تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حقیقت پسندانہ سیاست کا ’’گندا‘‘ کھیل
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 15 ذیعقدہ 1440هـ - 18 جولائی 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 12 جمادی الاول 1435هـ - 14 مارچ 2014م KSA 13:56 - GMT 10:56
حقیقت پسندانہ سیاست کا ’’گندا‘‘ کھیل

بات میں پاکستان کی کرنا چاہتا ہوں اور وہ بھی آج کی تازہ خبر کے حوالے سے مگر پہلے بھارت کا تذکرہ درکار ہے۔ جب بھارت میں عام آدمی پارٹی نے دلّی کا قلعہ فتح کر لیا تو ہمارے ہاں بہت زور شور سے اس کا چرچا شروع ہو گیا۔ کجریوال نے وزیراعلیٰ بنتے ہی دو بڑے فیصلے کئے۔ شہریوں کو پانی کی مفت فراہمی اور بجلی سستی کرنے کا اعلان کردیا۔ ان کے وزراء رکشوں میں سفر کرنے لگے۔ یہ ایسی صورت حال ہے جس کو عام طور پر سراہا جاتا ہے۔ مجھے ڈر لگا کہ یہ تو معاملے کو رومانٹیسائز Romanticize کیا جارہا ہے۔ اس کا ایک رومانوی پیکر تراشا جارہا ہے جو چلنے والا نہیں۔

مجھے تو انقلابیوں سے یہی شکایت رہی ہے کہ وہ انقلاب کو رومانس بنا دیتے ہیں۔ اس طرح خود انقلاب کی تباہی کی راہ ہموار کرتے ہیں۔

میں نے یہ عرض بھی کیا تھا کہ ہو نہ ہو بھارت کاکارپوریٹ سیکٹر اس پارٹی کو پنپنے نہیں دے گا۔ وہ کسی صورت یہ برداشت نہیں کرے گا کہ بھارت پر اس طرح کے عوامی ٹولے کی حکومت قائم ہو۔ میرا تو اس حد تک خیال تھا اور ہے کہ ایسی حکومت آنے کا خدشہ ہو ا تو ہو سکتا ہے بھارت کی جمہوریت کو قربان کردیا جائے ، کیونکہ اصل تو سرمایہ دارانہ نظام ہے، جمہوریت تو اس کی بس مددگار و معاون ہے۔ مجھے یقین تھا کہ جلد ثابت کردیا جائے گا کہ یہ لوگ سٹیٹ کرافٹ کو نہیں جانتے ، نہیں سمجھتے کہ امور سلطنت کیسے چلائے جاتے ہیں، انہیں اقتدار سونپنے کا مطلب ملک کو تباہ کرنا ہے۔

مجھے یہ خدشہ اس لئے بھی تھا کہ کجریوال ، انا ہزارے کا ساتھی رہا ہے۔ انا ہزارے کا جب بہت چرچا تھا تو بھارت ہی کی کج کلاہ ٹائپ دانشور ارون دتی رائے نے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ یہ شخص بھارتی کارپوریٹ سیکٹر کا کھیل کھیل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا ، یہ سارا ڈرامہ ہے، اصل معاملے سے توجہ ہٹانے کے لئے۔ کارپوریٹ سیکٹر بدنام ہو رہا تھا۔ اب ذرا مشتعل جذبات کو راہ مل گئی ہے۔ اسے ایک حد سے آگے نہیں بڑھنے دیا جائے گا اور وہاں پہنچ کر اس مہم کوختم کردیا جائے گا یا مفاہمت کر لی جائے گی جہاں شور تو مچے گا ، مگر لوگ مطمئن ہو جائیں گے، کیونکہ انہیں اس شخص پر اعتبار پیدا ہو چکا ہو گا۔ اور رہی مہم، پارلیمنٹ میںاحتساب کا بل بھی پاس نہیں کیا۔ تحریک کا رخ بدل گیا۔

کجریوال انا ہزارے سے الگ ہو کر سیاست میں آ گئے۔ اب کیا خیال ہے، انہیں اس طرح کی سیاست کرنے دی جائے گی۔ حکومت تو ان کی ختم ہو گئی۔ یقیناً بھارتیوں کے ذہن میں سوال ابھرا ہو گا کہ ان لوگوں کے انداز حکومت چلانے کے ہیں بھی یا نہیں۔
عام آدمی بڑا حقیقت پسند ہوتا ہے۔

اسے کارپوریٹ سیکٹر کی سازش کہہ لیجئے یا ذہانت یا عیاری کہ انہوں نے خاصی حد تک اس غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ الیکشن کا کچھ پتا نہیں،مگر اپنے تئیں تو سرمایہ داری نے خوب کام دکھایا ہے۔

ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو گئے ہیں کہ اس طرح کے انقلابی اقدامات میںنرا رومانس ہے، بڑی خوبصورتی ہے، مگر عملی طور پر کیا یہ طریق کار درست ہے۔ دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک مکیش امبانی ہے۔ ہوا کیا ، صرف اتنا سمجھ لیجئے کہ کجریوال نے کہا ہے یہ شخص دس برس سے بھارت پر حکومت کر رہا ہے۔ ایسے سمجھ لیجئے کہ ہمارے ہاں کوئی کہہ دے کہ گزشتہ پانچ برس سے تو ملک پر ملک ریاض کی حکومت ہے۔ اگرچہ دونوں میں بڑا فرق ہے ، فی الحال ایسے ہی سمجھ لیجئے۔

بس، جان لیجئے، بعض باتیں بڑی رومانوی محسوس ہوتی ہیں، مگر حقیقت پسندانہ نہیں ہوتیں۔ میرے جیسا شخص جو کجریوال جیسے انقلاب پر دل و جان سے فدا تھا، اول روز ہی سے خطرہ محسوس کرنے لگا کہ یہ تجربہ چلے گا نہیں۔

اب میں جو بات کرنے لگا ہوں ، وہ ذرا احتیاط سے کہنے کی ہے۔ ہمارے ملک میں عمران خان کا ظہور ایک ایسا واقعہ ہے جسے غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ عام آدمی پارٹی کے برسراقتدار آنے پر ہمارے ہاں لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ دیکھو ان کا پیٹرن وہی ہے جو ہمارے ہاں تحریک انصاف کا ہے۔ اس پر بعض لوگوں کا خیال تھا کہ تحریک کو یہی حکمت عملی اختیار کرنا چاہیے جبکہ بعض سمجھتے تھے کہ تحریک کو اس سے سبق سیکھنا چاہیے اور کجریوال اپنی’’ غیر حقیقت پسندیدی‘‘ کی وجہ سے ناکام ہو گا اور اس طرح ایک لمبے عرصے کے لئے عام آدمی کو ان کے حقوق دینے کی جدوجہد سرمایہ دارانہ نظام کے ہاتھوں مار کھا جائے گی۔

سیاست میں یہ ضروری ہے کہ آپ یہ تاثر دیں کہ آپ سٹیٹ کرافٹ کو جانتے ہیں اور کسی رومانس کا شکار نہیں ہیں۔ سندھ میں ہو سکتا ہے کہ اکثریت کے جذبات قوم پرستوں کے قریب ہوں، مگر لوگ ان کو ووٹ دینے کے بجائے پیپلزپارٹی کو چنتے ہیں جن سے انہیں توقع ہے کہ یہ امور ریاست میں معاملات کو ایسے چلائیں گے کہ نتائج نکل سکیں۔ اب تو پیپلزپارٹی نے اسے صاف لفظوں میں مفاہمت کی سیاست کہنا شروع کردیا ہے۔

یہ سب کچھ مجھے یاد اس لئے آ رہا ہے کہ نواز شریف ، عمران خان سے ملنے عمران خان کے گھربنی گالا کی بلندیوں تک جا پہنچے۔

یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے۔ یہ ایک مائنڈ سیٹ کی بات ہے۔ اس سے نواز شریف کی کوئی ہیٹی نہیں ہوئی۔ یہی کہا گیا کہ وہ قومی مفاد میں خود چل کر گئے۔ وہ پہلے بھی الیکشن کے بعد عیادت کے لئے عمران کے پاس جا چکے ہیں۔ درمیان میں دونوں میں صرف ایک آفیشل ملاقات ہوئی جس میں جنرل کیانی موجود تھے۔ میاں صاحب کے اس اقدام کی بلاول تک نے داد دی۔۔ ان کے سندھ کے دوروں میں زرداری اور بلاول بھٹو کو لے کر جانا بھی مثبت تاثر چھوڑ گیا ہے۔

جو بات میں کہنا چاہتا ہوں اور احتیاط کرتے کرتے بات اتنی لمبی کر گیا ہوں وہ یہ ہے کہ عمران کو اب اپنی اس ذہنی رکاوٹ کوعبور کرنا ہو گا کہ چل کر جانے میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔ ان کے گرد جو لوگ موجود ہیں وہ اپنے لیڈر کو بلند دیکھنا چاہتے ہوں گے اور مشورہ دیتے ہوں گے کہ آپ نہ جائیں، وہ یہاں آئیں۔ یا عمران کے اندر خود ایسی کیفیت ہو گی جسے میں نہ خود پرستی کہنا چاہتا ہوں نہ خود نگری۔ بس ایک رومانوی سا تصور ہے کہ میں کیوں جھکنے کا تاثر دوں۔ پتا نہیں کیا لفظ استعمال ہونا چاہیے۔ انا بھی نہیں، کبر بھی نہیں، شاید ایک شرم سی ہو، شاید اس سے کچھ زیادہ بھی۔ مجھے یقین ہے ،عملی سیاست میں آ کر ان باتوں پر قابو پانا پڑتا ہے۔ میرے خیال میں عمران نے کئی معاملات پر اس پر قابو پایا ہے۔ مذاکرات اور فوج کشی کے معاملے پر اس نے ایک حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کیا ہے۔ اصل میں عمران کا مقابلہ اتنا کارپوریٹ سیکٹر سے نہیں جتنا دیگر موثر طاقتوں سے ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کہہ لیجئے۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا میں عمران کو ان قوتوں کے سامنے جھک جانے کا مشورہ دے رہا ہوں۔ اسے ڈرا رہا ہوں کہ اپنا اصولی مؤقف چھوڑ دے۔ ہرگز نہیں ۔کہنا یہ چاہتا ہوں، سامراج ہو، یا کوئی اور طاقت، کسی مدّبر سیاستدان کا امتحان یہ نہیں کہ ان سے لڑا جائے، بلکہ اصل شان یہ ہے کہ وہ کیسے ان قوتوں سے نپٹنے کی حکمت عملی اختیار کرتا ہے۔ اسے گیم سے باہر نہیں ہونا۔ یہ تو اس کی شکست ہوئی۔ اسے گیم میں رہنا ہے تاکہ وہ ملک کی خدمت کر سکے اور اپنے ارادوں کو عملی شکل پہنا سکے۔
ریاست کے معاملات چلانا بڑا مشکل کام ہے ۔ احتیاط کا تقاضا کرتا ہے ۔اس لئے تو بعض لوگ کہتے ہیں، سیاست ہے ہی گندا کھیل۔

بشکریہ روزنامہ ' نئی بات '

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند