تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
افتخار چوہدری سے نریندر مودی تک؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 25 جمادی الاول 1441هـ - 21 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 21 رجب 1435هـ - 21 مئی 2014م KSA 09:57 - GMT 06:57
افتخار چوہدری سے نریندر مودی تک؟

گزشتہ روز سابق چیف جسٹس آف پاکستان نیویارک میں تھے وہ پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں اپنے انتہائی منفرد کردار اور مثالی ریکارڈ و خدمات کے باوجود بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا شکار ہیں لیکن امریکی عدلیہ اور وکلاء اس پاکستانی جج کی جرأت اور عدالتی بالادستی کیلئے جدوجہد کی بڑی عزت کرتے ہیں۔ اس کا ایک مظاہرہ بحالی کے بعد بطور چیف جسٹس ان کی امریکہ آمد پر نیویارک لائبریری میں ایوارڈ اور پھر ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک اجتماع اور دیگر جگہوں پر دیکھنے میں آیا تھا۔ اب سبکدوش ہونے کے بعد ان سے ملاقات میرے محترم ڈاکٹر عبدالمجید آرائیں کے گھر ڈنر پر ہوئی جہاں دیگر ممتاز پاکستانیوں کی ایک مختصر تعداد بھی موجود تھی۔ گو کہ سابق چیف جسٹس سرکاری منصب سے ریٹائرمنٹ کے بعد دوسال تک تبصروں، بیانات اور سیاست میں حصہ لینے کی پابندی کے احترام میں ملکی معاملات اور اپنے بارے میں بعض مخالف حلقوں کے لگائے گئے الزامات کے بارے میں خاموشی کو ترجیح دیتے یا محتاط گفتگو کرتے ہیں اور تجزیہ یا خبر لکھنے والوں کیلئے قطعاً کوئی فکری یا حقائق پر مبنی مواد فراہم نہیں کرتے مگر اس کے باوجود اپنے تاریخی کردار اور عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے سب کیلئے ایک پرکشش شخصیت ہیں۔

دوسرے روز سخت بارش کے موسم میں پاک امریکن لائرز فورم کی جانب سے رمضان رانا اور شاہد مہر نے ان کے اعزاز میں استقبالیہ دیا تو صحافیوں سے ایک علیحدہ ملاقات اور گفتگو کی نشست کا بھی انتظام کر دیا۔ میں نے دو ٹوک انداز میں تحریک انصاف کے عمران خان کے الیکشن کی دھاندلی میں چیف جسٹس (ر) کے شریک الزام اور جنگ/جیو سے فیورٹ تعلقات کے الزام کے بارے میں ان کا ردعمل پوچھ لیا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں مختصر طور پر دونوں الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ثبوت کے بغیر یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔

میڈیا کے حوالے سے بھی انہوں نے عدلیہ کی بحالی میں میڈیا کے جرأت مندانہ رول کی تعریف کی اور خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ کوئی خاص میڈیا گروپ میرا فیورٹ نہیں بلکہ تمام پاکستانی میڈیا میرے لئے عدلیہ کی آزادی و بحالی میں رول ادا کرنے پر لائق تحسین ہے۔ ان سے 20منٹ سے زیادہ کی صحافیوں سے سوال و جواب اور گفتگو کا ریکارڈ یوٹیوب پر ایک صحافی نے لوڈ کر دیا ہے۔ اس پر تبصرہ ، تجزیہ آپ خود کر سکتے ہیں۔ البتہ اتنا ضرور عرض کروں گا کہ پاکستان کی تاریخ میں جسٹس منیر احمد مرحوم کی عدالت نے بالکل نوزائیدہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کو توڑنے کی حمایت میں عدالتی فیصلہ دیکر جس طرح آمرانہ نظام کی حمایت کر کے پاکستان کو نقصان اور عدلیہ کو عوام کی نگاہ میں مشکوک بنانے کا آغاز کیا تھا اس کے تناظر میں جسٹس (ر) افتخار چوہدری کی جرأت، خدمات اور کردار کو دیکھا جائے تو تمام تر اعتراضات اور انسانی خامیوں کے باوجود ان کا دور عدلیہ اور کردار انتہائی قابل فخر ہے۔

امریکہ میں آباد بھارتی کمیونٹی کی اکثریت نریندر مودی اور ان کی پارٹی کی کامیابی پر بڑی خوش ہے اور امریکی شہری ہونے کے باوجود وہ آبائی وطن میں اسے ایک تاریخی، منفرد اور اہمیت کا حامل انتخاب سمجھتے ہیں۔ امریکی حکومت اور اس کے اداروں میں بھی اہم ذمہ داریوں پر فائز بھارتی نژاد امریکی بھی اس بھارتی الیکشن پر گہری نگاہ رکھے ہوئے تھے، البتہ امریکہ میں بھارتی نژاد مسلمان خاصے فکر مند اور تشویش کا مظہر ہیں۔ اس کی بڑی وجہ نریندر مودی کا ماضی کا ریکارڈ، راشٹریہ سیوک سنگھ سے تعلق اور پھر گجرات کے وزیراعلیٰ کے طور پر گجرات کے مسلمانوں کے خون اور بربادی میں ان کا ملوث ہونا ہے۔ خالص ہندو ازم کا انتہا پسندانہ مزاج، بھارتی مسلمانوں کے بارے میں اشتعال انگیز بیانات، ہندو پنڈتوں اور مندروں سے ان کی حمایت میں انتخابی مہم چلانے کے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت کے 15 کروڑ مسلمان اقلیت کے اندیشے بلاوجہ نہیں ہیں۔

امریکہ نے گزشتہ دس سال سے گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام اور تباہی کے بعد شواہد سامنے آنے پر نریندر مودی کو امریکہ کا وزٹ ویزا دینے سے انکار کر رکھا تھا۔ الیکشن میں کامیابی پر نریندر مودی کو مبارکباد دیتے ہوئے امریکی صدر اوباما نے اب انہیں وہائٹ ہائوس آنے کی دعوت بھی دے ڈالی۔ اگر گھر میں مضبوطی ہو تو امریکی ویزوں کی کمی نہیں ہوتی۔ اپنی انتخابی کامیابی کے بعد بھی 63 سالہ نریندر مودی دہلی جا کر وہاں سے فوراً ہندو مقدس شہر بنارس میں شیوا جی کے مندر گئے جبکہ دریائے گنگا کی صفائی بھی ان کے انتخابی وعدوں کا حصہ ہے۔ وہ سارے بھارت بشمول 15 کروڑ مسلمان ووٹروں کے وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں لیکن اس سیکولر بھارت کے وزیراعظم نے ابھی تک کسی مسلمان آبادی یا علامتی روایت کی طرف رخ بھی نہیں کیا۔ وہ ’’ہندو طالبان‘‘ وزیراعظم کہے جا سکتے ہیں مگر انہیں ’’ہندو نیشنلسٹ‘‘ کہہ کر ان کے اعتدال پسند حامی انہیں ’’کور‘‘ کر رہے ہیں۔ ادھر بھارت کی کُل آبادی کے 15 فی صد مسلمان ہیں جن میں سے 50 فی صد آبادی بالکل غیر تعلیم یافتہ ہے اور آبادی کا بڑا حصہ دیہاتی علاقوں میں آباد ہے یا پھر شہروں کے گنجان محلوں میں رہتا ہے۔

بنکوں کے قرضوں، ملازمتوں اور معیشت کے شعبوں میں ان کیلئے امتیازی سلوک اور مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ خود بھارت سرکار کا اعتراف ہے کہ ہندو،مسلمان کے درمیان معاشی اور سماجی ’’گیپ‘‘ مزید بڑھا ہے۔ ایسے میں نریندر مودی کا اقتدار میں آنا بھارتی اقلیت مسلمان کیلئے کیسے اچھا شگون ہو سکتا ہے۔ یہ بھی تسلیم کیا جا رہا ہے کہ نریندر مودی کوئی واجپائی نہیں جو بی جے پی کے قائد ہوتے ہوئے پاکستان کے ساتھ امن قائم کرنے کیلئے لاہور کے مینار پاکستان پر آ جائے گا لیکن امریکی بھی نریندر مودی کی جیت کا خیر مقدم کر رہے ہیں کہ برصغیر کے اس خطے میں پاکستان، افغانستان اور ایران کے مسلمان ممالک اور وسطی ایشیا کے ممالک کو ہینڈل کرنے کیلئے نریندر مودی جیسا سخت گیر ہندو لیڈر ہی مناسب رہے گا اور امریکی انخلاء کے بعد اس خطے میں بھارت،امریکہ مفادات کی حفاظت کی ذمہ داری پوری کرے گا۔ وقت یہ بھی واضح کر دے گا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں آباد بھارتی نژاد نریندر مودی اور ان کی انتہا پسند کابینہ اور دور حکومت کی معاونت کس قدر بڑھ چڑھ کر کریں گے۔

16 مئی کے واشنگٹن پوسٹ میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ایڈم زگفیلڈ کا بھارتی الیکشن اور نریندر مودی کی کامیابی کے بارے میں ایک تجزیاتی مضمون شائع ہوا۔ پروفیسر کا موقف تھا کہ ان انتخابات کو لوگ تاریخی سمجھ رہے ہیں لیکن یہ تاثر درست نہیں بلکہ انہوں نے اعداد و شمار کے ساتھ لکھا کہ 70 فی صد ووٹروں نے بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا بلکہ انتخابی حلقوں میں امیدواروں کی کثرت، ووٹوں کی تقسیم اور ’’سنگل ممبر ڈسٹرکٹ‘‘ یعنی ایک حلقے میں ایک امیدوار کے اصول کے باعث بی جے پی کے امیدوار معمولی برتری سے جیتے ہیں۔ انہوں نے اور وجوہات بھی بتائیں۔ اس مضمون کی اشاعت کے ردعمل میں بھارتی نژاد قارئین کی ایک بڑی تعداد نے اپنے ای میل تبصروں میں پروفیسر موصوف کو جس طرح لتاڑا ہے وہ پڑھنے اور سمجھنے کے لائق ہے۔ ادھر ہم پاکستانی تو اپنے ہی ملک میں ایک دوسرے کے گریبان پکڑے ہوئے ہیں۔ حکومت، میڈیا، معیشت، معاشرت، امن، حفاظت، سب ہی انتشار اور بربادی کی طرف جا رہے ہیں۔ مضبوط بھارت کا نریندر مودی اور تباہ شدہ افغانستان کا نیا لیڈر عبداللہ دونوں ہی پاکستان مخالف ہیں۔ انہیں کیسے اور کون ہینڈل کرے گا؟

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند