آج کل بھارت کے عام انتخابات کے حوالے سے اسلام آباد میں خاصی سوچ بچار جاری ہے کہ اپریل کے بعد وہاں کس کی حکومت آئے گی اور اس کے لئے پاکستان کو کیا کچھ کرنا چاہئے تو اس سے علاقہ میں قیام امن کی کوششوں کو تقویت مل سکے۔ اس پس منظر میں وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر خان کی سطح پر قومی میڈیا سمیت صنعت و تجارت کے مختلف شعبوں کے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جارہی ہے جس کا بنیادی مقصد یہی بتایا جارہا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں باہمی تجارت کے فروغ سے نہ صرف خطہ میں خوشحالی لانے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ پاک بھارت عدم اعتماد کی فضا ختم کرنے کی راہ بھی ہموار ہوسکتی ہے۔

حکومت کے خیال میں پاک بھارت تجارت میں اضافے سے پاکستانی برآمدات 30 ارب روپے سے بڑھ کر 250 ارب ہو جائیں گی۔ مجموعی طور پر ہمارے جی ڈی پی میں بھی 2 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔ عام صارفین کو مرچ مصالحے اور دوسری ایشیاء سستی مل سکتی ہیں۔ غیر قانونی تجارت میں کمی سے سمگلنگ کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ غرض ایک سے بڑھ کر ایک تاویل بیان کی جارہی ہے لیکن اس کے برعکس ا سلام آباد ہی میں موجود ’’بڑے لوگ‘‘ ان سے پوچھ رہے ہیں کہ انہیں بھارت کے ساتھ تجارتی معاملات بڑھانے کی جلدی کیا ہے؟ کیا اس معاملہ کو بھارت کی طرف سے پاکستان کا بار بار پانی روکنے، کشمیر اور سیاچین سمیت دیگر زیر التواء سے لنک کرنا کیوں ضروری نہیں ہے۔

ان کے خیال میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کا معاملہ دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کے ایشوز سے مختلف ہے۔ اس لئے اسے تجارتی خسارہ میں کمی کی بجائے’’عدم اعتماد‘‘ کی فضا کے پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ وزارت تجارت چاروں صوبوں میں سول سوسائٹی اور بزنس کمیونٹی کو اعتماد میں لے۔ جی ایچ کیو کے حکام سے بھی مشاورت کے بعد قدم آگے بڑھائے۔ یہ نہ ہو کہ اس فیصلے یا تیزی کے فوائد سے زیادہ نقصانات سامنے آجائیں کیونکہ دونوں ممالک میں ابھی وہ نسل زندہ ہے جنہوں نے پاکستان بنتے دیکھا اور ہندوئوں اور سکھوں کے مظالم بھی انہیں یاد ہیں۔

یہ ٹھیک ہے کہ بھارت کے ساتھ نیا بلا امتیاز اور مساوی رسائی (NMDA) کا معاہدہ کوئی نیا نہیں ہے۔ ایسا امریکہ اور میکسیکو وغیرہ میں معاہدہ ہوچکا ہے مگر پاکستان میں تو سب جانتے ہیں کہ یہ MFN کا نیا نام ہے۔ بھارت عملاً پاکستان کے ٹیکسٹائل ، فارماٹیکل، آٹو سیکٹر اور زراعت کے شعبہ سے و ابستہ اداروں اور افراد کو مطمئن نہیں کرسکا۔ یہی وجہ ہے کہ اب زرعی شعبہ نے حکومت کو زرعی تجارت کے لئے علیحدہ معاہدہ کا ڈرافٹ بنانے کی تجویز دی ہے۔ مجموعی طور پر قومی حلقوں میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ پاکستان کو اپنی معیشت اورتجارت کے دفاع کا حق برقرار رکھنا چاہئے اس کے لئے اس ایشو پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے یا اجتماعی قرار داد لانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھارت کے ساتھ کسی قسم کے معاہدہ یار عایت دینے کی حکمت عملی سے انہیں ’’بڑوں کی ناراضگی‘‘ اور عوامی سطح پر سخت ردعمل کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ بھارت کے ساتھ تجارت کے معاملہ میں موجودہ حکومت ہی نہیں، سابق حکمران بھی پیش پیش ہوتے تھے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق سابق دور حکومت میں جنوری 2013ء میں سافٹا (SAFTA) کے قانون تجارت پر عملدرآمد کا فیصلہ کیا۔

اس سے پہلے ستمبر 2012ء میں دونوں ممالک کے درمیان اس ایشو پر بات چیت ہوئی تھی۔ دسمبر 2013ء میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے نیویارک میں دوطرفہ تجارت بڑھانے کے امور پر اتفاق کیا۔ اس کے بعد موجودہ حکومت سابق حکومت کی تجارتی پالیسی کے سلسلے کو آگے بڑھارہی ہے۔قارئین کو یاد ہوگا ڈیڑھ سال قبل امریکی سیکرٹری خارجہ ہیلری کلنٹن بھی پاکستان آئی پاکستان کو بھارت کے سا تھ تجارت بڑھانے کا لیکچر دے چکی ہیں۔ اس حوالے سے امریکہ چاہتا ہے کہ جیسے طالبان کے ساتھ ڈیل کی پالیسی پر اس کی مرضی سے عملدرآمد ہو ویسے ہی بھارت کے ساتھ تجارتی معاملات بھی آگے بڑھیں۔ وہ خود پہلے بھارت کی سوا ارب افراد کی مارکیٹ اور پھر دوسرے مرحلہ میں سنٹرل ایشیاء کی مارکیٹوں تک اپنی مصنوعات کی رسائی کا خواہشمند ہے۔ اس کے لئے بھارت اور امریکہ ایک ہی سوچ رکھتے ہیں۔

ہمارے حکمران ’’بھولے بادشاہ‘‘ ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ بھارت ان سے ’’فیئر پلے‘‘ کریگا اگر اس نے ایسا کرنا ہوتا تو پھر پاک ایران گیس معاہدہ سے امریکہ کو خوش کرنے کے لئے نہ نکلتا، اگر بھارت ایسا نہ کرتا تو شاید نہ ایران پر اتنی زیادہ اقتصادی پابندیاں عائد ہوتیں اور نہ ہی پاکستان کی موجودہ حکومت کو اس سلسلہ میں کافی زیادہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ یہ حقائق قوم جانتی ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ حکومت اس کے لئے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرے۔ قوم اقتصادی خوشحالی کے لئے حکمرانوں کو مئی 2013ء کے انتخابات میں سپورٹ کا واضع مینڈیٹ دے چکی ہے۔ اب بال حکمرانوں کی کورٹ میں ہے وہ عوام کے مفادات اور قومی سلامتی کا کس حد تک دفاع ا ور تحفظ کرتے ہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ مشاورت کا دائرہ کار اسلام آباد سے نکال کر چاروں صوبوں میں سے جایا جائے اس کے بعد کوئی حتمی اقدام کیا جائے۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے