تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اوباما ،کرزئی کابل اور نواز، نریندر دہلی میں؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 28 رجب 1435هـ - 28 مئی 2014م KSA 08:11 - GMT 05:11
اوباما ،کرزئی کابل اور نواز، نریندر دہلی میں؟

 امریکہ میں فوجیوں کی خدمات کے اعتراف کی سالانہ تعطیل ’’میموریل ڈے‘‘ کے ساتھ لانگ ویک اینڈ تھا مگر امریکی صدر اوباما اس سے ایک روز قبل اپنے چند معاونین، مشیران اور امریکی صحافیوں کی ایک ٹیم کے ساتھ رات کے اندھیرے میں 13گھنٹے کی خصوصی اور خفیہ پرواز کے ذریعے افغانستان کے امریکی ایئربیس بگرام پر اترے وہاں بطور کمانڈر انچیف انہوں نے امریکی فوجیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرکے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں امریکی جنگ کے سالہا سال تک اتحادی رول ادا کرنے والے صدر افغانستان حامد کرزئی کو ’’شارٹ نوٹس‘‘ پر بگرام ایئربیس پر اجتماع میں شرکت کیلئے دعوت نامہ بھیجا گیا مگر حامد کرزئی کی عدم شرکت کے بعد بھی بگرام سے تھوڑے فاصلے پر کابل میں افغان صدارتی محل جاکر ’’میزبان اور اتحادی‘‘ افغان صدر سے ملاقات کے بجائے صدر اوباما واپس امریکہ روانہ ہو گئے اور فلائٹ کے ٹیک آف کرنے کے بعد صدر اوباما نے اپنے ’’ایئرفورس ون‘‘ طیارے سے صدر حامد کرزئی کو فون کر کے بتایا کہ 14جون کو افغان صدر کے انتخابات میں عبداللہ عبداللہ یا اشرف غنی میں سے کامیاب امیدوار صدارت سے امریکہ، افغان سمجھوتے پر دستخط کی بات ہو گی اور حامد کرزئی کے جانشین کو بتا دیا جائے گا کہ کتنے ہزار امریکی فوجی 2014ء کے بعد افغانستان میں کتنے عرصہ کیلئے قیام کریں گے۔

سبکدوش ہونے والے صدر کرزئی نے اس مذکورہ معاہدے کی تمام تفصیلات طے کرنے میں رول ادا کرنے کے بعد اس سمجھوتے پر دستخط سے انکار کردیا تھا جو کرزئی سے امریکہ کی ناراضی کا باعث بنا۔ چونکہ صدر حامد کرزئی اب سبکدوش ہونے والے ہیں اور صدارت کیلئے دونوں امیدوار عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی امریکہ، افغان سمجھوتے پر دستخط کرنے کا اعلان بھی کرچکے ہیں اور حامد کرزئی کی افادیت اور صدارت ختم ہونے کو ہے لہٰذا سفارت کاری، عالمی طاقتوں کے مفادات اور روایات کے مطابق حامد کرزئی کے ساتھ یہ رویہ قابل فہم ہے۔ یوں بھی حامد کرزئی کے خاندان نے امریکی اتحادی بن کر جو کرپشن، منشیات اور دیگر طریقوں سے خوب خوب ڈالر کما کر افغانستان سے باہر دولت کے جو ڈھیر لگائے اور عام افغان شہری کو مصائب میں مبتلا رکھا اس کا منطقی اور عملی انجام بھی سامنے آنا باقی ہے۔ تاریخ میں بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں اپنی ہی سرزمین اور لوگوں کے خلاف استعمال ہونے والے عناصر کو ایسے انجام سے دوچار ہونا ہی پڑتا ہے۔

امریکی صدر کا یہ چند گھنٹے کا دورہ بگرام پاکستان کے حکمرانوں، دھرنے اور ریلیاں والے اپوزیشن لیڈروں، میڈیا اور معاشرتی قائدین کیلئے دعوت فکر دیتا ہے اور خطے کی صورت حال اور مستقبل کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ صدر اوباما کے اس دورہ کے دوران خود امریکی حکام کی غلطی سے افغانستان میں امریکی سی آئی اے کے اسٹیشن چیف (یعنی سربراہ) کی نشاندہی بھی ہو گئی جسے فوراً ہی درست کرنے اور نام کو حذف کرکے اثرات زائل کرنے کی کوشش کی گئی مگر جزوی کامیابی ہوئی ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ماضی میں پاکستان میں تین مرتبہ امریکی سی آئی اے کے ’’اسٹیشن چیف‘‘ کا نام افشا ہوچکا ہے۔ ایسی صورت میں مذکورہ امریکی سفارت کار کو واپس بلا لیا جاتا ہے مختصر یہ کہ صدر اوباما اس سال ’’میموریل ڈے‘‘ کے موقع پر افغانستان میں امریکی فوجیوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرکے امریکہ پہنچ گئے جہاں 26 مئی کو ’’میموریل ڈے‘‘ کی رسومات اور فوجیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے اجتماعات میں بھی شرکت کی جبکہ جنوبی ایشیاء کے خطے کے سارک ممالک کے سربراہان حکومت نو منتخب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کیلئے دہلی میں جمع ہوچکے تھے اور صدر اوباما نے بھی امریکہ پہنچتے ہی فون کرکے نریندر مودی کو عہدہ سنبھالنے کی مبارکباد دی۔ بقول صدر اوباما امریکہ ’’افغانستان کی جنگ کا ذمہ دارانہ خاتمہ چاہتا ہے‘‘۔ اس کی مزید تفصیل اس کالم کی اشاعت کے روز بدھ 28 مئی کو صدر اوباما کی اس اہم تقریر میں متوقع ہے جو وہ امریکہ کی فوجی اکیڈمی ’’ویسٹ پوائنٹ‘‘ میں کریں گے۔ اس تقریر میں خارجہ پالیسی اور نیشنل سیکورٹی پالیسی میں بڑی اہم تبدیلیاں بلکہ ماضی کے برعکس تبدیلیاں متوقع ہیں۔ صدر اوباما کے حامی اس دورہ بگرام کے بعد یہ کہہ رہے ہیں کہ صدر اوباما نے اپنے سیاسی انتخابی وعدے کو پورا کر دیا کہ وہ عراق اور افغانستان کی جنگیں ختم کردیں گے۔ (عراق میں تو پھر خانہ جنگی شروع ہوچکی افغانستان میں کیا سامنے آتا ہے، خدا خیر کرے)۔ نئی افغان قیادت امریکی صدر کے جنگ کے ’’ذمہ دارانہ خاتمے کے مفہوم اور عمل سے بخوبی واقف اور تعاون کیلئے تیار نظر آتی ہے۔

افغان صورت حال کے اس تناظر میں حامد کرزئی کی طرح پاکستانی قیادت اور پاکستان میں امریکی دلچسپی اور اہمیت میں تبدیلی آرہی ہے بھارت میں مضبوط ’’ہندو نیشنلسٹ‘‘ حکومت کے قیام سے امریکہ مطمئن دکھائی دیتا ہے کہ بھارت پہلے ہی اپنے اردگرد واقع سارک ممالک کو بہتر طور پر ہینڈل کررہا ہے اب داخلی انتشار، دہشت گردی، معاشی ابتری اور عدم استحکام سے گھرے ہوئے پاکستان کو بھی بھارتی برتری کے خلاف مزاحمت کا زور توڑ کر بھارت کے ساتھ کشمیر اور پانی کے مسائل حل کئے بغیر تعاون پر آمادہ کرکے بھارت کے گرد سیکورٹی کیلئے دائرہ بڑھایا جائے اور پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کی ضرورت بھی ختم کرنے کی طرف پیش قدمی کی جا سکے۔

اس تناظر میں وزیر اعظم نواز شریف کا دہلی جانا اور نریندر مودی سے میل ملاقات اور ممکنہ ڈائیلاگ کا آغاز ایک مفید عمل تو ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ بھارت کی نئی قیادت پاکستان کے بارے میں اپنے انتخابی نعرے اور پارٹی کے انتہاپسندانہ منشور کے تحت پالیسی اختیار کرتی ہے یا پھر بھارت کے نئے دور کو معاشی ترقی اور تعاون کے تناظر میں دیکھتی ہے۔بھارتی کابینہ کے اراکین کے پروفائل بھی پاکستانی نقطہ نظر سے کوئی اچھے دکھائی نہیں دیتے۔ رسمی گرم جوشی سر آنکھوں پر مگر بھارتی قیادت کو بھی اٹل بہاری واجپائی کی طرح پاکستان کے وجود اور اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کی جانب دست تعاون بڑھا کر ماحول کو دو طرفہ اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے جس کے آثار ابھی نظر نہیں آتے۔ پاکستان کو جلد ہی امریکی امداد کی فیوض و برکات کے خاتمے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ پاکستان کے گرد گھیرا مکمل ہو رہا ہے۔ داخلی انتشار ’ریلیاں‘ دھرنے اور انقلاب کی سیاست کا شور بھی خوب ہے۔ امن و امان کی صورت حال سب کے سامنے ہے بحرانی کیفیت ہے۔ امریکہ پاکستان سے منہ موڑ رہا ہے۔ آنے والے حالات کی رفتار سنگینی اور شدت بڑھتی دکھائی دیتی ہے اور پاکستان کی قیادت، اپوزیشن اور ادارے اس صورت حال کا سامنا کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند