تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اس کے سوا چارہ ہی نہیں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 16 جمادی الثانی 1435هـ - 17 اپریل 2014م KSA 10:46 - GMT 07:46
اس کے سوا چارہ ہی نہیں

حالات کا اندازہ اس سے لگائیں کہ وزیراعظم نواز شریف کا کول اکیڈیمی کی پاسنگ آڈٹ پریڈ میں جا رہے ہیں‘ یہ بھی ایک خبر بن گئی ہے۔ طرح طرح کے سوال پوچھے جا رہے ہیں‘ ان میں بڑا نازک اور ”شریر“ قسم کا سوال یہ ہے کہ آیا وزیر دفا ع خواجہ آصف بھی اس تقریب میں موجود ہوں گے۔ گویا ان کے بیانات کی وجہ سے فوج ان سے ناراض ہے‘ بلکہ ایک اطلاع کے مطابق کور کمانڈروں نے اپنے چیف سے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم سے ان کے وزیر دفاع کی شکایت کریں۔ اس میں یہ سوالات بھی آرہے ہیں کہ اس سے سول ملٹری تعلقات بہتر کرنے میں کوئی مدد ملے گی یا نہیں۔ وزیراعظم کیا تقریر کریں گے؟ ان کی تقریر میں آیا موجودہ تناﺅ کی طرف کوئی اشارہ ہوگا۔

یہ ساری باتیں اس پس منظر میں کی جا رہی ہیں کہ جنرل مشرف کے مسئلے پر فوج اور سیاسی حکومت میں اختلافات ہیں۔ فوج چاہتی ہے‘ ان کے سابق چیف کا بال بھی بیکا نہ ہو اور انہیں پورے احترام کے ساتھ ملک سے رخصت ہو لینے دیا جائے۔ یہ تک کہا جا رہا ہے کہ فوج نے تو انہیں اپنے زیر سایہ ہسپتال سے عدالت میں جانے کی اجازت اس شرط پرددی تھی کہ فرد جرم عائد ہونے کے بعد انہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔ اس کے لئے ایک طیارہ بھی اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر کھڑا تھا۔ اس بات میں کتنی صداقت ہے؟ مگر یہ بات تو سامنے کی ہے کہ جب مشرف کا جانا مشکوک ہوگیا تو آرمی چیف کے طرف سے ایک بظاہر بے ضرر سا بیان یہ آیا کہ فوج اپنے ادارے کے وقار کا تحفظ کرنا جانتی ہے۔

کاش ایسا ہوتا۔ ہماری مسلح افواج میں احتساب کا کوئی نظام ایسا ہوتا کہ جب اس کا کوئی سربراہ آئین توڑتا‘ تو وہ نظام خود بخود حرکت میں آکر اپنے ادارے کا احترام کروا سکتا۔ افسوس‘ ایسا نہیں ہوپایا۔ بہرحال اس بیان کا فوری مطلب یہ لیا گیا کہ فوج جنرل مشرف کی ”تذلیل“ پر ناراض ہے اور وہ سول انتظامیہ کو پیام دینا چاہتی ہے کہ اپنی حد میں رہے۔

ساتھ ہی دو وزراء کے وضاحتی بیان آنے لگے کہ انہوں نے فوج کی کوئی توہین نہیں کی۔ انہوں نے اپنے بیانات کو دہرایا اور صاف کہا کہ اس میں توہین کا کوئی پہلو نہیں اور وہ اس پر قائم ہیں۔ تاہم جب وزیر داخلہ چوہدری نثارنے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان بیانات کی وجہ سے سول فوجی تعلقات میں ایک تناﺅ کی سی کیفیت ہے‘ تو یہ راز کھلا کہ اب تک جو باتیں ہو رہی تھیں‘ وہ ہوا میں نہ تھیں‘ ان کا ٹھوس وجود تھا‘ فوج سچ مچ ناراض ہے۔

یہاں سے دو بحثیں شروع ہوتی ہیں‘ آیا فوج کو اس بات پر ناراض ہونے کا حق حاصل ہے‘ اس اختلاف سے ان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے یا اس کے نتیجے میں عزت و تکریم میں کمی آئی ہے۔ خدا لگتی کہیے تو دھونس اور دھاندلی کی اور بات ہے‘ وگرنہ یہ کوئی قابل فخر موقف نہیں ہے۔

دوسری بات یہ تھی کہ اس کے جواب میں کیا صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔ کیا فوج سارے نظام کو تلپٹ کرکے جمہوریت کی بساط لپیٹ دے گی۔ کافی عرصے سے تجزیہ کار یہ کہہ رہے تھے‘ ایسا نہیں ہوگا۔ ان دنوں مگر پھر سے وہی بات شروع ہوگئی کہ بساط لپیٹی جا سکتی ہے۔ کسی وقت بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ایسی باتیں ماضی میںبھی اڑتی رہی ہیں۔ خاص طور پر صدر زرداری کی رخصتی کی خبریں تو ہر شام آتی تھیں‘ آج گئے کہ کل گئے۔ دن اور تاریخ بھی بتا دی جاتی تھی۔ یہ سب اتنے وثوق سے اور اتنے معتبر ذرائع سے بتایا جاتا تھا کہ آدھی دنیا یقین کرنے لگی تھی کہ ایسا ہوا کہ ہوا۔ آخر ایک دن اطلاع دے دی گئی کہ اب فیصلہ کر لیا گیا کہ زرداری صاحب کو اپنے عرصہ صدارت پورا کرنے دیا جائے گا۔

ویسے اس سے پہلے‘ ایسے بھی ہوتا آیا ہے کہ اسلام آباد میں افواہیں اڑیں‘ لوگوں نے یقین نہ کیا اور وہ پوری ہوگئیں۔ مثال کے طور پر بے نظیر کی رخصتی اور خود نواز شریف کے 98 میں ہٹائے جانے کی خبریں۔ یہ سب کوئی علم نجوم والے نہ کرتے تھے‘ بلکہ سیاسی معاملات سے باخبر حلقے یہ اطلاعیں فراہم کرتے تھے۔ عرض کیا‘ ان پر یقین نہ کیا جاتا اور وہ پوری ہو جاتیں۔
تو کیا اب حالات بدل چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے‘ حالات یقینا مختلف ہیں۔ مگر پھر بھی خطرہ ہر وقت رہتا ہے۔ یہ جو تصادم اب نظر آتا ہے‘ گزشتہ حکومت میں تو یہ اپنی انتہاﺅں پر تھا۔ بیان بازی کی نوبت کئی بار آئی۔ سچی بات ہے جواب میں پہلی بار سویلین حکومت نے بھی جراعت دکھائی۔ اگر جنرل کیانی کے بیانات اور وزیراعظم گیلانی کے جواب ہائے آں غزل کو ایک لمحے کے لئے یاد کیا جائے تو لگتا ہے پہلی بار کسی سویلین حکومت نے اتنا آگے بڑھ کر جوابی حملہ کیا تھا۔ خاص طور پر میمو گیٹ میں تو یہ سمجھا جا رہا تھا کہ کچھ نہ کچھ ہو کر رہے گا۔ کچھ بھی نہ ہوا۔ فوج کو مدافعانہ روش اختیار کرنا پڑی۔ اس کی ایک وجہ فوج اور امریکہ کے درمیان پہلی بار ذرا تناﺅ کی کیفیت تھی۔

اس وقت تناﺅ کی وہ کیفیت ان دو طاقتوں کے درمیان تو نہیں ہے‘ امریکہ اور فوج میں کم از کم ایک طرح کی ہم آہنگی ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ اس وقت کسی صورت پاکستان کی جمہوری حکومت کو غیر مستحکم کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ دوسری طرف میاں نواز شریف بھی امریکہ سے جھگڑنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ خاص طور پر علاقے کی بدلتی صورت حال میں امریکہ کے لئے اس سے اچھی بات کیا ہوگی کہ نیٹو کی افواج کے انخلاء کے وقت پاکستان میں ایک دوست حکومت ہو۔

تو کیا یہ ایک طرح کی اعصاب کی جنگ ہے؟ یہ بات بھی کیا ہمارے اداروں کو زیب دیتی ہے جب امریکہ کی رخصتی کے وقت ہم طالبان سے بات چیت کر رہے ہیں‘ ہماری فوج اور اہل سیاست روٹھے ہوئے ہوں۔ فوج کے ردعمل کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی تھی کہ فوج طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے تحفظات رکھتی ہے۔ چوہدری نثار نے اپنے جواب میں ان باتوں کی بھی وضاحت کر دی کہ سب کچھ فوج سے مشاورت کے بعد ہو رہا ہے۔ ہم فوج سے پوچھے بغیر قیدی چھوڑ ہی نہیں سکتے۔ ہم نے جو لوگ چھوڑے ہیں وہ غیر عسکری لوگ ہیں‘ مذاکرات کے قدم قدم پر فوج سے رائے لی جا رہی ہے۔

دیکھا جائے تو یہ بھی ایک نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے۔ اس میں اب یہ کام ہوگیا ہے کہ کاکول کی تقریب سے دو دن پہلے آصف زرداری خاص طور پر اسلام آباد آئے‘ سیدھے وزیراعظم ہاﺅس گئے‘ وہاں وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کی۔ پیغام واضح ہے کہ میثاق جمہوریت کی روح کے مطابق کسی مہم جوئی کا ساتھ نہیں دیں گے۔ یقینی طو رپر ملک کے حالات بھی ایسے ہیں کہ یہاں کی کوئی سیاست پارٹی مارشل لاء کی حمایت کاخطرہ مول لینے کے لئے تیار نہیں۔ یوں کہہ لیجئے‘ اس نازک موڑ پر سیاستدانوں کی طرف سے یہ کہہ دیا گیا کہ تم بھی متحد ہو کر پیام دیتے ہو‘ سن لو‘ ہم بھی متحد ہیں۔ یہ صورت حال زرداری دور میں بھی تھی۔

اس کے اثرات کیا ہوتے ہیں؟ کون پہلے پلک جھپکتا ہے؟ یہ تو بعد کی بات ہے۔ پہلی بات غور طلب یہ ہے کہ اگر فوج متحد ہے تو فی الحال سیاستدان بھی متحد نظر آتے ہیں۔ پھر بھی یہ اچھا نہیں ہو رہا۔ خیال کیا جاتا تھا‘ اس کی ضرورت نہیں پڑے گی‘ میاں نواز شریف کے بعض قریب ترین ساتھی بھی چاہتے ہیں کہ تصادم سے گریز کیا جائے اور فوج چاہتی ہے تو مشرف کو جانے دیا جائے‘ جبکہ میاں صاحب اس معاملے میں چاہتے ہیں قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد زرداری صاحب نے اپنے قریبی ساتھیوں کو جو اشارے دیئے ہیں‘ وہ یہی کہتے ہیں کہ بِلّے کو جانے نہیں دیا جائے گا اور یہ کہ طالبان سے مذاکرات آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں کے مطابق ہیں‘ اس لئے ان پر عمل کیا جائے۔

عین اس لمحے طالبان نے جنگ بندی میں توسیع سے انکار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ مجھے لگتا ہے‘ یہ سویلین حکومت سے زیادہ فوج پر دباﺅ ہوگا۔ جانے ملک میں کیا جنگ لڑی جا رہی ہے۔ حریف کون کون ہیں؟ کون کس کے ساتھ ہے؟ اور یہ کہ ملک کی بہتری کس میں ہے؟ یہ کوئی خوشگوار فضا نہیں ہے‘ قرائن بتاتے ہیں کہ یہ مرحلہ بھی گزر جائے گا۔ سب طاقتوں کو عقل سے کام لینا چاہئے۔ خواہ مخواہ رسہ کشی سے ملک کا نقصان ہوتا ہے۔ سبھی کو اپنی ذہنیت بدلنا ہوگی‘ مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہوگا۔ اس کے سوا چارہ ہی نہیں!

بشکریہ روزنامہ ' نئی بات '

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند