تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مولانا سمیع الحق کا ’’مذاکراتی مشن‘‘
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 22 ربیع الاول 1435هـ - 24 جنوری 2014م KSA 07:29 - GMT 04:29
مولانا سمیع الحق کا ’’مذاکراتی مشن‘‘

مولانا سمیع الحق نے طالبان کے ساتھ ’’مذاکرات‘‘ سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان نے تو مذاکرات کی پیشکش کا مثبت جواب دے دیا تھا لیکن وزیر اعظم نوازشریف نے مولانا کو ملاقات کا وقت ہی نہیں دیا جس سے بات آگے نہ بڑھ سکی۔ دوسری طرف طالبان سے مذاکرات کے زبردست حامی اور کسی بھی نوع کے فوجی آپریشن کے شدید مخالف عمران خان نے کہا ہے کہ ہم فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ طالبان کے خلاف آپریشن کا کوئی فیصلہ ہوچکا ہے تو ہمیں اعتماد میں لیا جائے۔ بیانات کی ان پھلجڑیوں کے دوران دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ روز پولیس اہلکاروں سمیت چودہ افراد اس کی بھینٹ چڑھ گئے۔

مولانا سمیع الحق کی وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ایک ملاقات تو ضرور ہوئی لیکن ’’ملاقات‘‘ کے اس عنوان کے تحت رقم ہونے والی ساری داستان صرف مولانا ہی کے کنج لب سے پھوٹی۔ حکومت کی طرف سے ایسا کوئی بیان سامنے نہیں آیا کہ طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے حضرت کو کوئی خصوصی مشن سونپا گیا ہے تاہم مولانا نے ملاقات کے فوراً بعد اخباری نمائندوں کو آگاہ کیا کہ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی راہ تراشنے پر مامور ہوئے ہیں۔ حکومت نے اس کی تردید نہ کی۔ حکومت کے اتحادی مولانا فضل الرحمٰن نے اسے اپنی سبکی خیال کیا کیوں کہ طالبان کے حوالے سے وہ خود کو زیادہ موثر خیال کرتے ہیں۔ اگلے ہی دن وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کرکے صورت حال کی وضاحت کردی۔

مولانا سمیع الحق کی وزیر اعظم سے ملاقات 31؍ دسمبر کو ہوئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے کسی کو نہیں بتایا کہ طالبان کے کم و بیش پینسٹھ گروپس میں سے ان کی ملاقات کن لوگوں سے ہوئی؟رابطے کے دوران طالبان نے مذاکرات کے لئے کیا پیشگی شرائط عائد کیں؟ باضابطہ مذاکراتی عمل کے لئے حکومت سے کیا مطالبہ کیا جارہا تھا؟ اس طرح کے مشن عام طور پر خفیہ رکھے جاتے ہیں۔ ثالثی کا کردار ادا کرنے والا شخص اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ ٹھوس پیشرفت سے پہلے بات گلی محلوں کا موضوع نہ بنے۔ مولانا نے اس احتیاط کو ملحوظ خاطر نہ رکھا۔ فوری طور پر پورے جلال و جمال کے ساتھ میڈیا کے سامنے آئے اور قوم کو مژدہ سنایا کہ اس سنگین بحران کے حل کے لئے بالآخر وزیراعظم کی نگاہ انتخاب ان پر پڑی ہے اور اب وہ تیشہ ٔفرہاد لے کر جوئے شیر بہا لانے کو نکل رہے ہیں۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ سیاست ، رقابت کا کھیل ہے۔ سیاسی اہداف و مقاصد رکھنے والا علماء کے درمیان ہم آہنگی کم کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ ان کی انا خاصی سخت جان ہوتی ہے۔ اسی انا نے جمعیت علمائے اسلام کے کئی ٹکڑے کر رکھے ہیں۔ مولانا کے حصے کی جمعیت ان کے نام کی مناسبت سے جمعیت علمائے (س) کہلاتی ہے۔ اگر حضرت کو واقعی یہ اہم مشن سونپا گیا تھا اور وہ خلوص دل کے ساتھ کوئی خدمت بجا لانا چاہتے تھے تو شرط اول یہی تھی کہ وہ میڈیا کی چکاچوند سے دور، ذوق تصویر و تشہیر سے بے نیاز ہو کر اللہ کی خوشنودی، پاکستان کی سلامتی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اس کارخیر میں لگ جاتے۔ دنیا کو خبر اس وقت ہوتی جب اس گھنے جنگل سے کوئی راستہ تلاش کرلیا جاتا، سنجیدہ مذاکرات کی بساط بچھ جاتی اور دلوں میں امید ویقین کے چراغ روشن ہوجاتے۔ تب میڈیا تحقیق کرتا اور پوری قوم سراغ لگاتی کہ یہ کارنامہ کس مرد کار کے ہنر کا اعجاز ہے۔کھوج لگانے والوں کے قدم دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی دہلیز تک پہنچتے۔ وہ سب حضرت کے حجرۂ خاص کا دروازہ کھٹکھٹاتے اور حضرت سرجھکا کر شرمائے لجائے انداز میں کہتے… اس میں میرا کوئی کمال نہیں ، سب اللہ کا کرم ہے‘‘۔ لیکن سیاست خود نمائی اور چہرہ کشائی مانگتی ہے۔ سو مولانا نے جوئے شیر کیلئے سنگلاخ پہاڑوں پہ پہلی کدال چلانے سے پہلے قوم کو آگاہ کرنا ضروری سمجھا کہ انہیں وزیراعظم نے شرف ملاقات عطا کیا ہے اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کا کارمحال ان کے کندھوں پہ ڈال دیا گیا ہے۔

31؍ دسمبر 2013ء سے ، دستکش ہونے کے دن 22؍جنوری 2014ء تک کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ مولانا کی مصروفیات کیا رہیں۔ وہ اکوڑہ خٹک کے حجرہ عالی سے کتنی بار نکلے، کہاں کہاں کا سفر کیا، کس کس سے ملاقات کی اور کتنی برف پگھلانے میں کامیاب ہوئے۔ تین ہفتوں کے دوران مولانا نے طالبان سے کوئی اپیل نہ کی کہ چونکہ معاملات کے سدھار کی ذمہ داری اب ان کے کندھوں پہ ڈال دی گئی ہے لہٰذا وہ کسی بھی ایسی کارروائی سے گریز کریں جو امن کی خواہش پر منفی اثرات ڈالے۔ جنوری کے تین ہفتوں کے دوران دہشت گردی کی ایک زبردست لہر اٹھی۔ بنوں اور راولپنڈی کی وارداتوں نے قوم کو ہلا کے رکھ دیا۔ امن اور خیرسگالی کا پیامبر ہونے کے ناتے مولانا کو چاہئے تھا کہ ان وارداتوں کی کھل کر مذمت کرتے۔ طالبان سے مخاطب ہوکر کہتے کہ ’’میرے بچو! یہ تم کیا کررہے ہو، اب امن کا سفید پرچم میرے ہاتھ میں ہے۔ میری لاج رکھو اور مذاکراتی عمل کو مخلصانہ کوششوں کو سبوتاژ نہ کرو‘‘۔وزیراعظم کی طرف سے ملاقات کا وقت نہ ملنے پر تو وہ اتنے برہم ہوئے کہ مذاکراتی مشن ہی سے دستکش ہوگئے لیکن دہشت گردی کی پے درپے وارداتوں کو انہوں نے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرلیا اور اظہار خفگی تک نہ کیا۔ اصولاً تو ان ہلاکت آفریں وارداتوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں طالبان سے کہنا چاہئے تھا کہ اگر تم لوگ اپنا ہاتھ نہیں روک سکتے تو میں اس مشن سے دستبردار ہورہا ہوں۔ کیا ستم ظریفی ہے کہ وزیراعظم کا ملاقات کیلئے وقت نہ نکالنا (بقول مولانا سمیع الحق) ان سنگین وارداتوں سے بھی بڑا گناہ نکلا جو چند دنوں میں سیکورٹی اہلکاروں سمیت تقریباً ڈیڑھ سو افراد کا لہو پی گئیں۔

مولانا نے یہ بھی نہیں بتایا کہ مذاکراتی عمل شروع کرنے کے حوالے سے کیا ایسی ٹھوس پیشرفت ہوئی تھی جسے وہ اپنی کامیابی سے تعبیر کررہے ہیں؟ طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش پر مبنی عمومی بیانات ایک عرصے سے آرہے ہیں۔ جس دن بنوں کا المیہ پش آیا، اس دن بھی طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد اور اعظم طارق کے انٹرویوز کے اقتباسات جاری ہوئے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ ’’ہم نے باوقار، سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات سے نہ پہلے کبھی انکار کیا تھا اور نہ اس مذاکراتی عمل کی افادیت سے مستقبل میں انکار کرتے ہیں‘‘۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان نیک خواہشات کے اظہار کے باوجود بموں کے دھماکے، خودکش حملے اور ہلاکت آفریں کارروائیاں جاری ہیں، جن کی ذمہ داری بھی قبول کی جارہی ہے۔

دہشت گردی کی بہت بھاری قیمت ادا کرنے کے بعد ایک ایسا مرحلہ آن پہنچا ہے جس میں قوم کو اپنے عزم راسخ کا اظہار کرنا ہوگا۔ عمران خان نے درست کہا کہ اگر آپریشن کا فیصلہ کرلیا گیا ہے تو سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینا چاہئے۔ ان کا یہ کہنا بھی بجا ہے کہ قوم اپنی فوج کے ساتھ ہے۔ حب الوطنی کا تقاضا یہی ہے کہ کم از کم دہشت گردی کے معاملے کو سیاست یا شخصی مفاد کی آنکھ سے نہ دیکھا جائے۔ اس معاملے میں حکومت اور اپوزیشن کا امتیاز بھی ختم ہو جانا چاہئے۔ فوج سے مشاورت کے بعد حکومت اگر کسی نتیجے پر پہنچتی ہے تو اسے کم از کم ان بڑی جماعتوں کو ضرور اعتماد میں لینا چاہئے جو پارلیمان میں قابل ذکر عوامی نمائندگی رکھتی ہیں۔

اگر یہ مناسب خیال کیا جاتا ہے کہ مذاکراتی عمل کے لئے تمام جماعتوں کے اشتراک سے ایک اور پرعزم کوشش کی جائے تو ٹھیک اور اگر یہ طے پاتا ہے کہ ریاست کی رٹ قائم کرنے اور مسلسل پھیلتی دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے لئے طاقت کا استعمال ہی کارگر آپشن ہے تو اس پر اتفاق رائے کرلینا چاہئے۔ مولانا سمیع الحق سمیت علمائے کرام کو بھی اب نیمے دروں نیمے بروں کی آشوب سے نکل کر واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرنا ہوگا۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند