تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جہنم میں جائے مشرف
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 15 ذیعقدہ 1440هـ - 18 جولائی 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 10 جمادی الثانی 1435هـ - 11 اپریل 2014م KSA 09:04 - GMT 06:04
جہنم میں جائے مشرف

یہ کیا بات ہوئی اس موضوع پر لکھا ہی نہ جائے۔ حساس معاملہ ہے‘ اونچ نیچ کا اندیشہ ہے۔ ہم قوم کی ہر اونچ نیچ کے ساتھ ہیں تو یہ بھی سہی۔ رولر کوسٹر کی سواری ہی مقدر میں ہے تو کیا کہا جا سکتا ہے۔

یہ بات تو اب طے ہوگئی ہے کہ مشرف کے معاملے میں فوج میں بے چینی پائی جاتی ہے اور اس کا اظہار فوج نے غیر معمولی انداز میں کر دیا ہے۔ اب یہ بات کوئی چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اس میں ظاہر ہے دو مؤقف بڑے واضح ہیں ایک یہ کہ فوج چاہتی ہے تو مشرف کی گلو خلاصی کر دی جائے۔ دوسرا یہ کہ انصاف کے تقاضوں کو اس کے منطقی انجام تک پہنچنے دیا جائے۔

پہلے مؤقف کی حمایت اب یہاں تک آ پہنچی ہے کہ یہ تک کہا جا رہا ہے‘ مشرف کے خلاف کارروائی پر اصرار کرنے والے نواز شریف کے دشمن ہیں۔ مطلب یہ کہ اس سے فوج اور حکومت کے درمیان ایسا تصادم بھی پیدا ہو سکتا ہے جس سے فوج حکومت کا تختہ الٹنے سے بھی گریز نہ کرے۔ یہ بات تو فوج کے ایک سابقہ ترجمان جرنیل تک نے واضح الفاظ میں کہہ دی ہے کہ اس سے فوج کے اندر جذبات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اور اگرکوئی یہ سمجھتا ہے کہ مشرف کو سزا دے کر مارشل لاء کا راستہ روکا جا سکتا ہے تو وہ غلط فہمی میں ہے۔ فوج کو آنا ہوتا ہے تو اس کے راستے میں ایسی باتیں رکاوٹ نہیں بنتیں۔ جنرل حمید گل جیسے محب وطن اور جمہوریت پسند اور جنرل اسلم بیگ جیسے ناپ تول کر بولنے والے جرنیل بھی صاف لفظوں میں یہ کہنے لگے ہیں کہ کوئی مشرف کا بال بیکا بھی نہیں کر سکتا۔ جو بھی فوجی ہے‘ موجودہ یا سابقہ‘ اس کی ہمدردیاں مشرف کے ساتھ دکھائی دیتی ہیں۔ اس پس منظر میں جنرل راحیل شریف کا یہ بیان کہ فوج اپنے وقار کی حفاظت کرنا جانتی ہے‘ بڑا معنی خیز سمجھا گیا۔

اسے سمجھنے میں کسی نے غلطی نہیں کی کہ یہ بیان کس پس منظر میں ہے۔ اگلے ہی روز کور کمانڈر کانفرنس کے بعد اس فضا میں مزید سختی پیدا ہوئی۔ دو وفاقی وزراء کے ان بیانات کی خوب خوب اشاعت ہوئی جو ایک طرح سے فوج کے خلاف گنائے گئے۔ خواجہ سعد رفیق تو ایک طرف‘ وزیر دفاع خواجہ آصف بھی اعتراضات کی زد میں تھے۔ دونوں نے وضاحت بھی کی اور دھیمے انداز میں اپنے مؤقف کا اعادہ بھی کیا۔ ایک طرح کا تاثر بھی پیدا ہوا کہ فوج اپنے ہی سویلین وزیر دفاع کو آڑے ہاتھوں لے رہی ہے۔ ایسے لگا مشرف کے کیمپ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

دوسری طرف جمہوریت پسند حلقوں میں ایک غیر معمولی مایوسی کی فضا نے جنم لیا ہے۔ مایوسی اس بات پر نہیں کہ مشرف بچ کر نکل جائے گا بلکہ اس بات پر کہ ابھی ہمارے ہاں جمہوری کلچر اتنا مضبوط نہیں ہوا کہ وہ کسی عسکری مہم جوئی کا راستہ روک سکے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ملک میں جمہوریت کی جڑیں زیادہ مضبوط نہ بھی ہوں تو بھی ہمارے زمینی حقائق فوج کی دخل اندازی روکے رکھیں گے۔ ایک تو موجودہ معاشی صورت حال فوج کو دخل اندازی سے باز رکھے گی‘ دوسرے ملک کو درپیش سکیورٹی مسائل کی وجہ سے فوج پہلے ہی کئی محاذوں پر الجھی ہوئی ہے‘ تیسرے یہ کہ اس وقت امریکہ بھی ایسا نہیں چاہتا ہے‘ اس کی بھی خواہش ہے کہ جمہوریت کے سائے تلے خطے میں تبدیلی کا عمل مکمل ہو۔ وہ موجودہ سویلین حکومت سے مطمئن ہے اور موجودہ حکومت بھی اس سے چھیڑ چھاڑ نہیں کر رہی۔ دوسرے لفظوں میں پینٹاگون کسی صورت میں ہماری فوج کو اقتدار سنبھالنے کی ہلہ شیری نہیں دے گا۔ اور آخری بات یہ بھی کہ جمہوریت کا پودا خاصا مضبوط ہو چکا ہے‘ عوام فوج کو برداشت نہیں کریں اور عدلیہ اس کی توثیق نہیں کرے گی۔

ایسے میں اس طرح کے بیانات کہ فوج نے آنا ہوگا تو اس طرح کی باتوں سے اس کا راستہ نہیں روکا جا سکتا‘ یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ ہم اب بھی ’’گہرے پانیوں‘‘ میں ہیں اور خطرات سر پر منڈلا رہے ہیں۔ یہ تو فوج کی نظر کرم ہے یا مصلحت کہ وہ اس وقت اقتدار سے باہر ہے۔ بہت سے لوگ ترکی کا حوالہ دیتے تھے کہ دیکھا وہاں کیسے جرنیل سیاستدان کو لٹکا دیا کرتے تھے سول حکومت کا جب چاہے تختہ الٹ دیا کرتے تھے۔ اور انہیں تو یہ سب سہولتیں آئین میں حاصل تھیں۔ اب دیکھو‘ وہاں جرنیلوں تک کی برطرفیاں ہو رہی ہیں اور ان پر مقدمے بھی چل رہے ہیں حالانکہ آئین ان کی پشت پناہی کے لئے موجود ہے۔ جواب آتا ہے کہ ہمارے حالات ابھی ترکی جیسے نہیں۔ وہاں سیاستدانوں نے کام کرکے دکھایا ہے‘ اس لئے اب انہیں کوئی نہیں چھیڑ سکتا۔ مطلب یہ کہ ہمارے سیاستدانوں کا ریکارڈ اتنا اچھا نہیں‘ اس لئے ان کی چھٹی کی جا سکتی ہے۔

اور چھٹی کرنے کا یہ فریضہ فوج ہی ادا کیا کرتی ہے۔ اس کے لئے اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں۔ موجودہ صورت میں فوج آپ کو چھوٹ دے رہی ہے تو اس کے غلط معنی نہ لئے جائیں۔ اچھی طرح سمجھ لیا جائے کہ اصل زمامِ کار فوج کے پاس ہے۔ آپ کا کچا چٹھا بھی فوج کے پاس ہے۔ بلکہ تھا اور رہے گا بھی۔ اس ملک میں ماضی میں بھی جس طرح حکومتیں بنتی رہی ہیں‘ اب بھی ویسے ہی بنیں گی۔ سیاستدان ہمارے محتاج ہیں‘ ہم سپریم ہیں‘ ہم بالاتر ہیں۔ اس زمینی حقیقت کو اچھی طرح سمجھ کر اپنی اوقات میں رہو۔ ہم نے چاہا تو ریمنڈ ڈیوس چلا گیا‘ حسین حقانی سے ہم نے جان چھڑانی تھی چلئے یوں کہہ لیجئے‘ ہم پر امریکہ کا دباو تھا۔ طاقت کے سر چشمے یہی ہیں۔ یہ صرف نعرہ ہے کہ طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں اور پارلیمنٹ ایک بالاتر ادارہ ہے۔ ہمیں اس حقیقت کا احساس ہونا چاہیے۔

اس وقت جب دہشت گردی کی جنگ ایک انتہائی نازک موڑ پر ہے‘ اس حساس معاملے کا سامنے آجانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ کل تک تجزیہ نگار کہتے تھے مشرف کے مسئلے پر فوج اور سویلین میں تلخی ہو سکتی ہے‘ مگر یہ نہیں ہوگا کہ فوج اس کی خاطر سارے نظام کو تلپٹ کرنے پر تل جائے۔ اس وقت سوال یہ بھی نہیں‘ سوال یہ ہے کہ فوج اس مائنڈ سیٹ سے کب نکلے گی۔ ماضی میں فوجی حکومتوں کے زمانے میں کئی واقعات پر فوج نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ یہاں تک کہ ایک سپاہی نے ٹریفک کی خلاف ورزی پر ایک گاڑی روکی جو بدقسمتی سے کسی فوجی جرنیل کی تھی۔ بجائے اس کے کہ اس کانسٹیبل کو قانون پر عمل کرانے پر شاباش ملتی‘ اس پر دھاوا بول دیا گیا۔ پنڈی کے قریب بھی ایک واقعہ ہوا تھا جس میں شاید کوئی ممبر اسمبلی شامل تھا۔

فوجیوں کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح فوجیوں کی گرفت ہونے لگی تو فوج کا وقار جاتا رہے گا۔ حالانکہ فوج کا وقار تو اس وقت قائم ہوا تھا جب ٹنڈو بہاول میں ایک کیپٹن کی طرف سے ذاتی عناد پر ایک پورے خاندان کو تہِ تیغ کرنے کے واقعہ پر جنرل آصف نواز نے نوٹس لیا تھا۔ کمان بدل دی گئی‘ کیپٹن کا کورٹ مارشل ہوا اور اس نے پھانسی پائی۔ اس کے بعد فوج پوچھتی تھی کہ ہم نے تو اپنے ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا‘ تم سویلین نے اپنے مجرموں کا کیا کیا۔

فوج کا وقار قائم کرنے کے لئے جو یہ کارروائیاں کی جاتی ہیں‘ وہ اس وقار کو قائم نہیں کرتیں‘ خراب کرتی ہیں۔ اس وقت قوم ایک عجیب مخمصے میں ہے۔ ایسے میں مشرف کا معاملہ بھی کوئی معاملہ ہے جیسے فوج وقار کا مسئلہ بنائے۔ فوج کا وقار تو اس میں ہے کہ وہ کہہ دے کہ مشرف کے کرتوتوں سے فوج بری الذمہ ہے۔ بدقسمتی سے ایسا ہو نہیں سکتا۔ قرائن بھی یہ بتاتے ہیں‘ مشرف کو جانا ہے۔ فوج ہی نہیں‘ مشرف کے عالمی آقا بھی اس کی گلوخلاصی چاہتے ہیں۔ ہم نے مفاہمت کی ایک فضا بنا رکھی ہے۔

آصف علی زرداری سے لے کر کوئی چھوٹے سے چھوٹا لٹیرا بھی اس مفاہمت کی چھتری کی پناہ میں ہے۔ اس سب کے باوجود ہماری قابل احترام مسلح افواج کو اپنا ذہن بدلنا پڑے گا۔ ٹھیک ہے‘ ابھی ترکی جیسے حالات پیدا نہیں ہوئے۔ ہم اس طرح سوچیں ہی کیوں۔ حالات جب بگڑتے ہیں تو روس اور ایران کی فوج بھی بے بس ہو جاتی ہے۔ روس کے پاس تو پیسے ہی نہ تھے کہ فوج کو سنبھال سکے۔ اب پیسے آئے ہیں تو فوج نے پھر انگڑائی لی ہے اور ساتھ ہی روسی سامراجی مزاج نے بھی۔خدا نہ کرے ہم پر ایسا وقت آئے۔ ایران کی مثال تو بہت بری ہے ۔ انقلاب نے کس طرح اپنے جرنیلوں کو تہِ تیغ کیا کہ یہ شاہ کی فوج ہے۔ پھر ان کے بغیر بھی عراق سے ایک طویل جنگ لڑی۔ کوئی بات بھی حتمی نہیں ہوتی۔

ہم ایک دوسرے پر الزام تراشیوں میں لگے رہیں گے یا ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر تلے رہیں گے تو معاملات کبھی بہتر نہ ہونگے۔ یہ کسی کے لئے بہتر نہیں ہے۔ نہ فوج کے لئے‘ نہ سیاستدانوں کے لئے اور نہ ملک کے لئے۔ حالات کسی وقت بھی کوئی رخ بھی اختیار کر سکتے ہیں اور ہم پھر ہاتھ ملتے ہی رہ جائیں گے۔ سیاستدانوں کے معاملات دگرگوں ہیں تو جہاں فوج کا کنٹرول ہے‘ اس پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ڈی ایچ اے ہی کو دیکھ لیجئے۔ اس کے حالیہ جھگڑے۔ یہ سب ایک الگ دکھ بھرا موضوع ہے۔ پھر بھی بھلا یہ کیا انداز ہے کہ رینجرز ڈی ایچ اے کی مدد پر آئے اور تعمیرات کا سلسلہ رکوا دے۔

یہ بھی درست ہے کہ دوسری طرف سے جو دھاندلی ہو رہی ہے‘ وہ بھی ایک عجوبہ ہے۔ یہ کسی بزنس مین کا عجوبہ نہیں‘ اسے زرداری کا عجوبہ گنا جائے گا۔ اس پر بھی لکھنے کو جی چاہتاہے۔ صرف اس پر نہیں‘ ان تمام منصوبوں پر جو نام نہاد نجی ملکیت میں چل رہے ہیں۔ ان کی اصل حقیقت کیا ہے۔ فی الحال تو فوج ہی کے کردار پر بات چل رہی ہے۔ خدا کے لئے معاملے کو سمجھئے‘ ملک بہت مشکل حالات میں ہے۔ جہنم میں جائے مشرف‘ ہم نے تو بہت سے محاذ متحرک کر دیئے اور ایسے سوال کھڑے کر دیئے ہیں جن کا جواب دیتے دیتے ریاست کا انجر پنجر ڈھیلا ہو جائے گا۔

بشکریہ روزنامہ ' نئی بات '

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند