تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مودی کو محبت نامہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 14 شعبان 1435هـ - 13 جون 2014م KSA 09:04 - GMT 06:04
مودی کو محبت نامہ

کثرت کی آرزو نے تمہیں برباد کر ڈالا
حتیٰ کہ تم نے قبریں جادیکھیں
بے شک جلد تم جان لوگے
پھر بے شک جلد ہی تم جان لوگے

میر شکیل الرحمٰن اور میاں محمد نواز شریف کچح ہی کر گزریں۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ بیس کروڑ انسانوں کی یہ قوم نریندر مودی کے سامنے سربسجود ہوجائے۔ اندرا گاندھی ، یحیٰی خان، شیخ مجیب الرحمٰن اور ذوالفقار علی بھٹو، پچھلوں کا انجام ہمارے سامنے ہے۔ آئندہ بھی پاکستان سے بے وفائی کا جوارتکا کرے گا، اس کا انجام مختلف نہ ہوگا ۔ ہمیشہ کیلئے وہ نمونہ عبرت رہے گا۔ جب تک گردش لیل و نہار قائم ہے۔ اسکا نام رنج اور ملال سے لیا جائے گا۔ تاریخ کے قبرستان میں جن لوگوں کی قبروں پر حسرت کے کتبے نصب ہوں گے۔

وزیر اعظم پاکستان کا دورہ بھارت ایک آزاد ملک کے حکمران کی بجائے ایک تاجر کا پھیرا نظر آتا ہے۔ اپنے صحبزادے کو ساتھ لے گئے اور سیاستدانوں سے زیادہ کاروباریوں سے ملے۔ جندال سجن کے دولت کدے پر وہ تشریف لے گئے، جسے بھارت میں فولاد کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ اسکے ساتھ مشترکہ منصوبوں کی انہوں نے بات کی۔ پاکستان یا اتفاق کی طرف سے۔ ؟ اگر یہ ملک کے لیے ہوتا تو فرزند کی بجائے ، کوئی سرکاری شخصیت انکے ہمراہ ہوتی۔ پھر زی ٹی وی کے دو اہم عہدیداروں سے انہوں نے ملاقات کی۔ پاکستان کی رائے عامہ کیلئے ، جو ٹاک شوز سے بیزار ہو کر پھر سے ڈرموں کی طرف مائل ہے، انہوں نے ایک چینل جاری کرنے کا بندوبست کیا ہے۔ چودہری عبدالرشید پیمرا کے چیئرمین تھے تو یہی لوگ وزیر اعظم کی سفارش کے ساتھ ان سے ملے تھے۔ چوہدری نے یہ کہا: اس طرح کے معاملات دوطرفہ ہوا کرتے ہیں۔ آپ لوگ بھارت میں پی ٹی وی دکھانے کی اجازت دے دیں۔ اس کے جواب میں آپ کی درخواست پر ہم غور کریں گے۔

ان لوگوں نے کہا: وزیر اعظم نے تو ایسی کوئی بات نہ کی۔ سرکاری افسر کا موقف یہ تھا کہ وہ قومی قوانین کے پابند ہیں۔ وزیر اعظم سے ذاتی دوستی کے ےدعویدار یہ صاحب بضد ہوئے تو چوہدری نے کہا “Over my Dead Body” میری لاش سے گزر کر ہی یہ فیصلہ نافذ کیا جاسکتا ہے۔ میر شکیل الرحمٰن پہلے ہی ان سے ناراض تھے کہ نون لیگ کا حلیف ہونے کے باوجود پیمرا ان کے احکامات کی تعمیل کیوں نہیں کرتا (جب کہ فواد حسن فواد شائرہ ابرو کے منتظر رہتے ہیں)۔ میڈیا گروپ نے کردار کشی کی مہم برپا کر رکھی تھی۔ اس جسارت کے بعد وہ ناقابل برداشت ہوگئے اور برطرف کر دیے گئے۔

کیا پاکستان کو بھارتی فلمی صنعت اور ٹی وی کے بھانڈوں کی چراگاہ بنانے کا فیصلہ کیا جاچکا ہے؟ بھارت کا ایک صوبہ بنانے کا؟ پہلی بات یہ ہے کہ نریندر مودی نے، مسلمانوں کے قاتل وزیر اعظم نے میاں صاحب کو براہ راست فون کیا اور ذاتی طور پر دہلی آنے کی دعوت دی۔ فورا ہی یہ دعوت انہوں نے قبول کر لی مگر یہ کہا کہ اعلان وہ بعد میں کریں گے۔ دو دن تک مشاورت کا کھیل کھیلا جاتا رہا۔ اپنے وزرا اور سنگی ساتھیوں کے علاوہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف سے انہوں نے بات کی۔ معلوم نہیں، انہوں نے کیا مشورہ دیا۔ جنرل کو معلوم تھا کہ وہ وعدہ کر چکے ہیں۔ اس ڈرامے کا مطلب کیا تھا؟ اس تماشے کی ضرورت کیا تھی؟

اب پلٹ کر دیکھیں تو احساس ہوتا ہے کہ وزیر اعظم کو دہلی جانے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ پاکستان قوم کیلئے دہلی سے وہ خفت اور شرمندگی کؤلے کر آئے۔ جی نہیں ، نفرت کا کاروبار نہیں ، جنگ آزمائی نہیں، صلح اور مفاہمت ۔ ایک اندھا بھی جانتا ہے کہ دشمنی اور تصادم کا طویل پس منظر رکھنے والی دوریاستوں کے درمیان امن کا قیام خوف کے توازن سے قائم ہوتا ہے۔ ایک بدنہاد پڑوسی کے ساتھ اگر آپ کو گزارا کرنا ہو تو زیادہ سے زیادہ کتنی رعایت آپ دے سکتے ہیں؟ زیادہ سے زیادہ یہ کہ جواب میں آپ شائستگی اختیار کریں۔ سپر انداز تو آپ نہیں ہوتے۔ نگران وزیر اعلی نجم سیٹھی ، پنجاب پولیس ، ریٹرننگ افسروں، عرب ممالک اور انکل سام کی مدد سے میاں صاحب ’’منتخب‘‘ ہو چکے تو پاکستانی فوج کا سپہ سالار ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔

نہایت ادب کے ساتھ اس نے انہیں سمجھایا کہ بھارت کے ساتھ مراسم کی بہتری معمول کے سفارتی انداز میں ہونی چاہیے۔ ثانیاً طالبان کے ساتھ مذاکرات ہی کرنا ہیں تو تین چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ اول یہ کہ مذاکرات آئین کے دائرے میں ہونے چاہئیں، ثانیاً لامحدود مدت کے لیے ہرگز نہیں، ثالثاً طالبان کے حامی ان مولوی صاحبان کو شریک نہ کیا جائے، جو اسے ہائی جیک کرنے کی کوشش کریں۔ فوج سے نفرت کرنے والے لیڈر نے طے کر لیا کہ ہر گز وہ ان مشوروں پر عمل نہ کریں گے۔ باقی معاملات میں جس طرح وہ من مانی کرتے ہیں، اس میں بھی کر کے رہیں گے۔ غالباً اسی لیے سرتاج عزیز اور طارق فاطمی ایسے ماہرین کی موجودگی کے باوجود انہوں نے وزیر خارجہ کے تقرر سے گریز کیا۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کومانگے چاند۔

نہایت ہی قابل اعتماد ذرائع کے مطابق ، اور ان میں ایوان وزیر اعظم کے معتبر شخصیات شامل ہیں، تین باتیں قاتل نریندر مودی سے وزیر اعظم نے کہیں۔ اول یہ کہ الہٰ باد کے ساتحہ کو وہ بھول چکے اور اب آگے بڑھنا چاہیے، ثانیا پاک بھارت جامع مذاکرات کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں، کشمیر سمیت ہر موضوع پر افسر لوگ بات کر سکتے ہیں یا پس مردہ سفارت کاری۔ پھر کراچی، بلوچستان اور قبائلی پٹی میں تخریب کاروں کی مدد کرنے والے دہلی کے نئے حاکم سے انہوں نے کہا: افغانستان سے امریکیوں کی واپسی کے بعد اگر کوئی مسئلہ درپیش ہو تو آپ مجھ سے بار کر سکتے ہیں۔کی اتاریخ نے ایسا کوئی حاتم طائی دیکھا ہے، جو اپنے دشمن کے ساتھ ایسی فراخ دلی کا مظاہرہ کرے؟ صلاح الدین ایوبی کو میاں صاحب نے مات کر دیا، میدان جنگ میں جس نے رچرڈ کو ایک گھوڑا عطا کیا تھا، جب وہ اس سے محروم ہوگیا۔ اس کے علاج کا بندوبست کیا، جب وہ بیمار ہوگیا۔

اب وہ اور آگے بڑھے ہیں اور مسلمانوں کے دشمن کو اس وقت محبت بھرا پیغام بھیجا ہے، جب اکثر کا خیال یہ ہے کہ کراچی ائیرپورٹ کے خونیں واقعات میں بھارت ملوث ہوسکتا ہے۔ انہیں اس کی ضرورت کیوں آپڑی تھی؟ میر شکیل الرحمٰن یک طرفہ امن کا آشاپہ کیوں مصر ہیں؟ وہ دونوں ایک دوسرے کے ہم نفس کیوں ہیں، جب کہ خواجہ آصف کے بقول مشکوک میڈیا گروپ ملک دشمنی کا مرتکب ہوا؟ اس ادارے کیلئے سرکاری اشتہارات کیوں برقرار ہیں؟ پوری قوم کی طرف سے مسترد کیے جانے کے باوجود اسے بچالے جانے کی فکر انہیں کیوں لاحق ہے؟

پوری کی پوری’’ن‘‘ لیگ میں کوئی ایک صاحب حمیت بھی نہیں کہ جو اٹھ کھڑا ہو اور سوال پوچھے۔ انتہا یہ ہے کہ خطے میں امریکی پالیسیوں کی اندھی تقلید کرنے والی پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ بول اٹھے مگر نون لیگ؟
 

حمیت   نام    تھا    جس     کا     گئی    تیمور   کے     گھر      سے


پنجاب کے کاروباریوں کا ایک گروہ ہے، جو دہلی کے ساتھ لین دین میں اربوں کی یافت کے خواب دیکھتا ہے۔ پیسے کے پوت۔ یہ قابل فہم ہے مگر ایک بات سمجھ میں نہیں آّتی۔ حب وطن کی بے داغ تاریخ رکھنے والی جماعت اسلامی کیوں خاموش ہے۔ ؟ عمران خان کیوں خاموش ہیں؟ کیا کوئی سنتا ہے یا سب کے سب سو گئے؟ کیا کوئی جیتا ہے یا سب مر گئے؟ لیڈر وہ لوگ ہوتے ہیں ، جو قوم کی آرزو کو پہچان سکیں۔ افسوس کہ آج ایک بھی لیڈر نہیں۔ بغیر سرکا دھڑ! رہے نواز شریف تو ان کا معاملہ بالکل ہی دگرگوں ہے۔

کثرت کی آرزو نے تمہیں برباد کر ڈالا
حتیٰ کہ تم نے قبریں جادیکھیں
بے شک جلد تم جان لو گے
پھر بے شک جلد ہی تم جان لوگے

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند