی عرب پہنچے اور وہاں سے یہ نوید لے کر آئے کہ ہمیں قرض پر تیل کی رسد جاری ہوگئی ہے۔ اب ہم اس مفت کے تیل سے دھڑا دھڑ بجلی پیدا کریں گے، پھر دیکھتے ہیں لوڈشیڈنگ کیسے رفوچکر نہیں ہوتی۔ ایک خبر یہ بھی اڑائی گئی تھی کہ وہاں سے پندرہ ارب ڈالر کا ایک پیکیج بھی ملنے والا ہے ۔سچ مچ یہ خبر پارٹی کے اچھے اچھے لوگ اڑا رہے تھے۔ اس پر پہلا سرکاری ردّعمل اس وقت آیا جب یہ باضابطہ اعلان سامنے آیا کہ میاں صاحب فوری طور پر عمرے کے لئے نہیں جا رہے، وہ رمضان کے آخری عشرے میں حسب معمول حرمین شریفین جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ میرے جیسے ’’نکتہ سنجوں ‘‘ نے اس پر یہ تجزیہ داغ دیا کہ میاں صاحب یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ وہ روایتی طور پر امریکی کیمپ کی طرف جھکائو رکھتے ہیں۔ وہ پہلے چین گئے ہیں اور وہاں سے بڑی بڑی خبریں لائے ہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ہماری آئندہ حکمت عملی کیا ہو سکتی ہے۔ اس دوران جان کیری بھی اردگرد کے ممالک کا دورہ کرکے واپس لوٹ گئے۔ البتہ برطانیہ کے وزیراعظم نے پاکستان کا دورہ ضرور کیا اور ہمارے حق میں کلمہ خیر بھی کہا۔ پھر جان کیری بھی آئے اور روکھے سوکھے چلے گئے۔ ان کے اعزاز میں کوئی ضیافت دیئے بغیر میاں صاحب انہیں اکیلا چھوڑ کر عمرے کے لئے روانہ ہوگئے۔

اب یہ سب تاریخ کا حصہ ہے کہ میاں صاحب دوبار امریکہ گئے۔ پہلی بار اقوام متحدہ کے دورے پر ، دوسری بار سرکاری دورے پر۔ اس کے اثرات پر بھی بات ہوتی رہتی ہے۔ تاثر دیا گیا کہ کچھ برف بھی پگھلی ہے اور بعض باتیں طے بھی ہوئی ہیں۔ وہاں میاں صاحب نے ایک اہم بات کہی کہ میں نے اوباما کو بتا دیا ہے کہ ہمیں ایڈ کی نہیں ٹریڈ کی ضرورت ہے، ہم امداد نہیں چاہتے، تجارت اور سرمایہ کاری چاہتے ہیں۔ یہ ایک اصولی بات تھی، مگر امریکہ کے معاملے میں اس کا اظہار کھلم کھلا نہ ہو رہا تھا۔ یہ پتا چل رہا تھا کہ تمام عالمی ادارے اور امریکہ کے سارے وابستگان ہمارے بارے میں گداز ہوئے ہیں حتیٰ کہ یورپی یونین نے ہم پر نظر کرم کی اور ہم نے بھی اس کے خوب گن گائے۔

میں چاہوں تو اپنی بات کو یہیں پر ایک بامعانی مقام پر پہنچا کر نکتہ آفرینی کر دوں، مگر ڈر ہے اس میں بڑی اہم کمی رہ جائے گی۔ یاد ہے، نواز شریف کے پہلے ادوار میں ان کا رول ماڈل سنگا پور تھا۔ اس کے بعد وہ ملائشیا اور کوریا کی تعریف کرتے تھے۔ مہاتیر محمد ان دنوں ایک اونچے مقام پر تھے، ان کا ذکر ہوتا۔ کوریا سے ہم نے موٹر وے کا منصوبہ بنوایا اور پیلی ٹیکسیوں کا سودا کیا۔ اور بھی بہت کچھ ہونے والا تھا کہ ہمارے ہاں شور مچنا شروع ہو گیا کہ دیکھو، کیا لین دین ہو رہاہے۔ یہ ہماری ہی عادت نہیں عالمی سطح پر سرکاری تجارت میں یہ شور عام طور پر اٹھ ہی آتا ہے۔ اس لئے فی الحال ہم اس سے صرف نظر کرتے ہیں۔ اس بار مگرنواز شریف نے ادھر جانے کے بجائے ترکی کا رخ کیا۔ شہباز شریف پہلے ہی اس کی بنیاد رکھ چکے تھے۔ میٹرو بس اور ویسٹ مینجمنٹ میں ترکی کی مدد حاصل کر چکے تھے۔ ان کے ساتھ ان کے سب منصوبے کامیاب ہوئے تھے، البتہ پیپلزپارٹی کی وفاتی حکومت کے ساتھ رینٹل پاور کے منصوبے پر کئی سوال اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ ایسا مشرف کے زمانے میں بھی ہوا تھا جب ایم ون یعنی اسلام آباد، پشاور موٹر وے کی تعمیر کا ٹھیکا جو ترکی کی ایک فرم کو دیا گیا تھا، کینسل کر دیا گیا تھا۔

نواز شریف دس سال سے زیادہ عرصہ اقتدار سے باہر رہے۔ وہ واپس آئے تو ترکی میں ایک انقلاب آچکا تھا۔ ترکی دس سال کے اندر اندر اتنی بڑی معاشی اورصنعتی طاقت بن چکا تھا کہ اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اسے عالم اسلام میں ایک رول ماڈل کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ ترکی میں یہ جو حکومت تھی، یہ اسلامی نظریات کی حامل تھی، مگر ان کا اسلام اعتدال پسند اسلام شمار کیا جاتا تھا، وہ یورپی یونین میں شمولیت کے بھی حامی تھے، امریکہ کے بھی حلیف تھے، کسی پھڈے میں ٹانگ اڑائے بغیر وہ استقامت کے ساتھ آگے بڑھتے جا رہے تھے۔ القاعدہ سے ڈری ہوئی دنیا یہ بتا رہی تھی کہ دیکھو اسلام ہو تو ایسا ہو۔ اس کی معاشی ترقی نے ا نہیں یہ بھی سمجھا دیا تھا کہ مذہبی ہونے کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنے ملک کی اقتصادی ترقی اور عوام کی معاشی فلاح کو نظر انداز کر دیں۔ اب ترکی اسرائیل کو بھی چیلنج کرنے لگا تھا۔ اس نے ایشیا کی طرف بھی دیکھنا شروع کر دیا تھا۔ اور ایک رول ماڈل کے طور پر اسلامی دنیا میں وہ ہر ملک سے بڑھ گیا تھا۔ اب مہاتیر محمد نہیں طیب اردوان کے نام کی مالا جپی جا رہی تھی۔

بات کو آگے بڑھانے سے پہلے، میں اس نکتے کی طرف اشارہ کرتا جائوں جس کو میں نے ابتدا میں ذرا پر اسرار انداز میں اٹھایا ہے۔ وہ یہ کہ سعودی عرب کے بجائے اس بار ہمارا رخ ترکی کی طرف کیوں ہے۔ یہ کوئی انہونی بات بھی نہیں۔ پاکستان ایران کے ساتھ ترکی کا اتحادی رہا ہے۔ اس حد تک کہ ایک زمانے میں عالم عرب اس حوالے سے ہم سے ناراض تھا۔ ہم تینوں اس خطے کے غیر عرب ممالک تھے۔ اس اثناء میں سیاست بہت بدل گئی۔ ایران نے ذرا الگ راستہ اختیار کیا۔ یوں لگتا تھا کہ عرب و عجم میں سے آپ کو کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا۔ ایران یا سعودی عرب۔ اس مسئلے کے کئی نازک پہلو بھی تھے۔ ہم اس سے خود کو بچانا بھی چاہتے تھے اور اس کشمکش کا فائدہ بھی اٹھانا چاہتے تھے۔ بوجوہ سعودی عرب ہمارے خاصا قریب آیا اور ہم یہ کہنے لگے کہ سعودی عرب اور چین ہمارے دو ایسے دوست ہیں جو نفع و نقصان سے ماورا ہو کر ہمارے ساتھ ہیں۔ سعودی عرب کا شمار ہمارے ایسے برادر اسلامی ملک میں ہوتاتھا بلکہ ہے جو ہمارے لئے یک جان دو قالب ہے۔ خاص طور پر ہمارے ایٹمی پروگرام کے بعد سعودی مدد کا ہر کوئی مداح ہے۔ وہ ہمارے معاملات میں ایسے دخیل رہے ہیں کہ نواز شریف کو انہوں نے آمریت کے چنگل سے چھڑا کر اپنے ہاں مہمان رکھا۔

اس پر اور بھی کئی ذیلی تجزیے ہیں ۔ عرب کا کون سا ملک زرداری صاحب کے قریب تھا اور کون سا شریف برادران کے؟ ان دنوں مگر یہ سوال پوچھا جا رہا تھا کیا نواز شریف اور سعودی حکمران کھچے کھچے سے ہیں۔ میاں صاحب کے دل میں کوئی ناراضی ہے یا سعودی فرمانروا کے وہاں کوئی ذہنی کھچائو پیدا ہوگیا ہے۔ یہ تو خیر خدا جانے، مگر ایک بات میاں صاحب کی طرف سے شاہ عبداللہ کی ملاقات کے بعد بھی اسی طرح سامنے آئی جس طرح اوباما کی ملاقات کے بعد سامنے آئی تھی کہ ہمیں ایڈ نہیں ٹریڈ چاہئے۔

تو عرض یہ کرنا ہے سعودی عرب کے ساتھ تو ہمارا قومی ایجنڈا ایڈ کا ہے۔ قرض کے نام پر مفت تیل لے لو،یا کوئی مالی معاونت حاصل کر لو۔ اس سے ٹریڈ یا سرمایہ کاری یا اس سے بڑھ کرصنعت سازی میں مدد کی توقع نہیں کرنا چاہئے۔ برادر ممالک میں اس وقت ترکی کی طرف ہمارے جھکائو کا مقصد یہ دکھائی دیتا ہے کہ ہم ترکی کے پرائیویٹ سیکٹر کی پاکستان میں سرمایہ کاری چاہتے ہیں۔ اب ترکی اس قابل ہے کہ اس کا نجی شعبہ اتنا سرمایہ بھی رکھتا ہے اور تکنیکی مہارت بھی کہ وہ ہمیں صنعتی دور میں داخل ہونے کے لئے ہماری مدد کر سکے۔ دیکھئے، اس وقت ہمارے ہاں آزاد معیشت کا کلچر رائج کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ڈائیوو کے آنے کے بعد ہمارے سفر کا کلچر بدلا، اسی طرح میٹرو بس یا ویسٹ مینجمنٹ نے ہمیں بتایا کہ یہ کام بہتر انداز میں کیسے ہو سکتے ہیں۔ بڑی ٹیکنالوجی کی تو بات چھوڑئیے۔ یہ بات شاید سعودی عرب سے ممکن نہ ہو۔ اس نے ہمارے ایک ادارے میں سرمایہ کاری تو کی، مگر کارپوریٹ کلچر نہ ہونے کی وجہ سے یہ ثمر آور نہ ہو سکا۔

اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم سعودی عرب سے دور ہو جائیں گے یا بس اس کی ضرورت نہیں ہے۔ایسا نہیں ہے ۔ویسے بھی خطے کی صورت حال بہت بدل رہی ہے۔ ہمارے سارے ہی روایتی اور پرانے تعلقات اہم ہیں۔ ان پر از سر نو نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
چلتے چلتے، ایک بات عرض کرتا چلوں، اسے پس تحریر ہی سمجھئے۔ ترکی میں جو حالیہ ہنگامے ہو رہے ہیں، اس پر ایک غیر ملکی ٹی وی نے مجھ سے پوچھا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے حکمرانوں کی موجودہ ترک حکمرانوں سے دوستی کو ذاتی دوستی سمجھا جائے اور ترکی میں اگر کوئی تبدیلی آئے تو اس کا ہمیں نقصان ہو۔ میں نے عرض کیا کہ سعودی عرب، چین کے ساتھ ترکی بھی ایسا ملک ہے جس کے بارے میں ہم اس طرح نہیں سوچتے۔ ہماری دوستی کی جڑیں تاریخ میں پیوست ہیں۔

رہا ترکی کی صورت حال کا معاملہ تو اس پر کبھی الگ سے گفتگو کروں گا۔ فی الحال یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ترک ماڈل اپنانے کا مطلب صرف یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم اسلام کا معتدل ماڈل اپنانا چاہتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم نے گلوبل کیپٹل ازم کا راستہ منتخب کیا ہے۔ ہمارے موجودہ حکمران یہی مزاج رکھتے ہیں۔ ان کی پالیسیاں بھی یہی بتاتی ہیں۔ اس کے مضمرات سے ہمیں آگاہ رہنا چاہئے۔ اس کی خامیاں اور اچھائیاں دونوں پیش نظر رہیں تو اچھا ہے۔ اس وقت میں صرف یہ کہوں گا کہ ہمیں اندازہ ہو جانا چاہئے کہ ہم کدھر جا رہے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ"نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند