تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بھارتی انتخابات اور مسلم کش فسادات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 8 رجب 1435هـ - 8 مئی 2014م KSA 14:35 - GMT 11:35
بھارتی انتخابات اور مسلم کش فسادات

 ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں جاری نسلی تشدد میں مارے جانے والے مسلمانوں کی تعداد اکتیس ہوگئی ہے۔ پْرتشدد واقعات کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ مسلمانوں نے امدادی کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ فوج کی گشت کے باوجود اب بھی کئی علاقوں میں مسلمانوں پر بوڈو قبائل کے حملے جاری ہیں۔

تشدد سے متاثرہ بیشتر علاقوں میں کرفیو نافذ ہے اور سکیورٹی فورسز کو شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دے دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود کشیدگی میں کمی نہیں آئی۔ تازہ جھڑپوں میں مزید درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں اور ضلع کوکرا جھار، چرانگ، دھبری اور بونگ گئی کے مختلف گاؤں میں بوڈو قبائل نے مسلمانوں کے سیکڑوں مکانات جلا دیے۔ ایسی خبریں آئے دن بھارتی اخبارات کی زینت بنتی اور ہمارے دلوں پر مونگ دلتی رہتی ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے ان خبروں سے اس کی واضح عکاسی ہوتی ہے۔

بھارتی سرکار کی شہ پر ہی انتہا پسند ہندوتنظیمیں مسلمانوں کا قتل عام کرتی ہیں جس کے بعد سرکار کی طرف سے متعلقہ علاقے میں کرفیو لگا کر مسلمانوں کو مزید ہراساں کیا جاتا ہے اور آج کل تو خاص طورپر انتہا پسند ہندو الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے مسلم کش پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ یوں تو سارے بھارت میں ہی مسلمانوں کے ساتھ بدترین سلوک روا رکھا جاتا ہے مگر کچھ علاقوں میں اس کا کھلے عام ارتکاب کیا جاتا ہے۔آسام میں 1971ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران بنگلہ دیش سے لائے جانے والے مسلمان آباد ہیں۔ 1990ء سے بوڈو قبائل نے ان کے خلاف منظم حملے شروع کر رکھے ہیں۔آسام سمیت بہت سے دیگر علاقوں میں رہنے والے بھارتی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ریاست کرناٹک کے صدرمقام بنگلورکو فوقیت دیتے ہیں۔بوڈو قبائل کا کہنا ہے کہ یہ غیر علاقائی لوگ یہاں کیوں بسائے گئے ۔ جبکہ آج کل بوڈو قبائل اور بھارتی سرکار میں کافی کشیدگی چل رہی ہے۔

آسام اور ناگا لینڈ سمیت بھارت کی 13 ریاستیں علیحدگی کی راہوں پر چل نکلی ہیں لہٰذا سرکار سے ان کی مسلح لڑائی روز کا معمول بن چکی ہے۔ اسی لڑائی میں بیچارے مسلمان دونوں طرف سے مارے جاتے ہیں۔ ممتاز بھارتی دانشور اور سینئر صحافیوں نے بھی اس مسئلے پر بڑے دکھ اور مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ آئندہ برسوں میں بھارتی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کی حالت زار کا سنورنا ممکن نہیں۔ بلکہ ہندو بنیاد پرستی کا جنون بھارتی سالمیت کے لیے بہت خطرناک ہے۔ بی جے پی جیسی کٹر انتہا پسند جماعت کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے مقابلے میں سیکولر طاقتیں کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔ مسلمانوں کا خون بہا کر بھارت جو بھی کہے اس سے کوئی غرض نہیں کیونکہ مسلمانوں کی ہلاکت اور بربادی کی ذمہ دار ہندو انتہا پسند تنظیمیں ہیں جن کے خلاف بھارت کی عدالتیں بھی بے بس ہیں۔ مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث کسی بھی شخص کو آج تک ان نام نہاد عدالتوں سے سزا نہیں ملی۔ حالات و واقعات نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ بھارت میں سیکولر ازم نام کی کوئی چیز نہیں۔ وہاں کا معاشرہ اب بھی انتہاپسندی، ذات پات، تعصب اور درجہ بندی کے ہزاروں سال پرانے نظریات پر قائم ہے۔سیکولر بننے کیلئے تحمل، بردباری، برداشت اور دوسرے کے خیالات اور مؤقف کو سمجھنے اور سہنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ذات پات پر مبنی انسانی استحصال کے معاشرے میں ایسا معیار اب کم ہی دکھائی دیتا ہے۔

ہندوؤں کی اسی انتہاپسندی اور تعصب نے ایک صدی پہلے ہندوستان کے مسلمانوں کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ اپنے لئے الگ وطن کی جدو جہد کا آغاز کریں۔ نیشنل مینارٹی کمیشن جو بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کے لئے کام کرتی ہے ، کے مطابق بھارتی مسلمانوں کو بینکوں سے بہت سی شکایات ہیں۔ بہت سے مسلمانوں کو تو بینک میں اکاؤنٹ کھولنے ہی نہیں دیا جاتا۔ کسی مسلمان کو قرض دینے سے صاف انکار کردیا جاتا ہے۔ یہ امتیازی سلوک خاص طور پر آندھرا پردیش کی ریاست میں سب سے زیادہ دیکھنے میںآیا ہے جہاں 90 فیصد مسلمان حکومت کی طرف سے ملنے والی رقم بینک میں نہیں رکھ پاتے۔ اس کے ساتھ ساتھ کیرالہ اور آسام میں مسلمانوں کھاتے داروں کی تعداد گھٹ کر آدھی رہ گئی ہے۔ کمیشن کے مطابق بھارتی حکومت کی یہ رپورٹ بوگس ہے کہ چونکہ مسلمان غریب ہیں اس لئے بینکوں میں رقوم جمع نہیں کر اسکتے۔ بینک امیر لوگوں کے ساتھ لین دین کو ترجیح دیتے ہیں۔ حالانکہ کئی زمیندار مسلمان بھی اپنا بینک اکاؤنٹ نہیں کھول سکتے۔ گو کہ حکومت نے بینکوں کوہدایت کی ہے کہ وہ مسلمانوں کے اکاؤنٹ بھی کھولے مگر بینکوں نے حکومتی حکم ہوا میں اڑا دیا۔ پاکستان دشمنی کی وجہ سے بھارتی ہندو مسلمانوں پر کسی قسم کا بھروسہ نہیں کرتے۔

مسلم اقلیت اس خوف کی وجہ سے نفسیاتی طور پر آپس میں ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے پر مجبور ہیں۔ مشہور بھارتی صحافی سیکت دتہ اور بھون وج اروڑا نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ اس وقت بھارتی خفیہ ایجنسی را میں اہلکاروں کی تعداد لگ بھگ دس ہزار ہے جس میں نہ صرف کوئی مسلمان بھرتی نہیں کیا گیا بلکہ سکھوں کو بھی اس سے دور رکھا گیا۔ حتیٰ کہ بھارت کی داخلی سکیورٹی کی ذمہ دار انٹیلی جنس بیورو میں بھی مسلم اور سکھ اقلیتوں کے افراد بھرتی نہیں ہو سکتے۔ ایسے میں بھارتی مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے بھی اس بھارتی طرز عمل پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور بھارتی سرکار کو سیکولر ازم کی دھجیاں بکھیرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند