تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
صدر اوباما اور صدرممنون حسین کی تقریروں کا موازنہ ؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 5 شعبان 1435هـ - 4 جون 2014م KSA 08:45 - GMT 05:45
صدر اوباما اور صدرممنون حسین کی تقریروں کا موازنہ ؟

صدر پاکستان ممنون حسین کا پارلیمینٹ سے پہلا خطاب بڑی توجہ سے یوں سنا کہ داخلی انتشار، خراب معیشت، دہشت گردی، بدامنی اور یکے بعد دیگرے بحرانوں کے شکار پاکستان کے بارے میں وفاقی مملکت کے سربراہ (State of the Union)یعنی مملکت کی صورت حال اور سمت کیا بیان فرماتے ہیں۔ چونکہ محترم ممنون حسین سے مسلم لیگ (ن) کے مشکل اوراقتدار سے محرومی کے آیام سے ذاتی شناسائی بھی رہی ے لہٰذا ذاتی دلچسپی اور توجہ بھی زیادہ مرکوز تھی۔ ان کے خوش کن اور حوصلہ افزا 30 منٹ سے زائد کے خطاب سے یہ تاثر ملا کہ وفاقی مملکت اپنے تمام اندرونی اور بیرونی مسائل کو حل کرنے کے لئے اطمینان بخش انداز میں مصروف کار ہے۔ پاکستان کے عالمی وقار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ علاقے میں پاکستان اپنے مسائل اور معیشت کے سلسلے میں بھی درست سمت میں جا رہا ہے دور حاضر کی عالمی سپر پاور اور پاکستان کے اتحادی امریکہ سے بھی باہمی احترام کے ساتھ تعلقات بہت بہتر ہیں مختصر یہ کہ گو کہ کچھ مسائل باقی ہیں مگر پاکستان کی صورت حال خطرات سے پاک پرسکون اور ہر سمت میں مثبت اور تعمیری انداز کی حامل ہے۔ امریکہ میں رہنے والے تمام پاکستانیوں کی دلی خواہش بھی یہی ہے کہ خدا کرے صدر ممنون حسین کی یہ تقریر لفظی اور عملی اعتبار سے بالکل درست ثابت ہو لیکن امریکی صدر اوباما نے گزشتہ ہفتے اپنے دو خطابات میں امریکہ کی خارجہ اور سیکورٹی پالیسی میں جن اہم تبدیلیوں کی ’’آئوٹ لائن‘‘ دی ہے وہ افغان جنگ کے بارہ سالوں میں امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی اور اس سے قبل بھی کمیونزم، سوویت یونین، کوریا اور ویتنام کی جنگوں سمیت امریکہ کو درپیش تمام چیلنجوں میں امریکہ کے اتحادی کی طویل تاریخ رکھنے والے پاکستان کے لئے مستقبل قریب میں تشویش، خطرات اور امریکی لاتعلقی بلکہ ناراضی کی واضح نشاندہی کررہے ہیں گویا صدر ممنون حسین اور صدر امریکہ بارک اوباما کے خطابات میں پاکستان کے مستقبل قریب کے بارے میں بڑا واضح اختلاف بلکہ تضاد نظر آتا ہے۔

قارئین صدر ممنون حسین کے خطاب کے متن سے بخوبی واقف ہیں۔ آیئے امریکی صدر اوباما کے گزشتہ ہفتے کے اس اہم خطاب کا جائزہ لیں جو انہوں نے نیویارک کے نواحی علاقے ویسٹ پوائنٹ میں واقع امریکی ملٹری اکیڈمی میں ٹریننگ اور تعلیم سے فارغ ہونے والے نوجوان فوجیوں کی گریجویشن کی تقریب سے کیا اور اس خطاب کے بارے میں پہلے سے تمام ذرائع ابلاغ خارجہ اور سیکورٹی پالیسی میں اہم تبدیلیوں کے اعلان کا نام دے رہے تھے۔ صدر ممنون حسین کے پاکستان کے بارے میں حوصلہ افزا اور خوش کن تاثر کے مقابلے میں امریکی صدر کا خطاب پاکستان سے محبت رکھنے والوں کے لئے خاصی تشویش اور عملی طور پر پریشانی کا باعث ہے بلکہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو ایک مضبوط ڈھال سمجھنے والوں کے لئے بھی سنجیدہ فکر کی دعوت دیتا ہے اور میڈیا کی آزادی کو ٹھکانے لگانے، حصول اقتدار اور حکومت کو گرانے کے دھرنے اور ریلیاں نکالنے، معاشرتی اور معاشی افراتفری کو ہوا دینے والے عناصر کو بھی حب وطن کے تقاضوں پر نظر ڈالنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔ مئی کے آخری ہفتے میں واشنگٹن سے کابل کا 13گھنٹے کا رات کے اندھیرے میں خاموش اور خفیہ سفر اور پھر چند گھنٹے بگرام ایئر بیس پر امریکی فوجیوں کے ساتھ گزار کر کابل سے واشنگٹن کا واپسی کا سفر کرنے کے دوران صدر اوباما نے اشارے دینا شروع کردیئے تھے امریکی صدر اپنی صدارت کے دوران بدامنی اور خطرات سے معمور افغانستان کے دورے کرچکے بھارت کا دورہ بھی بڑے اہتمام سے کرلیا لیکن امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی پاکستان کی سرزمین پر ابھی تک قدم نہیں رکھا؟ آخر یہ حقیقت کس بات کی ترجمانی کرتی ہے۔

امریکی صدر اوباما نے اپنی نئی خارجہ اور سیکورٹی پالیسی کی ’’آئوٹ لائن‘‘ دیتے ہوئے کہا:

(1)امریکہ کو کسی سے اجازت کی ضرورت نہیں۔ جب اور جہاں کہیں امریکی مفادات، معیشت اور امریکہ کے اتحادیوں کو خطرات لاحق ہوں گے امریکہ وہاں کسی کی اجازت لئے بغیر طاقت استعمال کرنے کا حق استعمال کرے گا۔

(2 )یہ تاثر غلط ہے کہ امریکہ تنزلی کا شکار ہے بلکہ امریکہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہتر اور گلوبلائزیشن کے تقاضوں اور مشکلات سے ڈیل کرنے کی صلاحیت اور عزم رکھتا ہے۔ امریکہ تنہائی (Isolation) میں نہیں بلکہ عالمی اسٹیج پر دنیا کی قیادت کرتا رہے گا اور امریکی سرحدوں سے باہر بھی امن قائم رکھنے کے لئے رول ادا کرتا رہے گا۔

(3) جہاں کہیں امریکہ کے لئے اکیلے جانا مناسب نہیں ہو گا وہاں ڈپلومیسی، پابندیاں، متعلقہ ملک کو تنہا کرنے اور اپنے اتحادی ممالک کو ساتھ ملا کر اقدامات کئے جائیں گے۔ (ایران اور یوکرین کی مثالیں سامنے ہیں)۔

(4)دہشت گردی اب بھی سب سے بڑا خطرہ ہے۔ القاعدہ کو پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں منتشر کیا جاچکا ہے مگر القاعدہ کے ذیلی گروپ موجود ہیں لہٰذا دہشت گردی کے انسداد کا کام جاری رہے گا اور پانچ ارب ڈالرز کا انسداد دہشت گردی کے لئے نیا فنڈ قائم کیا جاچکا ہے۔

(5)دنیا میں ابھی ایٹمی مواد غیر محفوظ انداز میں موجود ہے اور یہ امریکہ کے لئے خطرہ ہے۔ گویا امریکہ کے لئے ناقابل قبول ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ممالک امریکہ کے لئے خطرہ ہیں قارئین کرام اور پاکستان کے مقتدر حلقے اور محافظان پاکستان اس پر غور و فکر فرمائیں۔ صدر اوباما نے اپنے اس خطاب میں یہ بھی کہا کہ اسامہ بن لادن کو ختم کیا جاچکا ہے۔ ڈرونز کا استعمال امریکہ جاری رکھے گا۔

(6)امریکہ عالمی اداروں، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، اقوام متحدہ اور عالمی امن کے اداروں کے رول کی حمایت کی جائے گی اور امریکہ کو لاحق خطرات کے خلاف ملٹی لیٹرل ایکشن کے لئے ان اداروں اور امریکہ کے اتحادی ممالک کو تیار کیا جائے گا۔ جمہوریت اور فری مارکیٹ کے فروغ کا مشن جاری رکھا جائے گا شام کے بحران کے حل کے لئے اس کے ہمسایہ ممالک ترکی، اردن اور دیگر ممالک کو کام میں لائیں گے۔ صدر اوباما کے خطاب کی ان چند اہم باتوں کے علاوہ امریکی رویہ جنوبی ایشیا میں امریکی پالیسی اور پاکستان کو نظرانداز کرنے کی مسلسل پالیسی سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ امریکہ کو اب اپنے اتحادی پاکستان کی ضرورت نہیں رہی امریکی دوستی، امداد اور تعاون کا مرحلہ ختم ہورہا ہے۔

مذکورہ بالا نکات کی روشنی میں دہشت گردی، ایٹمی مواد، بدامنی، بھارت امریکہ اتحاد، ابھرتے ہوئے افغانستان میں پاکستان مخالف قیادت کا انتخاب اور منظر عام پر آنااہل پاکستان کے لئے مزید سوچ اور عمل کی دعوت دیتا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کی بھارت کے لئے آگے بڑھ کر تعاون اور تجارت کی کوشش کا نریندر مودی کی حکومت نے جو جواب دیا ہے اور وہ جس منشور کی بنیاد پر منتخب ہوئے ہیں اسے بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ مسلم دنیا میں لبنان سے شام، عراق اور ایران تک کے خطے میں آج کی دنیا کی سب سے بڑی خانہ جنگی نہ صرف جاری رہے گی بلکہ اس میں وسعت کا بھی امکان ہے غرض اکیسویں صدی میں عرب اور مسلم دنیا میں مزید انتشار اور تنزلی انا باقی ہے۔ چین کےگرد گھیرا تنگ کرنے کا ایک مرحلہ جنوبی ایشیا میں مکمل ہونے کو ہے۔ پیسفک کے علاقے میں چین کو گھیرنے کا کام جاری ہے تو جنوبی ایشیا میں چین کے واحد دوست پاکستان کو امن و سکون اور استحکام کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے بھارت کے گرد سیٹلائٹ ممالک کا دائرہ مکمل کرنے میں ماریشس، مالدیپ، بھوٹان، نیپال، سری لنکا، بنگلہ دیش تو پہلے ہی بھارت کی تابعداری میں لائن لگائے اب پاکستان کو بھی بھارت کے ایسے ہی معاون کا روپ دینے کے لئے بھی اقدامات کی ضرورت ہو گی۔ امریکی صدر کے خطاب میں بیان کردہ اس نئی پالیسی کا تجزیہ صدر ممنون حسین کے خوش کن خطاب سے میل کھانے کے بجائے متضاد نظر آتا ہے۔ خدا پاکستان کی خیر رکھے یہ ہماری شناخت ہے۔
بہ شکریہ روزنامہ’’جنگ‘‘
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند