تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یمن کا 24 واں قومی دن
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 16 ذیعقدہ 1440هـ - 19 جولائی 2019م
آخری اشاعت: پیر 3 شعبان 1435هـ - 2 جون 2014م KSA 09:11 - GMT 06:11
یمن کا 24 واں قومی دن

22 مئی کو جنوبی و شمالی یمن جو علیحدہ علیحدہ ریاستیں تھیں کے انضمام سے جمہوریہ یمن وجود میں آیا جس کے بعد یمن کی ترقی کا نیا دور شروع ہوا اور یمن کی منڈیاں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کیلئے کھولی گئیں، اس طرح تیل، گیس، پورٹ اینڈ شپنگ، بینکنگ، ٹیلی کمیونی کیشن کے شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری نے یمن کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ مختلف ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے بارے میں قارئین سے شیئر کروں۔ یمن کے قومی دن کی 24 ویں سالگرہ پر میرا آج کا کالم بھی پاک یمن تعلقات پر ہے۔

گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی میں نے کراچی سندھ میں یمن کے اعزازی قونصل جنرل کی حیثیت سے جمہوریہ یمن کی 24 ویں سالگرہ کی تقریب مقامی ہوٹل میں منعقد کی جس میں وفاقی وزیر ٹیکسٹائل انڈسٹری سینیٹر عباس آفریدی، سینئر صوبائی وزیر تعلیم نثار کھوڑو، فلپائن کے سفیر ڈومینگو ڈی لوسینیاریو جونیئر، امریکہ، جرمنی، چین، بحرین، سعودی عرب، ایران، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کے قونصل جنرلوں، مراکش کے اعزازی قونصل جنرل اشتیاق بیگ، پولینڈ کے اعزازی قونصل عمیر بیگ، FPCCI کے صدر زکریا عثمان اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ٹیکسٹائل کے چیئرمین اکرم انصاری کے علاوہ مختلف ممالک کے سفارت کاروں، شہر کی معزز شخصیات، اعلیٰ سرکاری حکام، پارلیمنٹرینز، بوہری جماعت کے نمائندگان اور کراچی میں زیر تعلیم یمنی طلباء نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تقریب میں شرکت کے لئے پاکستان میں یمن کے سفیر عبدو علی عبدالرحمن خصوصی طور پر اسلام آباد سے کراچی تشریف لائے تھے۔ اس سال یمن کے قومی دن کی تقریب اس لحاظ سے اہمیت کی حامل تھی کہ جمہوریہ یمن کے صدر عبدالرباح منصور ہادی نے پاکستان اور یمن کے مابین تجارت، سرمایہ کاری اور ثقافت کو فروغ دینے پر میری خدمات کو سراہتے ہوئے مجھے یمن کا اعلیٰ قومی اعزاز ’’آرڈر آف میرٹ‘‘ عطا کیا جسے پاکستان میں یمن کے سفیر عبدوعلی عبدالرحمن نے یمنی صدر اور حکومت کی جانب سے یمن کے اعزازی قونصل جنرل کی حیثیت سے مجھے پیش کیا۔ اس موقع پر مجھے اپنی والدہ مرحومہ شدت سے یاد آرہی تھیں۔

دوران تقریب یمن کے سفیر نے یمن کے صدر کی جانب سے ایوارڈ کی Citation مہمانوں کو پڑھ کر سنائی اور بتایا کہ میرے اعزازی قونصل جنرل بننے کے بعد سے یمن اور پاکستان کے تعلقات تیزی سے فروغ پائے ہیں جبکہ پاکستان کی دو آئل اور گیس کمپنیوں PPL اور OGDC نے یمن میں تیل کے کنوئوں میں سرمایہ کاری بھی کی ہے۔ یمن کے قومی دن کے موقع پر خصوصی ایڈیشن شائع کئے گئے تھے جس میں یمن کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ابوبکر عبداللہ القربی اور پاکستان میں یمن کے سفیر عبدو علی عبدالرحمٰن نے یمن اور پاکستان کے قریبی تعلقات اور سندھ بلوچستان میں یمن کے اعزازی قونصل جنرل کی حیثیت سے میری تعیناتی کے بعد ہونے والے پاکستان اور یمن کی تجارت میں دگنا اضافے کو سراہا تھا۔

واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں اسلام آباد میں منعقدہ پاک یمن مشترکہ وزارتی اجلاس کے موقع پر کراچی اور عدن کو جڑواں شہر قرار دیا گیا تھا جس کے لئے ایڈمنسٹریٹر کراچی رئوف فاروقی نے باغ جناح کراچی میں ایک پروقار تقریب منعقد کی تھی جس میں شرکت کے لئے میرے ساتھ عدن کے گورنر خصوصی طور پر کراچی تشریف لائے تھے۔

یمن جس کی سرحدیں شمال میں سعودی عرب، مغرب میں بحیرہ مردار (Red Sea)، جنوب میں بحیرہ عدن اور بحیرہ عرب اور مشرق میں عمان سے ملتی ہیں، کی آبادی تقریباً 20 ملین نفوس پر مشتمل ہے۔ یمن ایک جمہوری ریاست ہے جس کا عدالتی نظام اسلامی قوانین کا پابند ہے۔ یمن کی معاشی ترقی کا زیادہ تر دارومدار تیل اور گیس کے ذخائر پر ہے جنہیں ایکسپورٹ کرکے تقریباً 90% ریونیو حاصل کیا جاتا ہے۔ یمن کا دارالحکومت صنعا ایک تاریخی شہر ہے جہاں کچھ سال قبل ایک عظیم الشان مسجد ’’جامع الصالح‘‘ تعمیر کی گئی تھی جس میں بیک وقت ایک لاکھ افراد نماز کی ادائیگی کر سکتے ہیں۔ یمن کا دوسرا بڑا شہر عدن خطے میں سب سے بڑے جدید کنٹینر ٹرمینل پورٹ کی حیثیت سے مشہور ہے۔ پاکستان اور یمن کی باہمی تجارت تقریباً 200 ملین ڈالر سالانہ سے زائد ہے۔ پاکستان، یمن کو چاول، فٹ ویئر، ٹیکسٹائل مصنوعات، انجینئرنگ کا سامان، زرعی مشینیں اور بجلی کے پنکھے ایکسپورٹ کر رہا ہے جبکہ یمن پاکستان کو چمڑے کی مصنوعات، اسٹیل اسکریپ، زیورات، شہد اور کافی ایکسپورٹ کر رہا ہے۔ ہر سال پاکستان ایکسپو میں شرکت کے لئے بزنس مینوں کا سب سے بڑا وفد یمن سے آتا ہے۔

یمن میں یوبی ایل بینک کی کئی برانچیں قائم ہیں جو یمن اور پاکستان کی تجارت میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔کچھ سال قبل سابق وزیراعظم شوکت عزیز میرے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد یمن لے کر گئے تھے جس میں، میں نے FPCCI کی نمائندگی کرتے ہوئے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی موجودگی میں یمن فیڈریشن آف چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کے ساتھ پاک یمن جوائنٹ بزنس کونسل کے قیام کے معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ پاک یمن مشترکہ وزارتی اجلاس باقاعدگی سے صنعا اور اسلام آباد میں منعقد ہوتے ہیں جن میں دونوں ممالک کے مابین تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، توانائی، ٹرانسپورٹ، بینکاری اور افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔

پاکستان اور یمن میں آئل اور گیس کے شعبے کے فروغ کیلئے میری سربراہی میں ایک ٹیکنیکل کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی جس میں یمن کی وزارت آئل اور قدرتی وسائل کے اعلیٰ عہدیداران شامل ہیں۔ اس سلسلے میں 2011ء میں، میں پاکستان میں LPG کی سب سے بڑی کمپنی کے سربراہ اور ان کی ٹیکنیکل ٹیم کو یمن لے کر گیا تھا اور ان کی ملاقات یمن کے وزیراعظم محمد بسنداوا، وزیر خارجہ ڈاکٹر ابوبکر عبداللہ القربی اور وزیر پیٹرولیم ہشام شراف سے کرائی تھی۔ واضح رہے کہ یمن میں کمپنیوں کو صرف تیل نکالنے کی اجازت ہے جس کے باعث کمپنیاں تیل کے ساتھ حاصل ہونے والی گیس یا تو زمین میں دوبارہ داخل کردیتی ہیں یا انہیں ہوا میں جلادیا جاتا ہے تاہم پاکستانی کمپنی نے ضائع ہونے والی گیس سے ایل پی جی نکالنے کا پروجیکٹ تجویز کیا ہے۔ یہ کمپنی ایسے ہی پروجیکٹ کے ذریعے پاکستان میں سوئی سدرن گیس سے ایل پی جی گیس حاصل کر رہی ہے۔

یمن میں دائودی بوہری برادری کی اہم زیارتیں ہیں جن کے روحانی پیشوا سیدنا طاہر برہان الدین کی یمن میں منائی گئی 98 ویں سالگرہ میں پاکستان سے بوہری برادری سے تعلق رکھنے والے تقریباً 10 ہزار افراد نے شرکت کی تھی۔ کراچی میں بوہری برادری کی جامعہ سیفیہ میں آج بھی یمنی اسکالر تعلیم دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں یمن کے سیکڑوں طلباء حکومتی وظیفے اور پرائیویٹ طور پر میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ یہ طلباء جب ڈاکٹر یا انجینئر بن کر اپنے وطن واپس جاتے ہیں تو پاکستان کے سفیر کے طور پر پاکستان میں میڈیکل اور انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم کے بارے میں اپنے لوگوں کو بتاتے ہیں، اس طرح پاکستان اور یمن میں میڈیکل ٹورازم فروغ پارہا ہے اور وہ یمنی خاندان جو علاج کے لئے یورپ اور مشرق وسطیٰ جاتے تھے، اب انہیں پاکستان میں اسلامی اور سستے علاج کی سہولتیں دستیاب ہیں۔ یمن میں کات کی کاشت بہت مقبول ہے۔ کات ایک خاص قسم کا پتہ ہوتا ہے جسے یمنی چوستے ہیں۔ یمنیوں کے بقول ان پتوں کے چوسنے سے کام کرنے کی صلاحیت تیز ہو جاتی ہے۔ حال ہی میں یمن کی حکومت نے پانی کے ضیاع کو روکنے کیلئے کات کی کاشت پر پابندی عائد کر دی ہے تاکہ اس پانی کو دوسری اہم فصلوں کیلئے استعمال کیا جاسکے۔

یمن کے قومی دن کے موقع پر اس سال مہمانوں کی تواضع یمن کی خصوصی ڈش ’’مندی‘‘ سے کی گئی۔ ہوٹل کے ہال کو یمن کے قومی پرچم کے رنگوں سے سجایا گیا تھا جبکہ تقریب کے اختتام پر یمنی طلباء نے عربی موسیقی پر یمنی رقص پیش کرکے ملکی اور غیر ملکی مہمانوں کو بہت محظوظ کیا۔ پاکستان، میری فیملی اور میرے لئے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ یمن کے صدر نے مجھے یمن کے اعلیٰ قومی اعزاز سے نوازا جس کے لئے میں یمن کے صدر، وزیراعظم، وزیر خارجہ اور یمن کے سفیر کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ ساتھ ہی میں اپنے اُن تمام دوستوں اور قارئین کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے یمن کا قومی اعزاز ملنے پر مجھے مبارکباد پیش کی۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند