موجودہ دور حکومت میں چین کی پاکستان میں غیر معمولی سرمایہ کاری دیکھنے میں آ رہی ہے جو دراصل چین کی نئی عالمی حکمت عملی ہے۔ چین جس کی موجودہ جی ڈی پی 4 ٹریلین ڈالر ہے، کے پاس اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ زرمبادلہ کے ذخائر ہیں لیکن تیزی سے بڑھتی ہوئی اجرتوں کی وجہ سے چین کی پیداواری لاگت میں نہایت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث چین کو خدشہ ہے کہ اس طرح وہ آنے والے وقت میں عالمی مارکیٹ میں اپنی مقابلے کی سکت کھودے گا جس سے نمٹنے کیلئے چین کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں یا تو وہ جاپان اور کوریا کی طرح ٹیکسٹائل سیکٹر سے نکل جائے اور ہائی ٹیک سیکٹر پر اپنی توجہ مرکوز کرے یا عالمی منڈی میں اپنے 360 بلین ڈالر کے ٹیکسٹائل شیئر کو قائم رکھنے کیلئے اپنے کاروبار کو ایسے ممالک میں منتقل کرے جہاں اجرتیں اور پیداواری لاگت کم ہیں۔ چین نے دوسرا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت وہ پہلے مرحلے میں اپنی ٹیکسٹائل کی بنیادی صنعتوں کو جوائنٹ وینچرز کے ذریعے خطے کے مختلف ممالک میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

چین میں فی کس سالانہ آمدنی 6600 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ پاکستان میں یہ صرف 1300 ڈالر ہے۔ پاکستان میں اس وقت ورکر کی فی گھنٹہ اجرت 51 سینٹ، بنگلہ دیش میں 20 سینٹ، سری لنکا میں 22 سینٹ اور ویتنام میں 30 سینٹ ہے۔ پاکستان میں بجلی 17 سینٹ،بھارت میں 13 سینٹ، بنگلہ دیش میں 9 سینٹ، سری لنکا اور ویتنام میں صرف 7 سینٹ ہے۔ پاکستان میں ڈسکائونٹ ریٹ 10%، بنگلہ دیش میں 7.75%، سری لنکا میں 8%، بھارت میں 9%ہے۔ حالانکہ پاکستان میں مندرجہ بالا پیداواری لاگت خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ ہے لیکن مقامی سطح پر ٹیکسٹائل کے خام مال کی دستیابی، ہنر مند لیبر اور ٹیکسٹائل کی جدید مشینری و ٹیکنالوجی کے باعث چین کی پہلی ترجیح پاکستان ہے۔ رواں سال چین نے بین الاقوامی مارکیٹ سے کاٹن کی بھرپور خریداری نہیں کی جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں روئی کی قیمتیں بری طرح گرگئیں

۔ چین نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ملک میں موجود کاٹن کے اسٹاک کو استعمال میں لائے گا، اس کے ساتھ ساتھ چین نے اپنے کسانوں کو زرعی مراعات دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ ٹیکسٹائل سیکٹر کو مقامی طور پر سستی کپاس دستیاب ہوسکے۔ گزشتہ سال چین نے اپنی کاٹن یارن کی ضروریات پوری کرنے کے لئے پاکستان سے غیر معمولی مقدار میں کاٹن یارن خریدا تھا اور چین کی طلب پورا کرنے کے لئے پاکستان کے تمام ملز سائرو یارن بنارہے تھے لیکن رواں سال چین، پاکستان کے مقابلے میں بھارت سے زیادہ یارن خرید رہا ہے جس کے باعث پاکستان کے ہر مل کے پاس یارن کے بڑے اسٹاک جمع ہوگئے ہیں جبکہ ڈالر کی قیمت گرنے کے باعث یارن کی بین الاقوامی منڈی میں ہماری قیمتیں زیادہ ہونے کی وجہ سے ایکسپورٹ آرڈر بھی نہیں مل رہے جس کے باعث پاکستان کا اسپننگ سیکٹر نہایت دبائو کا شکار ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بھی فیصل آباد کی یارن مارکیٹ میں طلب نہ ہونے کے برابر ہے جس کے باعث کئی اسپننگ ملیں بند ہوچکی ہیں۔

گزشتہ دنوں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر ذکریا عثمان، نومنتخب عہدیداران اور بزنس لیڈر طارق سعید کے اعزاز میں میرے گھر پر منعقدہ عشایئے، جس میں ملک کے ممتاز بزنس مینوں نے بھی شرکت کی تھی،کے دوران بھی یہی موضوع زیر بحث رہا۔ اس موقع پر میں نے عارف حبیب کی اس بات سے اتفاق کیا کہ 2 بلین ڈالر کے یورو بانڈز کے اجراء اور دیگر متوقع فنڈز کی پاکستان آمد کے پیش نظر روپے کی قدر مزید مستحکم ہوسکتی ہے جس سے ملکی ایکسپورٹ غیر مقابلاتی ہوجائے گی تاہم ایکسپورٹرز کی مشکلات کے پیش نظر وزیر خزانہ نے ڈالر کی سطح 98 روپے پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔عشایئے میں شریک TDAP کے نئے CEO ایس ایم منیر کو میں نے بتایا کہ ملکی ایکسپورٹس میں اضافے کے لئے ضروری ہے کہ ان میں حائل رکاوٹوں کو جلد از جلد دور کیا جائے۔ حال ہی میں معروف عالمی برانڈ ’’ڈزنی‘‘ لیبر قوانین پر موثر طریقے سے عملدرآمد نہ کرنے پر پاکستانی مصنوعات کی خریداری پر یکم اپریل سے پابندی عائد کر چکا ہے جس سے ملکی ایکسپورٹ کو نہ صرف 200 ملین ڈالر سالانہ کا نقصان ہوگا بلکہ تقریباً 25 ہزار ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے۔

آیئے اب دوبارہ آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں۔ چین اقتصادی اور تجارتی اعتبار سے پاکستان کے لئے غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا ہے اور موجودہ حکومت کا چین کی طرف جھکائو بھی اس بات کا مظہر ہے۔ گزشتہ سال مئی میں چینی وزیراعظم لی چیانگ نے اسلام آباد میں حکومت کے ساتھ متعدد ترقیاتی، اقتصادی و تجارتی دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کئے جبکہ جون میں وزیراعظم میاں نواز شریف نے چین کی سرکاری صنعتی کارپوریشن Norinco سے پاکستان میں ایک شمسی پاور پلانٹ کی تنصیب، کان کنی کے شعبے کے فروغ اور آئرن کے ذخائر کی تسخیر جیسے اہم شعبوں میں تعاون کی درخواست کی تھی۔ حالیہ دورہ چین کے موقع پر وزیراعظم پاکستان نے شنگھائی میں منعقدہ پاک چین توانائی فورم میں چین کی50سے زائد توانائی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں سے ملاقات کی۔

چینی سرمایہ کاروں نے کاشغر سے گوادر تک 2000 کلومیٹر موٹر وے جسے اکنامک کوریڈور کا نام دیا گیا ہے، تعمیر کرنے کا عندیہ دیا ہے جو پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ چینی سرمایہ کاروں کا موقف ہے کہ وہ پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں لیکن پاکستان کی بیوروکریسی اور سیکورٹی خدشات ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ پاکستان میں اس وقت چین کی ایک کمپنی 969 میگاواٹ کے نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ پر کام کررہی ہے جو 2015ء تک پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔ اس کے علاوہ چینی کمپنی تھری گارجز کیرٹ، کوہالہ اور تونسہ میں بجلی کے3 منصوبوں پر کام کررہی ہے جس سے 2000 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی جبکہ دیامیر بھاشا اور بونجھی پن بجلی کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ چین نے اپنے قدرتی وسائل خصوصاً دریائوں کے پانی کو آبپاشی اور توانائی کے حصول کے لئے انتہائی مہارت سے استعمال کیا ہے۔ چین کے سب سے بڑے دریا یانگ سی پر Dam Gorges Three بنا کر دریا کا رخ موڑ دیا گیا ہے جس سے مون سون میں پانی ذخیرہ کر کے نہ صرف لاکھوں ایکڑ رقبے پر فصلوں کو سیلاب سے بچالیا جاتا ہے بلکہ ڈیم کی وجہ سے چین دنیا میں سب سے بڑا نہری نظام رکھنے والا ملک بن گیا ہے۔

پاکستان بھی چین کی اس تیکنیکی مہارت سے فائدہ اٹھاکر سیلاب کی تباہ کاریوں سے چھٹکارا حاصل کرسکتا ہے۔وزیراعظم میاں نواز شریف اپنے دور حکومت میں Early harvest projects کا اعلان کیا ہے جنہیں 2017ء تک پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ ان منصوبوں میں پورٹ قاسم کراچی میں کوئلے سے 1320 میگاواٹ، گڈانی میں کوئلے سے 660 میگاواٹ، کوہالہ میں پانی سے 1100 میگاواٹ، تھر بلاک 2 میں 873 میگاواٹ کا سوکی کناری ہائیڈرو پروجیکٹ سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کے علاوہ بہاولپور میں سولر پاور پارک اور گوادر ایکسپریس وے جیسے منصوبے شامل ہیں۔ چین نے ان منصوبوں کے لئے پاکستان میں 35 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے لیکن چین کی شرط ہے کہ چونکہ یہ منصوبے دونوں حکومتوں کے مابین کئے جارہے ہیں لہٰذا انہیں پیپرا قوانین سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ وفاقی وزیر ٹیکسٹائل سینیٹر عباس خان آفریدی نے گزشتہ ہفتے کراچی کا دورہ کیا جو سارے دن میرے ساتھ رہے۔

اپنے دورے کے دوران انہوں نے پاکستان ہوزری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مرکزی دفتر میں ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل کے نمائندوں سے ملاقات کے علاوہ پورٹ قاسم میں ٹیکسٹائل سٹی کا دورہ بھی کیا۔ اس موقع پر ہم نے اس بات سے اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں پاکستانی صنعت کو چینی سرمایہ کاری کے رجحان سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ میں نے بتایا کہ چین کے ایک بہت بڑے گروپ ’’روئی‘‘ نے فیصل آباد میں 6 لاکھ اسپنڈلز کے اسپننگ ملز جبکہ لاہور میں PIEDMC اور سندر انڈسٹریل زونز میں سرمایہ کاری کے معاہدے کئے ہیں۔ اس سے قبل مذکورہ گروپ پاکستان کی مسعود اسپننگ میں جوائنٹ وینچر سرمایہ کاری بھی کرچکا ہے۔ پاک چین دوستی ہمیشہ ہی سمندر سے گہری، پہاڑوں سے بلند اور شہد سے میٹھی رہی ہے جس کا ذکر پاکستان اور چین کے سربراہان مملکت اپنی تقاریر میں کرتے رہے ہیں کیونکہ دونوں ممالک کی دوستی ہر دور میں ہر آزمائش پر پوری اتری ہے تاہم معاشی طور پر پاک چین دوستی کا عملی مظاہرہ پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے جو اس سے قبل ماضی میں نہیں دیکھا گیا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ چینی سرمایہ کاروں کے سیکورٹی اور بیورو کریسی سے متعلق خدشات دور کرے تاکہ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ مل سکے کیونکہ آنے والی صدی ایشیاء کی ہے جس میں مرکزی کردار چین کا ہوگا لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ آئندہ صدی کی سب سے بڑی معاشی طاقت کی دوستی کے ثمرات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی تیکنیکی صلاحیتوں کو اپنایا جائے کیونکہ اسی طرح ہم ملک میں صنعتی انقلاب لا سکتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے