تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
منموہن سنگھ :لفاظی کے پیکر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 4 ربیع الاول 1435هـ - 6 جنوری 2014م KSA 09:36 - GMT 06:36
منموہن سنگھ :لفاظی کے پیکر

 جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ انہوں نے استعفیٰ دینے کا کبھی نہیں سوچا جس کے باعث ایک ایسے سیاستدان کے متعلق وہ تاثر کہیں زیادہ نمایاں ہو گیا کہ جسے کسی اور چیز کی نسبت محض اقتدار سے ہی دلچسپی ہے۔

اخبارنویسوں کی طر ف سے سوالات کے جواب میں انہوں نے خود کو معصوم اور ایماندار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے عہدے کو کبھی اپنے خاندان کو دولت بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا۔

بلاشبہ ان کا یہ کہنا درست ہے لیکن اب وزیراعظم سے پوچھا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں کے متعلق کیا خیال ہے جو آپ کے اقتدار کے دوران امیر سے امیر تر ہوتے گئے۔

ان کی طرف سے یہ بیان ، ان کے اور ان کی ٹیم کے درمیان حیران کن لاتعلقی کا اظہار ہے جو جمعہ کے روز کی گئی پریس کانفرنس کے دوران ان کی شکست کا باعث بنی۔ اس پریس کانفرنس میں زور صرف ایک فرد پر دیا گیا جبکہ دیگر افراد پر کم توجہ مرکوز کی گئی۔ ٹیلیکام اور کول کے معاملات میں بدعنوانی کے لحاظ سے انہوں نے خود کو ایک ایسے واحد شخص کی حیثیت سے ظاہر کیا جنہوں نے شفاف کارروائیوں کی ضرورت کے حق میں دلائل دیے۔ انہوں نے کہا کہ جب اس حقیقت کو سب نے فراموش کر دیا تو انہیں بہت افسوس ہوا۔

دوسرے الفاظ میں وہ اپنی ناک کے نیچے ہونے والی بدعنوانی کے لیے کسی، اخلاقی یا سیاسی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں۔ اس بدعنوانی میں ان کی کابینہ کے وزیر ملوث تھے جن کا تعلق کانگریس سے ہے۔ دراصل منموہن سنگھ کے کہنے سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کابینہ کے وزیروں کی بدعنوانی کے حوالے سے کوئی کمیشن یا رشوت وصول نہیں کی، اس لیے یہ میرا قصور نہیں۔

اس مرحلے پریہ بات سامنے آئی ہے کہ منموہن سنگھ اپنے وزراء کی طرف سے بدعنوانی روکنے میں ناکام رہے۔

کاش حالیہ مہینوں میں منموہن سنگھ ، جنہوں نے ہمیشہ خود کو ایماندار ظاہر کیا، اس پریس کانفرنس کے دوران اپنی ناکامیوں کا اعتراف کر لیتے، اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کر لیتے اور اپنے وزیروں کو بدعنوانی میں ملوث دیکھ کر انہیں اپنی کابینہ سے نکال دیتے، وہ اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیتے تو پھر بھی ان کی ایماندار ی کا بھرم رہ جاتا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ جس قدرکامیابیاں انہوں نے اپنے پہلے عرصہ اقتدار میں حاصل کیں، اپنی دوسری مدت اقتدار میں وہ بہت کم حاصل کر سکے۔ ا ن کی دوسری مدت میں بہت کم ایسے واقعات پیش آئے جنہیں ان کی کامیابیوں میں شمار کیا جا سکے۔ مزیدبرآں منموہن سنگھ یہ حقیقت فراموش کر چکے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ سول جوہری معاہدہ عملی طور پر ابھی شروع نہیں کیا گیا۔ا س کے باوجود وہ اس حقیقی وجہ کو ابھی تک نہیں سمجھ سکے کہ ان کے ناقدین انہیں کچھ حد تک کامیابیوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
اکثرلوگ، اس سول جوہری معاہدے کی اصل حقیقت سمجھنے سے قاصر ہیں ۔۔لیکن وہ محض اس لیے اس معاہدے کی حمایت کرنے پر مجبور ہیں کہ بعض اوقات ایک سیاستدان اپنے ذاتی مفادات کو ترک کر کے ملک کی خاطر کوئی قدم اٹھا لیتا ہے۔ اس کے بعد سے بھارتی عوام نے ان کی طرف سے کسی بھی معاملے کے متعلق ان کے ردعمل کا سامنا نہیں کیا۔

اپنی اس پریس کانفرنس کے دوران ان کی طرف سے جو غیرمعمولی ردعمل سامنے آیا، وہ نریندرا مودی کے بارے میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ نریندرامودی کا بطور وزیراعظم انتخاب ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا اور یہ کہنے کے ذریعے انہوں نے راہول گاندھی کے لیے کانگریس کی طرف سے وزارت عظمیٰ کا امیدوار بننے کی راہ ہموار کر دی ہے لیکن راہول گاندھی نے ابھی تک اس حیثیت کے لیے اپنی طرف سے کسی بھی قسم کا اعلان نہیں کیا۔

اب بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم کی یہ پریس کانفرنس ایک ایسا موقع تھا جسے ضائع کر دیا گیا۔ اس موقع پر بھارتی عوام کو ایک مشہور مفکر کایہ قول یاد کر لینا چاہیے’’خالی خولی الفاظ کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا، دوبارہ بولیے‘‘۔ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ وزیراعظم کی یہ پریس کانفرنس محض لفاظی کا مجموعہ تھی۔

ماخوذ ہندوستان ٹائمز، ترجمہ: ریاض محمود انجم
بشکریہ روزنامہ ' نئی بات'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند