تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
طالبان کی نذر !
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 جمادی الاول 1441هـ - 18 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 19 ربیع الثانی 1435هـ - 20 فروری 2014م KSA 15:03 - GMT 12:03
طالبان کی نذر !

کس قدر المیہ ہے جو باتیں ’’طالبان‘‘ سے ہمیں سیکھنا چاہئیں وہ ہم گناہ گاروں کو اُنہیں بتانا یا سکھانا پڑ رہی ہیں۔ میں نبی پاک ؐ کی زندگی کے چند واقعات اُن کی خدمات میں پیش کرتا ہوں۔ کوئی دلیل تو یقینا اُن پر اثر نہیں کرتی مگر اپنا معاملہ اِس مصرع کی طرح ہے ’’اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے ‘‘…آپؐ خاص طور پر اِس بات کا اہتمام فرماتے تھے کہ آپ ؐ کی کسی بات یا طرزِ عمل سے کسی کو ہلکی سی تکلیف بھی نہ پہنچے۔ آپ ؐ کا ارشاد تھا ’’سچا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے اُس کے مسلمان بھائی محفوظ رہیں۔ اِسی لئے آپ ؐ نے کسی شخص میں موجود برائی کا ذکر کرنا ہوتا تو اُس کا نام لینے کے بجائے کہتے ’’کچھ لوگ یہ کہتے یا کرتے ہیں ‘‘…حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں ایک بار آپؐ نے فرمایا ’’اللہ کے نزدیک سب سے برا انسان وہ ہے جس کی برائی کے ڈر سے لوگ اُسے چھوڑ دیں‘‘…ایک موقع پر حضرت زینب ؓ نے ام المومنین حضرت صفیہ ؓ کو ’’یہودیہ ‘‘کہہ دیا۔ آپ ؐ کو اِس کا بہت دُکھ ہوا اور کئی روز تک حضرت زینب ؓ سے بات تک نہ کی۔

اِسی طرح ایک مجلس میں ایک شخص حضرت ابوبکر ؓ کے سامنے اُن کو برا بھلا کہہ رہا تھا اور حضرت ابو بکر ؓ بالکل خاموش تھے۔ پھر وہ حد سے کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا تو حضرت ابوبکر ؓ نے اُسے جواب دیا۔ یہ دیکھ کر آپ ؐ مجلس سے اُٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے اِس کی وجہ پوچھی تو فرمانے لگے ’’پہلے آپ کی طرف سے ایک فرشتہ مامور تھا مگر جب آپ نے جواب دیا تو وہ چلا گیا اور اُس کی جگہ شیطان نے لے لی۔ اور میں کسی ایسی جگہ پر نہیں بیٹھ سکتا جہاں شیطان ہو‘‘۔ ایک بار حضرت ابو ذر ؓ نے ایک صحابی ؓ کو اُس کی ماں کی غلامی کا طعنہ دیا۔ آپ ؐکو پتہ چلا تو فرمایا ’’اے ابوذر ابھی تم میں جاہلی عادات باقی ہیں‘‘۔ اور پھر اُس سے معاملہ صاف کرنے کا حکم دیا۔ لوگوں کی دِل آزاری سے آپ ؐ کتنا گریز فرماتے تھے اِس کا اندازہ اِس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے آپ ؐ کا ارشادِ مبارک ہے ’’اگر تین آدمی کسی مجلس میں بیٹھے ہوں تو دو الگ ہو کر باہم سرگوشی نہ کریں کیونکہ اِس سے تیسرے آدمی کا دِل دُکھے گا ‘‘…اِسی طرح آپ ؐ نے دو گفتگو کرنے والے افراد کے درمیان اِن کی اجازت کے بغیر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ آپ ؐ نے فرمایا ’’کسی مسلمان کو گالی دینا فسق (بد عملی) اور اُسے کافر کہنا کفر کے مترادف ہے۔ لوگوں کے ساتھ آپؐ کے حسن سلوک کا معاملہ دیکھئے کہ آپ ؐ نے فرمایا ’’تم میں سے جو شخص بازار سے مسجد میں آئے اور اُس کے ہاتھ میں تیر ہوں تو اُن کی نوک والی سمت کو وہ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر رکھے‘ کہیں ایسا نہ ہو بے دھیانی میں وہ کسی مسلمان کو لگ جائے ‘‘…عبدیالیل طائف کا رئیس تھا۔

اُس کے خاندان نے آپ ؐ پر اس قدر ظلم ڈھائے کہ آپ ؐ نے ایک بار حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا ’’میری زندگی کا سخت ترین دِن طائف کا دِن تھا ‘‘…عبدیالیل طائف کا وفد لے کر مدینہ آیا۔ آپ ؐنے اُس کے لئے مسجد میں خیمہ نصب کر وا دیا۔ پھر ہر روز بعد از نماز عشاء اُس سے ملنے جاتے اور اُس کا بہت خیال رکھتے…عبداللہ بن ابی کی منافقت اپنے عروج پر تھی۔ مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں وہ ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔ آپ ؐ ہمیشہ درگزر فرماتے ۔ جب وہ فوت ہوا تو اُس کی نمازِ جنازہ آپ ؐ نے پڑھائی۔ اِس موقع پر حضرت عمر ؓ نے اُس کی منافقت اور سازشوں پر آپ ؐ کی توجہ دلائی تو آپ ؐ نے فرمایا ’’اگر مجھے اختیار دیا جاتا کہ میرے ستر بار نماز پڑھنے سے اِس کے گناہ معاف ہو سکتے ہیں تو میں اِس سے بھی زیادہ پڑھتا‘‘…آپؐ نے جنگ کے لئے لشکر روانہ کیا تو امیر کو وصیت فرمائی ’’جو لوگ اپنی عبادت گاہوں میں مصروف عبادت ہوں اُن سے تعرض نہ کرنا۔ کسی عورت پر ہرگز ہاتھ نہ اٹھانا۔ کسی بوڑھے شخص کو نہ مارنا اور سر سبز شاداب درختوں کو نہ کاٹنا‘‘۔

ایک بار ایک اجنبی آپؐ کے پاس آیا۔ آپ ؐ نے اُس کی بہت مہمان نوازی کی اور اُس کے لئے بستر لگا دیا۔ وہ کوئی بہت ہی جاہل دشمن تھا۔ صبح وہ بستر خراب کرکے چلا گیا۔ یہ انداز اُس نے شاید دُشمنی یا انتقام لینے کے لئے اپنایا تھا۔ ابھی وہ کچھ ہی دور گیا تھا کہ اُسے یاد آیا اپنی تلوار وہ وہیں بھول آیا ہے۔ تلوار لینے کے لئے واپس آیا تو یہ دیکھ کر حیران ہوگیا آپ ؐ اپنے دستِ مبارک سے بستر کو صاف کر رہے تھے۔ آپ ؐ نے اُسے دیکھا تو تلوار واپس کر دی مگر بستر کی خرابی کا ذکر تک نہ کیا۔ اِس پر وہ آپ ؐ کے اخلاق سے اس قدر متاثر ہوا کہ فوراً ہی مسلمان ہوگیا!

اور اب ’’دین کے دوست طالبان ‘‘ کی خدمت میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے بارے میں کچھ ارشادِ ربانی بھی پیش ہیں۔ فرمانِ الٰہی ہے ’’پس (اے نبی ) اللہ کی طرف سے بڑی رحمت ہی کی وجہ سے آپ اِن کے لئے نرم ہوگئے ہیں اور اگر آپ بدخلق‘ سخت دل ہوتے تو یقینا وہ آپ کے گرد سے منتشر ہو جاتے ‘‘… ایک اور جگہ فرمایا ’’اے نبی اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دیجئے اور اُن سے اِس طریقے سے بحث کیجئے جو سب سے اچھا ہے ‘‘… پھر فرمایا ’’اے نبی لوگوں کو ہدایت دینا آپ کی ذمہ داری نہیں لیکن اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے‘‘… رب کے حکم کے مطابق مسلمان لوگوں کو دین اسلام قبول کرنے میں جبر و تشدد سے کام نہیں لیں گے اور نہ ہی جسمانی یا نفسیاتی دبائو ڈالیں گے۔ اپنی انتھک تبلیغ کے بعد اگر وہ اپنی کوشش میں کامیاب نہ ہوں تو صرف یہ کہہ دیں ’’تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرا دین ‘‘… اور کہہ دیجئے یہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے پھر جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے‘‘ ’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے‘‘…غیر مسلموں کے ساتھ سلوک کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ کہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور جو کتاب ہم پر نازل ہوئی اور جو صحیفے ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام اور یعقوب ؑاور اُن کی اولاد پر اُترے اور جو کتابیں موسیٰ علیہ السلام اور عیٰسی علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کو پروردگار سے ملیں سب پر ایمان لائے۔

ہم اُن پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اس (خدائے واحد) کے فرمانبردار ہیں‘‘۔ پھر فرمایا ’’یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں ہمیں معلوم ہے اور تم اِن پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو پس جو ہمارے (عذاب) کی وعید سے ڈرے اُس کو قرآن سے نصیحت کرتے رہو‘‘… قرآن پاک کی ایک اور بنیادی آیت کا ترجمہ بھی طالبان کی خدمت میں پیش ہے۔ ’’دین میں کوئی زبردستی نہیں۔ بے شک ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہو چکی ہے۔ سو جو کوئی باطل معبدوں کا انکار کر دے اور اللہ پر ایمان لے آئے تو اُس نے ایک ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جس کے لئے ٹوٹنا ممکن نہیں اور اللہ خوب جاننے والا ہے ‘‘… آپس میں تفریق پیدا کرنے والوں کو اللہ نے اِن الفاظ میں انتباہ فرمایا ’’اور اُن لوگوں کی طرح نہ ہونا جو متفرق ہوگئے اور کھلے احکام آنے کے بعد ایک دوسرے سے اختلاف کرنے لگے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو (قیامت کے دِن) بڑا عذاب ہوگا۔ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا ’’اُن لوگوں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود فرقے فرقے ہوگئے۔ سب فرقے اِسی سے خوش ہیں جو اُن کے پاس ہے ‘‘… رسول اکرمؐ کے زمانے میں ایک مسلمان طعمہ نے دوسرے مسلمان قتادہ کے گھر سے آٹا چوری کیا اور چوری کا مال اپنے واقف کار یہودی کے گھر امانت کے طور پر رکھ دیا۔ آٹے کے تھیلے میں سوراخ تھا لہٰذا آٹا یہودی کے مکان تک گرتا گیا۔ قتادہ نے یہودی کر پکڑ لیا اور اُس پر چوری کا الزام لگا دیا۔

یہودی نے کہا کہ طعمہ نے آٹے کا تھیلا اُس کے گھر امانت کے طور پر رکھوایا ہے۔ قتادہ اور اُس کے دوست مسلمان یہودی کو چور ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ اللہ نے اِس موقع پر آیت نازل فرمائی ’’یعنی تم طرف داری میں غلط قسم کے جھگڑے کر رہے ہو کیا قیامت میں بھی اِسی طرح کے جھگڑے کر سکو گے‘‘… نبی پاک ؐ نے یہودی کے بجائے مسلمان کو چوری کی سزا دی… طالبان بھائیو کہئے آپ کون سے دین کے راستے پر نکلے ہوئے ہو؟؟؟ (کالم کے کچھ اقتباسات قیوم نظامی کی کتاب ’’معاملات رسول ‘‘ سے لئے گئے)۔

بشکریہ روزنامہ ' نئی بات '

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند