تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نہیں، ٹیک اوور نہیں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 29 جمادی الاول 1441هـ - 25 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 26 ربیع الثانی 1435هـ - 27 فروری 2014م KSA 10:46 - GMT 07:46
نہیں، ٹیک اوور نہیں

بات اس حد تک تو ٹھیک ہے، حکومت اور فوج کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ہم خیال ہو جانا چاہئے مگر بس اسی حد تک۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں۔ ایک طلباء تنظیم کے قیام سے لے کر ایک ملک گیر جماعت بنانے تک انہوں نے جس تگ و دو سے کام لیا، جو صعوبتیں برداشت کیں، جو الزامات ان پر لگائے گئے، شاید ہی کسی اور جماعت کے رہنما کو ان مشکلات سے گزرنا پڑا ہو۔ الطاف حسین پھر بھی ثابت قدم رہے۔ ان کے نظریات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور ملک کا ایک خاصا بڑا طبقہ، جائز ناجائز، ان کی مخالفت کرتا رہتا ہے۔ اس مخالفت میں کبھی اصولوں کا سہارا لیا جاتا ہے کبھی ان کے نعروں کا اور اکثر وجہ ان کی جماعت کا پرانا نام ہوتا ہے، مہاجر قومی موومنٹ۔

جب سے ایم کیو ایم نے انتخابی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا ہے اس کی مخالفت انتخابات میں اس کی کامیابی کے تناسب سے بڑھتی رہی ہے۔ وجہ ظاہر ہے، جو قوتیں ایک عرصہ سے اقتدار پر قابض رہی ہیں ان کو مڈل کلاس کی ایک سیاسی جماعت کسی طور برداشت نہیں۔ کس کو اپنے مفادات عزیز نہیں ہوتے اور یہ جن کے منہ کو اقتدار کا خون بے طرح لگ چکا ہے، کب اپنے معاملات میں مداخلت برداشت کر سکتے ہیں۔ ایم کیو ایم اسی لئے بار بار مشکلات کا شکار رہی۔ کبھی اس کے خلاف نواز حکومت نے آپریشن کیا، کبھی بے نظیر کی حکومت نے اس کے کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیا۔ یہ سب کچھ ہوا مگر ایم کیو ایم ہر جمہوری انتخاب میں کامیاب رہی اور قومی اور صوبائی اسمبلی میں اس نے تیسری چوتھی سیاسی جماعت کا اپنا مقام برقراررکھا۔

قومی اسمبلی میں اس بار بھی اس کی عددی حیثیت دوسری بہت سی سیاسی جماعتوں سے زیادہ ہے۔ اسی لئے ایم کیو ایم کی قیادت پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ قومی اسمبلی میں اس کا جتنا حصہ ہے ذمہ داری بھی اتنی تو ہے ہی۔ مگر ایک ملک گیر سیاسی جماعت کی دعویدار ہونے کی حیثیت سے اس کی قیادت کی ذمہ داری اور بھی زیادہ ہے۔ ایم کیو ایم جمہوری طریقوں سے منتخب ہوتی رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ اس نے پرویز مشرف کی حکومت میں شمولیت اختیار کی، مگر منتخب تو وہ جمہوری طریقہ سے ہی ہوئی تھی۔ دوسری کئی جماعتوں نے بھی اس آمر کے دور میں انتخابات میں حصہ لیا تھا اور اس کے غیر آئینی اقدامات کی توثیق بھی کی تھی۔ جیسا بھی تھا، شاید غلط زیادہ اور درست کم تھا مگر جو کچھ بھی تھا ایک جمہوری ڈھانچہ تو تھا اور ایم کیو ایم اسی طریقہ سے منتخب ہوئی تھی اور پہلے اور بعد میں بھی ہوتی رہی ہے۔ اس لئے ایم کیو ایم کو ہمیشہ جمہوریت کا ساتھ دینا چاہئے۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا حالیہ بیان بہت سے لوگوں کے لئے صدمہ کاباعث بنا ہوا ہے۔ ان کی یہ بات بالکل درست ہے کہ دہشت گردی کے خلاف حکومت اور فوج کو ایک پیج پر ہونا چاہئے، ہم خیال ہونا چاہئے۔ حکومت اور فوج ہی کیا پوری قوم کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا چاہئے۔ دہشت گردی نے اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں۔ ہزاروں لوگوں کا خون بہہ چکا ہے، ہزاروں بچّے یتیم اور ہزاروں خواتین بیوہ ہوچکی ہیں۔ یہ دہشت گردی ہم پر مسلط کی گئی ہے، کسی اور کے مفادات کی خاطر یہاں بہت سے بے گناہوں کا خون بہایا گیا ہے، بہایا جا رہا ہے۔ اب اس کا قلع قمع ہو جانا چاہئے، یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

مگر اس کا یہ مطلب کہاں اور کیسے ہوا کہ اگر حکومت اور فوج ہم خیال نہ ہوں تو فوج اختیارات سنبھال لے؟ الطاف حسین جیسے زیرک سیاستدان سے اس بات کی توقع نہیں تھی۔ انہیں علم ہے کہ پاکستان پر یہ عذاب فوجی حکمرانوں کے دور میں نازل ہوا۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں افغانستان کی جنگ شروع ہوئی، ڈالر آئے، مجاہدین بنائے گئے، انہیں استعمال کیا گیا اور جب امریکہ کا مقصد پورا ہو گیا، سوویت یونین نے راہ فرار اختیار کی تو وہ اس طرح یہاں سے بھاگا کہ عرصہ تک اس نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ افغانستان کس حال میں ہے؟ یہاں خونریزی کیسے روکی جا سکتی ہے؟ اس ملک کے لئے کیا کیا جاسکتا ہے جس نے طویل عرصہ تک ہماری جنگ لڑی ہے؟ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ امریکہ دوسرے فوجی جنرل پرویز مشرف کے دور میں ایک بار پھر یہاں گھس بیٹھا اور ابھی تک بیٹھا ہوا ہے۔ یہ مشرف ہی تھا، ایک فوجی جنرل، جس نے امریکہ کی ایک دھمکی پہ ہاتھ پیر چھوڑ دیئے تھے اور پاکستان میں امریکہ کو فوجی اڈے بھی فراہم کئے، غیر ملکی افواج کو راہداری بھی دی اور اس جنگ میں اپنی فوج کو جھونک دیا جو پاکستان کی جنگ نہیں تھی۔ اسامہ بن لادن امریکہ کی جنگ لڑنے یہاں آیا تھا پھر وہ امریکہ کا دشمن ہو گیا۔ افغانستان پر پہلے امریکی حملے کی خبر نشر کرتے ہوئے امریکی چینل سی این این نے طنزاً کہا ’’کل کا ہیرو آج کا ولن‘‘۔امریکہ اور فوجی جنرل کی شروع کی ہوئی جنگ آج تک جاری ہے اور اس ملک کے بچّوں کا خون چاٹ رہی ہے۔ آمروں کے چھوڑے ہوئے یہ سارے عذاب ان کے بعد آنے والی جمہوری حکومتوں نے بھگتے اور اب تک بھگت رہی ہیں۔

الطاف حسین کی نظر ان سب تاریخی واقعات پر ہے۔ انہیں پتہ ہے کہ فوجی آمریت کسی بھی ملک کو کبھی راس نہیں آئی۔ پاکستان بھی ان بدقسمت ملکوں میں سے ایک ہے۔ یہاں اگر جمہوری سیاسی نظام چلنے دیا جاتا، جنرل ایوب خان 1956ء کا آئین منسوخ کرکے، منتخب حکومت کو برطرف کر کے اقتدار پر قبضہ نہ کرتے اور پھر بعد میں جنرل یحییٰ خان مارشل لاء نہ لگاتے تو یوں نہ ہوتا، ملک ان مشکلات کا شکار نہ ہوتا جن میں یہ آج گھرا ہوا ہے۔ اس ملک پر جتنی بھی مصیبتیں آئی ہیں فوجی جنرلوں کے زمانے میں ہی آئی ہیں۔ سب سے بڑا سانحہ، ملک کا دولخت ہونا، بھی ایک فوجی جنرل کے دور میں ہی ہوا اور بعد میں جو کچھ بیتی اس کا ذکر ہو چکا ہے۔ کہتے ہیں کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ ہم تو ابھی چند سال پہلے ہی ایک فوجی آمر کے ہاتھوں ڈسے گئے ہیں۔ مومن ایک سوراخ میں دوسری بار ہاتھ کیسے ڈال دے؟ اور وہ بھی اتنی جلدی؟

طالبان سے مذاکرات کے بارے میں حکومت نے ایک قومی پالیسی طے کرلی ہے۔ تفصیلات جلد سامنے آجائیں گی یا اس کالم کی اشاعت تک عوام کو ان سے آگاہ کردیا گیا ہوگا۔ جو کچھ سامنے آیا ہے اس کے مطابق مذاکرات کرنے والوں سے مذاکرات ہوں گے اور جنگ کرنے والوں سے جنگ کی جائے گی۔ یہ منتخب جمہوری حکومت کا فیصلہ ہے اور سیکورٹی پالیسی میں جو کچھ بھی طے کیا گیا ہے آئین اور قانون کے مطابق فوج اس پر عمل کرنے کی پابند ہے، اسے جمہوری حکومت کا فیصلہ تسلیم کرنا چاہئے۔ ممکن ہے الطاف حسین کل اپنے بیان کی وضاحت کردیں، وہ یہ بتا دیں کہ ان کا اصل مقصدکیا ہے مگر ایک بات طے ہے۔

الطاف حسین ہوں یا دوسرے سیاستدان، سب کو جمہوری روایات کا پاس کرنا چاہئے، کرنا ہوگا۔ فوج کو مداخلت کی دعوت دینا، یہ کہنا کہ اگر حکومت اور فوج ایک پیج پر نہ آئیں تو فوج کو آگے بڑھ کر ٹیک اوور کرلینا چاہئے، جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کے طور طریقوں سے مماثلت نہیں رکھتا۔ بہت بار کھلواڑ کی جا چکی ہے۔ اب مزید کوئی مہم جوئی نہیں ہو سکتی۔ کسی نے کہا تھا جنگ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اسے فوجیوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ جمہوری حکومت کو اپنا کام کرنے دیں، فوج اپنا کام کرے اور اس کا کام جمہوری حکومت کی اطاعت کرنا ہے، ٹیک اوور کرنا نہیں۔

بشکریہ روزنامہ  ' جنگ '

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند