تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ریڈ لیبل بشرفی دانشور اورجمہوریت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 10 جمادی الثانی 1435هـ - 11 اپریل 2014م KSA 08:47 - GMT 05:47
ریڈ لیبل بشرفی دانشور اورجمہوریت

ستم ظریف حق نمک ادا کر رہے ہیں اور انکشاف کر رہے ہیں کہ عام شہری کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ وطن عزیز کے اقتدار کے ایوان میں کوئی وردی پوش جنرل داد حکمرانی دے رہا ہے یا شیروانی پوش صدر۔ ایوان اقتدار تو ان دونوں کا شرف میزبانی حاصل کر تا چلا آ رہا ہے۔ اس سرائے میں کس کس مسافر نے بسیرا نہیں کیا۔ یہ ایوانِ وزارتِ عظمیٰ ہو، قصرِ صدارت ہو یا کاخِ وزارتِ علیاء یہ سب ایسے مے خانے ہیں، جہاں صرف اور صرف چل چلاؤ کا دور چل رہا ہے۔ اس سرائے اور مے خانے میں مسافر اور رِند آتے، کمر سیدھی کرتے، جام و ساغر و مینا سے خوش کام ہوتے اور صبح کی پہلی کرن پھوٹتے ہی رخصت ہو جاتے ہیں۔ کبھی کسی مسافر اور رِند نے سرائے اور مے خانے کو اپنی مستقل قیام گاہ یا دائمی آرام گاہ بنانے کا بھی تصور نہیں کیا۔ یہ عہدے، یہ مناصب، یہ صدارتیں اور یہ وزارتیں تو کنگ میکرز کے نزدیک وہی حیثیت رکھتی ہیں، جو ایک شریر بچے کے سامنے کانچ یا پلاسٹک کے بنے ہوئے کھلونے کی ہوتی ہے۔ کھلونے آخر بچوں کے ہاتھوں ٹوٹ ہی جایا کرتے اور شعور کی آنکھ کھلنے پر از خود اُن کے ہاتھ سے چھوٹ جایا کرتے ہیں۔۔۔ اب صرف ایک اصغر خان نہیں، درجنوں کالم نگار اور بیسیوں اینکر پرسنز1977ء کا ایئر مارشل بن چکے ہیں۔ بلیک لیبل، بلیو لیبل اور ریڈ لیبل گروپ بشرفی اور جرنیلی دانشور امتیاز عالم، نجم سیٹھی، کامران خان ایسے قلم قوال اور ان کے ہم نوا ہر شب نواز شریف کو جدہ بھیجنے کی پلاننگ کرکے سوتے ہیں۔ جب صبح ہوتی ہے تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ’خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا‘۔

اقتدار و اختیار تو صرف چار دنوں کا میلہ ہوا کرتا ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے کہ زندگی بھی تو ایک میلہ ہی ہے۔ اقتدار و اختیار کے دنوں سے اس کی عمر قدرے طویل ہوتی ہے۔ سچ ہے کہ زندگی ایک بھرپور، پُررونق اور رنگارنگ میلہ ہے۔۔۔ میلے میں انسان بہت سے لوگوں سے ملتا ہے۔ اس میلے میں شامل ہونے کیلئے وہ صدیوں کاسفر اور کوسوں کی مسافت طے کرتا ہے۔ میلے میں طرح طرح کے لوگ، طرح طرح کے چہرے، طرح طرح کے تماشے، طرح طرح کے کرتب اور طرح طرح کی دلفریبیاں دامنِ دل کو کھینچتی ہیں کہ جا ایں جا است۔۔۔ لیکن۔۔۔ میلہ ایک ہجوم کا نام ہوتا ہے۔ ایک بے ہنگم، بے ترتیب اور منتشر ہجوم۔۔۔ میلے کی دلکشی، دلربائی، رعنائی، زیبائی بانکپن اور کشش اسی بے ترتیبی، اسی بے ہنگم پن، اسی ناہمواری اور اسی انتشار میں ہے۔ میلہ میلہ ہوتا ہے فوج کی کسی بریگیڈ یا پلٹن کی منظم پریڈ نہیں ہوا کرتی۔ میلے میں لوگ آتے ہیں جانے کیلئے۔۔۔ ملتے ہیں بچھڑنے کیلئے۔۔۔اکٹھے ہوتے ہیں بکھرنے کیلئے۔ میلے مختلف حوالوں سے منعقد ہوتے ہیں۔ بعض میلے موسمی تہواروں کے نمائندہ ہوتے ہیں۔ یہ موسم کے رخ، رُت کی کروٹ، ہواؤں کے تیور اور فضاؤں کی ادائیں بدلنے کا سندیسہ لے کر آتے ہیں۔ میلے میں ملنے والے لوگ جز وقتی طور پر ایک دوسرے سے عبوری اور رسمی سی ملاقاتیں کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد یہ جا وہ جا ! ٹک دیکھ لیا دل شاد کیاخوش کام ہوئے اور چل دیئے

ایوان صدارت میں اقتدار و اختیارکے تختِ طاؤس پر وردی پوش جنرل بھی بابر بہ عیش کوش کا نعرۂ رندانہ بلند کرتے رہے اور شیروانی پوش صدور بھی۔ یہاں سے نواب آف کالا باغ کے صاحبزادگان کی دعوت پر شکارگاہ میں مرغابیوں کا شکار کرکے اپنے ذوقِ خوش خوراکی کو تسکین دینے والے سویلین صدر بھی براجمان رہے اور 1971ء میں لاڑکانے کی شکار گاہ میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی دعوت پر تتلیوں، فاختاؤں، ہرنیوں اور میناؤں کے شکار کا دلدادہ باوردی رنگیلاصدر بھی رونق افروز رہا۔
اولین مرحوم، معزول اور معذور امریکی تھپکی یافتہ خاکی گھوڑوں کی سوانح عمریاں پڑھ لیجئے، ان کا ایک ایک ورق بزبانِ حال بتائے گا کہ سامراجی شہسواروں کو جونہی خودفروشی کی منڈی سے ’’تازہ دم متبادل گھوڑے‘‘ دستیاب ہوتے ہیں، سب سے پہلے سب سے بڑاخنجر وہ خستہ و شکستہ، تھکے ہارے اورپرانے گھوڑوں کی پشت میں گھونپ کرانہیں قیدِ حیات و بندِغم ہر دو سے آزاد کر دیتے ہیں۔

عام آدمی اور اس کے مسائل کے حل کیلئے نہ تو وردی پوش جنرلوں نے کچھ کیا اور نہ ہی واسکٹ پوش اور شیروانی پوش صدور اور وزرائے عظام نے کوئی ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں کہ اُن میں سے کسی ایک کا ذکر مؤرخ نے زریں الفاظ میں کیا ہو۔ اس تناظر میں عام پاکستانی یہ رائے قائم کرنے میں حق بجانب ہے کہ اسے صرف اور صرف پینے کیلئے صاف پانی، کھانے کیلئے سستی مناسب خوراک، تن ڈھانپنے کیلئے ارزاں اور موزوں پوشاک، سر چھپانے کیلئے مضبوط چھت، رہنے کیلئے گھر، علاج کیلئے ہسپتال، تعلیم کیلئے سکول اور روزگار کیلئے دفتر، کارخانہ اور یا کوئی کاروباری مرکزچاہئے۔ جو صدر اور وزیراعظم انہیں ان بنیادی ضروریات کی فراہمی کی عملی یقین دہانی ٹھوس منصوبوں اور مرئی مظاہر کی شکل میں دلائے گا، وہ اس کے گن گائیں گے۔ سچ ہے انسان کام سے پیار کرتے ہیں چام سے نہیں۔

سیاسی جدو جہد کو میرٹ بنانے کی بجائے قیادت سے خوشامدانہ اور نیاز مندانہ رابطوں ہی کو منصب نوازی کا معیار بنا لیا جائے تو بھلے سے حکومت لاکھ جمہوری ہو اور کھرب پتی حکمران کروڑوں بار جمہوریت، جمہوریت کا ورد کرتے ہوں تو ایسی جمہوریت عوام کے کس کام کی۔ بھلا جمہوریت توے سے اُتری اور تنور سے نکلی ہوئی کوئی گرما گرم روٹی ہے، جو بھوکے عوام کا پیٹ بھر سکے۔۔۔ جمہوری دور میں تو عوام کے پاس چٹنی بنانے کے پیسے بھی نہیں ہیں کہ وہ اس سے باسی روٹی لگا کر کھا سکیں۔
حکمران طبقات اپنا حقہ پانی بند ہونے کے ڈر سے ناجائز اور غلط ترین دباؤ بھی ہنستے مسکراتے سہہ لیتے ہیں۔ بھائی عوام کا حقہ پانی تو کب کا بند ہو چکا۔

پرویز مشرف کے دور سے اس ملک کے محروم اور غریب ترین طبقات کے شہریوں نے بے کاری، بیروزگاری، افلاس، غربت، تنگ دستی اور فاقوں سے تنگ آ کر خود کشیوں اور خود سوزیوں کا جو احتجاج شرو ع کیا تھا، اس احتجاج کا سلسلہ آصف علی زرداری کے زریں دور سے شرفاء کے دور میں بھی جاری ہے۔ ایوب خان کا گوہر،ضیا ء الحق کا اعجاز،اختر عبدالرحمن کا ہمایوں، حمید گل کا عبداللہ، بینظیر کا بلاول، پرویز الٰہی کا مونس، یوسف رضا گیلانی کا عبدالقادر گیلانی، نواز شریف کا حسین نواز، شہباز شریف کا حمزہ اور پرویز مشرف کا بلا ل جہاں بھی ہے۔۔۔ موج مستی کر رہا ہے۔ حکمران طبقات کے بلند اقبال صاحبزدگان کیلئے تو دنیا کے ہر خطے میں سونے چاندی کی اجلی اور براق گنگائیں بہہ رہی ہیں۔۔۔ لیکن۔۔۔ نتھو لوہار، فتو کمہار اچھے ترکھان اور سوہنے جولاہے کے بیٹے بیروزگاری اور بھوک سے تنگ آ کر خود کشی کرنے والے اپنے بابوں کی میتوں کو غسل دینے کیلئے صاف پانی کی تلاش میں تھر، روہی، چولستان اور چاغی کے بے آب علاقوں میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ انہیں تو اپنے بابوں کے مردہ جسموں کو غسل دینے کے لئے صاف پانی بھی نہیں مل رہا ۔

عام پاکستانی صرف اور صرف پاکستان کے حال کو تابناک اور مستقبل کو اقتصادی و معاشی حوالوں سے محفوظ تر، مضبوط تر اور روشن تر دیکھنا چاہتا ہے۔ اُسے اس سے بھی کوئی سروکار نہیں کہ یہ کارنامہ کون انجام دیتا ہے۔ وہ تو پاکستان کے ہر دریا کو مترنم، ہرکیاری کو متبسم ،فاؤنڈری کی بھٹی کو شعلہ بداماں، ہر مِل کی چمنی کو دود افشاں، ہر کارخانے کے پہیے کو متحرک، ہر فیکٹری کی مشین کوچالو، ہر لہر کو رقصاں، ہر نہر کو رواں دواں، ہر فصل کو جواں، ہر چولہے کو روشن و رخشاں، ہر کھیت کو سرسبز و شاداب، ہر کھلیان کوشاد آباد، ہر چہرے کو ضوفشاں، ہر پیشانی کو تاباں، ہر گھر کو بقعہ نور اور ہردل کو سرچشمۂ سرور دیکھنا چاہتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ ' نئی بات '

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند