تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکا بھی خوش، راضی رہے چین بھی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 11 شعبان 1435هـ - 10 جون 2014م KSA 09:37 - GMT 06:37
امریکا بھی خوش، راضی رہے چین بھی

اسے حسن اتفاق کہئیے یا کاروباری بساط پر دو زبردست عالمی طاقتوں کی پیش رفت کہ گشتہ دنوں امریکی نائب وزیر مملکت برائے خارجہ نیشا دیسائی بسوال کے دورے کے بعد چین کے وزیر خارجہ وانگ یی دورہ ہند پر تشریف لائے ہیں۔ جیسے رسہ کشی کے بیچ میں بندھے رومال کو دو ٹیمیں اپنی طرف کھینچنے کی سعی کرتی ہیں، اسی طرح درمیان میں کھڑے ہندوستان کو امریکا اور چین اپنی طرف کھینچنے کے جتن کر رہے ہیں۔ اب یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ عالمی برادری کے ان دو قطبوں میں سے کس پر انحصار کریں۔

بلاشبہ آج دنیا میں امریکا کا بول بالا ہے۔ ان دونوں امریکا کی سالانہ جی ڈی پی 16 ہزار کروڑ ڈالر ہے جبکہ چین کی مذکورہ مجموعی قومی آمدنی امریکا کی نصف یعنی تقریبا 8 ہزار کروڑ ڈالر ہے تاہم دونوں کی اقتصادیات میں بعد المشرقین ہے۔ امریکا کی شرح نمو 2 فیصد ہے جبکہ چین کے 7 فیصد ہے۔ چنانچہ آئندہ چند برسوں میں امریکا پر سبقت حاصل کرتے ہوئے راوی چینی معیشت کے حق میں چین ہی چین لکھتا ہے۔

امریکا کا سنگین مسئلہ قرض ہے۔ معاشی نظام میں جی ڈی پی کا تخمینہ عموما قرض کے بوجھ کی مناسبت سے لگایا جاتا ہے۔ جس طرح کسی ٹیکسی کے مالک کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ روپے ہو تو 5 لاکھ کا قرض ادا کرنا بھاری پڑتا ہے۔ اسکے برعکس کسی ٹریلر مالک کی سالانہ یافت 20لاکھ روپے ہو تو مذکورہ 5 لاکھ روپے کا قرض معمولی نظر آتا ہے۔ اسی طرح ماہرین معیشت کی دانست میں قرض اگر جی ڈی پی سے زیادہ ہو تو اس ملک کے معاشی نظام کو کمزور مانا جاتاہے۔ سنہ 2007ء میں امریکا کا قرض اسکی مجموعی سالانہ آمدنی کے 67 فیصد تھا۔ آج وہ جی ڈی پی سے بھی کچھ زیادہ ہو گیا ہے۔ لہٰذا آج امریکا کو کمزور معاشی طاقت سمجھنا چاہیے۔

یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ امریکی حکومت کا خسارہ تیزی سے گھٹ رہا ہے۔ سنہ 2012 ء میں اسکا خسارہ 106 ہزار کروڑ ڈالر تھا جو کہ 2013ء میں 56 ہزار کروڑ ڈالر رہ گیا ہے۔ لیکن یہ رقم اب بھی خاصی بھاری بھرکم ہے ۔ جریدہ یو ایس ٹو ڈے کے مطابق اس تخفیف کے باوجود اس کے مجموعی قرضوں میں متواتر اضافے کا رجحان ظاہر ہو رہا ہے۔ مثلا فی زمانہ امریکا پر 17 ہزار کروڑ ڈالر کا جو بوجھ ہے وہ آئندہ دس سال میں 27 ہزار کروڑ ڈالر ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ چنانچہ قرضوں کے اس دلدل سے امریکا کے ابھرنے کے امکانات کم ہی ہیں۔ گویا کہ وہ ملک ابھی ٓئی سی یو سے باہر ٓکر بھی اسپتال داخل ہی ہے۔ اندر سے وہ سپر پاور کمزور ہو گیا ہے۔ واضح رہے کسی بیمار شخص کو اگر گلوکوز پلا دیا جائے تو وہ کچھ عرصے کیلئے چلنے پھرنے لگتا ہے۔ اسی طرح امریکا بھی گلوکوز پر زندہ ہے۔

چین کا ماجرا عین برعکس ہے۔ وہ ملک مقروض ہونے کے معاملے میں صفر ہے بلکہ اس نے تقریبا 2 ہزار کروڑ ڈالر کا قرض امریکا کو دے رکھا ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ ہم خسارے سے دوچار ایک عظیم الشان بینک اور خاصا منافع کمانے والے دیگر چھوٹے بینک کے بیچ کسی کو اپنے لئے منتخب کر رہے ہیں۔ ایسے صورت میں میں تو اپنی رقم فائدے میں رہنے والے چھوٹے بینک ہی میں جمع کرائوں گا کیونکہ بڑا زبردست بینک کب منہ کے بل گر جائے گا اسکی پیش قیاسی دشوار ہوتی ہے۔

امریکا اور چین کے بیچ انتخاب کرنے کا دیگر پیمانہ جدید ترین تکنیکوں سے منسلک ہے۔ اس میدان میں بھی فی الحال امریکا کا بول بالا ہے۔ سپر کمپیوٹر، پیٹریاٹ میزائل، نیوکلیائی تحقیق وغیرہ تکنیکیں امریکا کے پاس ہی ہیں۔ امریکا کی اس مہارت کا دار و مدار اس ملک کی اعلیٰ تکینکی تعلیم پر ہے۔ امریکی یونیورسٹیوں میں بہترین تعلیم مہیا کرائی جا رہی ہے۔ اسکی یونیورسٹیوں کے سند یافتہ انجینئروں کے ذریعہ سپر کمپیوٹر جیسی اشیا ایجاد کی جا رہے ہیں۔ لیکن یہاں چین سمیت ہندوستان بھی تیزی سے سائنسی ترقی کی منزلیں سر کر رہے ہیں۔ امریکا کی اسٹین فورڈ یونیورسٹی نے برازیل، روس، ہندوستان اور چین میں جاری اعلیٰ تعلیم کا تقابلی جائزہ لیا ہے۔ اس نے اپنی مشاہداتی رپورٹ میں یہ آشکار کیا ہے کہ چین میں گریجویشن کی سطح پر تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد سنہ 2000ء میں 30 لاکھ سے بڑھ کر 2010ء میں 120 لاکھ ہو گئی ہے۔ یہ ممالک اعلیٰ تعلیم کے مخصوص اور باوقار اداروں میں خاصی سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ ان کے فارغ التحصیل گریجویٹ بھی امریکا اور یورپ کے طلبہ کی مسابقت میں کھڑے رہ سکیں۔ انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس میں انکے گریجویٹ ترقی یافتہ ملکوں کے مساوی اہلیت حاصل بھی کر رہے ہیں۔

لیکن عام کالجوں میں وسائل کا فقدان ہے اور تعلیمی معیار بھی کمزور ہے۔ اس تحقیقاتی مطالعہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں چین، امریکا سے ہم پلہ ہونے کو ہے۔ ہر چند کہ عام کالجوں کی خستہ حالی کو میں اہمیت نہیں دیتا کیونکہ یہاں موضوع جدید تکنیکوں کے فروغ کا ہے۔ یہ نت نئی تکنیکیں مخصوص سائنسدانوں کے ذریعہ ایجاد کی جاتی ہیں۔ خیر سے آج ہمارے آئی آئی ٹی اداروں کے انجینئر ترقی یافتہ ملکوں کے مساوی ہیں۔ انہی کے ذریعہ ایجادات کی جاتی ہیں۔ چنانچہ نئی تکنیکوں کے معاملے میں امریکی بالادستی روبہ زوال ہے۔

آئندہ عشروں میں ہم دیکھیں گے چین اور ہندوستان میں بھی جدید تکنیکیں فروغ پانے لگیں گی۔ امریکا میں نئی تکنیکوں کی ایجاد میں غیر ملکی سائنسدانوں کا خصوصی اشتراک ہے ایک سائنٹیفک امریکی میگزین کے مطابق امریکا میں انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس اور فزکس میں آدھے سے زیادہ پی ایچ ڈی بیرونی طلبہ کو دی جا رہی ہے۔ اسی میگزین نے یہ انکشاف کیا ہے کہ امریکی اسکولوں کے ذریعہ خاطر خواہ تعداد میں اہل گریجویٹ پاس نہیں کئے جا رہے ہیں جو اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اپنا مقام بنا سکیں۔ مذکورہ میگزین نے اظہار افسوس کیا ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے ذریعہ ادا کئے گئے ٹیکس سے امریکا کے ذریعہ غیر ملکی طلبہ کو بہترین علم عطا کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ ان دنوں بڑی تعداد میں طلبہ بیرون ملک تعلیم حاصل کر کے اپنے وطن کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ یہ طلبہ جدید ترین تکنیکوں کو اپنے ساتھ وطن لا رہے ہیں۔ لہٰذا آئندہ برسوں میں امریکا کو چین اور ہندوستان جیسے ملکوں سے سخت مقابلہ آرائی درپیش ہو گی۔ آج امریکا جو پوزیشن نمبرون ہے وہ اسے قائم رکھنا دشوار ہو گا۔ لب لباب یہ کہ امریکا اور چین کے بیچ اپنے بزنس پارٹنر کا انتخاب کرے کیلئے ہمیں جزوقتی اور طویل المیعاد حالات کا متفرق جائزہ لینا ہو گا۔

ہر چند کہ فی الحال حالات امریکا کے حق میں ہیں۔ امریکا ہی دنیا کی سب سے بڑی معیشت، اعلیٰ تعلیم اور تکنیکوں میں بھی امریکا آگے ہے لیکن حالات اسکے برعکس ہیں۔ امریکا بھاری قرضوں سے دبا ہوا ہے اور لمبے عرصے تک دبا رہے گا جبکہ چین دوسروں کو قرض دے رہا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے لحاظ سے چین امریکا کو ٹکر دینے کی حالت میں پہنچ گیا ہے۔ مستقبل میں امریکا کی تکنیکی صلاحیت بھی دبائو میں آجائے گی۔ چنانچہ ہمیں فی الحال امریکا سے خوشگور تعلقات قائم رکھتے ہوئے چین کے ابھرتے ہوئے سورج کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہیے یعنی ہم کسی فیکٹری کے لیے اعلی تکنیک جو امریکا سے خریدیں لیکن شراکت چین کے ساتھ کریں تاکہ

باغباں بھی خوش رہے، راضی رہے صیاد بھی

بشکریہ روزنامہ 'انقلاب' ممبئی

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند