تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امن کے سفیر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 15 محرم 1441هـ - 15 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 30 ربیع الاول 1435هـ - 1 فروری 2014م KSA 15:25 - GMT 12:25
امن کے سفیر

میں نہیں سمجھتا کہ آج بھی اسلام آباد کانفرنس کا حق ادا کر پائوں گا ۔ کل لکھنا چاہتا تھا مگر ملا ضعیف سے ہوتا ہوا اسامہ اور آخر میں مختار حسن تک جا پہنچا۔آخر یہی تو وہ سنگ میل ہیں جن سے اس فیصلے کے راستے کا تعین ہوتا ہے۔ جب کانفرنس اپنے عروج پر تھی تو اس بات کا چرچا تھا کہ وزیراعظم پارلیمنٹ کا پھیرا لگائیں گے۔ وہاں ان سے توقع کی جارہی تھی کہ وہ کوئی پالیسی سٹیٹمنٹ دیں گے۔ آج کل یہ سمجھا جا رہا ہے کہ وہ اعلان جنگ کریں گے۔ اپنی اس غلطی کا اعتراف کریں گے کہ انہوں نے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کر کے غلطی کی تھی۔ اصل میں لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ سرتاج عزیز امریکہ گئے ہوئے ہیں اور وہ یہی وعدہ کر کے آئیں گے کہ ہم آپ کے حکم کے تحت اب اپنی افواج کو پیش قدمی کا حکم دے رہے ہیں۔ اسحق ڈار نے بھی کہا ہے کہ ایسا نہ کیا گیا تو معیشت سنبھل نہیں سکتی۔ چوہدری نثار بھی یہی بتا رہے ہیں کہ ان کے پاس مذاکرات کا دروازہ کھولنے کی کنجی نہیں ہے۔

باخبر لوگوں کا اندازہ تھا کہ حالات اگرچہ اس سمت جا رہے ہیں ، مگر شاید کسی سیاسی حکومت کے لئے اس لمحے یہ اعلان کرنا مصلحت کے خلاف ہو گا۔ چاروں طرف سے یلغار ہے کہ چڑھ دوڑو۔ وہ سب لوگ جو ہر قسم کے فوجی ایکشن کے خلاف چلے آ رہے تھے، اس وقت سینہ تان کر کہتے ہیں ان دہشت گردوں کی سرکوبی کے سوا اور کوئی راستہ نہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان لوگوں نے کوئی راستہ باقی ہی نہیں چھوڑا ہے۔ خاص طور پر جب سب سیاسی جماعتوں نے مل کر مذاکرات پر اتفاق کیا، تو انہوں نے اگلے ہی روز ایک جرنیل مار دیا، پھر پشاور میں کلیسا پر حملہ کردیا، پھر بنوں چھائونی پر اس کا رواں پر حملہ کردیا جو شمالی وزیرستان روانہ ہو رہا تھا۔ اور آخر میں ایک بار پھر جی ایچ کیو پر حملے کی کوشش کی۔ جواب میں ریاست کو یا فوج کو کچھ بھی کہہ لیجئے، اپنی طاقت دکھانا پڑی۔ میں نے بڑے بڑے زیرک تجزیہ نگاروں کو یہ کہتے سنا کہ فوج کا آخر پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا اور انہوں نے کسی کی نہ سنی اور آپریشن شروع کردیا۔ ایک نے تو یہ بھی کہا کہ نواز شریف کے ساتھ فوج یہی کرتی ہے، وہ بھارت سے دوستی کی داغ بیل ڈالتے ہیں اور فوج کارگل میں چڑھائی کر دیتی ہے۔ اب بھی یہی ہوا ہے۔ یہ مذاکرات مذاکرات کھیل رہے تھے، فوج نے اپنا کام شروع کردیا۔ یہ بھی کہا جانے لگا کہ فوج تو ملٹری آپریشن کے حق میں ہے، یہ سویلین ہی ہاتھ باندھے بیٹھے ہیں۔

میرے خیال میں بات اتنی سیدھی اور سادی نہیں ہے۔ نہ فوج آپریشن کرنے کے لئے بے چین ہے نہ سویلین کو ناگزیر صورت حال میں اس سے اجتناب ہے۔ سبھی ایک حمام میں ہیں، سبھی کے اپنے مسائل ہیں، ہو سکتا ہے ترجیحات کا فرق ہو۔ فوج کیوں چاہے گی کہ وہ حالت امن میں رہنے کے بجائے جنگ کو اپنے اوپر مسلط کرے اور سویلین کیوں چاہیں گے کہ وہ اپنے شہروں میں دہشت گردی کی وارداتیں ہوتی دیکھتے رہیں۔ بس ، بس ، بار بار ایک لفظ استعمال کرتا آ رہا ہوں۔ وہ یہ کہ ہم اپنی جیوپولیٹیکل صورت حال کے اسیر ہیں۔ ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ ہم فیصلے کسی اور کے کہنے پر کریں گے۔ اس کے تمام اثرات بھی برداشت کریں اور اس کی تمام ذمہ داری بھی قبول کریں۔ ہم جس طرح آئی ایم ایف میں جانے پر مجبور ہیں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات بھی بھگت رہے ہیں،اسی طرح نان نیٹو الائنس بھی ہماری مجبوری ہے جس کی قیمت ہمیں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ ہو سکتا ہے یہ مجبوری ہمارا بوجھ ہی نہیں، ہماری طاقت بھی ہو۔ اس وقت مگر ہمیں وہ طاقت نظر نہیں آ رہی۔ کم از کم اس قوم کو نظر نہیں آرہی۔ امریکی لابی نے پوری طرح ہماری نشر و اشاعت پر اپنا تسلط جما رکھا ہے۔ گلوبل سطح پر عالمی میڈیا نئے کارپوریٹ سانچوں میں کس طرح کام کرتا ہے، اس کے حوالے سے حقائق حیران کن ہیں۔ حال ہی میں ایک رپورٹ نظر سے گزری ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ آپ چاہے اپنے کتے کی خوراک خریدیں یا کوئی بڑی بڑی الیکٹرانک مصنوعات ،سب کا منافع دس بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو جاتا ہے۔ آپ ایک مشروب پی رہے ہیں اور نہیں جانتے کہ بظاہر یہ جس کمپنی کا ہے، اس کی اصل ملکیت کسی نے خرید رکھی ہے۔ معلوم ہو گا کہ بظاہر تو نام کسی اور کا ہے، مگر اس کے حصص ایک اس سے بھی بڑی کمپنی نے خرید رکھے ہیں جس کا نام بھی نہیں آتا۔

یہی حال میڈیا کا ہے۔ کارپوریٹ دنیا کایہ ایک عجیب گورکھ دھندا ہے ۔ کس طرح سب کچھ کارپوریٹ مفادات کے تحت خرید لیا جاتا ہے۔
اس طویل جملہ معترضہ کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں باور کرایا جارہا ہے کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم اپنے مفاد پر’’ دہشت گردوں‘‘ پر چڑھ دوڑیں جبکہ ہماری ریاست کو یہ خدشہ ہے کہ گھن کے ساتھ گیہوں بھی نہ پس جائے اور اس کے نتیجے میں ہمارے شہر اور ہماری تنصیبات مزید خطرات کی زد میں نہ آ جائیں۔مشرف کے دور کے دو واقعات لال مسجد کا واقعہ اور بگٹی کا قتل آج تک ہمارے گلے میں اٹکے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے لئے مزید مسائل پیدا نہیں کرنا چاہتے۔

ایک دلیل یہ بھی دی جارہی ہے کہ 40سے زیادہ طالبان کے گروپ ہیں۔ سبھی تو اسلام کے دعویدار نہیں، اب وہاں یہ ایک کاروبار اورکلچر بن گیا ہے ، نئے نئے وار لارڈ پیدا ہو گئے ہیں۔ ان کی بقا اور ذریعہ معاش ہی یہ ہے۔ وہ کبھی صلح نہیں چاہیں گے ۔ ادھر سے جواب میں ایک دلیل یہ آتی ہے کہ سامنے ایک دیوار ہے جس میں اگر 400اینٹیں لگی ہیں اور ان میں سے 200اینٹیں نکال لی جائیں تو باقی دیوار میں جو رخنے پیدا ہو جائیں گے وہ اسے سلامت کھڑا نہیں رہنے دیں گے ا ور شاید ایک دھکے ہی سے وہ مسمار کی جا سکے۔ فوجی کارروائی ناگزیر ہے تو اس سے پہلے یہ عمل ہو جائے تو اس میں کون سی قباحت ہے ۔اور اگر اس عمل کے نتیجے میں باغیوں کو پسپائی پر مجبور ہونا پڑے تو کیا حرج ہے۔

ایک تاثر یہ ہے کہ کوئی طاقت ایسی ہے جو مذاکرات کامیاب ہونے ہی نہیں دینا چاہتی۔ وہی میڈیا سے شور مچاتی ہے یا ’’مچواتی‘ ہے اور وہی سبوتاژ کرتی ہے۔ جیسے کلیسا کے واقعہ کے بعد طالبان نے کہا یہ ہمارا کیا دھرا نہیں۔ جی ایچ کیو پر حالیہ کوشش کی ذمہ داری سے بھی انہوں نے انکار کیا، بلکہ اگلے روز مذاکرات کی پیش کش کردی۔ بعض یہ کہتے ہیں یہ پیشکش تو ہماری فضائیہ کی بمباری کی وجہ سے کی گئی۔ ہم اگر طاقت استعمال کریں تو خود ہی راہ راست پر آ جائیں گے۔بعض نے یہ اعتراض بھی داغاکہ سویلین مرتے ہیں فوج ردعمل ظاہر نہیں کرتی، اب اپنے بندے مرے ہیں تو کسی سے پوچھے بغیر جواب پر اتر آئے ہیں۔ بظاہر یہ بات معقول لگتی ہے، مگر اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ جواب نہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کے بازوئے شمشیر زن بھی شل ہو چکے ہیں، ان میں الجھنے کی سکت نہیں ہے۔ اس لئے دونوں کی صورت حال الگ ہے۔

میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ یہ امن کو آخری چانس ہے۔ اس کی ناکامی کے بعد فوجی کارروائی ناگزیر ہوجائے گی خواہ یہ کتنی بھی غیر مستحسن کیوں نہ ہو، یہ بھی اندازہ ہو رہا ہے کہ فوج نے مارچ کے آخر یا اپریل کے شروع میں خود کو کسی بھی کارروائی کے لئے تیار کر رکھا ہے۔ اسی لئے ہمارے آرمی چیف یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ فوج ہر قسم کی کارروائی کیلئے تیار ہے۔

خدا کرے، اس کی نوبت نہ آئے۔ میں نے عرض کیا تھا کہ شاید میں آج بھی اس انٹرنیشنل کانفرنس پر نہ لکھ سکوں گا۔ یہ بات تو میں نے اس لئے کہی تھی کہ وزیراعظم نے مذاکرات کے لئے جو کمیٹی مقرر کی ہے اس پر اظہار خیال کرنا چاہتا ہوں۔ وہ بھی رہا جارہا ہے ، دیکھیں اس کی باری کب آتی ہے۔ اس میں جو لوگ شامل ہیں، ان کی کامیابی پر میں جذباتی حد تک خود کو ملوث محسوس کرتا ہوں۔ عرفان صدیقی کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں،وہ تو میرے قبیلے کے فرد ہی نہیں، بلکہ بھائیوں کی طرح ہیں۔ میجر عامر ایک عرصہ تک افغان امور میں ہمارا سب سے کارگر خفیہ ہتھیار رہے ہیں۔ افسوس انہیں ان کے ادارے نے بھی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا اور سیاستدان بھی انہیں بھول بیٹھے۔ رحیم اللہ یوسف زئی کے حوالے سے میں اکثر کہتا ہوں کہ افغان اور پختون صورت حال پر وہ واحد صحافی ہیں جن پر میں اعتبار کر سکتا ہوں۔ رستم شاہ مہمند بلا شبہ ایک معتبر سفارت کار رہے ہیں جن کا افغان معاملات پرتجربہ اکثر اوقات ہمارے میڈیا پر بولتا دکھائی دیتا ہے۔ خدا ان سب کی حفاظت کرے۔

میرے ایک دوست نے ڈرا دیا ہے کہ امن کی کوششیں کرنے والوں کو طالبان تو کچھ نہیں کہتے، امریکہ ان کا دشمن ہو جاتا ہے۔ مگر میرا رَبّ سب سے عظیم ہے۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند