تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ملٹری ایکشن یا مذاکرات؟ اور عالمی برادری؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 19 ذوالحجہ 1440هـ - 21 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 20 ربیع الاول 1435هـ - 22 جنوری 2014م KSA 09:18 - GMT 06:18
ملٹری ایکشن یا مذاکرات؟ اور عالمی برادری؟

کچھ زیادہ دنوں کی بات نہیں کہ امریکہ، برطانیہ اور مغربی ممالک کے با اختیار لیڈران یہ بیان بار بار دہرایا کرتے تھے کہ ایک محفوظ دنیا کیلئے پاکستان انتہائی ضروری ہے، لیکن دنیا کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے والا پاکستان دہشت گردی کے خلاف بارہ سال تک جنگ کرتے کرتے اب خود غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ دنیا تو دہشت گردی سے اب خاصی محفوظ ہو چکی لیکن اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اسی پاکستان کی اس محفوظ دنیا کو پرواہ نہیں۔ دوسروں کی جنگ تھی جسے پاکستانی قائدین نے عاجلانہ فیصلوں کے ذریعے اپنے ذمہ لے لیا اور آج یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی اپنی بقاء کی جنگ بن کر رہ گئی ہے جس میں ماضی کے اتحادی اب الٹے پاکستان سے مطالبات کر رہے ہیں بلکہ ایک بار پھر پابندیاں، شرائط اور دبائو کا استعمال پاکستان کے خلاف کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکی امداد کا ایک حصہ مشروط کر دیا گیا۔ دہشت گردی کے خلاف مصروف پاکستان سے تعاون کی بجائے سابق اتحادیوں کے مطالبات کا زور ہے۔ ماضی کے پاک۔امریکہ تعلقات کا ریکارڈ بھی کچھ یہی ہے کہ سیٹو، سنٹو کے معاہدوں، بڈابیر بیس سے خفیہ امریکی پروازوں، افغان جہاد اور دیگر خطرناک مہمات اور معاہدوں میں ہم کو استعمال کر کے ہمیں تنہا اور پابندیوں کا شکار پاکستان بنا دیا گیا۔ سابق صدر پرویز مشرف کی موجودگی میں امریکی صدر جارج بش جونیر سے میں نے جب یہ سوال کیا تھا کہ تاریخ تو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ امریکہ نے اتحادی پاکستان کو اپنے مفادات و مقاصد کیلئے استعمال کیا اور پھر مقصد پورا ہو جانے کے بعد پاکستان پر پابندیاں لگا کر اسے امریکہ نے سزا دی۔

کیا یہ تاریخ پھر اپنے آپ کو دہرائے گی؟ تو صدر جارج بش نے کہا کہ نہیں اب یہ ’’شارٹ ڈانس‘‘ نہیں ہو گا اور پھر وہ پاک۔امریکہ تعلقات کے حوالے سے بہت کچھ کہہ گئے جو جنرل (ر) پرویز مشرف اور ان کے ہمراہیوں نے بھی سنا اور امریکی محکمہ خارجہ کے ریکارڈ میں بھی ہے۔ اس جواب پر پاکستانی وفد کے ایک بڑے نمایاں اور بے حد خوش رکن نے صدر جارج بش کے اس بیان کو بطور سند پیش کرتے ہوئے مشرف حکومت کی امریکہ سے اتحاد کی پالیسی کی بصیرت و افادیت کا ثبوت قرار دیا۔ جواب میں مجھے سابق ری پبلکن صدر رونالڈ ریگن کا ایک معرکۃ الآراء جملہ یاد آ گیا کہ Trust but varify it۔ دہشت گردی کے خلاف پاک۔امریکہ اتحاد کے بعد آج پاکستان اپنی معیشت اور اپنی معاشرت سمیت بہت کچھ تباہ کروانے کے بعد بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ تنہا کھڑا لڑ رہا ہے جسے اس کے اتحادی بھی لا تعلق ہو کر دیکھ رہے ہیں۔

دراصل ہمارے ہی پاکستانی قائدین پاک۔امریکی تعلقات کی مختصر قربتوں اور اپنے اقتدار کی حمایت کی گرم جوشی کے سحر میں مستقبل کی فکر کئے بغیر ہی اپنا سب کچھ قربان کر ڈالتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ دوسروں کی جنگ اب پاکستان کی اپنی بقاء کی جنگ ہےاور ہمارا کوئی اتحادی ہمارے ساتھ نہیں ۔ دہشت گردوں کے پاس پاکستانی پولیس سے زیادہ معلومات اور جدید اسلحہ موجود ہے۔ ایف سی اور رینجرز کیلئے کرایہ کی غیر محفوظ گاڑیوں کا استعمال بہت سے تلخ اور حوصلہ شکن حقائق بے نقاب کر رہا ہے۔ بنوں میں ایف سی کے قافلے پر دہشت گردی اور 20 سے زائد تربیت یافتہ اہلکاروں کی موت 25 کے زخمی ہونے کے واقعہ سے بہت کچھ واضح ہو رہا ہے کہ اب اس جنگ کی نوعیت تبدیل ہو کر یہ ہماری داخلی جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے جس سے ہمارے اتحادی لاتعلق اور ہمارے ہمسائے ایسے تماشائی بن گئے ہیں جو ہمارے حامی نہیں ہیں۔افغانستان، امریکہ کے ہاتھوں منظم اور ٹریننگ یافتہ فوج اور سیکورٹی فورسز کی موجودگی اور امریکی فوج کی کابل میں موجودگی کے باوجود اپنے ہاں دہشت گردی کا بھی الزام پاکستان پر عائد کر رہا ہے۔ طالبان کے متعدد گروپوں کو دوسرے ممالک حمایت فراہم کر کے اپنے مفاد کیلئے استعمال کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں اور ہم جن داخلی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں، وہ کچھ یوں ہیں کہ جنرل (ر) پرویز مشرف پر غداری کے الزام میں مقدمہ چلنا چاہئے یا نہیں یا پھر کہاں سے آغاز ہو؟ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکی ایماء پر جو کچھ کیا وہ پاکستانی قوانین سے غداری ہے یا اتنے بڑے دہشت گرد کی تلاش اور موت میں ایک پاکستانی کا تعاون ہے؟ دہشت گردی کے واقعات کی سنگینی نے وزیراعظم کے دورئہ ڈیوس کو منسوخ کرا دیا ہے۔ وزیر داخلہ طالبان سے مذاکرات کے حق میں مسلسل دلائل دے رہے ہیں حالانکہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ اور طالبان کی جانب سے ان کی ذمہ داری کی قبولیت میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔

بنوں کے بعد راولپنڈی میں بھی خودکش دھماکہ میں 27 افراد موت اور زخموں کا شکار ہوئے ہیں اور اس دھماکہ کی ذمہ داری بھی طالبان کے ترجمان قبول کر رہے ہیں۔ ایک کنفیوژن، خوف و ہراس، غیر یقینی کیفیت اور حکومتی مربوط پالیسی کا فقدان ہے۔ عام تاثر اور درست تاثر ہے کہ حکومت کی اتھارٹی کا وجود نظر نہیں آتا۔ طالبان سے مذاکرات کا شور تو بہت ہے مگر طالبان کے کس گروپ سے ہوں گے؟ کیسے ہوں گے؟ ایجنڈا کیا ہے؟ اس بارے میں بھی نہ تو وزیر داخلہ کوئی واضح بات کر رہے ہیں اور نہ ہی مذاکرات کے حامی کوئی فریم ورک تجویز کر رہے ہیں۔ اس جنگ کو مذاکرات کے ذریعے ختم کرنے کی حمایت کرنے والے بھی کسی واضح پلان کے بغیر صرف زبانی گفتگو تک محدود ہیں۔ رہی بات طالبان کے خلاف فوجی اور مسلح ایکشن کی تو اس کیلئے بھی ایکشن سے قبل جن عوامل کی لازمی ضرورت ہے، ان بارے میں بھی فوج اور حکومت کے حساس اداروں نے اب تک کیا کام کیا ہے، اس بارے میں اصل معلومات تو فوج کو ہی ہوں گی مگر شہریوں کو دہشت گردی سے قبل از دھماکہ یا حملہ سے بچانے اور ناکام بنانے میں حساس اداروں کی کارکردگی قابل اطمینان نہیں ہے۔

کیا ہمارے دہشت گردوں کی اس جنگ کی اسٹرٹیجی اور پلاننگ سے مکمل طور پر واقف ہیں؟ کیا وہ طالبان گروپوں کی اندرونی سیاست قیادت ان کے بیرونی سرپرستوں، اسلحہ سپلائرز اور خفیہ پناہ گاہوں سے واقف ہیں؟ آپریشن فوجی ہو گا تو پاک۔افغان سرحدی علاقوں میں مگر کس انداز سے ہو گا۔ کھلی جنگ ہو گی یا ٹارگٹ کر کے صرف طالبان کے خلاف ملٹری ایکشن ہو گا؟ امریکہ اور نیٹو افواج دس سال تک افغانستان میں طالبان کی گوریلا جنگ ختم نہیں کر سکیں تو پاکستانی فوج کس اسٹرٹیجی کے ساتھ یہ جنگ جیت لے گی؟ سب سے اہم سوال یہ بھی ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی باقی ماندہ فوج اور سی آئی اے اپنے سابق اتحادی پاکستان کو کیا تعاون فراہم کرے گی؟ یا پھر غیر جانبدار ہو کر پاکستان کے ملٹری آپریشن کا مشاہدہ کرے گی اور اب دہشت گردی کیخلاف اس جنگ کو طالبان پاکستان اور پاکستان کا اپنا داخلی معاملہ قرار دے گی؟ ویت نام کی گوریلا جنگ کا انجام اور تاریخ، افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ اور پھر گزشتہ بارہ سال سے افغانستان میں دہشت گردی اور طالبان کے خلاف امریکہ کی جنگ کی منطق، نتائج، نفسیات، تاریخ اور بالآخر پسپائی کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہمارے معاشی وسائل میں اس ملٹری ایکشن کے اخراجات برداشت کرنے کی سکت ہے؟ امریکی سرزمین تو طالبان سے بہت دور اور دسترس سے باہر تھی۔ پاکستان، پاکستانی شہری اور زمینی وسائل و جغرافیہ ہمارے دشمنوں کی دسترس میں ہے بلکہ بہت سارے تو یہاں آباد اور دہشت گردی میں کراچی سے لے کر خیبر تک مصروف کار ہیں۔

میرا مقصد مایوسی پھیلانا نہیں بلکہ حقائق اور مستقبل کے خطرات کی نشاندہی دردمندی کے ساتھ کرنا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کی یہ بات بالکل درست ہے کہ ہم نے ماضی میں خود جو غلطیاں کی ہیں ان کا کفارہ ادا کرنا تو ہو گا۔ لیکن اب وزیراعظم نواز شریف کو جرأت اور قومی اعتماد کے ساتھ کنفیوژن کو دور کر کے آگے بڑھ کر ایسے فیصلے کرنا ہوں گے جو قوم کو مایوسی سے نکال کر دہشت گردی کے خطرات سے ڈیل کرنے اور خاتمہ کرنے میں مدد دے۔ فیصلوں میں تاخیر مایوسی کو فروغ دے گی۔ ملٹری ایکشن اور مذاکرات بھی ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ بشرطیکہ دشمن کو اندازہ ہو جائے کہ ملٹری ایکشن اس کیلئے مہلک ثابت ہو رہا ہے۔ نواز شریف اور ان کی کابینہ جو بھی فیصلہ کریں اس پر عمل کرنے سے قبل وہ خارجہ پالیسی کے میدان میں اسی عالمی برادری سے بھی رابطہ کر کے دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری اور امریکہ کی سفارتی، عملی اور مالی تعاون بھی طلب کرنے کی مہم چلائیں۔ آخر یہ جنگ ان کی شروع کی ہوئی ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند