تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2021

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاک بھارت ڈائریکٹر جنرلز ملٹری آپریشنز کی ملاقات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 5 جمادی الثانی 1442هـ - 19 جنوری 2021م
آخری اشاعت: ہفتہ 24 صفر 1435هـ - 28 دسمبر 2013م KSA 08:49 - GMT 05:49
پاک بھارت ڈائریکٹر جنرلز ملٹری آپریشنز کی ملاقات

حال ہی میں پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرلز ملٹری آپریشنز کی طویل ملاقاتیں ہوئیں۔ طویل عرصے کے بعد ہونے والی اس ملاقات کو نہایت خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔ یہ ملاقات بھی پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن کی دعوت پر ہوئی تھی لیکن بھارت کی طرف سے اس پر رضا مندی کا اظہار ہی نیک شگون ہے۔

ورنہ بھارت کی طرف سے صرف زہریلے پروپیگنڈے، الزامات اور شکایتوں کے علاوہ کچھ موصول نہیں ہوتا۔ بھارت کی طرف سے چاہے میڈیا ہو یا سرکاری ادارے، سیاست دان ہوں یا مذہبی رہنما غرضیکہ فن کاروں کے علاوہ سب ہی کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ کر پاکستان کے خلاف کچھ کہنے اور کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانتے دیتے لیکن اس ملاقات سے برف پگھلتی دکھائی دینے لگی ہے۔ سرد مہری میں کچھ کمی اور اپنائیت میں کچھ گرمی محسوس کی جا رہی ہے۔

اس پر بھارتی وزیر خارجہ کا بیان سونے پر سہاگہ کہ بھارت کے پاس پاکستان سے مذاکرات کے علاوہ اور کوئی راستہ ہے ہی نہیں۔ ان تمام شواہد کی موجودگی باد بہار کی آمد کی اطلاع دے رہی ہے اور وزیراعظم پاکستان کے چند روز پہلے والے بیان جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت، پاکستان اور افغانستان کے پاس دوستی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے کی تھوڑی تھوڑی سمجھ بھارتی رہنماؤں کو بھی آنے لگی ہے۔ اس کے بعد پنجاب پاکستان کے وزیراعلیٰ کا دورہ پنجاب بھارت بھی اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ ان حالات میں فوجی افسران کی ملاقات نے اچھا سماں پیدا کیا ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو کہ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب بستے ہیں وہ بنیادی طور پر کشمیری ہیں اور لائن آف کنٹرول وہ علاقہ ہے جہاں پر دونوں ممالک کی افواج 1971ء کی جنگ میں فائر بندی کے وقت موجود تھیں۔ اس سے پہلے کہ اس ملاقات کی تفصیلات اور مضمرات پر بات کی جائے، اس ملاقات کے نتیجے میں ہونے والے فیصلوں پر بات کر لی جائے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ملاقات میں نہ تو کوئی نیا فیصلہ ہوا ہے اور نہ ہی نئی بات۔ صرف پرانی ملاقاتوں کا اعادہ ہوا ہے اور ان میں ہونے والے فیصلوں کی تصدیق و تائید کے علاوہ اہم بات یہ ہے کہ ان پر عمل کرنے کے عہدو پیماں ہوئے ہیں۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف پھر بھی کشمیری خوش ہیں کہ اس سے ان کے حالات معمول پر آئیں گے، امن ہو گا اور وہ اپنی زندگی سکون سے گزاریں گے۔ اسی لیے اس ملاقات کو ’’پرامن تبادلہ خیالات اور حالات کو معمول پر لانے کے لیے سنگ میل‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس ملاقات میں طے پایا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کے معاہدے پر عمل کیا جائے گا۔ معمولی واقعات پر اس معاہدے کو توڑا نہیں جائے گا اور شکایت کی صورت پر آپس میں بات کی جائے گی اور مسائل کو حل کیا جائے گا اور کسی صورت میں حالات کو خراب ہونے سے اجتناب کیا جائے گا۔ وہ لوگ جو دونوں ممالک میں کسی بھی جرم میں ملوث پاکر سزا یافتہ ہوئے انہیں سزائیں بھگتنے کے بعد رہا کر دیا جائے گا اور غیر ضروری طور پر جیلوں میں نہیں رکھا جائے گا۔ غلطی سے لائن آف کنٹرول عبور کرنے والوں کو رہا کر دیا جائے گا اور واپس اپنے اپنے علاقے میں بھیج دیا جائے گا۔ یہ وہ تمام نقات ہیں جن پر پہلے سے مفاہمت موجود ہے لیکن کسی نہ کسی وجہ سے حالات خراب ہوتے ہیں اور ان پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ اس دفعہ ملاقات کی خاص بات یہ ہے کہ ہر دو فریقین کی جانب سے وہ معاملات نہیں اٹھائے گئے جن کی وجہ سے حالات خراب ہوتے ہیں۔ ان میں ممبئی کے واقعات وغیرہ شامل ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریقین اب آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ دونوں طرف سے اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ ’’ہاٹ لائن‘‘ قائم رکھی جائے گی اور اس کا عملی طور پر مسائل کو حل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ملاقات مثبت طریقے سے ختم ہوئی۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے رینجرز اور بارڈر سکیورٹی فورس کے افسران کی بھی ملاقاتیں ہوئیں اور ان ملاقاتوں کو مزید آگے بڑھانے اور جاری رکھنے پر بھی اتفاق ہوا۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ لائن آف کنٹرول پر ہر دو فریقین کی فلیگ میٹنگ بھی دوبارہ سے کی جائیں گی۔ فلیگ میٹنگ لائن آف کنٹرول پر تعینات فوجی دستوں کے کمانڈرز کرتے ہیں اور معمولی نوعیت کے مسائل کو مقامی طور پر ہی حل کر لیتے ہیں گویا کہ وہ تمام امور جو کہ ایک دہائی سے زائد عرصہ سے تعطل کا شکار تھے اب رواں ہو چکے ہیں۔

پاک بھارت تعلقات میں لائن آف کنٹرول پر ہونے والے واقعات بہت اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا اثر دونوں ممالک کے اعلیٰ ترین پالیسی سطح پر ہونے والے فیصلوں کو متاثر کرتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی طرف سے الزام ہے کہ بھارت نے 416دفعہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی جبکہ بھارت کی طرف سے الزام ہے کہ پاکستان نے 150 دفعہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی۔ انہی واقعات کی وجہ سے پاک بھارت مذاکرات دوبارہ جاری نہ ہو سکے جو کہ آج تک منقطع ہیں۔ اگرچہ پاک بھارت سربراہی ملاقات امریکہ میں ضرور ہوئی لیکن دونوں سربراہان کوشش کے باوجود ایک دوسرے کے ممالک کے دورے نہ کر سکے۔ گرم سرد بیانات کا سلسلہ تو روز کی بات رہی ہے لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ صورت حال میں تبدیلی متوقع ہے اور اس ملاقات کے بعد سلسلہ آگے بڑے گا۔ ماضی قریب میں بھی سیاسی سطح کے مذاکرات ہوئے تھے۔ ان مذاکرات میں بڑے بڑے فیصلے ہوئے تھے۔ خاص طور پر تاجروں کے لیے ویزوں میں سہولت، تجارت میں بہتری وغیرہ وغیرہ لیکن یہ خواب ادھورے ہی رہ گئے۔ بعض دفعہ تو کھلاڑیوں کی ٹیمیں اپنے بیگ اور سامان باندھ کر انتظار میں بیٹھیں رہیں، تاریخیں گزر گئیں اور ویزے موصول نہ ہوئے۔ خاص طور پر بارڈر پر ویزوں کے اجرا کی سکیمیں تشنۂ تکمیل ہی رہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان چلنے والی بسیں آج بھی مسافروں کی تلاش میں ہیں۔ دیگر ذرائع آمد و رفت بھی اتنے کم ہیں کہ مسافروں کو کئی کئی ماہ لگ جاتے ہیں حالانکہ اس طرح کے پڑوسیوں کے ہاں آنے جانے کی اتنی سہولت ہوتی ہے کہ لوگ ایک دن میں دوسرے ملک سے اپنا کام کر کے واپس آ جاتے ہیں۔ یورپی ممالک میں سڑکوں، ٹرینوں اور گاڑیوں میں سفر کرتے ہوئے یہ اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ کب جرمنی سے نکل کر بیلجیم میں داخل ہو گئے اور پھر باتوں باتوں میں فرانس بھی پہنچ گئے۔ یہاں تو لاہور سے امر تسر کا سفر صدیوں کا سفر ہونے کے ساتھ ساتھ شدید تکلیف دہ اور انتظار سے بھرپور ہوتا ہے۔

اب جبکہ دونوں ممالک نے ایک اچھا آغاز کیا ہے، تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ماضی کے تلخ واقعات کو بھلانے کی ٹھان لی ہے اور خاص طور پر اس اہمیت کو سمجھ لیا ہے کہ ہر دو طرف سے تناؤ دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں ہے۔ تو اب اس جذبے کو تیزی سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دونوں ممالک کے فوجی افسران نے جو ملاقات کی ہے وہ دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں ہے لیکن یہ ملاقات فوجی افسروں کی ملاقات تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ اس کو سول افسران اور خاص طور پر وزارت اور وزارت عظمیٰ کی سطح پر لے جانے کی ضرورت ہے تا کہ حالات کو تیزی سے بہتری کی طرف لایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کو بنیادی مسائل کو حل کرنے کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے کیونکہ جب تک بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے ہر قسم کے مذاکرات، انتظامات وقتی ہوں گے۔ اس امر کا تجربہ دونوں ممالک بارہا کر چکے ہیں۔ فوجی افسران کی ملاقاتیں بھی بڑی پرانی ہیں حتیٰ کہ یہ ملاقاتیں اعلیٰ ترین سطح تک ہونے کے باوجود بھی مثبت نتائج حاصل نہیں کیے جا سکے۔ پاک تعلقات میں منزل پانے کے لیے دونوں طرف سے اپنے اپنے مؤقف کو حالات کے تحت لانے کی ضرورت ہے۔ اس سے معاملات آگے بڑھ سکیں گے۔ فوجی افسران کی اس ملاقات کو مزید مثبت اور بامعنی بنانا ہی اچھے مستقبل کی ضمانت ہے۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند