تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سی آئی اے اور سینیٹ کا ٹاکرا اور پاکستان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 8 جمادی الثانی 1435هـ - 9 اپریل 2014م KSA 10:20 - GMT 07:20
سی آئی اے اور سینیٹ کا ٹاکرا اور پاکستان

لیجئے!امریکی سی آئی اے بھی پارلیمانی برتری کے اصول کی لپیٹ میں آ گئی اور اس کے ساتھ ہی پرویز مشرف کے دور میں پاکستان سے گرفتار کر کے سی آئی اے کے حوالے کئے جانے والے بعض القاعدہ کے اہم رہنمائوں کے بارے میں بھی کچھ نئے حقائق و انکشافات اور ان کا سی آئی اے سے تعاون بھی سامنے آ گئے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ القاعدہ کے ان رہنمائوں نے تو سی آئی اے کی مار پیٹ سے قبل ہی بہت سی اہم معلومات اگل دیں اور سی آئی اے سے تعاون کیا۔

یہ الگ بات ہے کہ سی آئی اے نے اپنی کارکردگی کا مظاہرہ دکھانے کیلئے یہ دعویٰ کیا کہ القاعدہ کے رہنمائوں نے یہ معلومات سی آئی اے حکام کے ظالمانہ سلوک کے نتیجے میں فراہم کی ہیں۔ ابو زبیدہ، ابراہیم النشیری، عمار البلوچی، حسن گل اور القاعدہ کے دیگر رہنمائوں کے سی آئی اے سے بلاتشدد تعاون اور معلومات کی فراہمی کے حقائق تو امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی 6,300 صفحات کی اس رپورٹ کا حصہ ہیں جو ابھی تک خفیہ ہے اور سی آئی اے کی خودسری اور حقائق کو چھپانے اور سینیٹ کو گمراہ کرنے کے ثبوت کے طور پر کمیٹی کے عملے نے تیار کی ہے اور اس کا صرف کچھ حصہ سامنے آیا ہے ورنہ ابھی یہ رپورٹ خفیہ ہے اور گزشتہ روز سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی نے واضح اکثریت سے اس رپورٹ کے صرف 400 صفحات کو ’’ڈی کلاسی فائی‘‘ یعنی پبلک کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے ابھی اس پر عمل میں بھی کئی ماہ لگ جائیں گے بشرطیکہ سی آئی اے ان 400صفحات میں سے بھی ’’قومی راز‘‘ کی اہمیت والے حصوں کی نشاندہی کا حق استعمال کر لے ورنہ ممکن ہے کہ ناراض سی آئی اے اور سینیٹ کمیٹی کی چیئرپرسن خاتون سینیٹر ڈایان فائن اسٹائن کی برہمی اس مسئلہ کو طول دے دے تو ہم اور آپ مزید انکشافات سے محروم رہ جائیں لیکن اب ایک دلچسپ اور عملی جمہوریت کی صورت حال ضرور دیکھنے کو ملے گی کہ ایک مضبوط جمہوری نظام میں پارلیمانی برتری اور حساس اداروں کی جوابدہی کا اصول کارفرما ہوتا ہے یا ’’قومی راز اور قومی مفاد‘‘ کی حفاظت کیلئے قائم کردہ امریکی سی آئی اے پارلیمانی برتری سے خود کو بچا لیتی ہے کہ ’’قومی مفاد‘‘ جوابدہی اور پارلیمانی بالادستی سے بھی بالاتر ہیں۔ جی ہاں! وہی طاقتور امریکی سی آئی اے جو امریکہ کی علاقائی حدود سے باہر تمام دنیا میں امریکی مفادات اور قومی سلامتی کی حفاظت کیلئے ہر طرح کے خفیہ یا اعلانیہ، براہ راست یا بالواسطہ آپریشنز میں مصروف رہتی ہے۔

مختلف ممالک میں بوقت ضرورت حکومتوں اور حکمرانوں کو تبدیل کرنے، ان ممالک کی خفیہ ایجنسیوں سے مل کر حکومت کے نیم سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کو کنٹرول اور استعمال میں لانے سے لے کر ہر طرح کے کام میں لگی رہتی ہے اور اس کے بعض منصوبوں کا تو وہاں متعین امریکی سفیروں کو بھی علم نہیں ہوتا۔ جی ہاں! اس قدر شہرت یافتہ، فعال اور وسیع اختیارت والی امریکی سی آئی اے بھی امریکہ کے جمہوری نظام میں پارلیمانی برتری کے اصول کی لپیٹ میں آ گئی ہے اور اس کے حکام سخت ناراض اور پریشان ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی سربراہ خاتون سینیٹر ڈایان فائن اسٹائن کا الزام ہے کہ امریکی سی آئی اے نے ری پبلکن صدر جارج بش جونیئر کے دور صدارت میں نہ صرف حقائق کو چھپایا اور مسلسل جھوٹ بولا بلکہ عوام کے منتخب سینیٹروں کی انٹیلی جنس کمیٹی کو اپنے غلط دعوئوں اور بیانات کے ذریعے گمراہ بھی کیا اور امریکہ کی افغان جنگ کے بعد امریکہ کی تحویل میں گرفتار القاعدہ کے رہنمائوں پر بھی وہ ظالمانہ سلوک کیا گیا جو امریکی تاریخ اور قومی روایات پر ایک دھبہ، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور انتہائی سنگدلانہ فعل ہیں۔

سینیٹر ڈایان فائن اسٹائن اور ان کے عملے کا یہ کہنا ہے کہ سی آئی اے کا یہ دعویٰ بھی جھوٹ ہے کہ برف کے پانی میں غوطے دینے اور دیگر ظالمانہ سزائوں کے بعد القاعدہ کے رہنمائوں نے سی آئی اے کو بہت سی اہم معلومات فراہم کیں جن سے بہت سے خطرت کا تدارک ہو سکا اور اسامہ بن لادن کی تلاش میں مدد ملی۔ اس کے برعکس القاعدہ کے رہنمائوں نے ایسی مار پیٹ اور سزا سے قبل ہی اپنی گرفتاری کے بعد تعاون کرتے ہوئے بہت سی معلومات فراہم کر دی تھیں مگر سی آئی اے نے اس کے بعد بھی ان سے ظالمانہ سلوک کیا جس کے نتیجے میں جب سی آئی اے کو کچھ حاصل نہ ہوا تو پہلے سے حاصل کردہ معلومات کو سزائوں کے بعد کا نتیجہ قرار دے کر سینیٹ کمیٹی اور عوام کو مطمئن اور صدر جارج بش کو خوش کر دیا لہٰذا اس غلط بیانی اور حقائق چھپا کر پارلیمانی کمیٹی کو گمراہ کرنے کے مسئلہ کو سینیٹر ڈایان فائن اسٹائن اور کمیٹی کے ماہرین کے اسٹاف نے خود اپنی 6,300 صفحات و دستاویزات پر مشتمل ایک خفیہ رپورٹ تیار کر کے سی آئی اے کو پریشان کر دیا ہے اور گزشتہ روز کمیٹی نے اکثریت سے فیصلہ کیا ہے کہ اس رپورٹ کے 400 صفحات کو صدر اوباما ’’ڈی کلاسی فائی‘‘ کرنے کی اجازت دیں تاکہ سی آئی اے کا جھوٹ سامنے لا کر اسے پارلیمانی برتری اور جوابدہی کے تحت لایا جائے۔

ابھی اس کے مرحلے کب اور کیسے مکمل ہوتے ہیں، اس میں ابھی کچھ وقت لگے گا مگر ایک بات واضح ہے کہ جمہوری نظام میں عوامی نمائندوں کی رائے اور پارلیمانی بالادستی سے سی آئی اے بھی انکار نہیں کر سکتی۔ اس صورتحال کو سمجھنے کیلئے بیک گرائونڈ کچھ یوں ہے کہ صدر بش کے دور میں اور اس کے بعد بھی القاعدہ، دہشت گردی، گوانتاموبے اور دیگر حوالوں سے امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے ہونے والی سماعتوں میں امریکی سی آئی اے حکام نے جو بیانات اور معلومات فراہم کیں اس میں بعض حقائق کے بجائے غلط بیانی سے کام لیا گیا۔ کمیٹی کے اسٹاف کو محسوس ہوا کہ بعض معلومات کی فراہمی میں سی آئی اے ان سے تعاون نہیں کر رہی ہے لہٰذا انہوں نے اپنے طور پر تحقیقات اور دستاویزات کا کام شروع کر کے اپنے حاصل کردہ حقائق پر مشتمل 6,300 صفحات کی رپورٹ تیار کر کے سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے پیش کر دی جو سی آئی اے پر حقائق چھپانے، سینیٹ کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کرتی ہے اور اسے سینیٹ کمیٹی کی بالادستی کے خلاف قرار دیتی ہے۔

دیکھئے امریکی جمہوریت کا نظام اس مسئلہ کو کیسے حل کرتا ہے؟ کیا ہی اچھا ہو کہ سینیٹ کمیٹی کی اس رپورٹ میں پاکستان کے حکمرانوں اور ان کے گمراہ کن اعمال اور فیصلوں کے کچھ حقائق بھی منظر عام پر آئیں کہ انہوں نے کب کب اور کہاں کہاں اپنی قوم سے حقائق چھپائے اور گمراہ کیا اور کہاں کہاں اپنے غیر ملکی سرپرستوں سے بھی غلط بیانی یا خوشامد کی۔ ایک واقعہ سنئے۔ جس روز جنرل (ر) پرویز مشرف کی کتاب ’’ان دی لائن آف فائر‘‘ نیویارک میں لانچ کی گئی تو میں روز ویلٹ ہوٹل میں ہونے والی میڈیا پریس کانفرنس میں موجود تھا اور اس کتاب کے منظر عام پر آنے سے قبل ہی میں نے ایک کاپی حاصل کر کے کچھ صفحات پڑھ بھی لئے اور ’’جیو نیوز‘‘ میں ایک رپورٹ میں کتاب دکھاتے ہوئے رپورٹ بھی پیش کر دی۔ جونہی پرویز مشرف نے اپنا بیان ختم کیا، میں نے کتاب کے صفحہ 237 کے آغاز کی سطور کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھا دیا کہ القاعدہ اور دہشت گردوں کے لیڈروں کو پکڑ کر امریکی سی آئی اے کے حوالے کئے جانے پر جو کئی ملین ڈالرز ملنے کی آپ نے تصدیق کی ہے، آخر وہ ڈالرز کہاں ہیں اور کس کو ملے ہیں؟ کیونکہ امریکی قانون انعام کے تحت یہ کئی ملین ڈالرز کا انعام کسی حکومت یا سرکاری افسر کو نہیں ملتا بلکہ یہ گرفتاری میں مدد دینے والے شہری کو ملتا ہے لہٰذا اگر یہ حکومت کو نہیں ملا تو انعام پانے والے اشخاص کون ہیں؟ دوسرے پرویز مشرف کا یہ اعتراف پاکستان کے خلاف عالمی ایف آئی آر ہے۔ پرویز مشرف نے جواب میں صرف یہ کہا کہ وہ اگلے اردو ایڈیشن میں یہ سطور نکال دیں گے۔ دیکھا آمر حکمراں کا انداز۔ نہ پارلیمانی بالادستی اور نہ ہی جواب دہی یا منصبی ذمہ داریوں کا احساس۔ بلکہ ایک اعلیٰ افسر اور ایک وزیر کا زور یہ تھا کہ میں نے سوال ہی کیوں پوچھا؟ کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا؟

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند