تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اندیشہ ہائے دور دراز
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 24 جمادی الثانی 1435هـ - 25 اپریل 2014م KSA 09:49 - GMT 06:49
اندیشہ ہائے دور دراز

پوٹھوہار میں یہ بہار کا موسم ہے اور اندیشوں کا!

پھر موجِ ہوا پیچاں، اے میر نظر آئی
زنجیر نظر آئی، شاید کہ بہار آئی

جیسا کہ عرض کیا تھا، شیشے میں بال آگیا ہے اور اسکا بھدا پن دکھائی دیتا رہے گا۔ آرزو تو ہر مثبت اندازِ فکر رکھنے والے کی یہی تھی کہ ایسا نہ ہو مگر طاقت خمار پیدا کرتی ہے۔ ان لوگوں میں اور بھی زیادہ، جو کبھی اپنی خامیوں پر غور نہیں کرتے۔ جو مہلت کو نعمت سمجھتے اور "کوس لمن الملک الیوم" بجانے کے خواہش مند رہتے ہیں۔

حقیقی جمہوری نظام میں سبھی کا اقتدار محدود ہوتا ہے۔ وزرائے اعلیٰ، چیف آف آرمی سٹاف، وزیر اعظم سبھی کا۔ پارلیمان ہی کا ایک اہم کردار ہوتا ہے جہاں پالیسیاں تشکیل دی جاتی ہیں۔ فیصے کابینہ میں صادر کیے جاتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں پر وہ استوار ہوتا ہے۔ فوج، پولیس اور ٹیکس وصول کرنے والے آئین اور قوانین کی حدود میں آزادی سے بروئے کار آتے ہیں۔ انتظامیہ یعنی وفاقی اور صوبائی حکومتیں ریاست کا مرکزی ستون ہوتی ہیں، عدلیہ و فوج بھی۔ میڈیا کو چوتھا ستون کہا جاتا ہے، حالانکہ آئین میں اس کے کردار کا ذکر تحریری طور پر نہیں ہوتا۔

اس پر تعجب نہ ہونا چاہیے کہ پاکستان ایسے نوتشکیل ملک میں، حکومت کی حیثیت غالب تر رہی ۔ قوموں کی عادات صدیوں میں بنتی ہیں اور آسانی سے تبدیل نہیں ہوا کرتیں۔ قائد اعظم کے بعد، جو دستوری حکمرانی کی بہترین مثال تھے، پاکستان کے حکمران خود کو غیر ملکی آقاوں کا وارث سمجھے اور بعض تو مغل بادشاہوں کا بھی۔ فوجی حکمرانی الگ کہ وہ ایک یکسر دوسرے اندازِ فکر کی حامل ہوتی ہے، منتخب حکومتیں بھی اپنے مزاج میں جمہوری نہ تھیں۔ جاگیر داروں اور صنعتی اشرافیہ کی نمائندہ۔ زرداروں کے مختلف موثر خاندادن، جن میں سے اکثر فوجی آمروں کی گود میں پروان چڑھے۔

پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور نون لیگ عسکری ادوار کا اثاثہ ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو آٹھ سال تک فیلڈ مارشل ایوب خان کے وزیر تھے۔ غیر معمولی ذہانت کے اس آدمی نے جو عالمی تحریکوں کا ادراک رکھتا تھا، ایوب خان کو کبھی ایشیا کا ڈیگال کہا، کبھی صلاح الدین ایوبی۔ اچھے منتظم مگر سیاست کی باریکیوں سے ناآشنا ڈکٹیٹر نے ملک کو صنعتی افزائش کی راہ پہ ڈالا مگر عوامی امنگوں کی اس کے نزدیک کوئی خاص اہمیت نہ تھی۔ مشرقی پاکستان کا سانحہ اصلا اسی لیے پیش آیا؛ اگرچہ آخر میں اس کے جانشین یحییٰ خان اور اسی کی گود میں پلنے والے بھٹو کا حصہ بھی کم نہ تھا۔ دونوں کی ہوسِ اقتدار۔

بھٹو نے آہنی ہاتھ سے حکومت کرنے کی کوشش کی۔ تیسری دنیا کے کسی بھی آمر کی طرح نہ صرف تمام اختیارات اپنی ذات میں مرتکز کر لیے بلکہ ہمیشہ وہ مخالفین کی توہین اور تحقیر پر تلے رہتے۔ 23 مارچ 1973ء کی دوپہر کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی، جب انکے غنڈوں نے لیاقت باغ راولپنڈی کے جلسئہ عام پر گولیاں برسائیں۔ اے این پی کے لیڈر عبدالولی خان نے جو تب نیب کہلاتی تھی، درجن بھر لاشیں اٹھائیں اور گھر لوٹ گئے۔ اگر وہ شائستگی اور احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے تو پختون خوا میں علیحدگی کی تحریک برپا ہوسکتی تھی۔ اس تحمل اور صبر کے باوجود تین برس بعد ایک زبردست عوامی تحریک کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو اقتدار سے محروم ہوئے تو عبدالولی خان اور انکے ساتھی حیدرآباد جیل میں پڑے تھے۔ مشہور شاعر حبیب جالب بھی ان میں شامل تھے۔ ایک شب جو گنگناتے ہوئے پائے گئے۔

محسوس یہ ہوتا ہے ابھی جاگ رہے ہیں
لاہور کے سب یار بھی سو جائیں تو سوئیں

یہ بھٹو تھے جنہوں نے خفیہ ایجنسی کو پہلی بار ایک سیاسی کردار سونپا۔ فوج کی خفیہ ایجنسی کو حکم دیا کہ وہ عبدالولی خان کو سپریم کورٹ میں غدار ثابت کرنے کے شواہد مہیا کرے۔ بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور صنعت و حرفت کو انہوں نے تباہ کردیا۔ یہ ایک چھوٹی سی معیشت تھی جسے انہوں نے کم ازکم 50 بلین ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ ذہانت نے راہِ فرار اختیار کی اور قوم کو تقسیم کر کے 1979ء میں وہ جنرل محمد ضیاء الحق کے ہاتھوں پھانسی پاگئے۔

اب ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر میاں محمد نواز شریف اسی جنرل کی یادگار ہیں۔ 1985ء میں جب انکی مخالفین نے پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا فیصلہ کیا تو جنرل محمد ضیاء الحق بے تاب ہو کر لاہور پہنچے اور اعلان کیا کہ انکا "کلہ" مضبوط ہے۔ یہ بھی کہا کہ کاش انکی باقی زندگی نواز شریف کو لگ جائے۔ تین برس بعد اللہ نے انکی دعا قبول کرلی۔ جنرل مرزا اسلم بیگ اور جنرل حمید گل کی سرپرستی میں اب وہ جنرل ضیاء الحق کے سیاسی وارث تھے جنکے جنازے میں لاکھوں افراد شریک ہوئے۔ بھانت بھانت کے ان سب لوگوں کو جوڑنے والی چیز پیپلز پارٹی کی نفرت تھی جس سے وہ خوف زدہ تھے۔

12 اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف کے چوتھے مارشل لا نے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقعہ دیا۔ فعال طبقات اگرچہ اب بھی ان دونوں کیلئے نرم گوشہ رکھتے تھے مگر عوام کی اکثریت بیزار تھی۔ 2000ء کے موسم بہار میں منظرِ عام پر آنے والے گیلپ سروے کے مطابق 70 فیصد شہریوں نے مارشل لا کا خیر مقدم کیا تھا۔ حالات کی خرابی کے لیے وہ میاں محمد نواز شریف کو ذمہ دار سمجھتے تھے۔ صرف 20 فیصد انکے حامی تھی اور 10 فیصد غیر جانبدار۔ گیلپ کے ایک اور سروے کے مطابق جو کئی سال پہلے ہوا، ملک کے دو تہائی سے زیادہ شہری بھٹو خاندا، چوہدریوں اور شریف خاندان کو ایک سا بدعنوان سمجھتے تھے۔ انکی "مقبولیت" ایک برابر تھی۔

سیاسی پارٹیوں سے اسی بیزاری کے طفیل پرویز مشرف 9 سال حکومت کرسکے؛ حتیٰ کہ مارچ 2007ء میں انہوں نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو برطرف کرنے کی کوشش کی اور وکلا تحریک نے انہیں اکھاڑ پھینکا۔ اسی دور میں عمران خان ابھرے۔ اگر زعم کا شکار نہ ہوتے اور انکے گرد میر غلام علی لنگڑے جمع نہ ہوجاتے تو آسانی سے وہ مرکزی حکومت حاصل کر سکتے۔ نئی نسل انکی ہمنوا تھی۔

اب وہ سب کے سب روبہ زوال ہیں۔ پیپلز پارٹی پٹ چکی۔ عمران خان نے اپنا کاتا ہوا سوت خود ہی نوچ ڈالا۔ ن لیگ نامقبولیت کی راہ پہ بگٹٹ بھاگ رہی ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جگہ اگر کوئی دوسرا ہوتا تو نومبر 2008ء سے نومبر 2013ء کے درمیان کسی وقت بھی مارشل لا نافذ ہوگیا ہوتا۔

بدعنوان اور نااہل سیاسی لیڈر اس چھپکلہ کی مانند ہیں جو سانپ کے منہ میں پھنس جاتی ہے۔ اگلتے بنتی ہے اور نہ نگلتے۔ فوجی اقتدار کی اپنی خرابیاں ہیں اور بہت بڑا خرابیاں۔ سیاسی قیادت نابالغ رہتی ہے اور سول ادارے پروان نہیں چڑھ سکتے، جن کے بل پر امن و امان قائم کر کے مضبوط معیشت اور بہتر خارجہ پالیسی تشکیل دی جاسکتی ہے۔ مدتوں سے قوم مخمصے کا شکار ہے۔ ایک طرف عسکری حکمرانی ہے اور دوسرے طرف بدعنوان لیڈروں کی بیمار جمہوریت۔

موثر میڈیا اور طاقتور عدلیہ اسی خلا میں ابھرے ہیں۔ تاریخی عمل میں ایسا ہی ہونا تھا۔ عدالتیں تو عوامی تحریک کی کوکھ سے ابھریں۔ آزاد میڈیا کے لیے منصوبے بندہ انکل سام نے بھی کی۔ 14 اکتوبر 1999ء کی سویر اسلام آباد میں یہ امریکی سفیر تھے، جنہوں نے جنرل مشرف سے کہا کہ اخبارات پر پابندیاں عائد نہ کی جائیں۔

انتظامیہ اپنی حدود سے تجاوز کرتی رہی اور فوجی قیادت بھی۔ پھر عدلیہ اور میڈیا کے کچھ خاص لوگوں نے بھی یہی وتیرہ اختیار کرلیا۔ غیر ملکیوں سے انہوں نے مراسم استوار کیے۔ خارجہ پالیسی اور قومی سیاست کی ترجیحات طے کرنے لگے۔ متواوزی طور پر امریکیوں نے این جی اوز کا جال بنا اور بعض پریشر گروپوں کے علاوہ ملک کی اہم شخصیات سے رابطے استوار کیے۔ عالمی منظر پر چین کے نمایاں ہو جانے کے بعد امریکہ نے بھارت سے گٹھ جوڑ کیا تو پاکستان میں خریداری کے لیے جامع منصوبے بھی تشکیل دیے۔ صدیوں سے بدعنوان چلا آتا حکمران طبقہ اور اس کے سائے میں پروان چڑھتے عوام کالانعام۔

ملک کو ایک اخلاقی تحریک کی ضرورت ہے فقط شائستہ جمہوریت کی نہیں۔ ایسے پریشر گروپ جو انتظامیہ، عدلیہ، میڈیا اور عسکری قیادت کو آئین کی حدود میں کار بند رکھنے پہ اصرار کریں۔

جہاں تک موجودہ محاذ آرائی کا تعلق ہے، اس میں فوج کے ہاتھ مضبوط ہوئے ہیں۔ فوجی افسر شاد ہیں کہ مدتوں کے بعد عوامی محبت کی لہران کے لیے اٹھی ہے۔ میڈیا کمزور ہوگا۔ میڈیا گروپوں کی سرپرستی کرنے والی منتخب حکومت بھی، یہ نوشتئہ دیوار ہے۔ المناک بات یہ ہے کہ احمقوں کے ٹولے فرضی جنتوں میں گل گشت فرما رہے ہیں۔ اسی دیوانگی میں رہے تو کوئی دن میں شاید نیا تماشا ہوگا، وہی مگر بااندازِ دگر۔ پوٹھّہار میں یہ بہار کا موسم ہے اور اندیشوں کا۔

پھر موجِ ہوا پیچاں، اے میر نظر آئی
زنجیر نظر آئی، شاید کہ بہار آئی

بشکریہ روزنامہ ' دنیا '

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند