تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان کی داخلی سیکیورٹی پالیسی کا ایک جائزہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 27 ربیع الثانی 1435هـ - 28 فروری 2014م KSA 12:51 - GMT 09:51
پاکستان کی داخلی سیکیورٹی پالیسی کا ایک جائزہ

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے پچیس فروری کو نیشنل سیکیورٹی پالیسی (NISP) کی منظوری دی۔ اس ڈاکومنٹ کی تیاری میں کم و بیش آٹھ ماہ لگ گئے۔ اس کا مسودہ، جو نومبر کے اختتام یا دسمبر کے آغاز میں تیار کرلیا گیا تھا، کابینہ کے سامنے بیس جنوری کو رکھا جانا تھا لیکن پھر ایجنڈے میں تبدیلی کرنا پڑی۔ پریس میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق اس مسودے کو اس لیے زیر بحث نہ لایا گیا کہ اس میں کچھ خامیاں تھیں، تاہم وزارت داخلہ نے ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے شیڈول کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا کہ کابینہ کی اگلی میٹنگ میں یہ مسودہ پیش کیا جائے گا۔ گذشتہ دسمبر کو جب مجھے اس مسودے کا علم ہوا، تو میں نے اس پر ایک مختصر جائزہ لکھا اور تین جنوری کو وزارت داخلہ کو بھجوایا۔

اس وقت لکھا گیا وہ جائزہ اس پالیسی کے بارے میں میرے خیالات کا فوری اظہار تھا۔ وزارت داخلہ کی دلچسپی کے باوجود وہ صرف سرسری تذکرہ ہی تھا کیونکہ میں نے معاملات کا گہرائی سے جائزہ پیش نہیں کیا تھا، اگرچہ میری چوہدری صاحب سے ملاقات کبھی نہ ہو سکی کیونکہ اتفاقاً ہمارے پاس دستیاب وقت ایک دوسرے کی ضد تھا۔ اس کے علاوہ میں جو کچھ لکھ سکتا تھا، میں نے لکھ دیا تھا کیونکہ نیشنل سیکیورٹی پالیسی کا مسودہ مجھے رازداری کی شرط پر دکھایا گیا تھا، چنانچہ اس مسودے کے مندرجات اور اس پر لکھا گیا میرا جائزہ، دونوں عوام کے سامنے نہیں لائے جا سکتے تھے۔

اب جبکہ اس پالیسی کی منظوری کے بعد اس کے کچھ نکات عوام کے سامنے لائے جا چکے ہیں تو اس جائزے کو عوام کے سامنے لانے کے لیے آزاد ہوں، اگرچہ اس مسودے کی تفصیل کو سامنے لانے سے گریز کروں گا۔ اس پالیسی کے تین حصے… اسٹرٹیجک، آپریشنل، سیکرٹ۔ یہ درجہ بندی پیچیدگی کی حامل ہے کیونکہ بہت سے اسٹریٹجک اقدامات کو عوام کی نظروں سے اوجھل رکھنے جبکہ اس کے کچھ تصوراتی پہلوؤں کو زیر بحث لائے جانے کی ضرورت ہے۔ اگر اسے دوسرے زاویے سے دیکھیں تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ مجموعی طور پر یہ پالیسی اپنی تمام تر جہتوں سمیت عوامی دلچسپی کی حامل ہے، لیکن اس کی آپریشنل تفصیل کو عوام کی نظروں سے اوجھل رکھا جانا ضروری ہے، چنانچہ یہ سیکیورٹی پالیسی ایک گورکھ دھندہ بن کے رہ گئی ہے۔ میں نے وزیر داخلہ کے لیے جو معروضات پیش کیں، وہ مندرجہ ذیل ہیں:

نیشنل سیکیورٹی پالیسی کے حوالے سے کوئی فارمولا بنانا ایک قابل تحسین عمل ہے کیونکہ جس دوران پاکستان داخلی سیکیورٹی کے لیے فوجی آپریشن کی طرف بڑھ رہا ہے، اس کے پاس اس ضمن میں کسی قومی پالیسی، جو ایسے آپریشن کی نگرانی کرے، کا فقدان ہے۔ نیشنل سیکیورٹی پالیسی کے مسودے سے ایک بات عیاں ہوئی کہ یہ دراصل این ایس ایس کی ہی ایک توسیع شدہ شکل ہے۔ کسی جائزہ لینے والی اتھارٹی کے بغیر ہم ان خطرات پر قابو نہیں پا سکتے، جن کا ہمیں اس وقت سامنا ہے۔ اس پالیسی سے کم از کم یہ بات واضح ہوگئی کہ حکومت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور اسے نہ صرف درپیش خطرے کا احساس ہے بلکہ وہ اس پر قریب سے نظر بھی رکھے ہوئے ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت اس خطرے کی اصل جہت اور اس کے بہت سے پہلوؤں کو بہچانے۔ اس ضمن میں، کچھ مندرجات پیش کرتا ہوں۔

قومی سیکیورٹی پالیسی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ خطرے کی واضح شناخت کی جائے اور دیکھا جائے کہ اس کی وسعت کہاں تک ہے۔ اس ضمن میں کوئی فارمولا وضع کرتے ہوئے مختصر مدت، درمیانی مدت اور طویل مدت کی حکمت عملی وضع کی جائے اور مختصر اور درمیانی مدت کے لیے بنائے گئے قوانین اور نظام انصاف کا جائزہ لیا جائے۔ موجودہ مسودہ تین اہم جزئیات کا احاطہ کرتا ہے جو ایک حوصلہ افزا بات ہے۔ میں ان کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سب سے پہلے میں اس مسودے کی سفارش، کہ دہشت گردوں کو مارجنلائز کیا جائے، سے اتفاق کرتا ہوں… میں گذشتہ ایک عشرے سے یہی بات کررہا ہوں کہ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے ان میں تفریق پیدا کی جائے۔ دراصل اس سیکیورٹی پالیسی کا سب سے اہم نکتہ یہی تھا کہ اس میں دہشت گردوں کا فکری اور نظریاتی ارتکاز توڑنے کی کوشش کی حمایت کی گئی، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کے مختصر مدت اور طویل مدت کے لیے درکار امور کا واضح تعین کیا جائے۔

دوسرا نکتہ، جس سے کسی کو بھی عدم اتفاق نہیں ہوسکتا، یہ ہے کہ سیکیورٹی کے لیے درکار ساز و سامان کو جدید بنایا جائے۔ اس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ غلط اقدامات کرنے سے گریز کیا جائے … اس کی تشویشناک تفصیل موجود ہے۔ تیسری بات یہ کہ تمام ''سٹیک ہولڈرز'' کو مذاکرات کی میز پر لانے کا تصور بہت اچھا سہی لیکن پہلے اس کی وضاحت کرلی جائے کہ کون کون گروہ ''سٹیک ہولڈرز'' ہیں اور یہ کہ ان مذاکرات کے لیے ٹائم فریم کیا ہوگا۔ اس کے لیے ایک سادہ سی بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم ان کے ساتھ مذاکرات کرنے جا رہے ہیں، جو ریاست کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں، تو کیا ہم کمزور پوزیشن پر تو نہیں۔ مذاکرات کرنے میں حرج نہیں لیکن ریاست کمزور پوزیشن سے مذاکرات نہیں کرسکتی۔ ہم ان گروہوں کے درمیان تفریق پیدا کر کے ان کو عسکری طور پر کمزور کرنے کی کامیاب کوشش کر چکے ہیں کہ کچھ کے ساتھ بات چیت کی جائے جبکہ کچھ کے ساتھ لڑائی جاری رکھی جائے۔ اس حکمت عملی سے ریاست دشمن عناصر کمزوری اور ابہام کا شکار رہتے ہیں، تاہم میں پھر دہراتا ہوں کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات میں ریاست اپنی عملداری پر سمجھوتہ نہیں کرسکتی۔ اگر ایسا ہو تو پھر ریاست اپنے آئینی حق سے دستبردار ہوتے ہوئے اپنی بقا کا جواز کھو دے گی۔ اسی طرح یہ بات بھی درست نہیں کہ ریاست مذاکرات اور جنگ کے میدان میں بیک وقت قدم نہیں رکھ سکتی۔ دراصل ہم جس طرح کی صورت حال کا سامنا کررہے ہیں، اس کے لیے پیچیدہ فیصلے کرنے کی ہی ضرورت ہے۔

پالیسی کے مسودے میں کہا گیا … ''افغانستان میں ہونے والی جنگ نے عالمی دہشت گردی اور مسلح گروہوں کی کمشکش میں اضافہ کرتے ہوئے پاکستان کی داخلی سیکیورٹی کے پیمانے تبدیل کردیئے'' تاہم یہ بات بھی جزوی طور پر درست ہے۔ بدترین بات یہ ہے کہ اس دلیل نے پاکستانیوں کی اکثریت کو کنفیوژن میں مبتلا کردیا اور ہنوز اس بات کی تفہیم سے قاصر ہیں کہ یہ ہماری جنگ ہے بھی کہ نہیں۔ تاریخی طور پر یہ بات بھی غلط ہے کہ پاکستان میں انتہا پسندی کا ''احیا'' 9/11 اور افغانستان پر نیٹو اور امریکی افواج کے حملے سے ہوا اور اس سے پہلے راوی چین سے چین لکھتا تھا۔ دراصل ریاست کی عملداری سے بغاوت کرنے والی ذہنیت پہلے بھی یہاں موجود تھی، امریکی حملے نے صرف اسے نمایاں کرتے ہوئے فعال بنا دیا۔ اگر ہم انسداد دہشت گردی کی کوئی بھی پالیسی بنانے کے خواہش مند ہیں تو ہمیں اس حقیقت کی تفہیم کرنا ہوگی۔

نیشنل سیکیورٹی پالیسی کے لیے غیر روایتی انتہا پسندی، فرقہ واریت، دہشت گردی اور جنگجو ذہنیت کی شناخت کرتے ہوئے ضروری ہے کہ ان، خاص طور پر پہلے تین، کی تفہیم کی جائے اور ان کے درمیان تعلق کو سمجھا جائے۔ یہ بات میں اس لیے کر رہا ہوں کہ کچھ سیاسی جماعتیں اور ان کے رہنما، جیسا کہ عمران خان اور ان کی جماعت، پی ٹی آئی، ان کو ایک دوسرے سے الگ سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر عمران خان کا موقف ہے کہ ہمیں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے بات چیت کرنی چاہیے لیکن وہ فرقہ وارانہ قتل و غارت میں ملوث گروہوں سے بات کرنے کے حق میں نہیں۔ خان صاحب کے اس موقف سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ طالبان اور مسلکی بنیادوں پر ایک دوسروں کو قتل کرنے والوں کو الگ سمجھتے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان کا یہ موقف قطعی طور پر غلط ہے۔ داخلی سیکیورٹی کے لیے بنائی جانے والی پالیسی پر بحث کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان گروہوں کے آپس میں روابط پر نظر رکھیں تاکہ معاملات کو درست پس منظر کے ساتھ سمجھا جا سکے۔

اب میں اس پالیسی کے مسودہ نمبر پانچ میں بیان کیے گئے "Vision" جس کا تعلق شہری آزادی کے تحفظ سے ہے، کا ذکر کرتا ہوں۔ جس دوران ریاست دہشت گردی جیسے انتہائی سنگین مسئلے سے نمٹنے میں مصروف ہے، حکومت کے سامنے یہ مسئلہ بھی ہے کہ ریاست اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیسے کیا جائے۔ جس دوران نیشنل سیکیورٹی پالیسی ان معروضات کا جائزہ لیتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے، میں سفارش کرتا ہوں کہ وزارت داخلہ نامی گرامی وکلاء اور آئینی ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے تاکہ موجودہ قانونی ڈھانچے کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس ضمن میں آئینی ماہرین کی آراء میں اختلاف دکھائی دیتا ہے، اس لیے ایسا کرنا کوئی آسان کام نہ ہوگا، لیکن یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ ایسی قانون سازی کرے تاکہ ریاست دشمن سرگرمیوں کے آگے بند باندھا جا سکے۔

پیرا گراف نمبر سات میں خطرے کے ادراک کے معروضات پر بات کی گئی۔ اس ضمن میں ریاست دشمن عناصر کی طرف سے کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے استعمال کے امکانات کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ اگرچہ فی الوقت ایسا خطرہ موجود نہیں لیکن مستقبل میں اسے خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے سیکیورٹی اداروں کی جدید خطوط پر تربیت ضروری ہے تاکہ وہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کے تبدیل ہوتے ہوئے پیمانوں اور حجم کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ڈرافٹ میں کہا گیا کہ وزارت داخلہ کی تیاری ''کافی'' ہے لیکن میں اس سے اتفاق نہیں کرتا ہوں۔

ایک اور معاملہ، جس سے میں متفق نہیں وہ سرحدوں کے اندر اس کی ذمہ داری کے دائرہ کار سے ہے۔ کہا گیا کہ ''ملک میں داخلی طور پر دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کی تمام تر ذمہ داری وزارت داخلہ کے کندھوں پر ہونی چاہیے۔ دہشت گردی کے مقابلے پر کارروائیاں کرنے والی تمام ایجنسیاں وزارت داخلہ کے ماتحت ہوں''۔ یہ بات تھیوری کے اعتبار سے درست ہے لیکن عملی طور پر ہماری وزارت داخلہ کے پاس ایسی کوئی چھتری نہیں جس سے وہ تمام ایجنسیوں کو کور اپ دے سکے۔

مسودے کے پیرا گراف نمبر 8، 9، 10، جو اسی ہیڈ لائن کے نیچے آتے ہیں، میں نہ صرف غیر ضروری طور پر بات کو دہرایا گیا بلکہ پیش کیے جانے والے کچھ تصورات بھی حقیقت سے لگا نہیں کھاتے۔ یہ کہنا کہ دہشت گرد ''چھپ کر خود کو تقویبت دیتے اور کارروائیاں کرتے ہیں اور ان کے بارے میں ابہام موجود ہے'' ہمارے معروضی حالات میں غلط بیانی کے سوا کچھ نہیں۔ دہشت گرد کسی ابہام کا شکار نہیں اور وہ وہی کچھ کر رہے ہیں جس کے لیے انہیں تیار کیا گیا تھا۔ اگرچہ وہ کارروائیاں چھپ کر ہی کرتے ہیں لیکن ان کی معاشرے میں شناخت بہت واضح ہے۔ اگر انہیں جان بوجھ کر نظر انداز کردیا جائے تو اور بات لیکن ان کی شناخت سب پر ظاہر ہے۔ اسی طرح یہ وضاحت کرنا بھی عملی طور پر دشوار ہے کہ دہشت گردی اور معیشت کا براہ راست کیا تعلق ہے۔ اگرچہ ان کے درمیان کچھ تعلق موجود ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن بہت سے دیگر عوامل بھی معاشی انحطاط کا باعث بنے ہیں لیکن اس کا صرف اور صرف دہشت گردی پر الزام دینا درست نہ ہوگا۔

مسودے کے نمبر گیارہ سے لے کر نمبر انتیس پیرا گراف ''پالیسی کے مقاصد'' کے حوالے سے ہیں۔ ان میں سے پیرا گراف نمبر بارہ کہتا ہے … ''دشمن عناصر کے ساتھ جاری تمام تنازعات کو قانون کے مطابق طے کیا جائے''۔ میرا نہیں خیال کہ میں یہ بات سمجھ پایا ہوں کہ دشمن عناصر سے کیا مراد لی جا رہی ہے؟ درحقیقت دشمن عناصر کئی قسم کے ہوسکتے ہیں، اس لیے ان سے درپیش خطرے کی نوعیت بھی مختلف ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر ہم ریاست دشمن عناصر کی بات کریں تو ان کی کارروائیوں کا مقصد ہی ریاست کے آئینی اور قانونی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔ پیرا گراف میں لکھی گئی بات سے یہ تاثرملتا ہے کہ یہ عناصر قانون کو تسلیم کرتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ جاری تنازعات کو ریاست بڑے آرام سے بیٹھ کر حل کرسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ ریاست کے قانون کو تسلیم کرلیں تو پھر جھگڑا کس بات کا؟

بہرحال طویل پیرا گراف ایسی ہی غیر ضروری تفصیل کی نظر ہوگئے ہیں۔ پیرا گراف نمبر اٹھارہ میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں اسلحے پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جائے۔ ملک کے حالات کا ایک سرسری سا جائزہ بھی یہ باور کرا دیتا ہے کہ یہ خواہش تو ہوسکتی ہے لیکن عملی طور پر ایسا کرنا ناممکنات کے دائرے میں آتا ہے۔ اسی طرح پیرا گراف نمبر بائیس اس بات پر زور دیتا ہے کہ ملک بھر کی مساجد اور مدارس کو قومی اور صوبائی سطح پر ''تعلیمی اسٹیبلشمنٹ'' کے ساتھ ہم آہنگ کردیا جائے۔ یہ سفارش کرتے ہوئے ماضی میں اس ضمن میں کیے جانے والے اقدامات کے حشر پر روشنی نہیں ڈالی گئی اور نہ ہی اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک بھر کے سکولوں میں پڑھایا جانے والا نصاب مدارس میں پڑھائی جانے والی فقہ سے تھوڑا سا ہی بہتر ہے۔ میں اس نکتے پر بہت زور دیتا ہوں کہ تعلیم کا انتہا پسندی سے بہت گہرا تعلق ہے۔ اس سے اگلا پیراگراف نمبر انیس دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اس کے مقابلے میں سوچ پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیتا ہے جبکہ نمبر بیس جمہوریت، شخصی آزادی، برداشت اور سماجی اجتماعیت کی تلقین کرتا ہے۔ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ان سب کا تعلق پالیسی سازی اور اس کے سامنے رکھے گئے مقاصد سے ہے۔ کسی بھی معاملے پر بنائی گئی پالیسی میں اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ یہ آسان اہداف سے مشکل کی طرف جائے، لیکن اگر پہلے قدم پر ہی مشکل حالات سے ٹکراؤ کا سامان پیدا کر دی جائے تو دیگر اہداف حاصل کرنا دشوار ہو گا۔

ان معاملات کو طویل پیرائے میں زیر بحث لایا جا سکتا ہے لیکن میرا مشورہ یہ ہے کہ سیکیورٹی کی پالیسی بناتے ہوئے دو وسیع تر پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے۔ یہ دو پہلو پالیسی کے مقاصد ہوں گے۔ حکومت کی طرف سے بنایا گیا The Comperehensive Response Plan اچھا ہے لیکن، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا، کہ اس کی طوالت کام خراب کرتے ہوئے غیر ضروری ابہام پیدا کر دیتی ہے۔ درحقیقت اس مسودے میں اتنی تفصیل کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے تھی، اس لیے توقع کی جانی چاہیے کہ اس ضمن میں اہم معروضات کی شناخت کی جائے گی۔ اس مسودے میں نرمی کا تعلق ان معاملات سے ہونا چاہیے جہاں نرمی کی گنجائش موجود ہو یا اس سے کام چل سکتا ہو۔ نیشنل سیکیورٹی پالیسی کا سخت رویہ ان معاملات کے بارے میں ہے جہاں Combined Deterrence Plan کے بغیر کام نہ چلتا ہو۔ یہ ایک اہم اقدام ہے اور اس کا تعلق موجودہ حالات، درمیانی مدت سے لے کر طویل مدت تک کے اقدامات سے ہے۔

وزارت داخلہ کو ان معروضات پر غور کرنا چاہیے تاکہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی طرز پر داخلی سیکیورٹی کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔ یہ بات اہم ہے کیونکہ وزارت داخلہ کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ وہ ان تمام معاملات کو کنٹرول کرے۔ اصول کی بات بھی یہی ہے کہ اسی کو لیڈنگ رول ادا کرنا چاہیے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو NACTA اس کے مرکزی دفتر کا کردار ادا کرے گا، تاہم ایسا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب وزارت داخلہ اپنی فعالیت کو بہتر بناتے ہوئے انقلابی تبدیلی کی طرف قدم بڑھائے۔

نیشنل سیکیورٹی پالیسی پولیس کی نااہلی کی بھی بات کرتی ہے۔ اس کے لیے مشورہ یہ ہے کہ پولیس کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے نہ کہ انسداد دہشت گردی کے لیے کوئی اور خصوصی فورس قائم کی جائے کیونکہ پولیس کی فعالیت کے بغیر کوئی بھی فورس، چاہے اسے کتنے ہی جدید خطوط پر استوار کیوں نہ کیا گیا ہو، مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتی ہے۔ یہ غلط سوچ ہوگی کہ ہماری پولیس کا حال یہی رہے جو موجودہ ہے تو ہم انسداد دہشت گردی کے لیے کوئی اور فورس قائم کرنے میں اپنی توانائی لگا دیں، یہ یقیناً کار لاحاصل ہوگا۔ اسی لیے میں نے شروع میں پنجاب کی مثال دی تھی کہ اس نے خلوص نیت سے، لیکن غلط راستے پر چلنے کی رسم ڈالی ہے۔

اس کے علاوہ وفاقی سطح پر FRRF قائم کرنے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ ایف آئی اے بھی مطلوبہ کام کرسکتی ہے اگر اس کی استعداد بڑھا دی جائے۔ بہتر نتائج کے لیے PSP کو استعمال کرتے ہوئے صوبائی اور وفاقی سطح پر کام کرنے والے سیکیورٹی کے اداروں میں رابطہ پیدا کیا جائے۔ جنرل مشرف کے دور سے ہم انسداد دہشت گردی کی پالیسی کو جیمز بانڈز فلموں کی طرز پر چلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس میں ناکام ہیں۔ اس لیے معقولیت کا تقاضا ہے کہاب جدید تحقیقات کا اندازہ اپنایا جائے اور دکھاوے کی اچھل کود سے اجتناب کیا جائے۔ اس کے لیے کمپیوٹر کے ماہرین اور سوچ سمجھ رکھنے والے افراد چاہئیں۔ فوج کے ایس ایس جی کمانڈوز سے یہ کام نہیں لیا جا سکتا کیونکہ انہیں سیاست کام کے لیے تیار ہی نہیں کیا جاتا۔ درحقیقت اس وقت ہمیں بندوق سے زیادہ دماغ کی ضرورت ہے۔ اس مسودے کے حوالے سے میری طرف سے پیش کی گئی یہ معروضات ہیں۔ درحقیقت اس مسودے پر مزید بات کی گنجائش ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اعجاز حیدر کے 'نیوز ویک پاکستان 'میں شائع تجزیئے کو روزنامہ 'دنیا' کے ابو الابصار نے انگریزی سے اردو کے قالب میں ڈھالا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند