تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
چوہدری شجاعت خواہ مخواہ گھبرا گئے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 3 ربیع الاول 1435هـ - 5 جنوری 2014م KSA 10:06 - GMT 07:06
چوہدری شجاعت خواہ مخواہ گھبرا گئے

چوہدری شجاعت بڑے زیرک اور گہرے سیاست دان ہیں۔ مستقبل شناسی اور اقتدار آشنائی میں کوئی ان کا ثانی نہیں ہے۔ہواؤں کے رُخ کو ان کے چلنے سے پہلے بھانپ لیتے ہیں کہ پر بہار ہوائیں اور رنگین موسم ایوانِ صدر اور وزیرِ اعظم ہاؤس میں ہیں یا جی ایچ کیو میں۔ گزشتہ کوئی چار دہائیوں سے ’چلو تم ادھر کوہوا ہو جدھر کی‘ کے اصول پر عمل پیرا ہیں۔ ان کے لیے ہر فصل، فصلِ گُل اور ہر موسم، موسمِ بہار ہے۔ جمہوریت کی رُت ان کو کم ہی خوشگوار لگتی ہے۔ عام طور پر فوجی آمروں کو سیاسی کمک فراہم کرتے ہیں۔ شیروانی اور خاکی وردی دونوں کی رمزیں جانتے اور دونوں کے ساتھ نباہ کے گُر اور ان کے تقاضوں کے مطابق ڈھل جانے کا فن خوب جانتے ہیں ۔ ’مٹی پاؤ‘ کے نام سے ایک فلسفے کے یہی خالق ہیں۔ یہ فلسفہ ایسا نادر اورعجوبہ ہے کہ چانکیا اس سے بے خبر نہ ہوتا تو اس کی ارتھ شاسستر کے صفحات اس زرّیں فلسفے کی روشنی سے خالی نہ رہتے۔ میکیاولی کو نہ سوجھا ورنہ وہ اس تابناک اُپدیش کو اپنی شہرہ آفاق کتاب The Prince کے مقدمے میں درج کرتا۔ جوزف گوئبلز کی کھوپڑی میں نہ آیاورنہ اپنے پراپیگنڈا کے قواعد کو مرتّب کرتے وقت اس کوحرز جاں بناتا۔ ایک اَنا پرست، رنگیں مزاج ، حریص اور بزدل آمر نے نو سال بڑے ٹھاٹھ سے حکومت کی ۔کسی پرسش و احتساب کے خوف کے بغیر ڈنکے کی چوٹ دو دفعہ ملکی آئین کو توڑا۔ ’سب سے پہلے پاکستان ‘ کے نعرے کے تحت اصول و اقدار اور جمہوری روایات کو پاؤں میں روندا۔ اداروں کو نیم جاں بنایا اور ریاستی اقتدار کو بے رحم قوت کی شکل دی۔امریکہ کے ساتھ قومی مفادات کے یکسر منافی خفیہ معاہدے کیے۔ آج اس کی بد اعمالیوں پر گرفت ہونے لگی تو اسی فلسفے کے عملی اطلاق کے مطالبے ہو رہے ہیں۔اس فلسفے میں سابق صدر آصف علی زرداری نے ایک ذیلی شق ’مصالحت کی سیاست ‘ کے عنوان سے داخل کی جس نے مصلحت اور مفادات کی سیاست کو بے پناہ وسعت دی۔جو کبھی ’قاتل لیگ‘ تھی وہ گلے لگا لی گئی۔موجودہ حکمرانوں نے اس ذیلی شق کی روشنی میں زرداری صاحب پر ’ہتھ ہولا‘ رکھا ہوا ہے اوران کے ٹولے کی ’انّی‘ کرپشن کے باوجود ان کو گنگا نہائے کی طرح پوتر بنا کر اسی طرح گارڈ آف آنر کے ساتھ ایوانِ صدر سے الوداع کہاجیسے زرداری نے پرویز مشرف کو پورے اعزاز کے ساتھ رخصت کیا تھا۔یہی فلسفہ ہے جس کی برکت سے ایم کیو ایم کے دامن سے ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور بے شمار دیگر جرائم کے بد نما داغ ہوں دھل جاتے ہیں اور پیپلز پارٹی کی حکومت ہو یا مُسلم لیگ ق یا ن اقتدار میں ہوں یا کوئی خالص ڈکٹیٹر اپنی ڈیڑھ فٹ کی چھڑی سے کاروبارِ مملکت چلا رہا ہو،سب ایم کیو ایم کو شریکِ اقتدار بنانا ضروری سمجھتے ہیں۔

خیر یہ باتیں تو سُخن گُسترانہ کی ذیل میں آتی ہیں اور بے اختیار انہوں نے بطورِ تمہید اپنا راستہ بنا لیا ہے۔اصل بات جو کہنے کی تھی وہ یہ ہے کہ اپنی مُسلم لیگ کے 107ویں یومِ تأسیس کی مناسبت سے اپنی پارٹی کے زیرِ اہتمام ایک تقریب میں چوہدری شجاعت حسین نے انتباہ کیا کہ ڈرون حملوں سے زیادہ مہلک حملہ ہونے کو ہے، لوڈ شیڈنگ اور گیس کی نایابی سے بھی کہیں بڑی مصیبت ہمارے تعاقب میں ہے۔اگر مہنگائی کو کنٹرول نہ کیا گیا تو طبقاتی جنگ کا خطرہ سروں پر منڈلا رہا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ انتباہ اور آگاہی طبقہِ زیریں کے لیے تو ہر گز نہیں ہے ۔اگر کوئی طبقاتی تصادم رونما ہوا تو خطرے میں بالادست اور با اختیار طبقات ہی ہوں گے۔عوام تو پہلے ہی کچلے اور پسے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس کھونے اور گنوانے کے لیے ہے ہی کیا جو ان کو خطرہ ہوگا۔چھننے کے لیے جو کچھ ہے وہ کئی کئی نسلوں سے سیاست پر قابض پیشہ ور سیاست دانوں کے پاس ہے۔انہی کے پاس اربوں کھربوں کے حساب سے دولت ہے۔انہی کی فیکٹریاں اور کارخانے ہیں۔وہی کئی کئی محل نما شاندار مکانوں میں رہتے ہیں۔انہی کا سرمایہ بیرونِ ملک بنکوں میں پڑا ہوا ہے۔وہی بڑی بڑی جاگیروں کے مالک ہیں۔انہی کی اولادیں ملک اور بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم پا کر طاقت و اقتدار کے ایوانوں کے آداب سیکھتی ہیں۔ وہی اپنی نسلوں کو اس ملک پر حکمرانی کے لیے پالتے اور خصوصی تربیت دیتے ہیں۔ انہی کے ہاں سیاست خاندانی جائداد کی طرح ورثے میں ایک نسل سے دوسری کو منتقل ہوتی ہے۔وہی ہیں جن میں سیاسی بنیادوں پر رشتے ناطے قائم ہوتے ہیں۔یوں مفادات کی clique میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ وہی ہیں جن کے دامن کرپشن کی گندگی سے آلودہ ہیں۔وہی ہیں جو قومی وسائل کو شِیرِ مادر سمجھ کر ہڑپ کرتے ہیں۔وہی ہیں جوکروڑ کو ارب اور ارب کو کھرب بنانے کے لیے اقتدار سے چمٹے رہنے کے حیلے کرتے ہیں۔وہی سیاسی وفاداریاں بدلنے کی مکروہ مثالیں ہیں۔وہی ہیں جوایک طرف جمہوریت کی مالا جپتے ہیں اور دوسری طرف آمروں کو دس دس سال تک وردی میں منصبِ صدارت پر قائم رکھنے کا ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کرتے ہیں۔وہی ہیں جنہوں نے اقتدار میں رہنے کے لیے باریاں مقرر کر رکھی ہیں۔

چنانچہ فطری بات ہے کہ چوہدری شجاعت حسین کو اسی طبقے کی فکر لاحق ہو رہی ہے۔عوام میں مایوسی روز افزوں اور اندر کا کھولاؤ بڑھتا جا رہاہے۔شاید انہیں اسی وجہ سے تشویش لاحق ہو ہو گئی ہے کہ انقلابِ فرانس جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں اور نچلے طبقے کے مظلوم و محکوم عوام بالادست استحصالی قوتوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنے ہی والے ہیں۔ غریبوں کے غیظ و غضب کا الاؤ مراعات یافتہ اشرافیہ کو بھسم کرنے کے لیے بس بھڑکا ہی چاہتا ہے۔ لیکن انہیں اطمینان رکھنا چاہیے کہ ابھی تاریک رات کا خاصا حصہ باقی ہے۔صبحِ امید کا طلوع اگربالکل سر پر لگا معاملہ ہوتا توپرویز مشرف کے گرفت میں آنے پر اس کے دسترخوان کے سارے خوشہ چین یوں تلملا نہ اٹھتے۔ چوہدری شجاعت کبھی پرویز مشرف کو بچانے کے لیے اس قدر مضطرب نہ ہوتے اورکبھی یہ نہ کہتے کہ اگر مشرف پر مقدمہ چلانا ہے تو مجھ پر بھی چلاؤ کیوں کہ میں انہیں آئین توڑنے کا مشورہ دینے والوں میں شامل تھا۔اگر وہ روشن صُبح اپنے پورے اجالے کے ساتھ آنے والی ہوتی تو الطاف حسین اور شیخ الاسلام صاحب اس کے دفاع میں یوں چیخ نہ اٹھتے اورپیر پگارا ایسے دل گرفتہ نہ ہوتے۔ عمران خان بھی یہ نہ کہتے کہ میں مشرف کو سزائے موت دینے کے حق میں نہیں ہوں۔اگر اس صبحِ انقلاب کی چاپ سنائی دے رہی ہوتی تو مسلم لیگ ن عوام سے کیے گئے وعدوں کا پاس رکھتی اور لوگوں کے مصائب اور مسائل کے معاملے میں اس بے رُخی کا مظاہرہ نہ کرتی۔ چوہدری شجاعت طبقاتی جنگ کے خوف سے اپنے اعصاب کو خواہ مخواہ تناؤ کا شکار کر رہے ہیں۔اطمینان رکھیں کہ وہ انقلاب اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک سندھ کی شہری آبادی خاص طور پر سب سے بڑے دو شہروں کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ لوگ اس سحرسے نہیں نکلتے جس کے باعث ان کو ایک ایک دو دو گھنٹے کے نوٹس پربھیڑ بکریوں کی طرح ہنکا کرلایااور کئی کئی گھنٹے کے ٹیلی فونی بھاشن سننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ انہیں لکڑی کے کندوں اور کاٹھ کی پتلیوں کی طرح بے حِس و حرکت بیٹھنا پڑتا ہے اور آسیب زدہ چہروں پر جبر کی مسکراہٹ لانی اور خوف آلود گنگ زبانوں سے بے روح نعرے لگانے پڑتے ہیں۔وہ انقلاب اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک اندرونِ سندھ بھٹو ازم کا جادو نہیں ٹوٹتا۔اس انقلاب کے برپا ہونے کی ایک بنیادی یہ شرط بھی ہے کہ جنوبی پنجاب اور سندھ میں وڈیروں، جاگیرداروں ، پیروں اور بلوچستان کے سرداروں کی خدائی کی جگہ خُدائے ذوالجلال کی کبریائی کا تصور دلوں میں بیٹھ جائے ۔ اس انقلاب کی برپائی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ مذہبی فرقہ وایت ، علاقائی تعصبات، گروہی مفادات پر قومی سوچ غالب آئے، جس کے فی الحال دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آتے۔اس انقلاب کے لیے ناگزیر ہے کہ عوام میں رہبر اور رہزن میں فرق کرنے کی صلاحیت پیدا ہو۔اللہ کی یہ سُنت ہے کہ وہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جسے اپنی حالت کے بدلنے کا خود خیال نہ ہو۔

بشکریہ روزنامہ ' نئی بات'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند