تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اسٹرٹیجک ڈائیلاگ۔ کیا ملا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 27 ربیع الاول 1435هـ - 29 جنوری 2014م KSA 07:30 - GMT 04:30
اسٹرٹیجک ڈائیلاگ۔ کیا ملا؟

ایک بڑے تعطل کے بعد پاک،امریکہ اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کا آغاز پھر واشنگٹن میں ہو چکا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ذیلی ورکنگ گروپوں کے سیکورٹی، معاشی تعاون، انرجی اور دیگر امور پر مذاکرات جاری ہیں لیکن اس ڈائیلاگ کے بارے میں امور خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے بیانات کے ساتھ ہی ساتھ پاک،امریکہ مشترکہ اعلامیہ بھی جاری ہو چکا ہے اور سرتاج عزیز واشنگٹن میں پاکستانی میڈیا سے پریس کانفرنس کی صورت میں اس ڈائیلاگ کے زیر بحث مرحلہ کی کامیابی کا اعلان بھی فرما چکے ہیں کہ انہوں نے امریکیوں کو یہ بات سمجھا دی ہے کہ دشمن کون ہے اور پاک،امریکی طویل مدتی مفادات مشترک ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر افغان آپس میں معاملات کو طے کر لیں تو ان کا فیصلہ ہم قبول کر لیں گے۔ اتحادی فوج کی واپسی کے بعد خلاء پیدا ہو گا۔ افغان سیکورٹی افواج دہشت گردی پر قابو پانے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے پاکستانی وقت کے مطابق 28؍جنوری کو علی الصبح جو پریس کانفرنس منعقد کی اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو پہلے سے امریکہ اور پاکستان کی حکومتوں، عوام اور دنیا کے علم میں نہ ہو۔ وہی روایتی موقف، روایتی الفاظ اور مفہوم جو اس سے قبل بھی بیانات اور اعلانات کا حصہ رہا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ کہا جائے کہ یہ اسٹرٹیجک ڈائیلاگ ہے جو طویل مدتی امور پر جاری مذاکرات کا حصہ ہے جو کئی سال کے تعطل کے بعد پھر بحال ہوا ہے مگر اصل سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان کی بقا کو لاحق خطرات، دہشت گردی اور عدم استحکام اور امریکی انخلاء کے بعد کی صورتحال کے بارے میں کسی ٹھوس تعاون، مشترکہ عمل اور مسائل کا ذکر اور پاکستانی نقطۂ نظر اور مفادات کا ذکر کہاں ہے؟ مشترکہ اعلامیہ اور دونوں طرف کے بیانات سے متعدد جواب طلب سوالات سامنے آتے ہیں جن کا جواب پاکستان کو درپیش موجودہ سنگین صورتحال کے تناظر میں انتہائی ضروری ہے۔

مشترکہ اعلان میں افغانستان کی حکومت کی جانب سے امن کیلئے مفاہمت اور طالبان سے مذاکرات و مفاہمت کے عمل میں تعاون و حمایت کی ذمہ داری پاکستان پر تو ڈالی گئی لیکن پاکستان کی طالبان سے مذاکرات کے ذریعہ امن و مفاہمت کے بارے میں افغانیوں اور دیگر قوتوں پر نہ ایسی کوئی ذمہ داری ڈالی گئی اور نہ ہی کوئی ذکر بھی کیا گیا حالانکہ پاکستان کے خلاف سرگرم طالبان کی نقل و حرکت، افغان علاقوں میں سکونت اور افغان معاونت و حمایت بھی ایک حقیقت ہے۔ طالبان سے مذاکرات کے علاوہ ان کے خلاف جس ملٹری آپریشن کے امکانات پاکستانی سیاست، فوج اور عام شہری کیلئے اہم موضوع گفتگو بنا ہوا ہے اس بارے میں بھی امریکی خاموشی نظر آتی ہے۔ کیا افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن و مفاہمت میں پاکستانی تعاون سے پاکستان اور پاکستانی طالبان کے درمیان خودبخود امن آ جائے گا؟ یا پھر افغانستان میں امن اور پاکستان کی طرف طالبان کی یورش بڑھ جائے گی؟ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ افغانستان کی جنگ میں امریکہ کے اتحادی پاکستان نے بارہ سال تک اپنا سب کچھ دائو پر لگا کر امریکہ کا ساتھ دیا اور آج خود تباہی، دہشت گردی کا شکار ہے۔ اب اگر پاکستان طالبان کے خلاف ملٹری آپریشن کرے تو امریکہ کو اپنا ڈرونز طیاروں کا نظام پاکستان کی حمایت میں پاکستانی آپریشن کی ضروریات اور فوجی حکمت عملی کے مطابق امریکہ استعمال کر کے ساتھ دے لیکن نہ تو پاکستان نے ایسا کوئی مطالبہ کیا اور نہ ہی امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ممکنہ ملٹری آپریشن کی کامیابی کیلئے کوئی پیشکش کی ہے۔ صرف زبانی تعریف سے پاکستان کی بقا کو لاحق خطرات دور نہیں ہوں گے۔ آخر دہشت گردی کا خاتمہ امریکہ اور پاکستان دونوں کا مشترکہ مفاد اور مقصد ہے اور پاکستانی فوج کے ممکنہ ملٹری آپریشن میں اتحادی امریکہ اپنے اس جدید اور مہلک ہتھیار کو پاکستانی فوج کی مدد اور ضرورت کیلئے استعمال کر سکتا ہے۔ مگر ایسا مطالبہ کرنے کی نہ تو ہمارے قائدین میں ہمت ہے اور نہ ہی امریکہ ڈرونز کو پاکستان کی حمایت و ضرورت کیلئے سپورٹ کے طور پر استعمال کرنے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔ اب دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو اپنی بقا کی جنگ خود ہی اپنے طور پر لڑنا ہو گی۔

امریکہ سے زبانی حمایت اور کچھ کولیشن سپورٹ فنڈ کے ڈالرز مل جائیں گے۔ مشترکہ اعلان میں پُرامن پاک،افغان بارڈر کا ذکر ضرور ہے مگر اس کے لئے امریکی تعاون کا کوئی ذکر نہیں۔ افغانستان کی قیادت میں امن و مفاہمت کی کوششوں میں تو پاکستان کو تعاون کا ذمہ دار ٹھہرا دیا گیا ہے لیکن پاکستان کی قیادت میں اپنی سرزمین پر امن و مفاہمت کیلئے افغانستان اور بھارت پر کوئی ذمہ داری یا تعاون کا بوجھ نہیں ڈالا گیا۔ اگلے ماہ منعقد ہونے والی ڈیفنس ریسورنگ کانفرنس میں سیکورٹی امداد اور دیگر مسائل کے زیر بحث آنے کا ذکر تو ہے مگر اس بارے میں بھی کوئی واضح بات نہیں ہے۔ پاکستان کے شہروں میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، ہلاکتیں اور تباہی کا زور بڑھ رہا ہے لیکن پاک،امریکہ ڈائیلاگ میں مصروف ہمارے نمائندے نہ تو پاکستان طالبان مذاکرات اور نہ ہی ممکنہ پاکستان ملٹری آپریشن میں اتحادی امریکہ سے حمایت اور عملی تعاون طلب کرتے نظر آتے ہیں اور نہ ہی امریکہ کی طرف سے اس بارے میں کوئی اظہار ہے۔ مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے پاک،امریکہ مشترکہ اعلان کے اجراء کے بعد پریس کانفرنس میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ طالبان سے پاکستان کے مذاکرات یا ملٹری آپریشن کے بارے میں عوامی دبائو کے بارے میں انہوں نے کوئی ذکر نہیں کیا بلکہ ان کی پریس کانفرنس کا لب لباب یہ ہے کہ ’’اگر‘‘ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اعتماد کی کمی (TRUST DIFICIT) ختم ہو جائے۔ ’’اگر‘‘ ہمسایہ ممالک مداخلت نہ کریں ’’اگر‘‘ افغانستان میں طالبان اور حکومت آپس میں معاملات طے کر لیں تو ہم قبول کر لیں گے۔ ’’اگر‘‘ امریکہ، پاک، بھارت تعلقات کو بہتر بنانے میں دونوں ممالک کے ساتھ یکساں سلوک (EVEN HANDED) کرے۔ ’’اگر‘‘ امریکہ ہمارے سیکورٹی خدشات کو دور کرے تو پھر افغانستان میں امن اور خطے کی صورتحال بہتر ہو جائے گی لیکن سرتاج عزیز صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ اتنے سارے ’’اگر‘‘ پورے کرنے کیلئے امریکیوں نے کیا جواب دیا ہے اور کس عمل کی یقین دہانی کرائی ہے؟ گفتگو کو صرف تعمیری، مفید اور زبانی ستائش و حمایت پاکستان کے گلی محلوں میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے کافی نہیں۔ پاکستان کے مراعات یافتہ طبقے کی رہائش گاہوں کے گرد سڑکیں اور علاقے بند کر کے حفاظتی دیواریں بنا دینے اور بھاری سیکورٹی کے قافلوں میں بلٹ پروف کاروں میں نقل و حرکت کرنے سے امن قائم نہیں ہو گا۔ بم دھماکوں اور سڑکوں پر دہشت گردی اور لوٹ مار کا شکار ہونے والے نہتے عوام تباہی اور موت کا شکار ہو رہے ہیں جن کے بارے میں پاک،امریکہ ڈائیلاگ اور مشترکہ اعلان کسی فوری عمل، ٹھوس اقدام اور تعاون کی ضمانت سے خالی ہے۔ تسلسل (بشمول کئی سالہ تعطل) سے جاری اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کا طویل مدت کا فریم ورک سر آنکھوں پر، لیکن اپنے آغاز سے اب تک اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کے انعقاد نے عملاً پاکستان کے مفاد کیلئے کیا کچھ حاصل کیا ہے؟ سلالہ کا حملہ اور دیگر امور پر پاک،امریکی کشیدگی، امداد کی کٹوتی و معطلی، ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ اور دیگر عوامل پاک،امریکہ تعلقات کو کشیدگی میں دھکیلتے رہے اور کشیدگی سے بچنے کا کوئی نظام یا پلیٹ فارم نہیں بن سکا۔ ہمارے مشیر امور خارجہ اور ان کے وفد پاکستان کیا لے کر لوٹ رہے ہیں؟ وہ پارلیمنٹ اور پاکستانی عوام کو کیا خوشخبری سنائیں گے؟

پاکستانی فوج کیلئے ملٹری آپریشن کی صورت میں کتنا اور کیا ہمت افزاء پیغام یا عملی سپورٹ لے کر لوٹے ہیں؟ موجودہ پاکستانی حکمرانوں کی راہ میں مشرف اور زرداری دور حکومت کے عاقبت نا اندیش اقدامات اور حکمت عملی کی غلطیاں بھی مشکلات کا باعث ضرور تھیں لیکن تخلیقی ڈپلومیسی اور پاک،امریکہ تعلقات میں اعتماد کی کمی کو دور کرنے اور اپنی حقیقت حال پر امریکیوں سے مربوط اور واضح انداز میں مذاکرات کرنا تو موجودہ حکمرانوں کی ذمہ داری ہے ورنہ آنے والے وقت میں پاکستان کو لاحق خطرات دہشت گردی اور تباہی سے ’’اگر‘‘ سے مشروط پریس کانفرنس اور اعلانات ہمارے مسائل حل نہیں کر سکیں گے۔ عوام، فوج، حکمراں، پارلیمنٹ اور دیگر ادارے اختلاف رائے اور مسائل پر سخت اختلافی موقف کا شکار ہو رہے ہیں۔ مشرف کے مقدمہ سے لے کر معیشت، امن و امان کے معاملات پر ہم تیزی سے بٹ رہے ہیں۔ پاک،امریکہ مشترکہ اعلان میں محض ستائش اور اعتماد کا اظہار کافی نہیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند