تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاک بھارت تعلقات: مسلسل اختلافات کا شکار
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 3 ربیع الاول 1435هـ - 5 جنوری 2014م KSA 10:24 - GMT 07:24
پاک بھارت تعلقات: مسلسل اختلافات کا شکار

پاکستان اور بھارت کے درمیان جنوری 2013ء میں کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر فوجیوں کے سر قلم ہونے کے باعث جو بحران پیدا ہو گیا تھا، اس کے اثرات 2013ء کے پورے سال میں محسوس کیے جاتے رہے ۔ اس تناظر میں فوری طور پر مذاکرات کا دوبارہ آغاز، ایک ایسا معاملہ نہیں تھا جسے بغیر کسی تاخیر کے شروع کر دیا جاتا۔ بہرحال، نواز شریف اور منموہن سنگھ کے درمیان ستمبر 2013ء میں ملاقات ہو ہی گئی۔

یہ حقیقت ہے کہ مفیدمذاکرات کا ایک سنہری موقع ضائع کر دیا گیا۔ دراصل نواز شریف نے 1997ء میں بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے اور انہیں فروغ دینے کے لیے جس عزم کا اظہار کیا تھا، منموہن سنگھ ،نواز شریف کی اس خواہش اور پیشکش کا معقول اور مناسب جواب دینے سے قاصر رہے۔

اس وقت بھارت اندرونی سیاسی خلفشار کا شکار ہو چکا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بحالی کے ضمن میں ایک بھارتی ترجمان کا کہنا ہے کہ دیگرمعاملات، خصوصاً تجارتی تعلقات، پر پیش رفت کے بجائے اس وقت ترجیح یہ ہے کہ سرحدوں پر امن وامان کی صورت حال پیدا کی جائے۔ اس کا واحد نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ دونوں ممالک کے ڈی ایم جی اوزسے کہا گیا کہ وہ نہ صرف ملاقات کریں بلکہ لائن آف کنٹرول پر پیش آنے والے واقعات کی تفتیش کے لیے لائحہ عمل طے کیا جائے بلکہ یہ امر بھی یقینی بنایا جائے کہ آئندہ اس قسم کے متشدد واقعات پیش نہ آئیں۔

دونوں ممالک کے ڈی ایم جی اوز کی ملاقات 1999ء میں کارگل کی جنگ کے دوران ہوئی تھی۔حالیہ ملاقات کے دوران کوئی ایسا ایجنڈاموجود نہ تھا جس پروہ باہمی ہفتہ واری ٹیلیفونی گفتگو کے دوران رضامندنہ ہو سکتے تھے،مثلاً مشترکہ گشت، سرحدوں پر غیرقانونی تعمیرات کی ممانعت، ملاقات کے ذریعے موجودہ لائحہ عمل کی تجدید وغیرہ۔ دراصل یہ دونوں ممالک کے ڈی ایم جی اوز نہیں تھے جنہوں نے ان نکات کو اپنے ایجنڈے میں شامل کیا بلکہ دونوں ممالک کی حکومتیں ہی تھیں جنہوں نے ان معاملات کے متعلق اپنے فوجی حکام کو ہدایات جاری کیں۔

پاکستانی رینجرز حکام اور بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس کے درمیان ملاقات 29 اکتوبر کو ہوئی تھی۔ وزیراعظم نواز شریف کے مشیر سرتاج عزیز کی بھارتی وزیرخارجہ کے ساتھ ملاقات 12 نومبر کو ہوئی تھی لیکن کچھ ناگزیر وجوہ کی بنا پر جنوری 2013 ء سے قبل لائن آف کنٹرول پر سٹیٹس کو کی صورت حال کو بحال کرنے کے لیے نئی دہلی کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔
جن وجوہ کی بنیاد پر نئی دہلی کی طرف سے اس ضمن میں پیش رفت نہیں ہو سکی، ان میں سے ایک وجہ ملک میں انتخابی صورت حال تھی۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ جو لوگ ممبئی حملہ واقعہ میں ملوث تھے، ان کے خلاف مقدمے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔ مقدمہ کے ججوں کو بہت دفعہ تبدیل کیا گیا جس کے باعث مقدمہ کی پیش رفت میں تیزی پیدا نہیں ہو سکی۔ اس قسم کے واقعات کے باعث امن مذاکرات میں تاخیر واقع ہوتی گئی ۔

بہرحال، تاریخی شہادت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ممبئی حملے، مذاکرات کے فوری اختتام کا باعث نہیں تھے۔ جولائی 2009ء میں شرم الشیخ کے مشترکہ بیان، 2010 ء میں تھمفو معاہدہ، جولائی 2011ء میں حناربانی کھر اور ایس ۔ ایم۔ کرشنا کے درمیان ملاقات، وزرائے اعظم کی اس برس دو دفعہ ملاقاتوں کے باعث مذاکرات کا عمل ایک بار پھر شروع ہونے کو ہے۔

جنوری2013ء کے واقعات کے باعث ملک میں غیرمعمولی ردعمل پیدا ہوا جس کے باعث ملک کے افراد اور انہیں وہ ناخوشگوار ماضی یاد آگیا کہ ممبئی حملے کے مرتکبین کو ابھی تک سزا نہیں دی گئی۔ لیکن پھر بھی بھارت کی طرف سے مذاکرات شروع کرنے میں پہل میں ناکامی، اس کا ایک عاقبت نااندیش فیصلہ ہے اور اس صورت حال میں مزید پیش رفت کے ابھی تک کوئی امکانات نظر نہیں آ رہے۔

کہا جا رہا ہے کہ اس صورت حال کے باعث دونوں ممالک کے درمیان ویزا کی پابندیاں نرم کرنے، تجارتی تعلقات بحال کرنے اور لائن آف کنٹرول پر حالات پرامن بنانے کے لیے مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہونا چاہیے۔ مزیدبرآں، کشمیر میں امن کے قیام کا عمل جس کا آغاز 2007ء میں ہوا تھا، اسے بھی دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ سرکریک کے معاملے پر حتمی مذاکرات میں تاخیر کی بھی کوئی وجہ نہیں جو اب فیصلہ کن مرحلے میں ہے۔ اسی طرح بلاشبہ، سیاچن کے معاملے پر بھی مذاکرات شروع ہونے چاہئیں لیکن اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بھارت میں آیندہ انتخابات کے بعد ہی ان معاملات کے متعلق مذاکرات کے آغاز کے حوالے سے فیصلہ کیا جا سکے گا۔

بلاشبہ، ضروری نہیں ہے کہ ہر چیز کو معرض التوا میں ڈال دیا جائے۔ نئی دہلی میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ دونوں ممالک کے ماہی گیروں کو جو ایک دوسرے کے ممالک کی سمندری حدود میں چلے جاتے ہیں، انہیں متعلقہ ممالک سے رجوع کرنا چاہیے۔ اس معاہدہ کا زیادہ تر سہرا ایک غیرسرکاری تنظیم، پاکستان انڈیا فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی کو جاتا ہے۔

مزیدبرآں ، پاکستانی پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اس وقت ایک مدبرانہ قدم اٹھایا جب انہوں نے بھارت کا پانچ دن کا دورہ کیا۔ انہوں نے بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ پرکاش سنگھ بادل سے ملاقا ت کی اور دونوں ممالک کے پنجاب کے درمیان تعاون کے متعلق پریس کانفرنس بھی کی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود اہم اختلافات کو نظراندا زنہیں کرنا چاہیے۔ اس سے پہلے پاکستان کی سابق پی پی پی کی حکومت نے کشمیرکے مسئلے کے لیے چارنکاتی منصوبہ پیش کیا تھا جس پر جمود کے باعث بھارت پاکستان سے خوش نہیں اور اس کی خواہش ہے کہ اس منصوبے کی تجدید کی جائے۔

ماخوذ ڈان، ترجمہ: ریاض محمود انجم

بشکریہ روزنامہ ' نئی بات'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند