تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عربوں کو سعودی عرب جیسا 'بزرگ باپ' چاہیے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 6 شعبان 1435هـ - 5 جون 2014م KSA 23:19 - GMT 20:19
عربوں کو سعودی عرب جیسا 'بزرگ باپ' چاہیے

گذشتہ بدھ کو امریکی صدر باراک اوباما کا 'ویسٹ پوائنٹ اکیڈیمی' میں خطاب سننے والا کوئی بھی سعودی عہدیدار اس کے علاوہ اور کیا نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ واشنگٹن اپنی لاتعلقی کا سلسلہ جاری رکھے گا اور اوباما کسی بھی تنازع کو حتمی انجام تک لے جانے کے لیے فوجی طاقت اس وقت تک استعمال نہیں کریں گے کہ جب تک ایسا کرنا انتہائی ناگزیر نہ ہو جائے، تاہم امریکی لاتعلقی کی یہ پالیسی لبنان کو خوب پسند آئے گی۔

ممکن ہے سعودی حکام اس بارے میں ایک دوسرے سے اتفاق نہ کریں کہ یہ محض اوباما کی پالیسی ہے یا امریکا کی مستقل پالیسی ہے کہ لاتعلق رہیں اور عدم مداخلت کو آصول اپنائے رکھیں۔ تاہم اس امر پر یقیناً دونوں کا اتفاق ہو گا کہ عدم مداخلت کی پالیسی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اوباما کی صدارتی مدت تک ہی جاری رہے گی۔ لیکن عرب بہاریہ سے شروع ہونے والی عرب دنیا کے لیے خرابی کو دو سال ملنا بہت زیادہ وقت ملنے کے مترادف ہو گا۔ ممکن ہے اتنی طویل مدت کے فراہم ہو جانے سے ایسے حالات پیدا ہو جائیں جو ریاض کے بھی طویل مدتی مفادات کے حق میں نہ ہوں۔

اس صورت حال میں سعودی ذمہ دار اپنے رفقائے کار سے پوچھتے ہیں ''تو پھر مسئلے کا حل کیا ہے؟'' اس سوال کا ایک جواب امام شافعی کے اس فرمودہ میں موجود ہے۔ ''جسم میں کجھلی کرنے کا جو کام کوئی شخص اپنے ناخن سے لے سکتا ہے کسی اور سے نہیں، اس لیے اپنے معاملات کو خود ہی دیکھنا چاہیے۔'' لہذا دیکھنا یہ ہے کہ کیا سعودی عرب اپنے تمام معاملات کو دیکھ سکتا ہے۔ یا عرب دنیا کے معاملات کو بھی دیکھ سکتا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی اور آپشن بھی نہیں ہے، یہ صلاحیت بڑے بھائی کے طور پر سعودی عرب کے پاس کافی حد تک موجود ہے۔

سعودی عرب کی ہر جگہ عزت کا ہونا، اس کی عسکری صلاحیت کا موثر ہونا اور ایک مستحکم ریاست کے طور پر اس کی شناخت ہونا بھی اس حیثیت کو دو چند کر دیتا ہے۔ تذویراتی حوالے سے سعودی عرب کی بصیرت اس کی ذمہ داریوں کو مزید بڑھا نے کا ذریعہ ہے۔

یہ صرف سعودی عرب ہے جو لیبیا میں اعلی سطح کا وفد بھیج سکتا ہے، تاکہ لیبیا میں باہم متحارب مختلف گروہ باہم ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق پر مائل ہوں نہ کہ ملک کو خانہ جنگی کی طرف گھسیٹیں۔ یہ بات صرف سعودی عرب کی ہی مانی جا سکتی ہے کہ مصر میں قومی مفاہمت کا ماحول پیدا ہو۔ بلا شبہ قومی مفاہمت مصر کی اہم ترین ضرورت ہے۔ خصوصا صدارتی انتخاب کے دوران میں کمزور کارکردگی کی وجہ سے ووٹوں کی شرح کم ہونے کے بعد مصر میں اس قومی مفاہمت کی ضرورت اور بھی زیادہ ہو گئی ہے۔

یمن کی مختلف جماعتوں کو متحد رکھنے میں بھی اگر کوئی ملک کردار ادا کر سکتا ہے تو وہ سعودی عرب ہی ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب ہی انہیں بامعنی انداز میں مذاکرات کی میز پر لا سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں خلیج کی طرف سے شروع کی گئی کوششیں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ یہ صلاحیت بھی صرف سعودی عرب کے پاس ہے کہ ترکی، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات کے فوجی سربراہان کو سعودی عرب میں اکٹھا کر کے مشترکہ چیلنجوں کی جانب متوجہ کر سکے اور شام میں کسی مداخلت پر غور کیلیے کہہ سکے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو اس صورت میں اوباما کو اپنی عدم مداخلت کی پالیسی میں فوری تبدیلی پر مائل ہونا پڑے گا۔ ایک مرتبہ جب صدر اوباما نے محسوس کر لیا کہ سعودی عرب کس قدر سنجیدہ ہے تو امریکا ایسے راستے پر ضرور چلے گا جو اوباما کی اس پالیسی سے بھی متصادم نہ ہو گا۔ امریکا سے باہر کسی نئی جگہ پر امریکا اپنا سپاہی نہیں بھیجے گا۔ اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی نہیں چاہتا ہے کہ امریکا آگے آ کر کردار ادا کے بلکہ ہم تمام یہی چاہتے ہیں کہ امریکا علاقائی ضرورت کے لیے مطلوبہ امداد فراہم کر دے جو ایران کے غرور کو انجام تک پہنچا سکے۔

سعودی محقق نواف عبید نے ہاورڈ یونیورسٹی میں اپنے ایک لیکچر میں کہا ہے کہ سعودی عرب یہ تمام کام کر سکتا ہے۔ مرکز برائے تزویراتی اور بین الاقوامی مطالعات میں سعودی دفاعی ڈاکٹرائن کے نام سے پیش کیے گئے اپنے مقالے میں نواف عبید کا کہنا تھا ''اس تاثر سے دور رہتے ہوئے کہ سعودی عرب ایک کمزور یا امریکا پر انحصار کرنے والی ریاست ہے سعودی عرب نے حالیہ برسوں کے دوران یہ ثابت کیا ہے کہ یہ عرب دنیا کا قائد ہے۔ اس نے خطے کو استحکام دیا ہے اور یہ منوایا ہے کہ دہشت گردی اور ایران کے مقابل یہی ایک ریاست کھڑی ہے۔''

عبید کے مطابق سعودی عرب کو جن تین خطرات کا سامنا ہے ان میں خطے میں افراتفری، حریف ایران اور دہشت گردی نمایاں ہیں۔ اس کا کہنا ہے سعودی عرب کو خطے کو قائدانہ کردار دے سکتا ہے اور اسے ایسا کرنا چاہیے تاکہ نام نہاد عرب بہاریہ کے ماحول میں عرب ممالک کو تعمیر و ترقی کے پروگراموں میں مدد دے۔

سعودی عرب کو مصر کے حوالے سے بھی اپنی اس پرانی پالیسی کو تبدیل کرنا ہو گا جو اس نے پچھلے کئی سال سے اختیار کر رکھی ہے۔ بلاشبہ یہ درست پالیسی ہے لیکن سعودی عرب کو اس سچ کو قبول کرنا ہو گا کہ اب مصر شراکت کے تقاضے نبھانے کی پوزیشن میں نہیں رہا ہے۔ مصر کو اپنی یہ صلاحیت بحال کرنے میں مدد دینے کے لیے سعودی عرب کو بڑے بھائی کا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس سعودی کردار کے نتیجے میں مصر قومی مفاہمت کی طرف آ سکے گا۔ اسی سے مصر میں استحکام آئے گا اور اس کا پہلے والا کردار واپس آئے گا۔ شام کی تباہی سے دوچار صورت حال، لیبیا اور یمن کی حالت یہ سب مصر کے ہاں بہتری آنے سے بہتر ہو گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ سعودی عرب اپنی ذمہ داری خود ادا کرے۔

سعودی عرب یہ سب کچھ اپنی مدد آپ کے تحت کر سکتا ہے۔ نواف عبید کا یہ بھی کہنا ہے کہ سعودی عرب کے امریکا پر انحصار کا تصور سخت غلط ہے۔ سعودی عرب کو چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیت کو متوازی انداز مں آگے بڑھائے اور یہ کوشش کرے کہ کسی کو بھی اپنی کمزوری سے فائدہ نہ اٹھانے دے۔

مملکت سعودی عرب نے اپنی عسکری طاقت کو تیزی سے بڑھایا ہے۔ رواں سال سعودی عرب نے اپنی افواج کو موثر بنانے کیلیے ایک سو پچاس ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ایک سو ارب ڈالر اسلحہ کی خرید داری اور امریکا سے تربیت کے لیے مختص کیے ہیں۔ سعودی افواج پر اخراجات میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ نیشنل گارڈز کے لیے بجٹ میں 35 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح فضائی دفاع اور بحری دفاعی ضرورتوں پر بھی تیس سے پچاس فیصد رقم مزید بڑھا دی گئی ہے۔ عبید کے بقول سعودی دفاع پر اخراجات بڑھانے کا مطلب امریکا اور مغربی ملکوں کے ساتھ تعلقات میں کمی نہیں ہے بلکہ اس سے مشرق وسطی کی مضبوطی ہو گی۔ یہ مضبوطی امریکا اور مغربی ملکوں کے بھی مفاد میں ہے۔

سعودی عرب نے بحرین کے حوالے سے اپنی یکطرفہ پالیسی کا آغاز کیا تو مغربی دنیا نے سعودی عرب کی تائید کی۔ لہذا سعودی عرب یہی پالیسی کسی دوسرے کے لیے بھی اپنا سکتا ہے۔ خصوصا تمام فریقوں کے ساتھ غیر جانبدار رہتے ہوئے۔ یقینا اس صورت میں تمام فریق سعودی عرب کا خیر مقدم کریں گے بلکہ اس کے لیے امید بھی رکھیں گے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند