تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کیا ترکی کو ایک نئے آئین کی ضرورت ہے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 23 جمادی الاول 1441هـ - 19 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 12 جمادی الاول 1435هـ - 14 مارچ 2014م KSA 11:07 - GMT 08:07
کیا ترکی کو ایک نئے آئین کی ضرورت ہے

بھروسہ اور استحکام کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں۔ یہی وہ عناصر ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر دنیا کسی قوم کو پرکھتی ہے۔ جمہوری اور منتخب حکومتوں میں بھروسہ فطری طور پر پایا جاتا ہے جو قانون کی حکمرانی کو محترم کرتا ہے۔ ترکی نے بڑی محنت سے پچھلی دہائیوں میں حکومت پر یہ بھروسہ قائم کیا یہاں تک کہ یہ ملکی ترقی اور دور اندیش مسلمان رہنمائوں کی جمہوریت قائم رکھنے کے کاوشوں کو ایک مثال کے طور پر یاد کیا جاتا تھا۔مگراب یوں محسوس ہوتا ہے کہ ملک کی تمام تر ترقی حکومت میں موجود ایک چھوٹے سے گروہ کے گرد ہی گھوم رہی ہے اور اس بنا پر حکومت یورپی یونین میں شمولیت کے موقع کے ساتھ ساتھ ترک عوام کے ایک بڑے طبقے کی حمایت بھی گنوا رہی ہے۔

ترکی کی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے حالیہ چند فیصلوں پر یورپی یونین اور مغربی ممالک کی جانب سے سخت تنقید اور ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ جن میں سے چند ایک یہ ہیں کہ ترکی کے وزیر قانون کو انٹرنیٹ کے آزادانہ استعمال کو روکنے کے لئے ججوں اور استغاثہ کو بھرتی کرنے کا اختیار دینا ہے۔ اسی طرح ایک قانون جو ترکی کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو وہ طاقت دے گا جو ترکی کو آمرانہ دور میں دھکیل دیں گی۔فوجی بغاوتوں اور جمہوری معطلی کے ادوار کے بعد ’’اے کے‘‘ پارٹی کی حکومت نے ترکی کی سیاست میں فوج کے کردار کو ختم کرنے کی کوششیں کیں۔ ان جمہوری اصلاحات کو یورپی یونین کی جانب سے بھی خوش آئند قرار دیا گیا اور ترک عوام کی اکثریت نے بھی پسند کیا جس کا واضح نتیجہ 2010ء کے آئینی ریفرنڈم میں دیکھا گیا۔ لیکن اب یوں لگتا ہے کہ سیاست میں فوجی تسلط اب چند بڑوں کی بالاستی میں تبدیل ہو رہا ہے۔ ایک سیاہ سایہ ہم سے ہماری ماضی کی کامیابیاں چھین رہا ہے۔اس خطرناک خاکے کا نتیجہ جمہوری سہولت کے لئے سرکاری ملازمین کی مستقل بدلی، میڈیا ، عدلیہ اور عوام پر غیر معمولی پابندیاں کی صورت میں نکلے گا۔

اب ترک حکومت کے پاس ایک ہی راستہ بچا ہے وہ یہ کہ یہ ملک میں اپنا کھویا ہوا اعتماد بحال کرے اور عالمی انسانی حقوق کے نفاذ، قانون کی حکمرانی اور احتساب کے ذریعے بیرون ملک اپنا مقام دوبارہ حاصل کرے۔

اس کے لئے اسے ایک نیاجمہوری آئین بھی تشکیل دینا چاہئے جو کہ عام شہریوں نے بنایا ہو۔ جمہوریت اسلامی نظام حکومت کے قوانین سے متضاد نہیں ہے بلکہ جان کی حفاظت اور مذہبی آزادی کی جمہوریت میں بھی بڑی قدر ہے۔ہمیں ابھی ان تمام چیزوں کو قبول کر لینا چاہئے جن کے تانے بانے ابھرتی ہوئی قوموں سے جا کر ملتے ہیں۔ جیسے کہ ہر قسم کے مذہبی، ثقافتی، سماجی اور سیاسی اختلاف رائے کا احترام ہے۔ ان چیزوں کو قبول کرنے کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنے نظریات پر سمجھوتہ کر رہے ہیں بلکہ یہ کہ ہر کسی کو رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر قبول کریں اور خدا کی ایک باوقار تخلیق کی آزادانہ رائے کا احترام کریں جو کہ خدا نے سب کو ودیعت کی ہے۔ طاقت کے حصول کے لئے مذہب کے نام پر لوگوں پر بے جا پابندیاں لگانا اسلام کی حقیقی روح سے متضاد ہے۔ آزادی ِ اظہار رائے جمہوریت کا بنیادی عنصر ہے۔ شفافیت اور میڈیا کی آزادی میں ترکی کی کمتر رینکنگ بہت مایوس کن ہے لیکن سمجھدار لوگ ہمیشہ تنقید کو سراہتے ہیں کیونکہ یہ بہتری پیدا کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔

جب سیاست اور مذہب کو اکٹھا کیا جاتا ہے تو اس میں دونوں کا نقصان ہوتا ہے۔ جس میں زیادہ سیاست کا ہوتا ہے۔ ترکی کے ہر طبقہ ہائے فکر کا یہ حق ہے کہ حکومت میں اس کی بھی نمائندگی موجود ہو لیکن حکومت عوام اور سرکاری ملازمین کا ساتھ ان کے نظریات کی بنا پر تخصیص برت رہی ہے۔ جمہوری ماحول لوگوں کو ظلم و جبر کے خوف کے بغیر اپنے نظریات کا کھل کر اظہار کرنے کا موقع دیتا ہے۔

1970ء سے حزمت تحریک کے کارکن ہر طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں کو بہتری کے برابر مواقع فراہم کرنے، تعلیمی ادارے، امدادی کاموں اور عوام الناس کی بہتری کے منصوبوں کے لئے کام کیا ہے۔ حزمت تحریک کے کارکنوں جن میں میں خود بھی شامل ہوں، سیاست کے گھوڑے کے سوار نہیں ہیں اور نہ ہی یہ طاقت کے حصول میں کوئی دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ ان کے ذاتی، معاشی، انسانی بنیادوں پر امداد، تعلیم ، مکالمے اور ان کی سیاست میں عدم دلچسپی کے عزم سے واضح ہے۔

سوائے لوگوں کو ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے کے، میں نے کبھی کسی سیاسی جماعت یا کسی سیاسی امیدوار کی کبھی حمایت یا مخالفت نہیں کی اور نا ہی مستقبل میں ایسا کچھ کرنے کا میرا ارادہ ہے۔ مجھے ترک عوام کی ذکاوت پر پورا اعتماد ہے اور میرا یقین ہے کہ وہ اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر جمہوریت اور عوام کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ میں پچھلے 15 سال سے روحانی معتکف رہا ہوں اور مجھے اس کی کوئی خبر نہیں کہ ترک سیاست میں کیا کچھ ہوتا رہا ہے۔ اب میں کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں. میری دعا ہے کہ ترکی اپنی حالیہ مشکلات سے جمہوریت، آزادی اور قانون کی حکمرانی کی بہتری کے لئے راہ نکالے اور میرا ایمان ہے کہ بنیادی جمہوری اصولوں پر اپنے عزم نو سے ہم بھروسہ اور استحکام دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں اور ترکی کو جو پہلے دنیا اور خطے کے لئے ایک مثال بن چکا تھا، دوبارہ ایک مثال کے طور پر دنیا کے سامنے لا سکتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند