تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد انتخابی ڈرامہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 2 شوال 1441هـ - 25 مئی 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 3 جمادی الثانی 1435هـ - 4 اپریل 2014م KSA 09:55 - GMT 06:55
مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد انتخابی ڈرامہ

کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے بیشتر حریت پسند اور دینی تنظیموں کی طرف سے الیکشن کو لے کر اپنائے گئے موقف پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت کی ساڑھے سات لاکھ افواج کی موجودگی میں منعقد کرائے جانے والے انتخابی ڈرامے کی کوئی ساکھ اور اہمیت نہیں ہے اور یہ ایک جمہوری عمل کی بجائے محض ایک فوجی آپریشن ہے جس میں بھارت کی ہوم منسٹری ، خفیہ ایجنسیاں اور فوج کا بالواسطہ طور عمل دخل موجود ہے۔

علی گیلانی کا کہنا ہے کہ بھارت بجلی اور پانی کے نام پر مانگے جانے والے ووٹ کو تحریک آزادی کشمیر کے خلاف ایک کارڈ کے طور پر استعمال کرتا ہے اور بین الاقوامی فورموں میں اس کو جبری الحاق کی توثیق کے طو رپر پیش کیا جاتا ہے۔ کشمیری اصولی طور جمہوریت کے مخالف نہیں ہیں البتہ جموں کشمیر ایک متنازع خطہ ہے جس پر بھارت نے فوجی طاقت کے بل بوتے پر قبضہ جمالیا ہے۔

سید علی گیلانی نے الیکشن کابائیکاٹ کرنے کو قومی فریضہ قرار دیکر نریندر مودی کو انسانیت کا قاتل اور ہندوستان کی جمہوریت پر بدنما داغ سے تعبیر کیا۔ ان کے بقول ہندنواز سیاسی جماعتوں کے نام اگرچہ الگ الگ ہیں لیکن ان کا کام ایک جیسا ہے۔ انہوں نے کشمیریوں سے اپیل کی کہ آپ الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کریں، کیونکہ ایسا نہ کرنے سے بھارت ہمیں غلامی کی زنجیروں میں مضبوطی سے جھکڑتا ہے، ووٹ ڈال کر بھارت کشمیریوں میں نام نہاد جمہوریت کا راگ الاپتا ہے، لہٰذا اس عمل سے دور رہ کر بھارت پر واضح کردینا چاہئے کہ ہم اپنے بنیادی اصول یعنی حق خودرادیت سے منہ موڑنے والے نہیں ہیں‘‘، ان کا کہنا تھا کہ ووٹ چاہے کسی بھی غرض کے لیے ڈالا جائے، وہ تحریکِ آزادی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوجاتا ہے، کیونکہ بھارت اس کو اپنے فوجی قبضے کے حق میں کیش کرتا ہے اور وہ عالمی برادری کو یہ کہہ کر گمراہ کرتا ہے کہ کشمیری الیکشن عمل میں حصہ لیکر بھارت کے ساتھ الحاق کی توثیق کرتے ہیں۔

انتخابات سے قبل مقبوضہ کشمیر میں فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں نے چھاپوں، تلاشیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ پولیس اور بھارتی فورسز کی مختلف ایجنسیاں رات کے دوران گھروں میں چھاپے مارتی ہیں۔ تلاشی کے بعد کئی نوجوانوں کو گرفتار بھی کر لیا جاتاہے۔ بھارتی فوج کی ان کاروائیوں سے عوامی حلقوں میں خوف ودہشت کی لہردوڑ گئی ہے۔ گرفتار شدگان میں سے بعض نوجوانوں کو پوچھ گچھ کے دوران نیم مردہ حالت میں رہا کر دیا جاتا ہے۔

اسے کسی طرح بھی دہشت گردی کا نام نہیں دیاجا سکتا۔ پاکستان کے اس اصولی مؤقف کا تقاضا ہے کہ تمام انصاف پسند اقوام کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے بھارت پر اپنا دباؤ ڈالیں اور بھارتی افواج کے مظالم بند کرائیں۔کشمیریوں نے بھارت کا انتخابی ڈرامہ مسترد کر دیا ہے کیونکہ انتخابات رائے شماری کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ عالمی برادری کا یہ فرض ہے کہ وہ مقبوضہ ریاست میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے کا اہتمام کرے۔ بھارت کو زمینی حقائق تسلیم کرنا ہوں گے اور کشمیریوں کو ان کے غصب شدہ حقوق دینا ہوں گے۔ بھارتی فوج کشمیر میں جن انسانی المیوں کو جنم دے رہی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

بشکریہ روزنامہ ' نئی بات '

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند