تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکہ اور یورپ کے خلاف دعائے خیر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 25 جمادی الاول 1441هـ - 21 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 28 ربیع الاول 1435هـ - 30 جنوری 2014م KSA 08:19 - GMT 05:19
امریکہ اور یورپ کے خلاف دعائے خیر

پچھلے دنوں ایک مذہبی و سیاسی رہنما کی پرجوش تقریر سے استفادے کا موقع ملا جس میں انہوں نے پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف دنیا بھر میں جاری بہت سی سازشوں کا انکشاف کیا۔

یہ سن کر بے حد افسوس بھی ہوا کہ امریکہ، یورپ جیسے ترقی یافتہ ممالک کو سوائے اس کے کوئی اور کام نہیں۔ ویسے بھی پاکستان وہ ملک ہے جس کی اکثریت اندھے عقیدوں کا پرچار کرنے والوں کی پیروکار ہے اور ہردم عمل کے بجائے صرف ذکرِ زبانی میں مصروفِ عمل رہنے کو ترجیح دیتی ہے اور اس کا تمام تر سہرا ان پیشوائوں کے سر ہے جن کے نزدیک تمام مسائل کا حل وظائف میں مضمر ہے۔ اس لئے وہ اپنے عقیدت مندوں کو مختلف وظیفوں سے فیضیاب ہونے کی تلقین کرتے رہتے ہیں مگر انہیں اس کی خبر نہیں کہ ترقی یافتہ ممالک، جن کی رسائی آسمانوں اور سمندر کی تہوں تک ہو چکی ہے، کی ترقی کا راز کیا ہے؟ جب کہ مذکورہ سیاسی و مذہبی رہنما کے بقول وہ تو ہر وقت دوسروں کی تہذیبوں پر حملے کی ترکیبیں ہی سوچتے رہتے ہیں اور ان کا عمل بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ بطور محب وطن پاکستانی میں بھی ان کے خلاف لکھنا چاہتی ہوں مگر روزمرہ زندگی کی بہت ساری آسائشوں کے ساتھ ساتھ ہر میدان میں حیرت انگیز ایجادات اور مصنوعات کا تصور میرے قہر کو حرفِ خیر میں بدل دیتا ہے۔ ان کی ترقی اور تحقیق انسانیت کی بقا سے مشروط ہے، انہوں نے اپنے علم کے زور پر انسان کو صحیح معنوں میں اشرف المخلوقات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے پھر علم اور عمل پر یقین رکھنے والوں سے بیر کیسے رکھا جا سکتا ہے؟ قرآنِ حکیم میں غور و فکر کرنے کا حکم ہے جب کہ ایسے مذہبی رہنمائوں کی کاوشوں کے سبب ہماری قوم غور و فکر، تعلیم، تحقیق اور جدّت سے دور رہی جس کے باعث آج دنیا میں کسی بڑی ایجاد کا سہرا ہمارے سر نہیں۔ ہم ان کی ایجادات سے مکمل استفادہ کرتے ہیں لیکن کبھی بھی ان کی اس حوالے سے پیروی کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اپنے پیدا کردہ تمام مسائل کا ذمہ دار بھی انہیں ہی گردانتے ہیں۔

کبھی جاگیرداروں کے حوالے سے یہ بات مشہور تھی کہ وہ اپنے مزارعوں کو پڑھنے لکھنے کی اجازت نہیں دیتے تاکہ وہ ان کی غلامی سے نجات نہ حاصل کر سکیں مگر غور کیا جائے تو کچھ سیاسی جماعتیں بھی قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک اسی اصول پر عمل پیرا ہیں۔ بڑے بڑے سیاستدان اپنے حلقے کے لوگوں کے لئے جدید تعلیم اور تہذیب و ثقافت سے آگاہی کو دین سے متصادم قرار دے کر انہیں جہالت کے اندھے کنوئوں کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ یہاں مسئلہ صرف انہیں جاہل رکھنے اور اپنے حال پر شاکر رہنے کی تلقین تک محدود نہیں بلکہ بے عملی کے ساتھ ساتھ ہر قسم کی جدّت اور علم کے خلاف لڑنے کی ترغیب بھی ان کے اقوالِ زریں میں شامل ہے جس پر عمل کرنا عوام بھی اپنا اخلاقی اور مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں کیوں کہ یہ سیاست دان ان کے لئے پیر کا درجہ رکھتے ہیں جس کا ہر حکم ماننا ان کا فرض بنا دیا گیا ہے۔ سوچنے کی بات ہے ہمارے نبی پاک ﷺ، جو آخری رسول ہیں، نے دنیاوی علم کی اہمیت بتاتے ہوئے چین کی مثال کیوں دی؟ انہوں نے صرف قرآنِ پاک اور سیرت کی تعلیم تک لوگوں کو محدود رہنے کا حکم کیوں نہ دیا؟ اگر خدا کا حبیب دنیاوی تعلیم کے حصول کے لئے دور دراز کے ملکوں میں جانے کی تلقین کر سکتا ہے تو آج اتنے برسوں بعد ایک مکتبہ ٔ فکر بچیوں اور عورتوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم کے لئے معاندانہ رویہ کس فرمان یا منطق پر روا رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان ایک ریاست ہے جس نے اپنے شہریوں کے ساتھ ایک سماجی عہد کر رکھا ہے جو آئین کا حصہ ہے جس کے مطابق شہریوں اور ریاست کو مختلف حقوق و فرائض سونپے گئے ہیں۔ اس سماجی معاہدے کے مطابق نہ صرف فرد کی جان و مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے بلکہ اس کو ترقی کے مواقع فراہم کرنا بھی ریاست کا فرض ہے۔ پاکستانی ریاست اپنی ہی کچھ کوتاہیوں کے باعث اس وقت ان رجعت پسند قوتوں کے خلاف برسرِپیکار ہے جو کسی قانون اور ضابطے کو تسلیم کرنے سے منکر ہیں۔ اس وقت صرف یہی کوشش نہیں کرنی چاہئے کہ ملک کو ان گروہوں سے نجات دلائی جائے بلکہ ایسی دیگر ترغیب و تعلیم پر بھی پابندی لگائی جانی چاہئے جو افراد کو علم کی روشنی کے بجائے جہالت اور پستی کی طرف گامزن اور لوگوں کو ان کے حقوق سے نابلد رکھ کر ان کا استحصال کرے۔ تالیاں بجانے والے اور واہ واہ کرنے والے وہ معصوم لوگ ہیں جنہیں یہ بھی خبر نہیں کہ انہیں استعمال کرنے والے ان کی دونوں دنیائیں تباہ کر رہے ہیں کیوں کہ خدا کے نام پر خدا کی مخلوق سے بیر رکھنا ایک ایسا قبیح فعل ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ اس مقصد کے لئے تعلیمی نصاب میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ بچوں کی تعلیم کے آغاز میں ہی ان کے ذہنوں میں یہ بات ڈالنی ضروری ہے کہ ہم سب آدم کی اولاد ہونے کے باعث انسانیت کی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں اور بہتری کا معیار خدمتِ خلق ہے اورحسنِ خلق اور رفاہِ عامہ کے ذریعے دلوں کو فتح کرنا ہے۔ علم کا مقصد تخریب نہیں بلکہ تعمیر اور انسانیت کی خدمت میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند