تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
دو امریکی خبریں ۔ طالبان اور پاکستان؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 20 ذوالحجہ 1440هـ - 22 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 11 ربیع الثانی 1435هـ - 12 فروری 2014م KSA 09:32 - GMT 06:32
دو امریکی خبریں ۔ طالبان اور پاکستان؟

دو تازہ امریکی خبریں ملاحظہ کیجئے جو براہ راست پاکستان پر اثرانداز ہوں گی۔ امریکی اخبار والی اسٹریٹ جرنل کی 10؍فروری کی اشاعت میں یہ دونوں خبریں سامنے آئی ہیں اور امریکی اخبار ’’لاس اینجلس ٹائمنر‘‘ نے ڈرون حملوں والی خبر کو اپنے ذرائع سے شائع کیا ہے کہ پاک، افغان سرحدی علاقوں میں چھپے ہوئے امریکی شہریت کے حامل دہشت گردی میں ملوث ایک شخص کو ہلاک کرنے کیلئے ڈرون حملے کئے جانے کا امکان ہے۔ چونکہ ڈرون حملوں کے ضوابط کے تحت سی آئی اے کے ڈرون کو امریکی شہری کو ٹارگٹ کرکے ہلاک کرنے کا اختیار نہیں ہے لہٰذا امریکی فوج کے ڈرون طیاروں سے حملہ ہوگا اور اس طرح کسی مفرور اور مطلوب ملزم کی طرح بیرون امریکہ وہ امریکی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہوگا گویا یہ ’’پولیس مقابلے‘‘ کی طرح فوج مقابلہ کی موت ہوگی۔ دونوں امریکی اخبارات اور دیگر امریکی ذرائع ابلاغ نے اس امریکی شہری کا نام ظاہر نہیں کیا البتہ یہ بتایا ہے کہ صدر اوباما اس بارے میں تمام حقائق کا جائزہ لیکر امریکی فوج کو تلاش اور ٹارگٹ کر کے اس امریکی شہری کو ہلاک کرنے کی ہدایات جاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ملاحظہ فرمایا آپ نے امریکہ اپنے ایک شہری کیلئے بھی امریکی صدر کو ضوابط کا پابند کس طرح اور کتنا کرتا ہے۔ ورنہ اب تک کسی غیر امریکی کی صورت میں سی آئی اے کے ڈرون طیارے تلاش اور حملوں کا مشن کسی اعلان کے بغیر ہی کرچکے ہوتے۔

دوسری خبر کچھ یوں ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے جزوی انخلاء کے بعد ایک دوطرفہ معاہدے کے تحت کچھ امریکی فوج اور دیگر شعبوں میں امریکیوں کی ایک تعداد کو افغانستان میں مقیم رکھنے کیلئے امریکہ افغان صدر حامد کرزئی پر ایک دوطرفہ معاہدے پر دستخط کیلئے زور دیتا چلا آرہا ہے۔ کئی سال قبل امریکی حمایت اور سرپرستی سے امریکہ میں قیام پذیر حامد کرزئی کو افغانستان لاکر عہدہ صدارت تک بھی امریکہ نے ہی پہنچایا تھا اور امریکی شہریت کے حامل ان کے بھائی اور خاندان کے دیگر افراد کو بھی امارت اور مراعات کی منازل بھی طے کرنے میں مدد اور چشم پوشی کی۔ آج وہی حامد کرزئی افغانستان اور عالمی سیاست کے اسٹیج سے رخصت ہونے والے ہیں لیکن بعض وجوہ اور حالات کے باعث وہ امریکہ کے ساتھ اس دوطرفہ معاہدہ پر دستخط سے انکاری ہیں۔ یہ معاہدہ امریکہ کی بڑی سیاسی، عالمی، اسٹرٹیجک اور فوجی ضرورت ہے۔ خطے میں امریکہ کے موجودہ اور مستقبل کے مفادات کے لئے امریکی اس معاہدہ پر افغان دستخطوں کے حصول کے لئے بے چین ہیں جس کی تفصیل حالیہ خبروں اور زیر بحث خبر سے واضح ہو جاتی ہے کہ صدر اوباما افغانستان سے بقیہ فوجی انخلاء کو صدر حامد کرزئی کی سبکدوشی اور نئے افغان صدر کے انتخاب تک ملتوی کر رہے ہیں یعنی جب تک دوطرفہ افغان، امریکہ معاہدے پر دستخط نہیں ہوں گے بقیہ انخلاء نہیں ہوگا۔ ویسے بھی امریکہ اپنی فوج کی ایک بڑی تعداد اور سازوسامان کا انخلاء محفوظ طور پر کسی پریشانی کے بغیر کرچکا ہے۔ صدر اوباما بھی اپنے عہدہ صدارت کی دوسری میعاد اور آخری میعاد گزار رہے ہیں۔ امریکی سینیٹ کی ایک تہائی نشستوں اور ایوان نمائندگان کی تمام نشستوں کے انتخابات کیلئے ابھی سے ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیاں معاملات اور مسائل کو انتخابی مہم کے نقطہ نظر سے دیکھ رہی ہیں اور اس سال کے آخر میں ہونے والے امریکی کانگریس کے انتخابات میں افغانستان سمیت یہ تمام مسائل ری پبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی انتخابی سیاست کے نقطہ نظر سے زیر بحث بھی آئیں گے۔ اسی لئے صدر اوباما نے افغانستان میں فوجی انخلاء کو معطل کرنے کے اقدام سے کنزرویٹو ری پبلکن حلقوں اور بعض ڈیموکریٹس کا منہ بند کرنے کی کوشش کی ہے۔

ان دو خبروں کی درستی کی تصدیق کی صورت میں پاکستان پر اس کے اثرات اور مسائل میں اضافہ کے امکانات کا جائزہ بھی لینا ضروری ہے کیونکہ افغانستان میں صورتحال کی معمولی سی تبدیلی کا جھونکا پاکستان کی صورتحال پر براہ راست اثرانداز ہوتا ہے۔ یہ دونوں خبریں پاکستان کے طالبان سے مذاکرات پر بھی اثر ڈالیں گی۔ طالبان شرائط پاکستان کیلئے ویسے ہی عملاً ناقابل قبول حیثیت کی حامل ہیں۔

امریکی انخلاء میں تعطل اور ڈرون کے سی آئی اے کے بجائے امریکی ملٹری کے ہاتھوں استعمال کی حکمت عملی اب پھر طالبان کو افغانستان کی طرف توجہ دینے پر مجبور کردے گی۔ طالبان پاکستان کو معلوم ہونا چاہئے کہ مذکورہ امریکی شہری کو پاکستانی علاقوں میں روپوش بتایا جارہا ہے لہٰذا ڈرون کا فوجی استعمال پاکستانی علاقوں پر مرکوز ہوگا اور اس امریکی شہری کی تلاش میں امریکی ملٹری کے بوٹس اور انٹیلی جنس ان پاکستانی علاقوں میں داخل ہونے کا امکان بھی ہے۔ مذاکرات میں ناقابل عمل شرائط عائد کرنے والے طالبان کو یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ اگر پاکستان نے ملٹری آپریشن کا راستہ اختیار کرتے ہوئے امریکہ سے اپنے آپریشن میں ڈرون طیاروں کے استعمال کیلئے امریکی تعاون مانگ لیا تو اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ پاکستانی فوج کے ایسے ملٹری آپریشن میں امریکی ڈرون کے تعاون سے پاکستان کیلئے مشن کتنا آسان اور بہتر ہو جائے گا یہ فوجی ماہرین ہی بتاسکتے ہیں۔ البتہ پاکستان اس حکمت عملی کے ذریعے امریکہ کو آزمائش میں ڈال سکتا ہے کہ وہ اب دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے فوجی آپریشن میں کتنا ساتھ دیتا ہے۔ مختصر یہ کہ ڈرون ابھی پاک،افغان علاقے میں بطور ایک حقیقت، ایک مسئلہ اور ایک تنازع کے طور پر موجود رہیں گے۔ جہاں تک افغان، امریکہ معاہدہ کی بات ہے تو افغان انتخابات میں صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ سالہا سال امریکہ میں گزار چکے ہیں اور ان سے ڈیل کرنا امریکہ کیلئے آسان ہو گا اور معاہدے پر دستخط کرنا ایک حقیقت کا روپ دھارلے گا۔ حامد کرزئی سے معاملات طے کرنے میں امریکی دلچسپی یوں بھی ختم ہورہی ہے کہ وہ صدارت سے سبکدوش ہورہے ہیں اور امریکی ناراضی اور قدرے لاتعلقی کے ساتھ سبکدوشی کی جانب رواں دواں ہیں۔

پاکستانی مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز واشنگٹن میں یہ بیان دے چکے ہیں کہ افغانستان سے امریکی انخلاء سے خطے میں ایک خلاء پیدا ہوگا۔ گویا پاکستان کی خواہش پوشیدہ و اعلانیہ یہی ہے کہ امریکی فوج افغانستان میں موثر تعداد و استطاعت کے ساتھ موجود رہے تو پاکستان کیلئے مفید ہے لہٰذا انخلاء کے عارضی تعطل کی خبر سرتاج عزیز کی حکمت عملی کیلئے اچھی خبر ہے۔ اب پاکستان دہشت گردی کی جنگ خود اپنے ہی وسائل سے لڑے گا اور امریکی سپورٹ فنڈ اور تعاون کے بغیر ہی لڑنا ہوگی۔ ایسے میں یہ دونوں خبریں پاکستان کے حکمت عملی ساز افراد اور اداروں کیلئے فوری توجہ کی مستحق ہیں ان کا تفصیلی اور سنجیدہ تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جنگ سے تھکے ہوئے طالبان کو بھی ناقابل قبول شرائط پاکستان پر مسلط کرنے کے بجائے سنجیدگی سے ان دونوں خبروں کا جائزہ لیکر امن کی طرف قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ورنہ انہی دو خبروں پر عمل ہونے کی صورت میں جو نتائج نکلیں گے اس سے طالبان اور پاکستان دونوں ہی متاثر ہوں گے، خدا خیر کرے۔
 

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند