تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کرارہا ہے!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 28 جمادی الاول 1441هـ - 24 جنوری 2020م
آخری اشاعت: پیر 16 ربیع الثانی 1435هـ - 17 فروری 2014م KSA 10:00 - GMT 07:00
بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کرارہا ہے!

 دہشت گردی دیمک کی طرح ملک کی سلامتی اور معیشت کو چاٹ رہی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں دہشت گردی کے ذمہ دار بھارت، اسرائیل اور امریکہ کے ایجنٹ ہیں۔ قانون نافذ کرنیو الے اور تحفظ فراہم کرنے والے اداروں کے سابق سربراہان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بیرونی عناصر ہمارے ہاں دہشت گردی کرانے کیلئے اپنے ایجنٹ اور مقامی لوگوں کو استعمال کر رہے ہیں۔ اب تو وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی برملا کہا ہے کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کر رہا ہے ۔ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں اور حکومت کے پاس اس کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔

جمہوری عمل کے ذریعے بلوچستان میں ایک غیر متنازعہ اور بہترین حکومت وجود میں آئی تو دشمنوں کو یہ بات ہضم نہ ہو سکی۔حالیہ دہشت گردی میں باہر کے لوگ ملوث ہیں جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ہماری خفیہ ایجنسیوں نے انکشاف کیا ہے کہ ہمارے بعض علماء اور سیاسی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ میں بھارتی ملوث ہیں۔

دہشت گرد پاکستانی ہیں نہ مسلمان ، بلکہ دشمنوں کے تیارکردہ ہیں جنہیں مسلمان اور پاکستان کا لبادہ اوڑھا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ خود کش حملوں میں مدارس کے وہ بچے استعمال کئے جاتے ہیں جن کا کوئی والی وارث نہیں ہوتا۔ نام نہاد مولوی اپنے بیرونی عناصر کے نظریات کی بنا پر ان کی ٹریننگ کرتے ہیں اور انہیں خود کش حملوں کیلئے بھیج دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں افغانستان میں موجود بھارت کے قونصل خانے بہت سرگرم عمل ہیں۔ طالبان کے دور میں افغانستان میں بھارت کا ایک بھی قونصل خانہ موجود نہ تھا مگر نائن الیون کے بعد بھارت امریکہ کی شہ پر افغانستان میں قدم جما چکا ہے ۔ بھارت نے افغانستان سے یتیم بچے اپنے ملک میں لا کر ان کو دہشت گردی کی ٹریننگ دی اور پھر ان کو پاکستان میں دہشت گردی کیلئے بھیج دیا۔ اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں کہ وطن عزیز میں فرقہ وارانہ (شیعہ سنی)فسادات کے پیچھے ’’را‘‘ کا ہاتھ ہے۔ پاکستان میں مختلف وارداتوں میں گرفتار ہونیوالے افراد یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے بھارت میں راء کے تربیتی کیمپوں سے دہشت گردی کی تربیت حاصل کی ۔ بلوچستان بدستور غیرملکی سازشوں کا نشانہ بنا ہواہے۔ راکٹ فائرنگ اور بارودی سرنگیں پھٹنے کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آئی ہے بلکہ ان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ایک اطلاع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے 1200 سے زائد ایجنٹ افغانستان میں اسی بات کے لئے تعینات کئے گئے ہیں کہ وہ بھارتی اسلحہ پاکستان میں اپنے ٹاؤٹوں اور ایجنٹوں کو فراہم کریں تاکہ وطن عزیز میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا رہے۔

ہمارے بعض سیاسی عناصر خصوصاً بلوچ سردار دشمن قوتوں کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں اور ان قوتوں کے مذموم عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ان کے مدد گار ہیں جس کے عوض میں انہیں بھاری مالی امداد، جدید اسلحہ اور گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ عناصر بلوچستان میں علیحدگی پسند عناصر اور کراچی میں لسانی قوتوں کو منظم کر کے آپس میں لڑوانے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ ان عناصر کو بین الاقوامی خفیہ ہاتھ منظم کر رہے ہیں۔بھارت افغانستان میں پناہ گزین براہمداخ بگٹی کے علاوہ دیگر بلوچوں کو بلوچستان میں بدامنی کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ بھارت بلوچستان کے علیحدگی پسندبھارتی سرمائے سے یورپی ممالک برطانیہ، کینیڈا، دبئی، اومان کے ہوٹلوں میں رہائش پذیر ہیں۔ را کے زیر سرپرستی بلوچ علیحدگی پسندوں کو تخریبی کارروائیوں کیلئے افغانستان میں قائم مختلف تعلیمی اداروں میں ورغلا کرعظیم تر بلوچستان کے بارے میں گمراہ کن تھیوریاں بتائی جا رہی ہیں جس میں انہیں پاک فوج اور آئی ایس آئی سے متنفر کرنے کیلئے خصوصی سیمینار کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔

بھارت سے دوستی ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ بھارت نہ پہلے پاکستان کا خیر خواہ تھا اور نہ ہی اب ہے بلکہ اس کا ایجنڈہ پاکستان کو کمزور اور ایٹمی پر وگرام ختم کر نا ہے مگر ابھی تک اس کو کا میابی نہیں ہوئی۔پشاور، کوئٹہ اور کراچی میں ہونیوالی دہشت گردی سمیت ملک بھر میں ہونیوالی دہشت گردی کے اکثر واقعات کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے حکمران بھارت دوستی میں اندھے ہوچکے ہیں ۔ سید منور حسن امیر جماعت اسلامی پاکستان نے بھی اسی طرف توجہ دلائی ہے کہ دہشت گردی کے معاملے میں بھارت خود کفیل ہے جبکہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے وہ ڈرامہ رچا رہا ہے۔ بھارت پورے خطے کا تھانیدار بننا چاہتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند