تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
دلیل، غلیل، پرویز رشید اور چیف صاحب
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 25 جمادی الاول 1441هـ - 21 جنوری 2020م
آخری اشاعت: اتوار 4 رجب 1435هـ - 4 مئی 2014م KSA 10:32 - GMT 07:32
دلیل، غلیل، پرویز رشید اور چیف صاحب

انسان کا اشرف المخلوقات کی مسند عظیم پر سرفراز ہونا عقل و فکر اور تدبیر کا مرہونِ منت ہے جس کی بدولت انسان طاقت کے بجائے فہم و فراست کے ذریعے معاملات کو سلجھاتا ہے۔ وہ جانوروں کی طرح ٹکریں مارنے کے بجائے دیواروں میں در بناتا ہے اور زندگی کو سہل بناتا ہے۔ وزیر اطلاعات و ثقافت پرویز رشید صاحب اکثر اپنی گفتگو میں دلیل اور غلیل کو استعارے کے طور پر استعمال کرتے رہتے ہیں۔ وہ ہمیشہ غلیل کے بجائے دلیل سے کام لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں کیوں کہ دلیل قانون اور ضابطے کے تحت کام کرنے کا عمل ہے جب کہ صاحبِ غلیل ہر قسم کے آئینی ضابطوں کا منکر ہوتا ہے اس طرح اس کے خلافِ قانون اعمال کے باعث پورا معاشرہ بدامنی کا شکار ہو جاتا ہے۔

گزشتہ دنوں اسلام آباد میں نیشنل بُک فاونڈیشن کے بُک فیئر میں ڈاکٹر انعام الحق کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہوں نے ہال میں موجود دانشوروں، کالم نگاروں اور ادیبوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ کتاب حکمت اور دانش کا ذریعہ ہوتی ہے اسی لئے اہلِ کتاب کو دیگر افراد کی بہ نست زیادہ معتبر سمجھا جاتا ہے کیوں کہ حکمت و دانش دلیل کا رستہ اختیار کرنے کی جانب راغب کرتی ہے اس لئے انہوں نے اہلِ کتاب کو اہلِ دلیل کہہ کر مخاطب کیا اور اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ہم نے نہ صرف ہمیشہ دلیل کی بات کی ہے بلکہ اس کا تحفظ کرنے والوں کو سراہا ہے۔

اسی طرح یومِ شہداء کے موقع پر منعقدہ تقریب میں سنیٹر پرویز رشید نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج ہم آزاد شہری کے طور پر زندگی بسر کر رہے ہیں اور ایک منظم معاشرہ ہمارا مسکن ہے تو یہ سب مسلح افواج کا مرہونِ منت ہے جنہوں نے دلیل کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی زندگیاں ہار دیں مگر غلیل والوں کا مشن کامیاب نہ ہونے دیا جو اس ملک کے وفادار ہیں نہ عوام کے، نہ انہیں پاکستان کے مفادات سے سروکار ہے نہ عالمی سطح پر اس کے وقار کی فکر ہے کیوں کہ وہ تو سرے سے آئین پاکستان کو تسلیم ہی نہیں کرتے بلکہ وہ پاک سرزمین کے دشمن کے عزائم کو پورا کرنے کے لئے پاکستانی عوام اور افواجِ پاکستان کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج جمہوریت، صحافت اور عدلیہ سمیت تمام ادارے مسلح افواج کی بے لوث قربانیوں کے باعث موجود بھی ہیں اور آگے بھی بڑھ رہے ہیں۔

اگر مسلح افواج غلیل والوں کا راستہ نہ روکتیں تو وہ آبادیوں میں دندناتے ہوئے پھرتے اور انہیں ایسا جنگل بنا دیتے جہاں آزاد عدلیہ کے بجائے ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ کا قانون رائج ہوتا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ غلیل والے آزادیاں سلب کرنے والے اور انسانی حقوق پامال کرنے والے ہیں جب کہ مسلح افواج دلیل والوں کو تحفظ فراہم کرنے والے ادارے کے طور پر اپنے آپ کو منوا چکی ہے کیوں کہ گزشتہ چھ سات سال کے دوران جب سے پاکستان کو ان شدت پسندوں کا سامنا ہے جو ہر طرح کے قانون کو پامال کر کے اپنی حاکمیت قائم کرنا چاہتے ہیں، پاکستانی افواج نے نہ صرف ان کے عزائم کو ناکام کیا بلکہ جمہوریت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے حسن کو بھی برقرار رکھا اس لئے آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ غلیل والے ہم دلیل والوں کی آزادی کے دشمن ہیں جب کہ مسلح افواج نے دلیل والوں کی سچی محافظ ہونے کی روایت قائم کی ہے۔

انہوں نے وقت کی نزاکت کو سمجھنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مسلح افواج کو بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ایسے چیلنجوں جن کی نوعیت بہت ہی حساس ہے کیوں کہ اس وقت ان کی جنگ کسی ایک سرحد پر نہیں بلکہ جگہ جگہ پھیلے ہوئے شدت پسندوں سے سامنا ہے اس لئے اس وقت تمام اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ فوج جتنی بھی طاقتور ہو جب تک تمام ریاستی اداروں اور عوام کی طاقت اس کے ساتھ نہ ہو وہ خاطر خواہ کامیابی نہیں حاصل کر سکتی۔ اس وقت ہمیں 65ء والے جذبے کی ضرورت ہے۔ یومِ شہداء کے روز ہی آرمی چیف جناب راحیل شریف کے بیان کو اہلِ دانش و حکمت کے حلقوں میں بہت پسند کیا گیا کیوں کہ سخت حبس اور بے یقینی کے موسم میں ان کا بیان بادِ صبا کے حیات آفریں جھونکے جیسا تھا۔ پاکستانی عوام جہاں اپنی مسلح افواج سے بے پناہ محبت کرتےہیں وہیں جمہوریت کو بھی پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں اس لئے جب بھی کسی طرف سے کوئی سخت بیان سامنے آتا ہے فکر کرنے والے ششدر رہ جاتے ہیں اور عوام پریشان، کیوں کہ دونوں طرف اپنے لوگ ہیں اور دونوں ہی وطنِ عزیز کے خیر خواہ بھی۔

پچھلے کئی ہفتوں سے چھوٹی چھوٹی بدگمانیاں ہیولوں کی طرح فضا کو مکدر کئے ہوئے تھیں۔ اس دفعہ پاکستان پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم، جماعتِ اسلامی سمیت کسی بھی سیاسی جماعت نے اس بدگمانی کو ہوا دینے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس کے ازالے کی ضرورت پر زور دیا لیکن کچھ یک رکنی جماعتوں کے سربراہوں سمیت چند کالم نگاروں نے اس چپقلش کو مزید بڑھانے کی بھرپور کوشش کی اور وہ باتیں بھی عام کرنے کی کوشش کی جن کا سارے فسانے میں کہیں ذکر نہیں تھا۔ ان کے بیانات، مباحث دراصل ایک اعلیٰ اور معتبر ادارے کی توقیر کم کرنے کی کاوش تھے کیوں کہ وہ تصادم کے خواہاں تھے۔

شکر ہے جنرل راحیل شریف صاحب نے بروقت جمہوریت کے تحفظ اور صحافت پر پختہ یقین کا اعلان کر کے چند لوگوں کے منفی پروپیگنڈوں کو خاک میں ملا دیا اور محبِ وطن پاکستانیوں کو جمہوری اداروں کے پھلنے پھولنے کی بشارت دی۔ موجودہ صورت حال میں ’جنگ‘ اور ’جیو‘ کے حوالے سے فضا ایک ایسے خوش کن بیان کی بھی متمنی ہے جو محبتوں کو بڑھانے والا اور غلط فہمیوں کو مٹانے والا ہو کیوں کہ ’جنگ‘ اور ’جیو‘ ایسا ادارہ ہے جس نے ہمیشہ اگلے محاذوں پر جا کر مسلح افواج کی کامیابیوں کا آنکھوں دیکھا حال لوگوں پر عیاں کیا اور ان کی بہادری اور حب الوطنی کے گیت گاتے ہوئے ہر لمحہ ان سے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
اب جب کہ مسلح افواج پوری دیانت داری سے اپنے فرائض سرانجام دینے میں محو ہے اس کے کردار پر شک کرنا مناسب نہیں۔ خدا کرے اس ملک کے سیاست دان پرویز رشید کی طرح معاملہ فہم، مہذب اور سنجیدہ ہوں۔وہ کیمرہ دیکھ کر انتخابات والی پرجوش تقاریر کرنے سے گریز کریں جو ان حالات میں کسی طور مناسب نہیں۔

نیز اداروں پر تنقید کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھیں کہ یہ تمام اپنے لوگ ہیں ان سے جڑی کسی رنجش کا سرِ عام چرچا کرنے کے بجائے بند کمرے میں صلاح مشورے کی پالیسی اپنانی چاہئے۔ خدا کرے میرے ملک میں جلد وہ دن آئے جب ہر طرف دلیل کی حکومت ہو جو انسان کا امتیازی وصف ہے اور دین اسلام جس کی بہت زیادہ تلقین کرتا ہے۔ (آمین)

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند