تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نیویارک پولیس کے مسلمان آفیسرز
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 14 رجب 1435هـ - 14 مئی 2014م KSA 10:41 - GMT 07:41
نیویارک پولیس کے مسلمان آفیسرز

ابھی امریکہ کے مسلمانوں نے اس بات پر اطمینان کا سانس ہی لیا تھا کہ نیویارک کے نئے میئر بل دابلازیو کے مقرر کردہ نئے پولیس کمشنر نے اس پولیس یونٹ کو ختم کر دیا ہے جو مسلمانوں کی مساجد، امام بارگاہوں اور مراکز کی خفیہ نگرانی کے لئے کئی سال سے سابق پولیس کمشنر ریمنڈ کیلی نے قائم کیا تھا۔ ابھی اس خبر کا مسلمانوں کی جانب سے خیرمقدم کیا جارہا تھا کہ اچانک ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے ایک تفصیلی خبر میں یہ انکشاف کردیا ہے کہ نیویارک پولیس نے مسلمانوں کی نگرانی اور مخبری کیلئے مسلمان کمیونٹی میں مخبروں کی تلاش کا کام جاری کردیا ہے۔ گویا اچھی خبر کی سیاہی خشک ہونے سے قبل ہی ایک بری خبر بھی آگئی۔

اس خبر کی تفصیلات میں تو بہت کچھ سامنے آیا ہے لیکن نیویارک پولیس کے مخبروں کی تلاش کے بارے میں خبر نے مسلم کمیونٹی کو نہ صرف پریشان کردیا ہے بلکہ کمیونٹی میں شکوک و شبہات، احتیاط اور تشویش پیدا کردی ہے کہ نہ جانے مسجد میں موجود نمازیوں میں کون شخص پولیس کا مخبر ہے۔ امید افزا حقیقت یہ ہے کہ کئی سال سے مسلمانوں کی خفیہ نگرانی کے لئے قائم یونٹ کو ختم کرتے ہوئے یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ یونٹ ان تمام سالوں میں ایک بھی ’’دہشت گردی‘‘ کے منصوبے یا مشکوک افراد کی نشاندہی یا گرفتاری میں ناکام رہی ہے۔ گویا مسلم کمیونٹی پرامن اور دہشت گردی کی مخالف ہے لہٰذا یہ خفیہ نگرانی اپنے مقصد میں ناکام رہی ہے، اس کوختم کرنا ہی بہتر ہے۔

اب رہی بات مسلم کمیونٹی میں پولیس کو مخبروں کی تلاش ہے تو یہ کام دنیا کے ہر ملک میں پولیس اپنے علاقے میں مخبروں کا نیٹ ورک ضرور قائم رکھتی ہے۔ امریکہ میں آباد ہر کمیونٹی میں ہمیشہ سے ایسے مخبروں کا نیٹ ورک ہوتا ہے جس کی بدولت جرائم اور ملزموں کی نشاندہی اور گرفتاری عمل میں آتی ہے۔ اگر مسلم کمیونٹی امریکہ میں اپنا کردار اور عمل شفاف رکھیں اور اندر موجود جرائم پیشہ عناصر، دہشت گردی اور انتہا پسندی سے دور رہیں تو مسلم کمیونٹی میں موجود مخبروں کو مخبری کا موقع ہی نہیں ملے گا۔ امن و امان کے قیام اور جرائم روکنے کے لئے اگر ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کی رپورٹ کے مطابق مسلم مخبروں کو متحرک کیا جارہا ہے تو امریکہ اور نیویارک میں مسلمان ایک اقلیت ہیں اور دیگر تمام اقلیتوں میں بھی نیویارک پولیس کے مخبر موجود اور متحرک ہیں تو پھر یہ مسلمانوں سے امتیازی سلوک کے بجائے امن و امان کی پالیسی کے تحت ایک اقدام ہے مسلم کمیونٹی کی امن پسند اکثریت کو فکر کی ضرورت نہیں صرف جرائم پیشہ افراد پریشان ہوں۔

سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے وقت سے مسلمانوں میں خوف و ہراس اور امتیازی سلوک کا شکوہ کرنے والوں کو خدشہ ہے کہ مسلمان مخبروں کے ذریعے مسلمانوں کو ٹارگٹ کر کے امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جائے گا تو یہ خدشہ اعداد و شمار اور حقائق کی عدم موجودگی میں صرف خدشہ ہی ہے حقیقت نہیں ہوگی۔ سانحہ ورلڈ ٹریڈ کے ساتھ ہی امریکہ ہر ہر لحاظ سے بدل چکا ہے۔ وہ آزاد ماحول، بھائی چارہ رنگ مذہب سے بالاتر ہو کر سب کچھ قربت، احترام، اعتماد کی فضا کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ اس پر قابو پانے کے لئے وقت، باہمی بھروسہ اور ایک دوسرے پر ٹرسٹ بحال ہونے میں کچھ عرصہ لگے گا۔ ہماری بیشتر مساجد کے اماموں کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ بازگشت بھی مسلسل سن رہے ہیں کہ بعض امام صاحبان خود بھی اپنے مقتدیوں کی مخبری کرکے اپنے امن پسند شہری ہونے کا صلہ بھی حاصل کر رہے ہیں۔

مختصر یہ کہ نیویارک میں دیگر کمیونیٹز کی طرح مسلم کمیونٹی میں مخبروں کی موجودگی پر تشویش کے بجائے امن اور قانون پسند شہری ہونے کا رویہ جاری رکھیں فکر کی بات نہیں۔ یوں ہر ملک میں تارکین وطن کی پہلی نسل کو نقل مکانی اور نئے ملک میں آباد ہونے کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ نئی نسل کو تعلیم اور تربیت سے آراستہ کریں۔ مسلمانوں کی امریکہ میں پیدا ہونے والی پہلی نسل نے امریکہ میں بڑے اچھے اثرات مرتب کئے ہیں اور وہ امریکی معاشرے میں اپنی مسلمان روایات، ناموں اور کردار کے ساتھ اپنا وجود تسلیم کروا رہے ہیں۔

جس روز ’’نیویارک ٹائمز‘‘ میں نیویارک پولیس کو مخبروں کی تلاش والی خبر شائع ہوئی اسی دن نیویارک پولیس کے ’’مسلمان آفیسرز سوسائٹی‘‘ کا سالانہ ڈنر بھی تھا جس میں شرکت کا موقع ملا۔ بروکلین کے اس شاندار گارڈن اور ہال میں ہونے والے ڈنر میں شریک ہونے والوں کا امتزاج ملاحظہ فرمایئے اور بتایئے کہ کیا ہمارے پاکستان میں خود صرف مسلمانوں کے مختلف مسالک اور طبقوں کے درمیان ایسا کوئی امتزاج ملتا ہے۔اس ڈنر میں نیویارک کی سٹی کونسل کے لئے منتخب یہودی کونسل میں خائم ڈیوچ نے اپنی تقریر میں اعتراف کیا کہ اس نے سٹی کونسل کا الیکشن اپنے حلقے میں آباد پاکستانی ووٹرز اور حمایتیوں کی بدولت جیتا ہے اور وہ شکر گزار ہے وہ نیویارک سٹی میں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کو تسلیم کرانے کا کام کررہا ہے جس کے مسلم کمیونٹی کو فوائد ہوں گے۔ شہر کے تمام پبلک اسکولوں میں وہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ مسلمان طلبا و طالبات کے لئے حلال فوڈ کی فراہمی کے لئے بھی کوشش کررہا ہے۔

بروکلین کے علاقے کے صدر (میئر) سیاہ فام ایرک ایڈم نے اپنی تقریر کے بعد مجھ سے ایک تفصیلی گفتگو میں یہ اعادہ کیا کہ ان کے بروکلین میں حجاب، ٹوپی یا لباس، چرچ، مسجد یا یہودی عبادت گاہوں سینی گاگ سبھی بلاامتیاز یکساں طور پر محترم اور ہمارے معاشرے کا خوبصورت رنگ ہیں۔ انہوں نے مسلم کمیونٹی سے کہا کہ بعض عناصر ان کے محترم اور بہتر اور امن پسند مذہب اسلام کو ہائی جیک کرکے بدنام کررہے ہیں ان سے بچنے اور لاتعلق رہنے کی ضرورت ہے۔ اس ڈنر میں ایک مصری نژاد خاتون پولیس آفیسر کو ’’وومن آف دی ایئر‘‘ کا ایوارڈ دیا گیا کہ اس نے آگ کی لپیٹ میں ایک مکان میں داخل ہو کر اپنی زندگی کی پروا کئے بغیر ایک بچے اور ایک بوڑھی عورت کو شعلوں سے بچا کر نکالا تھا۔ دو بچوں کی ماں یہ خاتون پولیس آفیسر اپنی ڈیوٹی حجاب پہن کر ادا کرتی ہے۔ مسلمان خاتون آفیسر کا کہنا ہے کہ اس کے حجاب، اس کے مذہب اور اس کی ڈیوٹی کے تقاضوں میں کوئی تصادم نہیں اور نہ ہی اب کسی کو اعتراض ہے۔

بروکلین بارو کے پریذیڈنٹ ایرک ایڈم کا کہنا ہے کہ بروکلین کسی ایک نسل، کمیونٹی یا رنگت والوں کی جائیداد نہیں بلکہ بروکلین سب کا ہے جہاں دنیا کے ہر ایک ملک ہر خطے سے آیا ہوا شہری آباد ہے اور مسلمان یہاں کی ایک نمایاں کمیونٹی ہیں۔ نیویارک پولیس میں کئی سو مسلمان پولیس آفیسرز ہیں اور ان کی مسلم آفیسرز سوسائٹی کے صدر فیصل خان، فرسٹ وائس پریذیڈنٹ عدیل رانا سیکرٹری احمد محمود، سارجنٹ ایٹ آرمز وحید اختر، رابطہ سیکرٹری محمود احمد، ٹرسٹیوں میں عاصمہ، علی جاوید، محمد اکرم، عمر عالم اور دیگر پاکستانی نژاد عہدیداران ہیں جبکہ دیگر ممالک کے مسلمان پولیس آفیسرز بھی مختلف عہدوں پر فائز ہیں۔ نیویارک پولیس کا چپلین (امام) نوجوان خالد لطیف ہے جو ایک پاکستانی مشہور ڈاکٹر کا بیٹا ہے اور اس نے مسلمانوں اور اسلام کی امیج کو امریکیوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے یہ راہ اختیار کیا ہے۔ خفیہ نگرانی، مسلمان مخبروں کی تلاش کے کاموں کے ساتھ ساتھ نوجوان مسلمان نسل کی جانب سے اچھے امریکی شہری کے طور پر مسلمانوں کی مثبت امیج پیش کرنے کا کام بھی جاری ہے۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند