تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جماعتِ اسلامی کی تنہائی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 27 ربیع الثانی 1435هـ - 28 فروری 2014م KSA 10:53 - GMT 07:53
جماعتِ اسلامی کی تنہائی

اب صرف اشارے ہی نہیں صاف ہدایات ہیں کہ نئی صف بندی میں اپنا مقام چن لو۔مصر کی طرح پاکستان میں یہ عمل شروع ہو گیا ہے۔ وہی پچھلی صدی کی ساتویں دہائی کے آخری سالوں والی نظریاتی کشمکش کا میدان تیار ہو رہا ہے۔ سیکولر طبقے، لِبرل فاشسٹ، کبھی اپنی بائیں بازو کی شناخت رکھنے والے قلم کار اور سیاسی کارکن اور مغرب نواز نام نہاد سِول سوسائٹی ، امریکہ اور مغرب سے بھاری گرانٹیں لینے والی این جی اوز ، سب اس نئی نظریاتی کشمکش کا تازہ سبق دینے والی بیرونی قوتوں کے نظریاتی سپاہی ہیں۔ لینن گراڈ اور ماسکو کو قبلہ ماننے والے بھی کب کے ’تحویلِ قبلہ‘ کر کے امریکہ کی دہلیز پر آ بیٹھے ہیں ۔ اب سب کا پیشوا ایک اور سمت ایک ہے۔

تحریکِ طالبان کی یہ انسانیت کُش سرگرمیاں نہیں تھیں تب بھی ان سارے عناصر کا اسلام اور مذہبی لوگوں کے خلاف بغض و عناد ڈھکا چھپا نہیں تھا۔ اب تو یہ ان کی زبانوں اور قلموں سے زہر بن کرٹپکا پڑتا ہے۔ چالیس سال پہلے یہ سب پیپلز پارٹی کے لشکر کا حصہ تھے۔ اب پیپلز پارٹی نہ کوئی نظریاتی جماعت ہے اور نہ اس کے پاس مرحوم ذوالفقار علی بھٹو جیسی کرشماتی قیادت ہے۔ کراچی کا ایک لسانی گروہ ضرور ان کو پرچا سکتا ہے لیکن یہ طالبان سے بھی کہیں زیادہ سفّاک اور خُونخوار ہے۔ اس کے بھٹ میں چھپے بھیڑیے جس طرح روزانہ دس بیس بے گناہ انسانوں کا خون بہا کر ہی چَین پاتے ہیں، اس کی منحوس تخلیق کے بعد کراچی کو گہن لگ گیا۔ یہ ہر برسرِ اقتدار پارٹی کے ساتھ شریکِ اقتدار ہوتا ہے اور کراچی کو مزید دلدل میں دھکیلتا جاتا ہے۔ قاتلوں، بھتہ خوروں، غاصبوں، لسانی دہشت گردوں ، گینگ وار کے درندوں اورمختلف مافیاؤں کے نمائندوں کو اسی کے سائے میں سب سے زیادہ فروغ ملا۔ یہی گروہ ایک طرف طالبان کو آئین نہ ماننے پر ملامت کرتے تھکتا نہیں اور خود فوج کو سیاسی بساط لپیٹ کر ’ٹیک اوور ‘ کے سرا سر غیر آئینی مشورے دے رہا ہے۔ اس کے پیچھے چلناطالبان کے دیگر مخالفین کا موقف کمزور بنا دے گا۔ مرحوم صاحبزادہ عبد الکریم کی زندگی میں امریکی سفارت خانے نے بریلوی مکتبِ فکر پرجو ’سرمایہ کاری‘ کی تھی وہ اب رنگ لارہی ہے۔ جمعیت علمائے پاکستان کے ایک آدھ دھڑے کے سوا یہ فرقہ غالب حد تک اس نئی صف بندی میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے ہمنو اور ساتھی ہے۔

آج میں یہ جائزہ لینے کی جسارت کر رہا ہوں کہ اس ساری نئی صف بندی میں اس جماعت کی جگہ کہاں ہے جس کے جلیل القدر بانی ؒ نے اپنے گرانقدر علمی و فکری ذخیرے میں شاید ہی کوئی پہلو ہو گا جس پرٹھوس اور مدلل رائے نہ دی ہو۔ جہاد اور اس کے مختلف پہلووں پر ’الجہاد فی الاسلام اور‘  ’ تفہیمُ القُرآن‘ دونوں میں ہمیں پوری رہنمائی ملتی ہے۔ آج بڑے دکھ ساتھ میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ جماعتِ اسلامی کی قیادت تھوہراور کنول کے پھول اور گلاب اور آک کے پودے کی پہچان کی صلاحیت سے بھی عاری ہے۔ اس نے جہاد اور دہشت گردی کے فرق سے آنکھیں موند رکھی ہیں۔ قُرآن و حدیث اور سیرتِ رسول عربی ﷺ کی روشنی میں خالص علمی اور فقہی بنیادوں پر ایک صحیح رائے قائم کرنا اس کے لیے مشکل ہو گیا ہے۔اس کے امیر اور سیکرٹری جنرل کی آراء کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ اس کی اعلیٰ سطح پر یکسوئی کا فقدان ہے۔ اس وقت تحریکِ طالبانِ کے نام سے کم و بیش دو اڑھائی درجن گروہوں نے جو شورش برپا کر رکھی ہے ، یہ جماعت امتیاز کرنے سے قاصر ہے کہ وہ جہاد ہے یا دہشت گردی۔

اس کا موقف کہیں وقتی مصلحتوں کی لپیٹ میں ہے اور کہیں اس کے نقطہ نظر پر جذباتیت کا غلبہ ہے۔ یہ دو رُخی اور حیص بیص کا شکار ہے جس کی وجہ سے خود ایک بند گلی میں آ کھڑی ہو ئی ہے۔ تحریکِ طالبان کی سرکشانہ اور باغیانہ سرگرمیوں کا جوازثابت کرنے کے لیے اس کے امیر کی طرف سے اس وقت تک جتنی بھی دلیلیں لائی گئی ہیں وہ عدل اور علم و فہم کی میزان پر پوری نہیں اترتیں۔یہ دلائل طالبان مخالف قوتوں کے ردِ عمل کا نتیجہ ہیں۔اسلامی جہادکی ایک بنیادی شرط ہے کہ مجاہدین ایک جماعت ہوں اور ایک کمانڈر کی کمان میں جہاد کریں ۔ تحریکِ طالبان کے بیس پچیس گروہ ہیں۔ ہر ایک کا الگ کمانڈر اور ہر ایک کے لیے ہدایات کے مراکز بھی جدا ہیں۔ ان کی وفاداریوں کی بولی لگانے والی قوتوں میں بھی یا CIA ہے یا ’را‘ اور’ موساد ‘ اور یا افغان خفیہ ایجنسی ۔ان میں سے شاید ہی کوئی ایسا گروہ ہو جس کے فیصلہ کاروں کو جماعت اسلامی کے قائدین قریب سے جانتے ہوں اور ان کے نظریات اور فکر کے حقیقی شجرے اور ان کے اصل سرپرستوں سے براہِ راست واقف ہوں۔جہاد کا ایک بنیادی اصول وحدتِ فکر و عمل ہے ۔یہ گروہ جہادی narrative میں باہم بٹے ہوئے ہیں۔ان کی آپس میں رقابتیں بھی ہیں اور یہ ایک دوسرے کے سینے بھی چھلنی کرتے رہتے ہیں۔ ان کی کوئی معتبر قیادت نہیں جس کو مذاکرات کار کے طور پر تسلیم کیا جائے۔

جس صف بندی کا اوپر ذکر ہوا ہے اس میں پاکستان عُلماء کونسل کے سربراہ حافظ طاہر اشرفی نے اپنی جگہ پہلے ہی متعین کر رکھی ہے۔ کچھ عرصہ قبل جب ان کا الطاف حسین سے ٹیلی فونی رابطہ ہوا تھاتو میڈیا میں یہ خبر چلی تھی کہ ان کو سینیٹ کا رُکن بنانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ وہ بیک وقت حکومت اور فوج کے پیج پر بھی نظر آتے ہیں اور سطورِ بالا میں جن عناصر کا ذکر ہوا ہے ان کے ہم آواز بھی ہیں۔ مولانا فضل الرّحمٰن خود ایک ایسی دلچسپ کتاب ہیں کہ مشرف، زرداری جیسی ہستیاں اس کے پیج تھے اور اب میاں نواز شریف بھی اسی کتاب کا ایک صفحہ ہیں ۔امریکی سفیر سے ان کے رابطوں کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ وہ خود کب کے امریکی پیج پر ہیں۔ ان کے دِلّی کے پھیروں کو دیکھا جائے تو’ہنوز دِلّی دور است‘ ، کی ضرب المثل ان پر فِٹ نہیں بیٹھتی۔ ان کا فکری سرچشمہ یعنی دیو بند بھارت میں ہے۔ دیو بند مکتبِ فکر میں بزرگوں کی رائے کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ اگرچہ وہ طالبان کے کسی گروپ کے لیے بھی قابلِ اعتماد نہیں ہیں لیکن کہیں نہ کہیں اپنا مقام بنا لیناان کے لیے کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہا ہے۔جہاں تک مولانا سمیع الحق اور بڑے بڑے دینی مدارس کے دیگر مہتمم و منتظم علمائے دیو بند کا تعلق ہے جو طالبان کو اپنے بچے کہتے ہیں اور جن کے ساتھ جماعتِ اسلامی کانفرنسوں میں مذاکرات کے مطالبے دہراتے نہیں تھکتی ، وہ اللہوالے لوگ ہیں۔ کبھی کبھی مراقبوں سے نکلتے ہیں۔ کل کلاں کوئی آزمائش کی گھڑی آئی تووہ پھر اپنے مراقبوں میں چلے جائیں گے۔ مصر اور بنگلہ دیش کی طرح بھگتنے کے لیے جماعتِ اسلامی اکیلی رہ جائے گی۔

جماعتِ اسلامی خیبر پختون خواہ حکومت میں تحریکِ انصاف کی شراکت دار ہے۔ طالبان کے حوالے سے دونوں کے موقف میں یکسانیت رہی ہے لیکن اب عمران خان بھی اس معاملے میں خاصا بڑا ٹرن لے چکے ہیں۔ انہوں نے طالبان کے خلاف سرجیکل آپریشن کی حمایت کر دی ہے۔ بات یہ ہے کہ معاملہ جب ملکی سالمیت و استحکام کا ہو تو اس پر بھارت ضرب لگانے کی کوشش کرے یا طالبان یہ مکروہ کردار ادا کریں ، دونوں میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ دنیا میں حکومتیں اگر اپنی سیاسی مصلحتوں کی خاطر ایسی شورشوں سے چشم پوشی کرنے لگیں تو ریاست کی بقا کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ایسی شورشیں اسی وقت سر اٹھاتی ہیں جب سیاسی قوتیں کچھ تخریبی عناصر کو اپنا ’ڈارلِنگ‘ قرار دے کر ان کی باغیانہ سرگرمیوں کی حمایت شروع کر دیتی ہیں۔ جماعتِ اسلامی انتخابی سیاست میں بھی ہے۔ 2008 کے انتخاب کا بائیکاٹ کرکے وہ سیاسی سطح پر اپنا خاصا نقصان کر لیا تھا۔ طالبان کے لیے نرم گوشہ ظاہر کر کے اب اس سے بھی کہیں بڑا نقصان کرنے پر تُلی بیٹھی ہے۔ وہ دہشتگردی کے زخم خوردہ عوام کے جذبات کو پڑھنے اور سمجھنے میں بہت بڑی کوتاہی کر رہی ہے۔ اس کی موجودہ پالیسی جاری رہی تو عوامی سطح پر اس کی تنہائی میں بھی بڑا مہیب اضافہ ہوگا اور سیاسی قوتوں میں بھی وہ اچھوت بن کر رہ جائے گی۔ ایسے میں اسے خود اندازہ کرنا چاہیے کہ میدانِ سیاست میں اس کا مستقبل کیا رہ جائے گا۔ pragmatism نہ سہی مومنانہ فراست اور حکمت بھی تو کوئی چیز ہے۔ مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ ' نئی بات '

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند