تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
خطباتِ گڑھی خدا بخش!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 25 صفر 1435هـ - 29 دسمبر 2013م KSA 07:43 - GMT 04:43
خطباتِ گڑھی خدا بخش!

 محترمہ بے نظیر بھٹو کی چھٹی برسی پر گڑھی خدا بخش میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کی تقاریر سے چار باتیں تو کھل کر سامنے آ گئیں۔ ایک یہ کہ ذوالفقار علی بھٹو کا جواں سال نواسا اور بے نظیر بھٹو کا ہونہار بیٹا لندن کی عالی نسب درس گاہوں سے فیض یاب ہونے کے باوجود اپنی خاندانی سیاست کے انداز و اسلوب سے آزاد نہیں ہو سکا۔ دوسری یہ کہ بلاول اب پوری طرح اپنے والد کی گرفت میں ہے اور اپنے نانا یا والدہ سے اظہار عقیدت و محبت کے باوجود اس کی سیاست کی ناک میں زرداری کی حکمت عملی کی نکیل ڈلی رہے گی۔ تیسری بات یہ کہ نئے موسموں کی تازہ کروٹوں کے باوجود بلاول کو یقین ہے کہ ’’جئے بھٹو اور زندہ ہے بی بی زندہ ہے‘‘ جیسے نعرے آج بھی نہ صرف پاکستانی عوام کے دلوں میں ہلچل مچا سکتے ہیں بلکہ قومی سطح پر بڑی انتخابی کامیابی کا زینہ بھی بن سکتے ہیں اور چوتھی بات یہ کہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت، کم از کم اس مرحلے پر، پیپلز پارٹی کی قیادت، مسلم لیگ (ن) کو مشتعل نہیں کرنا چاہتی بلکہ مفاہمت آمیز خیر سگالی کا پیغام دے رہی ہے۔

بلاول بھٹو کو تقریباً نصف صدی پہلے کا بھٹو بنانے کی کوشش کرنے والے حکمت کار، اس نوجوان سے انصاف نہیں کر رہے۔ زمانہ تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ وقت کے تقاضے تبدیل ہو رہے ہیں۔ عوامی شعور میں پختگی آ رہی ہے۔ بلاشبہ روٹی، کپڑا اور مکان آج بھی بنیادی ضرورتیں ہیں لیکن یہ تصور جڑ پکڑتا جا رہا ہے کہ کھوکھلے نعروں کی بانجھ کلر زدہ زمینوں سے نہ گندم اگتی ہے نہ کپاس اور نہ ان پر کوئی مکان تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اچھے خاصے پُرکشش اور مجرب نسخوں جیسے کارگر نعرے بھی زائد المیعاد دوائوں کی طرح غیر موثر ہو جاتے ہیں۔ لوگ نعروں کے بجائے ٹھوس پروگرام اور لائحہ عمل کی آرزو کرتے ہیں۔ کاٹھ کی ہنڈیا کی طرح جذباتیت کی ہنڈیا بھی روز روز نہیں چڑھائی جا سکتی۔ عشق و محبت کے رشتے بڑے مضبوط ہوتے ہیں لیکن عملی سیاست کے بازار میں ان رشتوں کا سکّہ بھی ایک خاص وقت تک ہی چل سکتا ہے۔ آج بڑے بڑے گدی نشینوں کو بھی شکایت ہے کہ ان کے مریدان وفا کیش کا دائرہ پیہم سکڑ رہا ہے اور جو رہ گئے ہیں ان کی گرمیٔ عشق پر بھی اوس پڑنے لگی ہے۔ ایسے میں سیاسی خانقاہوں کا جادو کتنی دیر چلے گا اور صبح و شام تبدیل ہوتی حقیقتوں کے اس بے لحاظ دور میں سیاسی گدی نشینوں کا چراغ کب تک جلے گا۔

گڑھی خدا بخش کے اجتماع میں بلاول کا بڑا اعلان تو یہی تھا کہ 2018ء کے انتخابات میں وہ خود اور ان کی دونوں بہنیں حصہ لیں گی اور یوں بے نظیر بھٹو کی ساری اولاد عملی سیاست میں آ جائے گی۔ یہ کوئی غیر متوقع اعلان نہ تھا۔ پاکستان، بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں شجرہ ہائے نسب سے پھوٹتی سیاسی وراثت کا باب بند ہونے میں خاصا وقت لگے گا۔ بلاول نے گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی شکست کو ’’پنجابی اسٹیبلشمنٹ‘‘ کے سر تھوپ کر اسی خود فریبی کا مظاہرہ کیا ہے جس نے عمران خان کے اعصاب کو بھی اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ یہ بڑا خوفناک مرض ہے۔ اس کا پہلا ہلاکت آفریں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سیاسی قیادت اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں پر غور کرنے یا اپنی شکست کے حقیقی اسباب کا سراغ لگانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتی۔ دوسرا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصلاح احوال کی کوئی سبیل نہیں تراشی جاتی اور بے ڈھنگی چال میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اچھا ہوتا کہ بلاول بھٹو اپنی جماعت کے کچھ زیرک اور معاملہ فہم رہنمائوں کے ساتھ بیٹھ کر پوری سنجیدگی سے جائزہ لیتے کہ 2008ء میں بڑی انتخابی کامیابی حاصل کرنے والی جماعت پانچ سال بعد ایسی ہزیمت سے کیوں دوچار ہوئی؟ اگر وہ کھل کر اعتراف کرتے کہ ہم اپنے عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترے، ہم اچھی حکمرانی نہ دے سکے، ہم خلق خدا کے مسائل حل نہ کر سکے، ہم کرپشن اور بدعنوانی پر قابو نہ پا سکے، ہم اداروں کو نہ سنبھال سکے، ہم توانائی کے بحران کا مداوا نہ کر سکے، ہم نے خواہ مخواہ عدلیہ کی بحالی میں تاخیر کی، ہم بی بی کے قاتلوں کو بے نقاب نہ کر سکے، ہم نے دہشت گردی کو نکیل ڈالنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہ کی، ہم نے مسائل کی چارہ گری کے بجائے صرف پانچ سال پورے کرنے کی آرزو کو حاصل سیاست بنائے رکھا، ہم نے اپنے مخلص دوستوں کو پیچھے دھکیل کر ابن الوقتوں کو اگلی صفوں میں جگہ دی، ہم نے کوئی ایک بھی ایسا کام نہ کیا جسے ماتھے کا جھومر بنا کر عوام کے سامنے آتے..... سو ہماری انتخابی شکست سامنے والی دیوار پر لکھی تھی۔ بلاول زرداری بھٹو اگر کھلے دل کے ساتھ یہ صاف صاف باتیں کرتے تو دنیا حیرت بھری نگاہوں سے دیکھتی کہ پاکستان کے افق سے ایک نیا سیاسی ستارہ طلوع ہو رہا ہے اور پیپلز پارٹی واقعی ایک نیا جنم لے رہی ہے۔ ایسا نہیں ہوا۔ اپنی بات میں وزن لانے اور اپنی اپیل کو وسیع تر کرنے کے بجائے ان کی توجہ صرف ان جیالوں پر مرکوز رہی جو یا تو ابھی تک گڑھی خدا بخش کے حلقۂ ارادت میں ہیں یا دل برداشتہ سے ہو کر دور جا بیٹھے ہیں۔ بلاول کے اتالیق کو چاہئے کہ وہ انہیں شائستہ لب و لہجہ کی اہمیت کا احساس دلائے۔ بھٹو کے زمانے کی سیاسی لغت اب زیادہ مقبول نہیں رہی۔ عمران خان نے انتخابی مہم کے دوران یہ نسخہ آزمانے کی کوشش کی۔ اپنے سیاسی حریفوں کے بارے میں ناتراشیدہ زبان استعمال کی۔ آوارگان کوچہ و بازار کے لہجے میں ’’اوئے نواز شریف‘‘ کہہ کر یہ سمجھا کہ عوام الناس اسے ’’بہادری‘‘ خیال کریں گے لیکن لوگوں نے اس روش کو پسند نہیں کیا۔ شائستگی سے محروم اس رویے نے ان کے بہت سے پیروکاروں کو ان سے دور کر دیا۔ بلاول کو بھی جان لینا چاہئے کہ عمران خان کو بزدل خان کہنے یا لوٹوں کی بے توقیر مثال سے سونامی کا تمسخر اڑانے جیسی باتیں اب کسی دل میں ہلچل نہیں مچاتیں۔

بلاول نے اچھا کیا کہ جمہوری نظام کی پختگی کے لئے کسی بھی غیر آئینی اقدام کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ یہی بات ان کے والد گرامی نے بھی کہی ہے۔ دراصل یہ اس سیاسی بلوغت کا ایک پہلو ہے جو غیر محسوس طریقے سے ہمارے معاشرے میں جگہ بنا چکی ہے۔ سیاسی مفکر ہوں یا جماعتیں، قلم کار ہوں یا سول سوسائٹی کے کردار، کسی کے لئے بھی ممکن نہیں رہا کہ اس بدلے ہوئے پاکستان میں وہ کسی بھی نوع کی آمریت کو آواز دے، البتہ بیمار ذہنوں کی بات دوسری ہے۔ زرداری صاحب نے بڑے طنطنے سے کہا کہ سیاسی قوتوں کو آپس میں لڑایا جاتا رہا اور بِلّا دودھ پی جاتا تھا۔ اب دودھ پینے والا ایک بِلّا پھنس چکا ہے۔ نواز شریف قابو میں آئے ہوئے اس بِلّے کو نہ چھوڑیں، اسے سزا ملنی چاہئے۔

اس طرح کی تشبیہات اور استعاروں سے بھی گریز کیا جانا چاہئے۔ مشرف کا معاملہ اب عدالت میں ہے، سو عدالت کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔ زرداری صاحب اس ’’ بِلّے‘‘ کو بریت کا سرٹیفکیٹ دلانے مولانا فضل الرحمن اور اسفند یار ولی کے ہمراہ نواز شریف کے پاس گئے تھے۔ اسے گارڈ آف آنر دے کر رخصت کرنے میں بھی ان کی مفاہمانہ پالیسی کا ہاتھ تھا۔ باپ بیٹا دونوں نے ہی دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ جمہوریت کو کوئی خطرہ ہوا تو ہم نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ان کے اس عزم کو بھی ہر تجزیہ کار اپنی اپنی نظر سے دیکھے اور معنی پہنائے گا لیکن انداز فکر کا ذائقہ بدلنے کے لئے اچھی بات کو اچھی بات ہی سمجھنے میں کیا مضائقہ ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند