تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کراچی ایئر پورٹ : اوورسیز پاکستانی اور امریکہ کے ڈاکٹرز ؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 جمادی الاول 1441هـ - 18 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 12 شعبان 1435هـ - 11 جون 2014م KSA 12:22 - GMT 09:22
کراچی ایئر پورٹ : اوورسیز پاکستانی اور امریکہ کے ڈاکٹرز ؟

کراچی کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طالبان کا حملہ اوورسیز پاکستانیوں کیلئے ایک نئی تشویش اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اہلیت کے بارے میں بہت سے سوالات کو جنم دے گیا ہے جبکہ پاکستان کے حکومتی اداروں اور اہل پاکستان کیلئے یہ واقعہ انتہائی سنگین نوعیت رکھتا ہے۔ اب چاہے کوئی تاویل دی جائے کہ دہشت گردوں کامنصوبہ بہت بڑی تباہی پھیلانا تھا جوناکام ہوگیا یاکوئی اور موقف اختیار کرکے ذمہ داری سے بچنے اور ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جائے لیکن اٹل حقیقت یہ ہے کہ انٹیلی جنس موثراور کامیاب وہی ہے جو دہشت گردوں اور تخریب کاروں کو تباہی کے منصوبے پر عمل کرنے سے پہلے ہی قلع قمع کردے ورنہ کامرہ کمپلیکس، مہران نیول بیس اور دہشت گردی کے دیگربڑے واقعات کے بعد بھی دل بہلانے کے حکومتی موقف محض بیانات ہی ثابت ہوئے اور عوام میں حکومتی اداروں کے امیج اور ساکھ میں بدستور کمی جاری ہے۔ 11ستمبر کے سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے وقت پاکستان کے مطلق العنان آمر پرویز مشرف نے امریکہ سے آٹھ منٹ کی کال پر جب کوئی مذاکرات کئے بغیر امریکی اتحادی بننے اور افغانستان میں جنگ میں ساتھ دینے کا غیر مشروط اعلان کرتے ہوئے اس فیصلے کو پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کیلئے مفید قرار دیا تھا تو جنگ میں راقم نے اپنے کالم میں عرض کیا تھا کہ اگر اس اتحاد کے خاتمے پر آپ مجھے آج کا مسائل زدہ پاکستان اسی حالت میں لوٹادیں گے تو میں پرویز مشرف کے اس فیصلے کو سلام کروں گا۔

2001ء کے پاکستان کے مقابلے میں آج کا پاکستان آپ کے سامنے ہے۔ کراچی ایئرپورٹ کے واقعے سے ہونے والی تباہی، انسانی اموات اور ملک کی عالمی بدنامی اور ناکام ہوتی ریاست کا امیج ابھرنے کی تلافی ناممکن ہے ایسے واقعات کے بعد مغربی ممالک ایٹمی پاکستان کے بارے میں اپنے ایجنڈے کے مرکزی آئٹم کی جانب مزید پیشرفت کرنے کا جواز پیش کر سکتے ہیں۔ بل فائٹنگ کے کھیل میں بل کو تھکانا ہی بل فائٹر (میٹارڈ) کی حکمت عملی ہوتا ہے تاکہ بل پر قابو پایا جاسکے۔

انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طالبان کایہ حملہ بیرون ملک آباد پاکستانیوں کیلئے انتہائی تشویشناک صورت حال پیدا کر گیا ہے۔ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور دیگر ممالک کے اسکولوں میں گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے بچوں کے ہمراہ آبائی وطن پاکستان آنے والے ہزاروں اوورسیز پاکستانی کیوں اور کیسے آئیں؟ جب ایئرپورٹ ہی محفوظ نہیں تو وہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنے آبائی گائوں یا شہر بحفاظت کیسے پہنچیں گے؟وہ اپنے بچوں کی پاکستان سے دلچسپی اور کشش کو برقرار رکھنے کے لئے کوشش کر کے انہیں ساتھ لاتے ہیں اب ایئرپورٹ پر حملہ اور تباہی کے اثرات سے بچا کر اپنے بچوں میں پاکستان کی کشش کیسے برقرار رکھیں گے؟اگر ایئرپورٹ بھی محفوظ نہیں تو غیرممالک میں امن و امان اور سیکورٹی کے حالات میں پلنے والے بچوں کو اپنے آبائی گھروں تک بحفاظت پہنچنے کا یقین کیسے دلائیں؟ غیرممالک میں آباد اوورسیز پاکستانیوں کے خاندان ان پاکستانی حکمرانوں اور حکومتی اداروں سے ایسے بہت سے سوالات کا جواب چاہتے ہیں کیونکہ یہ حکمراں اور حکومتی اداروں کے نمائندے اپنے بے عمل بیانات میں بیرون ملک آباد پاکستانیوں کو ’’ایمبسڈرز آف پاکستان‘‘ کا خطاب دیتے ہوئے نہیں تھکتے۔

پھر بھی یہ پاکستان ہر سال بارہ ارب ڈالرز کازرمبادلہ آبائی وطن پاکستان کو بھیج کر اس کی معیشت کو سہارا دیتے اور پاکستان سے محبت کا اظہار کرتے ہیں پاکستان کی موجودہ حالت کے ذمہ دار عوام نہیں بلکہ فوجی اور سول حکمرانوں کے غلط فیصلوں اور اقتدار کی طوالت کے لالچ میں کئے جانے والے فیصلے ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کیلئے ’’پاکستان کے سفیر‘‘ کی لفظی تعریف کے مقابلے میں عملی صورت حال یہ ہے کہ جب وہ اپنی محنت کی کمائی سے پاکستان میں پلاٹ یا جائیداد خریدتے ہیں تو ان کی خرید کردہ جائیداد پر لینڈ مافیا کاقبضہ ، جعلی کاغذات کے ذریعے اس کی ملکیت کومشکوک بناکر نہ صرف جائیداد اور بزنس پر قبضہ کرلیا جاتا ہے بلکہ عدالتی چارہ جوئی اور حق واپس لینے کے لئے کئی سال کا انتظار، وکیلوں کی فیس، دھمکیوں اور دشمنی کے خطرات کا کئی سال سامنا کرنا پڑتا ہے صرف اتنا ہی نہیں بلکہ مظلوم ہونے کے باوجود انصاف کی تلاش میں ان بے بس ’’اوورسیز‘‘ پاکستانیوں سرکاری حکام اور کرپٹ نظام کے ہاتھوں براسلوک بھی برداشت کرنا پڑتا ہے ایسے درجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں حقیقی واقعات ریکارڈ پر ہیں۔

کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے ایئر پورٹس پر اتر کر فاصلے پر واقع اپنے آبائی گھروں اور علاقوں تک سفر کے دوران کتنے ہی اوورسیز پاکستانی اپنے بچوں کی شادی یا عزیزوں کی شادی کیلئے جو کچھ ساتھ لیکر گئے وہ تمام ڈالرز، زیور اور تحائف گھر پہنچنے پر جرائم پیشہ مافیا اور ڈکیتی کی نذر کرکے مایوس اور پریشان خالی ہاتھ واپس آگئے اور ان کا مال ومتاع نہ کبھی برآمد کیا گیا اور نہ ہی کبھی واپس ملا پھر بھی یہ اوورسیز پاکستانی اپنے پاکستان سے محبت کرتے ہیں مگر غیر ممالک میں پلنے والے اپنے بچوں کو ایئر پورٹس اور شاہراہوں کے محفوظ ہونے کا یقین کیسے دلائیں۔ یہ صورت حال غیر ممالک میں پاکستانیوں کی نئی نسل کو پاکستان سے لاتعلق کردے گی صرف صورت حال اتنی ہی نہیں ہے بلکہ پاکستان سے باہر بھی بعض اوقات اوورسیز پاکستانیوں کو حکومت کے سرکاری نمائندوں کے آمرانہ رویوں کاسامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ مئی کے مہینے میں ہونے والا ایک واقعہ اور اس پر پاکستانی ڈاکٹروں کا امریکہ میں ردعمل پر مبنی ایک واقعہ سنئے اور تجزیہ کرکے فیصلہ خود فرمالیں۔ امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کا ممتاز اور تعلیم یافتہ طبقہ پاکستانی، امریکن ڈاکٹرز ہیں جو امریکی کانگریس وغیرہ میں بھی پاکستان کیلئے لابی کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

ان ڈاکٹروں کی تنظیم ’’اپنا ‘‘ (A.P.P.N.A) پاکستانیوں کی سب سے فعال تنظیم ہے۔ اس تنظیم کے ایک سرگرم رکن ڈاکٹر مہدی قمر پاکستان جاکر انسانی خدمت اور فلاحی کاموں میں خدمات بھی انجام دیتے اور ڈالرز بھی خرچ کرتے وہ اپنے بچوں کو بھی پاکستان سے وابستہ رکھنے کیلئے پاکستان لاتے ریاست اوہایو کے ڈاکٹر مہدی قمر مئی میں اپنی بیٹی اور اہلیہ کے ہمراہ پاکستان میں اپنے آبائی قبرستان میں اپنے بزرگوں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے بعد واپس آرہے تھے کہ اپنی آبائی قبروں سے تھوڑی دور ہی نامعلوم قاتلوں نے بلاجواز ڈاکٹر مہدی قمر کو ان کی اہلیہ اور بیٹی کے سامنے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ ابھی تک قاتلوں کا پتہ نہیں اور مجرموں کی تلاش اور گرفتاری کا نظام خاموش اور غیر متحرک ہے۔

آپ مقتول ڈاکٹر کی بیوہ اور بیٹی کی کیفیت کا اندازہ لگائیں کیا مقتول کے بچے اور بیوہ پاکستان سے تعلق رکھیں گے؟ڈاکٹر مہدی کے اس سترہ سالہ بیٹے کی اذیت کا اندازہ کیجئے جو امریکہ میں اپنے والد کی واپسی کا منتظر تھا۔ کیا ان بچوں سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور پاکستانی شناخت پر فخر کرنے کی توقع رکھنا ہو گی؟میں ڈاکٹر مہدی قمر کو قطعاً نہیں جانتا اور نہ ہی کبھی ملاقات ہوئی لیکن وہ بھی میری طرح امریکہ میں آباد ایک پاکستانی تھے جو اپنی اگلی نسل کو بھی پاکستان سے وابستہ رکھنا چاہتے تھے۔ نیویارک کے پاکستانی، امریکن ڈاکٹرز نے ’’اپنا‘‘ کے نیو یارک چیپٹر کے زہراہتمام7جون کوڈاکٹر مہدی کے بلاجواز قتل پر ایک احتجاجی مظاہرہ پاکستانی قونصلیٹ نیویارک کے سامنے کیا اور چیپٹر کے صدر ڈاکٹر پرویز اقبال کے ساتھ ڈاکٹرز کا ایک نمائندہ وفد ایک یادداشت پاکستانی قونصل جنرل کو پیش کرنے کیلئے قونصلیٹ گیا جس کے بارے میں ڈاکٹرز دو روز پہلے ہی قونصل جنرل کو اطلاع دے چکے تھے مگر ان ممتاز ، باعزت تعلیم یافتہ پاکستانی ڈاکٹرز سے یادداشت نہ تو قونصل جنرل اور نہ ہی وائس قونصل نے لینا گوارہ کیا، عملے کے ایک شخص کے حوالے یادداشت کی گئی۔ پاکستانی اوورسیز کی خدمت کرنے والے حکمراں افسروں کا یہ رویہ پاکستانیوں کیلئے کیا اثر دکھائے گا۔
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند