تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
طالبان کی ذمہ داری
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 21 ربیع الثانی 1435هـ - 22 فروری 2014م KSA 08:54 - GMT 05:54
طالبان کی ذمہ داری

ہونا تو بہت پہلے چاہئے تھا، نہیں ہوا۔ اب ہو جائے۔ طالبان ذمہ داری کا ثبوت دیں، معاملات پر توجہ دیں اور جو کرتا دھرتا ہیں اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ یہ انہیں بہت پہلے کرنا چاہئے تھا، اب بھی کرلیں تو معاملات کو مزید خرابی کی طرف جانے سے روکا جا سکتا ہے۔ اس بار، خدانخواستہ، اگر معاملات ہاتھ سے نکل گئے تو بہت خرابا ہو گا، بہت ہی زیادہ۔ اور طالبان قیادت کو اندازہ ہونا چاہئے کہ یہاں وہاں ایسی قوتیں موجود ہیں اور سرگرم، جو صورت حال کو اُدھر ہی لے جانا چاہتی ہیں جو تباہی کا راستہ ہے۔ اس بار حالات بگڑے تو انہیں سنبھالنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہوگا۔

یہ ہو کیا رہا ہے؟ طالبان قیادت کو سوچنا چاہئے۔ جب بھی امید کی ہلکی سی کرن نظر آتی ہے، مذاکرات میں کھنڈت ڈال دی جاتی ہے۔ حالات ذرا سنبھلتے ہیں تو انہیں خراب کردیا جاتا ہے۔ ایک طرف مذاکرات ہو رہے ہوتے ہیں کہ دوسری طرف قتل و غارت گری شروع کردی جاتی ہے۔ اور ایسے وقت جب مذاکرات کے خلاف شور شرابا کرنے والے بہت ہوں۔ نہ بھی ہوں تب بھی یہ کیسے ہو پائے گا کہ عین اس وقت جب قوم جنگ بندی کے اعلان کی آس لگائے بیٹھی ہو، ایف سی کے تئیس اہلکاروں کے قتل کی خبر آئے، اور بات چیت جاری رہے۔ یوں نہیں ہو سکتا، ممکن ہی نہیں ہے۔ طالبان کے جس گروپ نے اس اہم لمحے میں یہ خبر اپنی ویب سائٹ پر ڈالی، اس کی نیت عیاں ہے، مذاکرات کو سبوتا ژ کرنا۔ جزوی طور پر اس گروپ کا مقصد شاید حاصل بھی ہو گیا۔ مذاکرات میں تعطل تو پیدا ہو ہی گیا، ختم شاید نہ ہوئے ہوں۔ حکومت نے ضبط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اب بھی مذاکرات جاری رکھنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ ان کے لئے بھی زندگی اتنی آسان نہیں ہے۔ بہت دبائوان پر بھی ہوگا، اندرونی بھی اور بیرونی بھی۔

طالبان قیادت ان سب باتوں کو سامنے رکھے، اپنی تمام ذمہ داریاں نبھائے۔ مذاکرات کے مخالف گروپوں کو قابو میں رکھنا، تواس قیادت کی ذمہ داری ہے ہی، یہ بھی ذرا دیکھیں کہ مہمند میں ہوا کیا ہے؟ جاننے والوں کا خیال ہے کہ مہمند کے طالبان ایف سی کے اہلکاروں کو اغوا کرنے کی اہلیت تو رکھتے ہیں مگر انہیں زیادہ عرصے تک قید شاید نہیں رکھ سکتے۔ یہ اہلکار کوئی چار برس پہلے اغوا کیے گئے تھے۔ اس عرصے میں وہ کہاں رکھے گئے؟ طالبان قیادت معلوم کرے۔ یہ بھی معلوم کرے کہ مذاکرات کے نازک لمحوں میں یہ اطلاع کیوں دی گئی کہ ان اہلکاروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ اس بات میں کوئی صداقت نہ ہو؟ یہ بے گناہ اہلکار زندہ ہوں، خدا کرے ایسا ہی ہو، اور اس اطلاع کا مقصد صرف معاملات کو خراب کرنا ہی ہو؟ اس تحقیق کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ اب تک کسی بھی دوسرے ذریعے سے ایف سی اہلکاروں کی شہادت کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے ۔ فوج کے اپنے ذرائع بھی ہیں، انہوں نے بھی حقیقت جاننے کی کوشش کی ہوگی۔ ہوا کیا ہے؟ انہوں نے بھی نہیں بتایا۔ طالبان قیادت اپنے وسائل استعمال کرے، حقائق کا پتہ چلائے، اور قوم کو صحیح صورتِ حال سے آگاہ کرے۔ اس کی ذمہ داری اس لئے بھی ہے کہ وہ مذاکرات کی ایک فریق ہے، اہم فریق امن کی متلاشی وہ بھی ہے، اسی لئے تو مذاکرات کر رہی ہے۔ حقائق جاننے میں اس کا مفاد بھی ہے اور اس ملک کا بھی جس کے وہ شہری ہیں۔

طالبان کی اور بھی ذمہ داریاں ہیں۔ وہ اسلام کے داعی ہیں۔ اسلام کی تعلیمات اور ان کے تقاضوں سے خوب واقف ہونگے، ہر داعی کو ہونا چاہئے۔ وہ یہ بھی جانتے ہونگے کہ اسلام کسی بے گناہ کے قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ ما ضی میں، اور حال ہی میں ،جو بم دھما کے ہوئے اور جن میں ملوّث ہونے کا طالبان نے اعتراف کیا، ان میں جو لوگ مارے گئے، کیا اس میں دو رائے ہیں کہ وہ بے گناہ تھے؟ اسلام تو ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ قرآن حکیم میں یہ حکم صراحتاً بیان کردیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ رسولِ اکرم کی تعلیمات، آپؐ کا عفو کرم، غیر مسلموں تک کے ساتھ آپؐ کا کریمانہ برتائو، یہ سب طالبان جانتے ہونگے، انہیں جاننا چاہئے۔ اگر طالبان واقعی اسلام کا نظام چاہتے ہیں تو انہیں داعی کا کردار اپنانا ہوگا اور عملاً یہ بتانا ہوگا کہ اسلام یہ ہے، اور یہ اس کی تعلیمات ہیں۔ اسلام کا بس یہی ایک رخ ہے ۔ یوں نہیں ہوگا، جس طرح ہو رہا ہے، آئے دن بم دھماکے، بے گناہوں کا قتل۔ اس کے منفی اثرات تو مرتب ہو سکتے ہیں، مَثبت ممکن نہیں ہیں۔ اسلام سلامتی کا مذہب ہے، اور بس۔ طالبان اس کی تعلیمات کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل بنائیں اور قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کو اپنے لئے مشعل راہ قرار دیں، تب ہی کوئی ان کی بات سنے گا، تب ہی کوئی ان کی طرف آئے گا، اسلام کی طرف راغب ہوگا۔ ورنہ وہ نہ صرف اپنا نقصان کریں گے، بلکہ اسلام کے دشمنوں کے مقاصد کی راہ ہموار کریں گے۔ انہیں یہ نہیں کرنا چاہئے۔

طالبان کے اس گروپ نے الزام لگایا ہے کہ سر کاری اہلکار طالبان کو ہلاک کر رہے ہیں اور ایف سی کے اہلکار اس ہی کے انتقام میں قتل کئے گئے ہیں۔ کیا ایسا ہی ہے؟ حکام نے اس الزام کی تردید تو کر دی ہے۔ مگر حکومت اپنی ذمہ داری نبھائے۔ ایک روایتی تردید کافی نہیں ہے۔ اہم حکومتی ادارے تحقیقات کریں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس الزام میں کچھ حقیقت ہو؟ اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ انتقاماً ایف سی اہلکاروں کو قتل کر دیا جائے، یہ مذموم فعل کسی بھی طرح حق بجانب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حقائق کا جاننا مگر ضروری ہے۔ کراچی میں پچھلے چند ہفتوں سے گولیوں سے چھلنی لاشیں تقریباً روزانہ ہی مل رہی ہیں، تقریباً روزانہ ہی پولیس اور رینجرز طالبان کی گرفتاری کا اعلان کرتے ہیں۔ ان میں سے کتنے عدالتوں میں پیش کئے گئے، شائد ہی کوئی جانتا ہو، سوائے سرکاری اہلکاروں کے۔ بعض لوگوں کا اندازہ ہے عدالتوں میں پیش کئے گئے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔ جیلوں میں موجود ملزموں کی تعداد بھی ان اعداد و شمار سے بہت کم ہے جن کی گرفتاری کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ ماورائے عدالت قتل، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ وہ اسے تمام مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔ عام مجرموں سے لے کر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں تک سب ہی کو ـ ’پولیس مقابلے‘ یں ہلاک دکھایا جاتا رہا ہے۔ ان کے علاوہ جو لاشیں آئے دن مل رہی ہیںوہ بھی تو کسی کی ہوں گی؟ اعتراف کون کرتا ہے؟ مگر حکومتی ادارے تحقیقات تو کر ہی سکتے ہیں، اپنے طور پر تو ان کے پاس حقائق ہوں گے۔ اعلی حکام ذرا ان کا جائزہ لیں۔ وہ کسی بھی عنصر کو معاملات خراب کرنے کی اجازت نہ دیں۔ انہیں بھی اندازہ ہے۔

دونوں فریقوں پر بھاری ذمہ داری ہے۔ دونوں ذمہ داری کا ثبوت دیں۔ آس پاس کے حالات پہ بھی نظر رکھیں۔ حکومت نے واضح کردیا ہے، جنگ بندی کے بغیر بات چیت نہیں ہوگی۔ ہو بھی نہیں سکتی۔ طالبان جنگ بندی کا اعلان کریں۔ مذاکرات کی راہ تب ہی ہموار ہوگی۔ اور مذاکرات ہی واحد حل ہیں۔ ورنہ اس بار معاملات خراب ہوئے تو بہت خرابا ہوگا۔ جس کی تیاریاں تقریباً مکمل ہیں۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند