تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سلامتی، میانہ روی اور رواداری
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 جمادی الاول 1441هـ - 18 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 12 ربیع الثانی 1435هـ - 13 فروری 2014م KSA 13:47 - GMT 10:47
سلامتی، میانہ روی اور رواداری

سابق وزیراعظم برطانیہ ٹونی بلیئر نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی مذہب کی خدمت اور مختلف مذاہب کے درمیان بات چیت کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے وقف کر دیں گے اور امن و سلامتی کی اشاعت، اقتصادی ترقی کے جذبات کو ابھارنے اور فقر و افلاس کو ختم کرنے کے لئے مذہب کی طاقت سے استفادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ٹونی بلیئر کی اس بات کی صداقت کا تو اندازہ نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی امید ہے کہ جارج بش کے ’’نائب‘‘ کو اس کی توفیق ہو گی اور اس مہم میں وہ کچھ آگے بڑھ سکیں گے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ 10ڈائوننگ اسٹریٹ چھوڑنے کے بعد سے ان کے اندر ’’مذہبی شعور‘‘ کچھ زیادہ ہی پیدا ہو گیا ہے اور وہ سمجھنے لگے ہیں کہ موجودہ صدی مذہبی صدی ثابت ہو گی جبکہ گزشتہ صدی سیاست کی صدی تھی۔ (مذہب اور سیاست میں کیا فرق ہے، یہ سب جاننے کے لئے اب ہمیں ٹونی بلیئر کی طرف دیکھنا ہو گا) ممکن ہے بہت سے لوگ ان کی اس فکر سے متفق بھی ہوں اور وہ بھی اس صدی کو مذہبی صدی قرار دیتے ہوں گے۔

موجودہ بین الاقوامی جنگی ماحول کے جواز اور اس کے اسباب و عوامل پر جب ہم نگاہ ڈالتے ہیں تو بظاہر ہمیں نظر آتا ہے کہ اس کے بھڑکنے میں مذہب کا عمل دخل ضرور رہا ہے یعنی ان جنگوں کو جائز ٹھہرانے کے لئے مذہبی دلائل کا ہی استعمال کیا گیا ہے۔ القاعدہ کے بارے میں صاف کہا جاتا ہے کہ اس نے دنیا کو مشتعل کر دیا اور 11/9 کی کارروائی کے ذریعے زمانے کی رفتار کو کاٹ دیا جس کا جواب بش نے فکری جنگ کے ذریعے دیا اور اگر بعض مسلمان ان جنگوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ اسلام کے خلاف ان کی چھیڑی گئی صلیبی جنگ ہے۔ پھر اس کے نتیجے میں جس طرح کے حادثات و واقعات و وارداتیں ہوئیں انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ کسی نہ کسی حد تک فکری یعنی مذہبی جنگ ہے ۔ مذہبی اس نظریہ کو جھٹلانا اس کی تاویلات کرنا آسان نہیں کیونکہ اس کے عوامل ہر جگہ موجود اور اس کی بنیاد ہر کشیدگی میں دکھائی دیتی ہے۔ جب بھی کوئی کشیدہ صورتحال رونما ہوتی ہے یا اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں تو اسے کسی نہ کسی مذہبی وجوہات کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔

مغرب و مشرق کی اس کشمکش کو پر جوش واعظین صلیبی جنگ سے جوڑ دیتے ہیں۔ اہل مغرب کو مسلمان انتہاپسند، بنیاد پرست اور دہشت گرد دکھائی دیتے ہیں انہیں وہ مغرب کی جمہوریت سیکولرازم اور عالمی ثقافت و کلچر کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں یعنی ایک طرف مغرب سے مسلمانوں کو شکایت ہے تو دوسری طرف مسلمانوں کو مغرب سے خطرہ ہے اور ہر جانب سے دوسرے پر ردوقدح کا بازار گرم رہتا ہے۔ اس شور و ہنگامے میں میانہ روی اور باہمی رواداری کی آواز دب جاتی ہے اور دونوں کے درمیان خلیج حائل ہو جاتی ہے۔ یہاں میں ایک حالیہ واقعہ کا ذکر کرتا چلوں۔ چند دن قبل انٹرنیٹ پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان بات چیت کا پروگرام نظر سے گزرا۔ اس میں دونوں فریقوں کا انداز جارحانہ اور غیر روادارانہ تھا۔ توکیا آپ اسے بات چیت یا گفتگو کہیں گے؟ ہمیں سب سے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ غیر مسلموں سے بات چیت کس دائرے میں ہو، جن سے ہم بات کر رہے ہیں ان سے ہم کیا چاہتے ہیں، ہم کن سے بات کر سکتے ہیں اور کس طرح کر سکتے ہیں؟ مختلف مذاہب کے درمیان بات چیت اور گفتگو کا مفہوم دعوت و ’’تبلیغ‘‘ نہیں ہوتا یا نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی ’’دعوت حق‘‘ دینا ہوتا ہے کہ بات چیت کے لئے آئے ہوئے دوسرے فریق کے سامنے اپنے مذہب کی خوبیوں کو بیان کرنے بیٹھ جائیں کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ بات چیت کے لئے آنے والے آپ کے مذہب سے بخوبی واقف ہوں اور اس میں کافی ریسرچ کئے ہوئے ہوں۔

بات چیت کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں رواداری کو عام کرنے کے لئے باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے اور تمام مذاہب مل کر یہ دیکھیں کہ کسی مذہب کی تعلیمات سے ٹکرائے بغیر ہم آپس میں مل جل کر امن و سلامتی اور بھائی چارے کے ساتھ کس طرح رہ سکتے ہیں۔ ملک کی اقلیت کے حقوق کی نگہداشت کس طرح ہو سکتی ہے اور ان کے ساتھ بہتر برتائو کی وجہ سے دلوں میں نفرت و کراہت یا تعصب و عناد کے جذبے کو جڑ سے اکھاڑنے میں کس طرح مدد مل سکتی ہے اور بہتر تعلقات کے قیام کی راہ کیسے ہموار ہو گی؟بلاشبہ اس بات چیت سے سمجھنے اور سمجھانے کا دروازہ کھلتا ہے، اس کے ذریعے مسلمان اس حقیقت کو جان اور سمجھ سکتے ہیں جو دوسروں کے پاس ہے۔ اس دروازے کے اندر اگر ہم داخل ہونے میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں تو اس کے اندر ہمیں بڑی وسعت نظر آئے گی جہاں مختلف تہذیبیں اور ثقافتیں آرام کے ساتھ زندگی بسر کرتی نظر آئیں گی۔ جب ہم ایک دوسرے سے واقف ہو جائیں گے اور ایک تہذیب دوسری تہذیب سے مانوس ہو جائے گی تو انتہاپسندی و بنیاد پرستی کو وہاں جگہ نہیں مل سکے گی اور نہ ہی صلیبی جنگ کا نعرہ لگانے کا کسی کو موقع ملے گا۔

میرے حساب سے ہر انسان، انسان ہے، ہر ایک کی خواہش سکون و راحت کی ہوتی ہے۔ دوسروں کی طرح مسلمانوں میں بھی سلامتی اور میانہ روی اور رواداری موجود ہے۔ آج جنگ و جدل اور قتل و خون ریزی کے ماحول میں رواداری کی شدید ضرورت ہے تاکہ انسان اپنی انسانیت کا ثبوت دے سکے کہ عربی میں سلام، سنسکرت میں اوم، عبرانی میں شلوم اور انگریزی میں آمن کے معنیٰ و مفہوم امن، سلامتی اور آشتی کے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند