یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ آئی ایم ایف سے بڑے حجم کا قرضہ منظور ہونے اور دو سہ ماہی اقساط کی مد میں 1100ملین ڈالر وصول ہونے کے باوجود نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر گرے بلکہ روپے کی قدر میں بھی کمی ہوئی۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ قرضہ امریکہ کی سفارش پر ملا ہے۔ 2008ء میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو 7.6ارب ڈالر کا قرضہ منظور کرتے ہی پہلی قسط کی مد میں تقریباً 3 ارب ڈالر دیئے تھے چنانچہ یہ بات حیران کن ہے کہ پاکستان نے اتنی کم رقوم کی اقساط کیوں منظور کیں۔ یہی نہیں، ہم نے اپنے 19 دسمبر 2013ء کے کالم میں عرض کیا تھا کہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ کئے ہوئے معاہدے سے انحراف کرتے ہوئے اتحادی امدادی فنڈ کی مد میں 3.4 ارب ڈالر کی رقوم ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ موجودہ حکومت نے بھی اس معاملے پر خاموشی سے سمجھوتا کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ نے اس مد میں پاکستان کو 5 ارب ڈالر ادا کرنے تھے لیکن وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 7 مارچ 2014ء کو کہا کہ امریکہ نے اتحادی امدادی فنڈ کی مد میں پاکستان کو صرف 1.6 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں۔ اس سے قبل 11دسمبر 2013ء کو انہوں نے کہا تھا کہ اس مد میں امریکہ جو رقوم پاکستان کو دیتا ہے وہ کوئی امداد یا خیرات نہیں بلکہ یہ وہ رقوم ہیں جو پاکستان خرچ کر چکا ہے۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اب پاکستان پہلے جیسا ملک نہیں ہے چنانچہ ہم واجب الادا رقوم کی پائی پائی امریکہ سے وصول کریں گے لیکن 3.4 ارب ڈالر کی رقوم سے وہ خاموشی سے دستبردار ہو گئے۔

یہ بات واضح ہے کہ اگر یہ رقوم مل جائیں تو پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔اب سے 9 ماہ قبل ہم نے لکھا تھا کہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستان قرضہ لینے کے لئے مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری حاصل کرے (جنگ 18جولائی 2013) یہ امر پریشان کن ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور گورنر اسٹیٹ بینک کے دستخطوں سے 19 اگست 2013ء کو آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط میں یہ یقین دہانی کرادی گئی کہ حالیہ دنوں میں یہ منظوری حاصل کر لی گئی ہے حالانکہ ایسی کوئی منظوری لی ہی نہیں گئی تھی۔ آئی ایم ایف نے بھی سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے قرضہ اس شرط پر منظور کر لیا کہ بجلی وگیس کے نرخ بڑھائے جائیں گے مگر یہ بشرط نہیں رکھی کہ زرعی انکم ٹیکس موثر طور سے نافذ کیا جائے۔

گزشتہ دنوں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بہتر ہونے میں سعودی عرب کی جانب سے 1500ملین ڈالر کا تحفہ ملنے کا بھی یقیناً کچھ دخل تھا۔ وزیر اعظم کی یقین دہانی کے باوجود یہ خدشہ اپنی جگہ موجود رہے گا کہ اگر پاکستان غیر ملکی امداد، قرضوں، گرانٹ اور تحفے تحائف پر انحصار بڑھاتا رہا تو اگے چل کر نہ چاہتے ہوئے بھی پاکستان مشرق وسطیٰ میں مسلمان ملکوں کے آپس کے جھگڑوں یا مسلح بغاوت میں فریق بن سکتا ہے۔ یہ حقیقت فراموش نہیں کی جانی چاہئے کہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر لڑی جانے والی امریکی جنگ اب ’’ہماری اپنی جنگ‘‘ بن چکی ہے جس سے معیشت کو105 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان، افغانستان، عراق، مصر اور شام وغیرہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خدشات کے مطابق ہے۔ نائن الیون کے فوراً بعد ہم نے کہا تھا ’’امریکی حکمت عملی سے پاکستان اور افغانستان سمیت امت مسلمہ کو انتہائی سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں (جنگ 2 اکتوبر 2001) اس کے بعد پھر لکھا ’’افغانستان پر امریکی حملوں کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ اصل ہدف عالم اسلام ہے (جنگ 16 اکتوبر 2001) اسی طرح ایبٹ آباد میں پراسرار امریکی آپریشن سے ایک برس قبل ہم نے تنبیہ کی تھی کہ امریکی افواج پاکستان میں داخل ہو سکتی ہیں (جنگ 11مئی 2010) موجودہ مالی سال میں ٹیکسوں کی وصولی کا جو ہدف رکھا گیا ہے اس میں سے صوبوں کا حصہ ادا کرنے کے بعد جو رقوم وفاق کے پاس رہ جائیں گی اس سے تو قرضوں پر سود بھی ادا نہیں ہو سکے گا چنانچہ حکومت اپنے انتخابی منشور سے انحراف کرتے ہوئے قرضوں پر انحصار کر رہی ہے۔

قارئیں کو یاد ہو گا کہ 2 مئی 2012 کو پاکستان کے وزیر دفاع نے کہا تھا کہ پاکستان کو نیٹو سامان کی راہداری بحال کرنے کی جلدی ہے تاکہ امریکہ سے پیسے ملنا شروع ہوں۔ اس سے قبل سیکرٹری دفاع نے بھی کہا تھا کہ اگر امریکہ امداد نہ دے تو پاکستان گھٹنے ٹیک دے گا۔ کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں متعین امریکی سفیر نے کہا تھا کہ امریکہ پاکستان کے معاملات میں مداخلت اس لئے کرتا ہے کیونکہ وہ پاکستان کو سب سے زیادہ امداد دیتا ہے۔ یکم جولائی 2008ء سے 30 جون 2013ء تک پاکستان کے مجموعی قرضوں و ذمہ داریوں میں 9503 ارب روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔


انہی 5برسوں میں پاکستان میں 55ارب ڈالر کی ترسیلات آئیں۔ ان رقوم کا تقریباً 75فیصد صرف 4 ملکوں یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکہ سے آیا۔ اس خدشے کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے کہ استعماری طاقتیں ریشہ دوانیاں کر کے ترسیلات کے اس حجم میں زبردست کمی کروا کر جب چاہیں پاکستان کی معیشت کو سنگین بحران میں مبتلا کر سکتی ہیں۔ سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے افغانستان پر امریکی حملے شروع ہونے کے تین ہفتے بعد کہا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کی امریکی حکمت عملی کا اہم اور فیصلہ کن موڑ اس وقت شروع ہو گا جب افغانستان میں امریکی فوجی کارروائیاں آہستہ آہستہ ختم کی جا رہی ہوں گی اور اس کا محور افغانستان سے باہر ہو گا۔ اب اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہی ہو گا کہ طاقتور طبقوں پر ٹیکس عائد نہ کرنے اور ٹیکسوں کی چوری اور لوٹی ہوئی دولت کو موجودہ حکومت کی جانب سے بھی قانونی تحفظ فراہم کرتے چلے جانے اور ان نقصانات کو پورا کرنے کے لئے ملکی اور بیرونی قرضے لیتے چلے جانے اور مسلم لیگ (ن) کے منشور کے مطابق ہر قسم کی آمدنی پر مؤثر طور سے ٹیکس عائد کرنے کے بجائے اس منشور سے صریحاً انحراف کرتے ہوئے منفعت بخش اور حساس قومی اداروں کے حصص فروخت کرنے سے مرکز اور صوبوں کو کچھ عرصے کے لئے تن آسانی تو یقیناً میسر آجائے گی لیکن آنے والے برسوں میں بھی معیشت میں پائیدار بہتری نہیں آسکے گی۔ یہ خدشہ بھی بڑھتا رہے گا کہ پاکستان قومی مفادات سے متصادم بیرونی شرائط اور مطالبات مانتے چلے جانے پر مجبور ہو گا۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے