تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ریکارڈ پہ ریکارڈ !
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م
آخری اشاعت: منگل 2 جمادی الاول 1435هـ - 4 مارچ 2014م KSA 10:01 - GMT 07:01
ریکارڈ پہ ریکارڈ !

چاہے کوئی اِسے میری ’’کم ظرفی‘‘ ہی قرار دے مگر سچائی چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اُصولوں سے اور خوشبو آ نہیں سکتی کاغذ کے پھولوں سے …ایک طرف کاغذوں میں ہمارے ریکارڈ پہ ریکارڈ بن رہے ہیں‘ دوسری طرف دنیا ہمارے ’’ریکارڈ‘‘ لگا رہی ہے کہ کیسے کیسے فضول کاموں میں اپنے ’’مستقبل کے معماروں‘‘ کا وقت ہم ضائع کر رہے ہیں۔ کیا پاکستان صرف ’’کھیل تماشوں‘‘ میں ہی ریکارڈ بنانے کے لئے رہ گیا ہے؟ پاکستان نے کرکٹ میچ میں انڈیا کو ہرا دیا‘ یہ اچھی بات ہے‘ مگر انڈیا کا مقابلہ صرف ’’کھیل تماشوں‘‘ میں ہی ہم کرتے رہیں گے؟ ایک اخباری اطلاع کے مطابق گزشتہ برس انڈیا میں ایک لاکھ سے زیادہ تحقیقی مقالے چھپے اور ہم صرف نمبر چھاپ کر خوش ہو رہے ہیں‘ یاپھر نوٹ چھاپ کر۔

میرے نزدیک ہندوستان سے پاکستان کا میچ جیت لینا یا ہار جانا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ البتہ ایک بات ضرور تکلیف دہ ہے ’’قوم‘‘ صرف ’’کھیل تماشوں‘‘ میں ہی ایک دِکھائی دیتی ہے۔ ظالم حکمرانوں سے نجات کے لئے کیوں ایک نہیں ہوتی؟ فرسودہ رسومات سے چھٹکارے کے لئے کیوں نہیں ہوتی؟ ملاوٹ کے خاتمے کے لئے کیوں ایک نہیں ہوتی؟ اپنی تہذیب ‘ ثقافت اور ورثے کی حفاظت کے لئے کیوں نہیں ہوتی؟ دہشت گردی‘ مہنگائی‘ رشوت‘ جہیز‘ بے روزگاری‘ جہالت اور اِس قسم کی دیگر لعنتوں سے نجات کے لئے کیوں نہیں ہوتی؟ !

قیام پاکستان کے بعد سب سے بڑی خوشخبری میرے لئے پاکستان کا ایٹمی قوت بننا ہے۔ اِس ’’خوشخبری‘‘ کا بھی کیا حشر ہم نے کر دیا۔ ایٹم کسی ملک اور قوم کی حفاظت کے لئے ہوتا ہے‘ یہاں ہم ایٹم کی حفاظت کر رہے ہیں اور وہ بھی صحیح طریقے سے ہم سے نہیں ہو رہی۔ چلیں اِس کو بھی ہم بہت بڑی ’’خوشخبری‘‘ ہی سمجھ لیں کہ ہندوستان سے کرکٹ میچ ہم نے جیت لیا۔ تو بجائے اِس کے اِس خوشخبری پر اللہ کا ہم شکر ادا کریں ہر طرف فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں‘ ساری رات ڈھول بجتے رہے۔ سڑکوں پر نوجوان لڑکے لڑکیاں یوں بھنگڑے ڈال رہے تھے جیسے اِس کے بعد پاکستانیوں کو سب مسائل سے نجات مل جائے گی۔ کوئی ایک خبر یا منظر ایسا نہیں دیکھا کہ اِس جیت پر شکرانے کے نوافل ادا کئے جا رہے ہوں۔

غرور اللہ کو پسند نہیں اور یہ شاید اُنیس بیس کروڑ کے ’’ہجوم‘‘ کے تکبر کا ہی نتیجہ ہے ایک میچ جیت کر اگلے کئی ہم ہار دیتے ہیں… امریکہ ‘چائینہ اور جاپان کی کرکٹ ٹیمیں نہیں ہیں‘ ورنہ ایک آدھ میچ اُن سے جیت کر خود کو ہر لحاظ سے اُن سے ہم آگے تصور کرنے لگتے۔ ایک ایسی ’’ریسرچ‘‘ امریکہ میں ہو رہی ہے جس سے انسان پتہ چلا سکتا ہے اگلے دس برسوں میں کس بیماری کا شکار وہ ہونے والا ہے یا ہو سکتا ہے۔ چائینہ اور جاپان اِس سے بھی بڑے کارنامے دِکھانے کے لئے کوشاں ہیں۔ ایک ہم ہیں ’’بیٹ بال ‘‘ سے باہر نہیں نکل رہے۔ انسان چاند پر چلا گیا ہم ’’بلوکے گھر ‘‘ جانے کے لئے ’’لائن‘‘ میں کھڑے ہیں!

کیسے کیسے بیہودہ ریکارڈ قائم کئے جا رہے ہیں۔ نوجوان نسل کا قیمتی وقت انتہائی نامعقول کاموں میں ضائع کیا جا رہا ہے۔ یہ مختلف اقسام کے امتحانات کے دِن ہیں۔ میٹرک کا امتحان شروع ہو چکا ہے‘ انٹر اور گریجویشن کا ہونے والا ہے مگر تعلیمی اداروں کو صرف کھیل تماشوں میں اُلجھا کر رکھ دیا گیا ہے۔ سکولوں ‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں کی بس طلباء کو لاد کر صبح سویرے ’’جوٹھ فیسٹیول ‘‘ میں لے جاتی ہیں اور شام ڈھلے وہ تھکے ہارے گھروں میں پہنچتے ہیں تو کسی میں اتنی سکت ہی نہیں ہوتی کتاب کھول کر بیٹھ جائے۔ کیا مجال کوئی طالب علم اِس فیسٹیول میں جانے یا اِس کا حصہ بننے سے انکار کر دے ‘‘۔ جو پریشر مختلف تعلیمی اداروں کے سربراہان پر آیا اُس کے نتیجے میں سینکڑوں طالب علموں کے میٹرک کے امتحانات کی ’’رول نمبر سلپس‘‘ تک روک لی گئیں‘ جب تک ’’جوٹھ فیسٹیول‘‘ میں وہ شریک نہیں ہوئے رول نمبر سلپس جاری ہی نہیں کی گئیں۔ زبردستی اور جبر کی اِس پالیسی نے کئی طالب علموں کو نفسیاتی مریض بنا کر رکھ دیا۔

اِس سے قبل اساتذہ ’’ڈینگی مچھر ‘‘ مارنے میں مصروف تھے۔ اِن حالات میں تعلیم کی ترقی کے دعووں کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ والدین الگ پریشان ہیں کیسی کیسی سرگرمیوں میں اُن کے بچوں کو اُلجھا کر رکھ دیا گیا ہے۔ مختلف امتحانات کے جو رزلٹ اِس بار آئیں گے ایک ’’ریکارڈ ‘‘اُن کا بھی بننے والا ہے۔ یہ بھی معلوم کیا جائے ’’عالمی ریکارڈ‘‘ بنانے والے نوجوانوں کے تعلیمی ریکارڈ کیا ہیں؟ سارے ریکارڈ دوسروں سے قائم کروائے جا رہے ہیں۔ کوئی ریکارڈ ایسا بھی ہے جو حکمرانوں نے خود قائم کیا ہو؟ سوائے بددیانتی اور نااہلی کے؟ اب اِس کا ’’عالمی ریکارڈ ‘‘ قائم کرنے کے لئے وہ کوشاں ہیں اور ’’قوم ‘‘ کو بھی اِس میں شریک کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے ریکارڈ (عالمی ریکارڈ ) کا تو کہیں ذکر ہی نہیں ہو رہا۔ حکمرانوں کے دیئے ہوئے دُکھوں پر کروڑوں پاکستانی مل کر رو رہے ہیں اور گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کو دِکھائی ہی نہیں دے رہا!

اگلے روز وفاق کا ایک وزیر فرما رہا تھا ’’ہندوستان سے میچ جیتنا پاکستان کے لئے بہت بڑی خوشخبری ہے۔ لگتا ہے یہ بیان اپنے اُن ’’سیاسی مالکان ‘‘ سے پوچھ کر اُس نے نہیں دیا ہندوستان کی محبت میں جو آجکل بری طرح یا اچھی طرح مبتلا ہیں‘ اور اپنی طرف سے شاید تیاری کرکے بیٹھے تھے ہندوستان میچ جیت گیا تو اُسے مبارک دے کر دوستی کا ایک اور قدم آگے بڑھائیں گے۔ چلیں اب ہندوستان کی شکست سے جو جذبات پاکستانیوں کے ایک بار پھر سامنے آئے ہیں ایک پیغام تو اِس سے اُنہیں ضرور مل گیا ہوگا ہندوستان کے ساتھ یک طرفہ یا غیر ضروری طور پر رسم و راہ بڑھانے کے عمل کو ہرگز پسندیدہ نہیں سمجھا جاتا۔ ویسے اُنیس بیس کروڑ کا یہ ’’ہجوم‘‘ ہے بڑا دلچسپ …پرسوں ’’کرکٹ کی جنگ‘‘ میں ہندوستان کو شکست دے کر اپنی فتح کا جشن اِس ’’ہجوم‘‘ نے پاکستانی سینمائوں میں لگی ہوئی ’’ہندوستانی فلمیں ‘‘ دیکھ کر منایا۔

لاہور کے مال روڈ اور لبرٹی چوک میں بھی فتح کا جشن انڈین گانوں پر بھنگڑے ڈال کر ہی منایا جا رہا تھا۔ مجھے اِس پر وہ سردار جی یاد آ رہے تھے جو فوجی تھے۔ دورانِ جنگ ایک پہاڑی پر چڑھ کر اپنے افسر کو اُنہوں نے آواز دی‘ ’’میجر صاحب … میں نے دُشمن کا ایک فوجی پکڑ لیا ہے‘‘… میجر صاحب بولے ’’ویل ڈن …کرتارسنگھ …ویل ڈن…اب اِسے پکڑ کر میرے پاس لائو‘‘…’’کیسے لائوں سر جی‘ یہ تو مجھے چھوڑ ہی نہیں رہا‘‘…سردار جی نے جواب دیا۔ ایسے ہی کرکٹ میں تو انڈیا کو بعض اوقات ہم پکڑ لیتے ہیں مگر دوسرے کئی شعبوں میں ایسا اُس نے ہم کو پکڑا بلکہ جکڑا ہوا ہے کہ چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہا!

بشکریہ روزنامہ ' نئی بات '

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند