تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جاپان میں سائبر کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتیں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 23 جمادی الاول 1441هـ - 19 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 7 رجب 1435هـ - 7 مئی 2014م KSA 08:34 - GMT 05:34
جاپان میں سائبر کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتیں

گزشتہ چند سالوں کے دوران جاپان کے اہم ترین سیکورٹی اور مالی اداروں پر غیر ملکی ہیکرز کی جانب سے کئے جانے والے سائبر حملوں نے جہاں جاپان کی حکومت اور سلامتی کے اداروں کو چونکا کر رکھ دیا وہیں جاپانی ماہرین کو اپنے دفاعی اور مالی اثاثوں کے تحفظ کے لئے زبردست سائبر سیکورٹی نظام کی فوری تیاری کی ضرورت میں بھی اضافہ کر دیا تاہم ایسا نہیں ہے کہ جاپانی حکومت اپنی دفاعی معلومات اور مالی اثاثوں کی سائبر سیکورٹی سے بالکل ہی غافل تھی تاہم اس وقت عالمی سطح پر سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان کی جدیدیت میں اس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہ ہر تیار ہونے والے سیکورٹی سوفٹ وئیر بھی ناکارہ محسوس ہوتے ہیں۔

جاپان کیونکہ ایک انتہائی ترقی یافتہ ملک ہے جس کے زرمبادلہ کے ذخائر ہی صرف پندرہ سو أرب ڈالر کے لگ بھگ ہیں جن کی تمام تفصیلات اور قومی بینکوں کی ٹرانزیکشن کا تمام ریکارڈز کمپیوٹرائزڈ ہے لہٰذا اگر ایسی معلومات پر کبھی سائبر حملہ ہوا تو یہ جاپان کی معاشی سلامتی کے لئے کس قدر ہولناک ہو سکتا ہے اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے تاہم اس وقت جن تازہ ترین سائبر حملوں نے جاپانی ماہرین کو نیند سے جگا دیا ہے وہ گزشتہ دنوں جاپانی افواج کے لئے دفاعی سامان تیار کرنے والے اہم ترین ادارے Kawasaki Heavy Industries Ltdاس کمپنی میں ہیلی کاپٹر ،جہاز اور میرین مشینوں اور جیٹ انجن وغیرہ بنائے جاتے ہیں جبکہ HI Marine United جہاں سمندری مشینری اور پانی کے جہاز کے علاوہ بحری دفاعی آلات بنائے جاتے ہیں جبکہ FUJITSUاور KOMATSUجیسے ادارے بھی شامل ہیں جہاں دنیا کی جدید ترین تعمیراتی مشینری تیار کی جاتی ہے، یہ صرف ایسے چند ادارے ہیں جن پر ہیکرز کے حملوں کی نشاندہی ہوئی ہے جبکہ امکانات اس بات کے بھی ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ بعض ممالک کی جانب سے جاپانی حکمرانوں کی ای میلز اور ذاتی استعمال کے کمپیوٹرز تک ہیکرز نے رسائی کی کوشش کی ہے تاہم سائبر کرائم کے حوالے سے جاپانی حکومتی حکام اور اداروں پر ہونے والے سائبر حملوں کی کچھ معلومات تو جاپانی میڈیا میں آگئی ہیں تاہم میڈیا ذرائع کے مطابق بہت سی ایسی معلومات ہیں جو میڈیا میں نہیں لائی گئیں۔

اب چوری یا ڈاکے کے لئے ڈاکوؤں کو کسی کے گھر یا بینک میں گھسنے کی ضرورت نہیں رہی بلکہ ڈاکوئوں نے بھی انٹرنیٹ کے ذریعے ڈاکہ زنی کی وارداتیں شروع کر دی ہیں کیونکہ بینکوں میں عوامی دولت کو محفوظ رکھنے کے لئے کمپیوٹرائزڈ نظام کا سہارا لیا جاتا ہے جبکہ انفرادی سطح پر افراد کی دولت کی معلومات کو محفوظ رکھنے کیلئے بھی کمپیوٹرائزڈ نظام کا سہارا لیا جاتا ہے اس طرح کے جدید نظام کو اپنانے کے بعد یہ سوچا جانے لگا تھا کہ اب بینکوں اور مالیاتی اداروں میں چوری اور ڈاکے تقریباً ختم ہو جائیں گے مگر سائبر کرائم نے وہ گُل کھلائے کہ اب کمپیوٹرائزڈ نظام بنانے والے ادارے اور سائنسدان ایک مرتبہ پھر سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ کس طرح اس خطرناک جرم کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے جائیں کیونکہ انٹرنیٹ کے سیکورٹی نظام میں ذرا سی کمزوری یا غلطی نہ صرف انفرادی سطح پر افراد کو کنگال کر سکتی ہے بلکہ ادارے اور ریاست کو بھی شدید نقصان پہنچایا جا سکتا ہے کیونکہ اس وقت عالمی سطح پر تمام تر اہم معلومات کو کمپیوٹرائزڈ نظام کے تحت محفوظ کیا جاتا ہے لہٰذا کمپیوٹر نظام میں ہلکی سی بھی کمزوری کے نتیجے میں کوئی بھی سائبر حملہ آور کمپیوٹر میں محفوظ اہم معلومات اور دستاویزات تک نہ صرف رسائی حاصل کر سکتا ہے بلکہ انہیں بآسانی چوری بھی کر سکتا ہے۔

جاپانی حکومت اور ماہرین اس خطرناک جرم کے تدارک کے لئے دن رات کوششیں کر رہے ہیں اس حوالے سے گزشتہ دنوں جاپانی سائنسدانوں نے اس وقت پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا جب انہوں نے سائبر حملوں کو روکنے اور حملے کے مقام کی نشاندہی کرنے کے لئے جدید ترین سوفٹ وئیر تیار کرنے کا اعلان کیا، یہ سائبر سیکورٹی کا نظام دراصل جدید ترین سوفٹ ویئر اور ہارڈ ویئر پر مشتمل ہوتا ہے اس نظام کے ذریعے نہ صرف کسی بھی طرح کے سائبر حملے کو روکا جا سکے گا بلکہ حملہ آور کی نشاندہی بھی ہو سکے گی کہ حملہ آور کس ملک اور کس شہر سے سائبر اٹیک کرنے کا مرتکب ہوا ہے جبکہ عنقریب اس نئے سیکورٹی نظام کو حکومتی اور نجی اداروں کو فراہم کردیا جائے گا جس سے جاپان کے نیٹ ورکس پر سائبر حملوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی واقع ہونے کے امکانات ہیں جاپانی ماہرین نے اس دفاعی نظام کو سائبر ویپن کا نام دیاہے جو جاپانی نیٹ ورک پر ہونے والے کسی بھی سائبر حملے کو روکنے اور اس کے لانچنگ مقام کا بھی پتہ چلا سکے گا۔

جاپانی میڈیا رپورٹ کے مطابق اب تک حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق جاپانی اداروں پر اس وقت سب سے زیادہ سائبر حملے چین کی جانب سے کئے جاتے ہیں جبکہ امریکہ اور چین کی جانب سے سائبر ہتھیاروں کی تیاری اور ان کے مبینہ استعمال کے بعد جاپان نے بھی سائبر ویپن نامی سائبر دفاعی نظام تیار کر لیا ہے، رپورٹس کے مطابق سائبر دفاعی نظام کی ضرورت گزشتہ کچھ عرصہ میں جاپان کے ارکان پارلیمنٹ ،دفاعی اداروں اور اہم صنعتی اداروں کے کمپیوٹر نیٹ ورکس پر ہونے والے سائبر حملوں کے بعد پیش آئی ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران دنیا بھر میں جاپان کے نو سفارتخانوں اور قونصل خانوں کے کمپیوٹرز پر بھی سائبر حملے ہونے اور ان سے حساس معلومات چرانے کی کوشش کی گئی تھی جس کے بعد اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ جاپان بھی اپنی ٹیکنالوجی سے انٹرنیٹ حملوں سے بچائو کا نظام تیار کر کے اپنی حساس معلومات کے مراکز کو محفوظ بنائے جس کے بعد سائبر ویپن نامی سائبر سیکورٹی نظام تیار کیا گیا ہے جبکہ تاحال جاپان کے تحقیقاتی ادارے جدید سے جدید سائبر سیکورٹی نظام تیار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق سائبر کرائم سے وابستہ افراد اب ایک دوسرے کے ملکوں کے اہم دفاعی اداروں اور مشہور کمپنیوں کو نشانہ بناتے ہیں اور ان سے اہم معلومات حاصل کر کے اس کی جگہ ایسی معلومات ڈال دیتے ہیں جو اس ملک کیلئے پریشانی کا باعث یا ندامت کا باعث بن جائے جبکہ ان سائبر حملوں سے ترقی یافتہ ممالک تو ایک طرف پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ملک بھی نہیں بچ پاتے، یہی وجہ ہے کہ یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ چند دشمن ممالک کے ہیکرز نے پاکستان کے قومی اداروں کی حساس ویب سائٹس کو اپنا نشانہ بنایا ہے ہیکرز نے پاکستان کے سرکاری اداروں کی ویب سائٹس کو چوری کر کے ان میں ردو بدل کر کے ملک دشمن الفاظ ان سرکاری اداروں کی ویب سائٹس پر تحریر کر دیئے جس سے پاکستان کی عالمی سطح پر بدنامی ہوئی ،سائبر کرائم عام افراد کی سائٹ پر بھی حملہ آور ہوتے ہیں اگر آپ انٹرنیٹ بینکنگ کرتے ہیں تو یہ آپ کے اکائونٹ کے بارے میں معلومات حاصل کر کے اس میں سے رقم چوری کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس جرم میں ملوث افراد کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں پڑتی امریکہ یا کسی بھی ملک میں بیٹھا سائبر کرمنل آپ کی جیب پر ہاتھ صاف کر سکتا ہے۔ سائبر کرائم ذہن رکھنے والے افراد جدید کمپیوٹر پروگرامز یا سافٹ ویئر استعمال کر کے نہ صرف آپ کی ای میل کے پاس ورڈ چوری کر سکتے ہیں بلکہ انٹرنیٹ بینکنگ کے ذریعے یا آپ کے کریڈٹ کارڈ کے ذریعے آپ کی رقم پر ہاتھ صاف کرسکتے ہیں، پاکستان میں سائبر کرائم کی بھی مختلف شکلیں سامنے آرہی ہیں،آپ کے موبائل پر جدید کمپیوٹر کے ذریعے میسج آتے ہیں آپ نے اگر پلٹ کر اس نمبر یا کسی اور دیئے گئے نمبر پر فون کیا تو آپ کا بیلنس سیکنڈوں میں غائب ہوجائے گااور پھر یہ سلسلہ طویل تر ہوتا رہے گا۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند