تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
میڈیا پر لگا ہوا تماشا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 23 جمادی الثانی 1435هـ - 24 اپریل 2014م KSA 09:06 - GMT 06:06
میڈیا پر لگا ہوا تماشا

حامد میر پر حملہ یقینا قابلِ مذمت ہے۔ ریاست کی سلامتی کیلئے صحافیوں کی حتیٰ کہ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس سے پہلے ایکسپریس گروپ کے رضا رومی پر بھی حملہ ہوچکا ہے۔ لگتا ہے کہ ایک نئی قسم کی دہشت گردی ہے جو ملک کے مشہور صحافیوں کو نشانہ بناتی ہے۔ ان دونوں حملوں میں ایک قدر مشترک ہے کہ انکا نشانہ بننے والے وہ میڈیا پرسنز ہیں جو اپنی گفتگو میں بہت سے معاملات میں یا تو قددرے محتاط تھے یا انکے نظریات کے بارے میں ابہام رہتا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حامد میر کی سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے ساتھ کسی حد تک محاذ آرائی والی کیفیت تھی لیکن یہ ایک فرد اور انکے کچھ حامیوں پر کی جانے والی تنقید تھی نہ کہ بطور ادارہ فوج پر۔

حامد میر نے جو بلاشبہ ایک تجربہ کار اور ماہر صحافی ہیں، ٹی وی پر سیاسی موضوعات پر مبنی پروگرام پیش کرنے کے فن کو بامِ عروج پر پہنچا دیا۔ وہ پروگرام اس طرح یش کرتے کہ لوگ سوچتے ہی رہ جاتے کہ میر صاحب کے اصل سیاسی نظریات کیا ہیں۔ ایک طرف وہ لبرل سوچ رکھنے والے شہریوں کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے تو دوسری طرف "لبرل فاشزم" اصطلاح کے خالق بھی وہی ہیں اور اس کی ترویج بھی انھوں نے ہی کی۔ انھوں نے ایک طرف بنگلہ دیش اور بلوچستان کا کیس پیش کیا تو دوسری طرف یہ حامد میر ہی تھے جنھوں نے بھارتی وزیرِ اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کے بارے میں نواز شریف کی آف دی ریکارڈ گفتگو کو بھی ظاہر کر دیا۔ اس عمل سے پاک بھارت دوطرفہ تعلقات میں قدرے سرد مہری آگئی۔ یقینا ایسا کرتے ہوئے حامد میر نے بہت بڑا خطرہ مول لیا تھا۔ آف دی ریکارڈ گفتگو میں استعمال کیے گئے الفاظ "دیہاتی عورت" کو منظرِ عام پر لے آنا یقینا پیشہ ورصحافتی اقدار کی نفی تھی۔ جو تجزیہ نگار کچھ مخصوص حلقوں کو پسند نہیں ہوتے، انہیں "بلیک آوٹ" کر دیا جاتا ہے۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس اندوہناک واقعے کی وجہ سے صحافی برادری یک جہتی اور اتفاق کا مظاہرہ کرنے کی بجائے تقسیم کا شکار دکھائی دی۔ اب مختلف دھڑوں کے درمیان شروع ہوجانے والی محاذ آرائی کی وجہ سے ہم اصل مسئلے، صحافیوں کو درپیش خطرے کے تدارک، سے دور ہٹتے جارہے ہیں۔ میڈیا ہونے والی یہ بحث فوجی محاذ آرائی کا نقشہ پیش کرتی ہے۔ اس میں کچھ دھڑے وہ ہیں جو اس بات پر سخت طیش میں دکھائی دیتے ہیں کہ حامد میر پر حملے کے فورا بعد ایک میڈیا ہاوس کی طرف سے ملک کی اہم ترین خفیہ ایجنسی پر الزام کیوں عائد کر دیا گیا جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو اس عمل کی تائید کر رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان دونوں کی ناروا کھینچا تانی میں اہم تفصیل فراموش کردی گئی یا پھر اسے جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں تیسرے فریق کے طور پر وہ افسر سامنے آرہے ہیں جو اس بحث میں براہِ راست تو شامل نہیں لیکن انکا خیال ہے کہ اب وقت آگیا ہے جب خفیہ ایجنسی کے قصوروار گردانتے ہوئے دفاعی اداروں اور سول حکومت کے درمیان طاقت کے توازن کے الجھے ہوئے مسئلے کو حل کر لیا جائے، لیکن درحقیقت یہ عدم توازن اس وقت تک موجود رہے گا جب تک کہ خفیہ اداروں اور میڈیا کے باہم تعلق کے رازوں سے پردہ نہیں اٹھ جاتا۔

بلاشبہ خفیہ ایجنسی کا اثر میڈیا میں بہت دور تک سرایت کرچکا ہے۔ اسکی ایک بڑی وجہ ریاستی امور میں شفافیت اور علومات حاصل کرنے کی آزادی کا فقدان ہے۔ بہت سے صحافی خفیہ ذرائع سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ وہ فوجی ہیلی کاپٹرز میں مختلف مقامات پر لے جائے جاتے ہیں۔ ان کی رسائی ممنوع مقامات تک جہاں کوئی پرندہ بھی پر نہ مار سکے، ہوتی ہے۔ چونکہ میڈیا ہاوسز اپنے صحافیوں پر سرمایہ کاری نہیں کرتے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ صحافیوں کو معلومات درکار ہوتی ہیں، خاص طور پر ان کو جو اس میدان میں اپنا کیریئر بنانا چاہتے ہوں اور وہ جو شہرت کی بلندی پر پہنچ چکے ہوں، انہیں بھی اپنا مقام برقرار رکھنے کیلئے نت نئی معلومات درکار ہوتی ہیں، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک صحافی انتہا پسندوں کی کارروائیوں کی رپورٹنگ کررہا ہوتا ہے حالانکہ اس نے فیلڈ میں کبھی قدم بھی نہیں رکھا ہوتا۔

میڈیا مالکان نظریاتی نہیں، کاروباری افراد ہوتے ہیں۔ ایسے افراد خطرناک رسک لینے کے روادار نہیں ہوتے۔ اگر رسک لیتے دکھائی دیں تو بھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ بلکہ وہ رسک بھی جچے تلے ہوتے ہیں، مجھے ایک مشہور پبلشر سے اپنی گفتگو یاد ہے کہ اس نے کہا تھا کہ وہ بطور پبلشر ایسے خطرات مول لینے کیلئے تیار ہے جو اسکے کاروباری مفاد میں ہوں، لیکن ایسے مہیب رسک نہیں جن سے اسے نقصان پہنچنے کا حتمال ہو۔ اس لیے ایک کتاب یا ایک مضمون شائع تو ہوسکتا ہے بشرطیکہ کہ پبلشر کا ان سے کوئی نظریاتی تعلق ثابت نہ ہو سکے۔

ڈی جی آئی ایس آئی اور انکی ایجنسی کو براہ راست ملزم ٹھہرا دینے سے یقینا بے خوف صحافت کی عکاسی ہوتا ہے لیکن ٹھہریں، کیا یہ معاملہ جتنا دکھائی دیتا ہے، اتنا ہی سادہ ہے؟ ہوسکتا ہے کہ یہ الزام تراشی دراصل اداروں کے اندر کسی تناو کا "فاصلاتی" اضہار ہو۔ اس کی وجہ سے میڈیا کے مختلف حلقوں کے درمیان رقابت کی موجودہ فضا میں شدت آگئی ہے کیونکہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی توجہ چاہتے ہیں۔ بہت سے لوگ جو آج الزامات لگاتے ہوئے اس کے چیف ہو ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، زیادہ عرصہ نہیں گزرا 2010ء میں پی پی پی حکومت کی جان کو آگئے تھے کہ وہ قومی سلامتی کے اس اہم ترین قومی ادارے کو تباہ کرنا چاہتی تھی۔ خود حامد میر نے ایسے ہی دو پروگرام کیے تھے۔

یقینا یہ لوگ اتنے سادہ لوح نہیں ہیں کہ اندھے گڑھے میں کودنے کیلئے کمر بستہ ہو جائیں جبکہ آپ کو اس گڑھے کی گہرائی کا اندازہ بھی ہو۔ خطرات کا ادارک کرتے ہوئے بھی کچھ لوگ انہیں نظر انداز کر کے اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

اگرچہ ہونے والی گفتگو اور سامنے آنے والے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ طاقتور سیاسی معروضات تبدیل ہورہے ہیں لیکن میں پھر وہی سوال دہراتی ہوں، کہ کیا جو کچھ دکھائی دیتا ہے، حقیقت میں ایسا ہی ہے؟ اگر اس حملے کے نتیجے میں کی جانے والی الزام تراشی کی وجہ سے "تعلقات" بحران کا شکار ہو بھی گئے تھَ تو انہیں فوری طور پر سنبھالا دے لیا گیا۔ ہم نے دیکھا کہ اس میڈیا ہائوس کے اہم افراد نے الزام کو انفرادی رائے قرار دیتے ہوئے اپنے ادارے کو اس سے بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کی۔ ہوسکتا ہے کہ الزام لگانے والے بھی انہی ایجنسیوں کے ممنون رہتے ہوں کہ وہ انہیں اہم معلومات فراہم کرتی ہیں٫ چونکہ ایجنسیوں اور میڈیا کے درمیان تعلقات کی جڑیں گہری ہیں، اس لیے جس میڈیا ہائوس کی طرف سے الزام لگایا گیا ہوسکتا ہے کہ اس نے کاروباری انداز میں جچا تلا رسک لیا ہو۔

ان واقعات کو دیکھنے سے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے ہم انہیں پہلے بھی کہیں دیکھ چکے ہیں۔ یاد آتا ہے کہ وکلا کی عظیم تحریک چلی اور سابق چیف جسٹس فوجی حکمران کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ آخر میں ایک آدمی کو گھر جانا پڑا لیکن اس سے اس کے ادارے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ کیا عجب کہ ایک مرتبہ پھر ایسی ہی صورت حال پیدا ہوجائے۔ حملے کے بعد مختلف حلقوں کی طرف سے آنے والے بیانات سے یہ تاثر تقویت پاتا محسوس ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تمام ڈرامہ ایک ایسا "میلہ" نکلے جس کا مقصد کسیی "سادہ لوح دیہاتی" کی جوتی چرانا تھا؟ مثال کے طور پر کچھ اہم افراد نے احتجاجاً اپنے میڈیا ہاوسز کو اس لیے چھوڑ دیا کہ انہیں وہاں اس حملے پر احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ کیا بات ہے کیا اعلیٰ ظرفی ہے۔ شخصی آزادیوں کے یہ چیمپئن اسوقت کہاں ہوتے ہیں جب میڈیا اور آزادی اظہار کے سر پر خطرے کی تلوار لٹک رہی ہوتی ہے؟ یہ ہے میڈیا پر لگا ہوا تماشا۔

بشکریہ روزنامہ ' دنیا '

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند