تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بنگلہ دیش ۔ عدم استحکام کی راہ پر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 25 ربیع الاول 1435هـ - 27 جنوری 2014م KSA 09:25 - GMT 06:25
بنگلہ دیش ۔ عدم استحکام کی راہ پر

5جنوری 2014ء کو ہونے والے عام انتخابات میں عوامی لیگ اور اس کی حلیف جماعتوں کی بلامقابلہ کامیابی نے بنگلہ دیش کو سیاسی عدم استحکام سے دوچار کردیا ہے کیونکہ ان انتخابات کا بنگلہ دیش کی سب سے بڑی حزبِ مخالف سیاسی پارٹی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)سمیت تمام اپوزیشن نے بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ماضی کی طرح عام انتخابات غیر جانبدار عبوری حکومت کے تحت کرائے جائیں جیسا کہ بی این پی کی سابقہ حکومت نے کرائے تھے۔

ان انتخابات کے نتیجے میں حکمران جماعت کو اس بُری طرح شکست ہوئی تھی کہ وہ 300ممبران کی اسمبلی میں صرف 56کے قریب نشستیں حاصل کر سکی اور عوامی لیگ تین چوتھائی اکثریت سے کامیاب ہو گئی تھی لیکن برسراقتدار آنے کے بعد عوامی لیگ نے آئین میں ترمیم کے ذریعے غیر جانبدار عبوری حکومت کی شرط ختم کردی اور برسرِاقتدار جماعت کی زیرِ نگرانی عام انتخابات کرانے کا قانون منظور کر لیا جس کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے مذمت کی لیکن عوامی لیگی وزیرِ اعظم حسینہ واجد نے اپوزیشن کے احتجاج کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی حکومت کے زیرِ انتظام انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ جسے بنگلہ دیش کی حزب اختلاف جماعتوں نے مسترد کردیا۔ یوں عوامی لیگ اور ان کے اتحادیوں کے امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوگئے جبکہ بنگلہ دیش جو پچھلے دو عشرے کے سیاسی استحکام کی وجہ سے معاشی ترقی کی منازل بڑی سرعت سے طے کر رہا تھا، ایک ایسے سیاسی بحران کا شکار ہوگیا ہے جس سے اس کی معیشت شدید متاثر ہورہی ہے کیونکہ اپوزیشن کے اعلان پر ہونے والی آئے دن کی ہڑتالوں ، جلسے جلوسوں پر پولیس تشدد اور ہنگاموں کی وجہ سے معمولات ِ زندگی بُری طرح متاثر ہوئے ہیں اور بنگلہ دیش کی ابھرتی ہوئی کپڑے کی صنعت کا استحکام خطرے میں پڑ گیا ہے۔

تیسری دنیا کے اکثر ممالک کی طرح ’’سیاسی عدم استحکام‘‘ ہی بنگلہ دیش کا سب سے بڑا مسئلہ رہا ہے۔ پاکستان سے علیحدگی کے بعد بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمٰن اور ان کے اہلِ خانہ کا قتل، جنرل ضیاء الرحمٰن کی فوجی حکومت اور پھر اس کا قتل اور پھر جنرل ارشاد کی طویل فوجی حکومت نے ایک عرصے تک بنگلہ دیش کو سیاسی عدم استحکام سے دوچار رکھا لیکن گزشتہ بیس سال سے منعقد ہونے والے عام انتخابات نے بنگلہ دیش کے سیاسی اور معاشی استحکام میں خاص کردار ادا کیا۔

آج بنگلہ دیش کی کرنسی ٹکہ، پاکستانی کرنسی سے بھی زیادہ مستحکم ہوچکا ہے حالانکہ کسی وقت میں بنگلہ دیشی ٹکّہ دنیا کی کمزور ترین کرنسیوں میں شمار ہوتا تھا۔ اسی سیاسی استحکام کی وجہ سے پاکستان کی زیادہ تر ٹیکسٹائل کی صنعت بنگلہ دیش میں منتقل ہو گئی اور وہ ملک جہاں کپاس بھی پیدا نہیں ہوتی۔ گارمنٹس برآمد کرنے والا ایک بڑا ملک بن گیا۔ یہی نہیں بنگلہ دیش کے ڈاکٹر محمد یونس نے گرامین بنک کے ذریعے دنیا بھر میں چھوٹے قرضوں کی اسکیم (مائیکروفنانس)کے بانی کی حیثیت سے عالمگیر شہرت حاصل کی اور امن کا نوبل انعام بھی حاصل کیا۔ بنگلہ دیش میں سیاسی استحکام کی ایک بڑی وجہ ملک کو سیکولر ریاست قرار دینا بھی تھا۔ جس کی وجہ سے وہاں فرقہ وارانہ کشیدگی میں کمی ہوئی اور ملک معاشی طور پر مستحکم ہوتا گیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ’’غیر جانبدار عبوری حکومت‘‘ کے بنگلہ دیشی نظریئے نے تیسری دنیا کے ممالک میں ہونے والی ’’انتخابی دھاندلی‘‘ کے نام پر ہونے والی احتجاجی سیاست اور توڑ پھوڑ کو بھی کافی حد تک ختم کردیا اور تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابی نتائج تسلیم کرنا شروع کردئیے۔ حالانکہ پچھلے عام انتخابات کے بارے میں بی این پی اور اس کی حلیف جماعتوں کا یہ خیال تھا کہ عبوری حکومت کی پشت پر فوج اور عدلیہ تھے جنہوں نے عوامی لیگ کو تین چوتھائی نشستیں حاصل کرنے میں مدد دی لیکن عبوری حکومت پر متفق ہونے کی وجہ سے وہ اخلاقی طور پر انتخابی نتائج ماننے کے پابند تھے۔

پاکستان میں حالیہ انتخابات میں بھی بنگلہ دیشی ماڈل کے تحت ہوئے اور پہلی مرتبہ تمام تر تحفظات کے باوجود تمام پارٹیوں نے اس کے نتائج کو قبول کرلیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ غیر جانبدار حکومت کے زیرِ انتظام بھی سو فیصد شفاف انتخابی نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے۔ صرف طویل عرصے تک جمہوری نظام کا تسلسل ہی انتخابات کو زیادہ سے زیادہ منصفانہ بنا سکتا ہے لیکن غیر جانبدار عبوری حکومت کی وجہ سے انتخابی عمل کو بہتر بنانے میں مدد ضرور مل سکتی ہے۔ افسوس کہ بنگلہ دیش کے جس انتخابی ماڈل کو پاکستان نے اپنایا ہے، بنگلہ دیش میں عوامی لیگ نے اسے خود ہی کالعدم کر دیا ہے۔

بنگلہ دیش میں منتخب حکومت کی جانب سے ریاست کو سیکولر قرار دینا، ایک بڑا انقلابی قدم تھا کیونکہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد بھی ایک لمبے عرصے تک بنگلہ دیش میں مذہب اور سیاست کو علیحدہ نہیں گیا گیا تھا جس کی وجہ سے وہاں مذہب کے نام پر بھی سیاست بازی کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام رہتا تھا۔ سیکولر ازم نے بنگلہ دیشی ریاست کو نہ صرف سیاسی اور معاشی استحکام بخشا بلکہ بین المذاہب اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں بھی مثبت کردار ادا کیا جس کی وجہ سے بنگلہ دیش میں بڑی تعداد میں بسنے والی ہندو اقلیت کو بھی احساسِ تحفظ حاصل ہوا لیکن عوامی لیگ کی طرف سے جماعتِ اسلامی کو خلافِ قانون قرار دینے اور ملّا عبدالقادر کو پاکستانی فوج کا ساتھ دینے کے جرم میں سزائے موت دینے کے ’’بے وقت‘‘ فیصلے نے ریاست میں نئے تضادات کو جنم دے دیا ہے اور سیکولر ازم کے تحت حاصل کئے گئے مثبت نتائج کو سبوتاژ کر دیا ہے جس کی وجہ سے مذہبی تضادات پھر سر اٹھانے لگے ہیں اور ہندو اقلیت کے خلاف مذہبی عناصر کے تعصبات منظرِ عام پر آنے لگے ہیں۔

اس کا بنگلہ دیش کو سیاسی لحاظ سے سب سے بڑا نقصان یہ ہو سکتا ہے کہ اس کے اپنے پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ تعلقات پر بُرا اثر پڑے گا جو بنگلہ دیش کے سیاسی اور معاشی استحکام کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے کیونکہ بنگلہ دیش کے دریائوں کا منبع بھارت میں ہیں اور پانی کی تقسیم کے مسئلے پر ان کے درمیان شروع ہی سے اختلافات موجود ہیں جن میں بھارت کے ساتھ دوستی کی پالیسی کی وجہ سے نمایاں کمی ہوئی تھی۔ جغرافیائی لحاظ سے بنگلہ دیش کا پاکستان سے کوئی زمینی تعلق موجود نہیں جبکہ بھارت اس کا ایک بڑا پڑوسی ملک ہے۔ حسینہ واجد کی پالیسیاں واضح طور پر بھارت کے ساتھ دوستی پر مبنی رہی ہیں جو بنگلہ دیش کے قومی مفادات کے عین مطابق ہیں لیکن اس قسم کے اقدامات سے وہ خود ہی ان تعلقات کو نقصان پہنچانے کا موجب بن رہی ہیں۔ حالیہ انتخابات کے نتائج کو امریکی حکومت اور سیکرٹری اقوامِ متحدہ بان کی مون نے بھی مسترد کردیا ہے خود بنگلہ دیش کے اندر بھی اپوزیشن کے علاوہ غیر جانبدار سیاسی مبصرین بھی حالیہ انتخابات کو سیاسی اور معاشی استحکام کے لئے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ یہ ایسے ہی انتخابات ہیں جیسے سابقہ مشرقی پاکستان میں فوجی ایکشن کے بعد عوامی لیگ پر پابندی لگانے کے بعد یحییٰ خان کی فوجی حکومت نے ضمنی الیکشن کرائے تھے جنہیں کسی نے بھی تسلیم نہیں کیا تھا اور اس کے نتیجے میں سیاسی بحران میں اضافہ ہو گیا تھا۔ اگر تمام مقتدر سیاسی حلقوں نے جن میں برسرِاقتدار عوامی لیگ سرِفہرست ہے ، ماضی سے کوئی سبق نہ سیکھا اور غیر ضروری طور پر گڑے مردے اکھاڑنے کا مسئلہ نہ روکا تو بنگلہ دیش کی گذشتہ 20سالوں کے دوران ہونے والی معاشی ترقی کا نہ صرف عمل رک جائے گا بلکہ بنگلہ دیش شدید عدم استحکام کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند