تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نبی کی تلوار
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 18 شعبان 1435هـ - 17 جون 2014م KSA 15:23 - GMT 12:23
نبی کی تلوار

اس بات کا مجھے یقین ہے کہ یہ جنگ ہم ضرور جیتیں گے، کیونکہ کسی نے اس کا نام حضور کی تلوار کے نام پر رکھ دیا ہے۔ اسے میں ایک اچھا شگون ہی کہوں گا۔ اگر خالد بن ولید ابدا لاباد تک ناقابل شکست رہ سکتے ہیں اور شہادت کی حسرت لے کر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، کیونکہ حضور نے انہیں سیف اللہ کا لقب عطاء فرمایا تھا اور اللہ کی تلوار ٹوٹا نہیں کرتی، تو نبی کے دست معجز رقم میں چمکنے والی تلوار پر شروع کیا جانے والا آپریشن ناکام نہیں ہو سکتا۔

مگر اس کے ساتھ ہم پر ایک ذمہ داری بھی آن پڑی ہے۔ ہم نے اگر اس آپریشن کی نسبت ا س طرح حضور نبی کریم سے کر دی ہے، تو ہمیں اس کی حرمت اور عظمت کا احترام بھی کرنا پڑے گا۔ دیکھنا کہیں کوئی گستاخی نہ ہونے پائے۔ یہ گستاخی شان رسالت میں گنی جائے گی اور بارگاہِ خداوندی میں قابل قبول نہ ہوگی۔ ہمارے ایمان کا بھی امتحان ہے اور ہمارے ارادوں کا بھی۔ اچھا ہو تا کہ آئی ایس پی آر کے اعلامیہ سے پہلے وزیر دفاع خواجہ آصف کا بیان آ جاتا۔ اس سے بھی اچھا ہوتاکہ وزیراعظم خود اس کا اعلان کرتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے مذاکرات کا مرحلہ بڑی احتیاط سے طے کیا۔ سو طرح کی باتیں سنیں۔ ایک قائد کا اصل جوہر بحران ہی میں کھلتا ہے۔ خاص کر وہ قائد جو حالت جنگ میں قوم کی کامیاب قیادت کرتا ہے، تاریخ میں اپنا نام بنا لیتا ہے۔ چرچل اور روز ویلٹ اسی لئے بڑے لیڈر تھے کہ انہوں نے اپنی اپنی قوموں کو حالت جنگ میں بھرپور قیادت فراہم کی۔ اسٹالن کی بھی کوتاہیاں اس وقت تک چھپی رہیں جب وہ جنگ میں قیادت کا فریضہ انجام دے رہے تھے۔

یہ جنگ ذرا مشکل جنگ ہے۔ یہ صرف ایک بغاوت کو فرو کرنے کا معاملہ نہیں، جو لوگ عالمی حالات کی نبضیں پہنچانتے ہیں، اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ اس وقت تک صورت حال یہ دکھائی دیتی ہے کہ پوری قوم اپنے تحفظات کے ساتھ اس کارروائی کی حمایت کرے گی۔ اصل میں تحفظات کی بھی وجوہ تھیں۔ ان میں بڑی بڑی وجوہ یہ تھیں، یہ آپریشن، یہ کارروائی، یہ جنگ اپنے ہی ”جغرافیے“ میں لڑی جانا ہے۔ یہ کبھی مستحسن بات نہیں ہوا کرتی۔ جغرافیے کا مطلب صرف سنگلاخ پہاڑ اور وادیاں نہیں، اس میں بسنے والے لوگ بھی ہیں جن کی اکثریت یقینا اپنی تھی اور ہے۔ انہیں ایک اقلیت نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ اس کے ساتھ ہی غیر ملکیوں نے اپنے ٹھکانے بنا رکھے تھے۔ انہیں غیر ملکی قوتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

یہ بھی درست ہے کہ پورے ملک میں انہوں نے اپنی جڑیں پھیلا رکھی تھیں۔ اس بات کا خدشہ محسوس کیا جاتا ہے کہ یہ ملک کے اندر جوابی کارروائیاں کریں گے۔ ان کے ارادے اتنے پھیل چکے ہیں کہ مذاکرات کے ردعمل کے بعد انہوں نے جس طرح کراچی ایئر پورٹ کو نشانہ بنایا، اس نے مفاہمت کی ہر امید کا سر کچل کر رکھ دیا، یہ بھی اطلاعیں آ رہی تھیں کہ انہوں نے بڑے بڑے خطرناک منصوبے بنا رکھے تھے۔ مثال کے طور پر ایک منصوبہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ واہگہ بارڈر پر ایک کارروائی کرنا چاہتے تھے۔ وہاں سرحد پر پرچم اتارنے کی جو رسم بڑے طمطراق سے برسوں سے روایتی طور پر ہوتی ہے، یہ اس کے حوالے سے منصوبہ سازی کر رہے تھے کہ وہاں موجود بھارتی اور پاکستانی فوجیوں کو یا تو اڑا دیا جائے یا یرغمال بنا لیا جائے۔ یہ ایسی بات ہے کہ اگر درست ہے تو اس کا مطلب پاک بھارت جنگ چھیڑنا بھی ہو سکتا تھا۔ اسی پس منظر میں طے کیا گیا کہ آپریشن بہرحال ناگزیر ہے۔

فوجی نقطہ نظر سے جو صورت حال ہمیں آج سے دو چار مہینے پہلے سمجھائی گئی تھی، اس کے مطابق ہم ساری ایجنسیوں میں آپریشن کر چکے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں بھی فوج موجود ہے۔ صرف میر علی، میرانشاہ سے دتا اڈہ تک ایک پٹی ہے جو بارڈر تک جاتی ہے، اس پر ان مسلح انتہا پسندوں کا قبضہ ہے۔ فوج کہتی ہے اسے خالی کرانا کوئی مشکل کام نہیں۔ صرف 4 سے6 ہفتے درکار ہیں، پورا علاقہ کلیئر ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ چند اندیشے ہیں کہ جب یہ جوابی کارروائی کریں گے تو کیا ہم اس کے لئے تیار ہیں۔ سوات میں آپریشن ہواجس کی تعریف پوری دنیا نے کی۔

دنیا کی عسکری اکیڈیمیوں میں اس آپریشن کا مطالعہ ہونے لگا۔ ہوا مگر یہ کہ ہم نے اس کے بعد وہاں کوئی سویلین ایڈمنسٹریشن تیار نہیں کی۔ اس وقت لگتا ہے فوج نے یہ کام بھی اپنی نگرانی میں لے لیا ہے۔ اپنے حساس اداروں کی نگرانی کے ساتھ ملک کی حساس جگہوں پر نگرانی کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ ایئرپورٹس، پارلیمنٹ، اسمبلیاں ہر اہم جگہ پر فوج تعینات ہے۔ جس دن یہ خبر آئی تھی کہ اسلام آباد کا انتظام فوج نے سنبھال لیا ہے، اس دن اندازہ ہوگیا تھا کہ صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اگلی ہی رات ہمارے ایف 16 طیاروں نے علاقے میں بمباری کی، رکے ہوئے ڈرون حملے پھر شروع ہوگئے۔ ہم نے افغان حکومت سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اپنے علاقے میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے گرد گھیرا تنگ کریں اور ہمارے علاقے سے فرار ہو کر افغانستان بھاگنے والوں کو پناہ نہ لینے دیں۔

یہ ایک بڑی جنگ ہے۔ ہم نے کس لئے اس سے پہلو تہی کی، یہ الگ بحث ہے اور اپنے اندر ٹھوس دلائل رکھتی ہے۔ اوپر میں نے چند بیان کئے ہیں۔ (1) اپنے ہی جغرافیے میں اپنی ہی آبادی سے جنگ (2) غیر ملکی قوتوں کی شہ پر غیر ملکیوں کی موجودگی (3) اور اندرون ملک ان کی جڑیں۔ ان تین وجوہ کے علاوہ اور معاملات بھی تھے۔ جیو پولیٹکل صورتحال، یہاں کا قبائلی سیٹ اپ جو احتیاط کا تقاضا کرتا تھا، عالمی طاقتوں کا رویہ جو خود ایک چیلنج ہے۔ اس کے ساتھ اس کارروائی کی حمایت میں ہمارے ہاں جس طرح لبرل فاشسٹ ٹولے نے واویلا کر رکھا تھا، اس سے پتا چلتا ہے کہ اصل کہانی کچھ اور ہے۔ جو اب میں یہاں بھی مذہبی جذبات کو ابھارا گیا۔

اسلامی ذہن رکھنے والے سبھی سوچنے سمجھنے والوں نے واضح کیا کہ ان کالوگوں اسلام کی مین سٹریم بلکہ اسلام ہی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ خوارج سے لے کر سبائیوں تک مختلف تحاریک کی تاریخ گنوائی گئی۔ اب کیا کہا جائے دنیا میں ہمیں انتہا پسندی کی طرف دھکیلا گیا ہے۔ یہی دیکھئے، ابھی اس واقعے کو24 گھنٹے نہیں گزرے کہ وہی یبوست زدہ آزاد خیالی کی پیلی چادر اوڑھے ہوئے مدقوق ذہن اپنی اپنی ہانکنے لگے ہیں کہ دیکھو ہم نہ کہتے تھے یہی ایک حل ہے۔ ان کی زبان سے نکلنے والے یہ الفاظ عالمی ایجنڈے کا حصہ تھے۔ اس کے اسباب دوسرے تھے۔ ہمارے معاملات الگ تھے۔ اسی ردعمل نے ان مسلح دہشت گردوں کو پیدا کیا۔ ردعمل کا نتیجہ رجعت پسندی ہوا کرتا ہے۔ یہ انقلاب سے الٹ بات ہے۔ یقینا یہ غیر انقلابی انداز تھا۔ اس لئے مجھ جیسوں نے اسے پسند نہ کیا۔

لیکن اس کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی کہ اس کی آڑ میں اسلام او راسلامی اقدار کو نشانہ بنایا جائے۔ جب بھی یہاں اسلامی انقلاب آیا تو ان شاء اللہ ہم اس کے ساتھ ہوں گے، مگر فی الحال اس کا کوئی امکان نہیں۔ میں تو عراق میں پیدا ہونے والی صورت حال سے بھی پریشان ہوں۔ سنا ہے، امریکیوں کو کردوں کے نیم آزاد علاقے اور تیونس کے علاوہ عالم اسلام میں کوئی اچھی بات نظر نہیں آتی۔

سچ پوچھئے، تو مجھے بھی اس سے اختلاف نہیں ہے، البتہ وہ جو استثنیٰ بتاتے ہیں، ان کے بارے میں بھی تحفظات ہیں۔ عراق کے حوالے سے مشرق وسطیٰ میں جو قیامت برپا ہونے کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں، وہ صرف اس حوالے ہی سے پریشان کن نہیں، یہ خیال بھی آتا ہے، عراق کی فوج تو پھر بہتر حالات میں تھی، اگرچہ امریکیوں نے کھڑی کی تھی اور اس پر انہیں بڑ امان تھا کہ دیکھا انہوں نے کس طرح عراق میں جمہوریت کھڑی کر دی ہے، افغانستان کی فوج تو اپنی ہیئت اور ساخت کے لحاظ سے اس سے کہیں پہلے ڈھے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا سارا ملبہ نہ بھی چاہیں تو ہم پر گرے گا۔ افغانستان کے بارے میں ہمارے حکومتی اور عسکری اداروں کا تذبذب اسی وجہ سے تو تھا۔ مجھے نہیں معلوم عراق کی صورت حال سے عالم اسلام میں کیا کیا بھونچال آ سکتے ہیں۔ اس میں عراق ہی نہیں شام بھی شامل ہے۔ یہی نہیں ایران بھی الگ نہیں اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک بھی اس میں شامل ہیں۔

بڑی خوفناک کہانی ہے۔ آج ہی ایک تجزیہ پڑھ رہا تھا۔ یہ جیل خانے سے لکھی ایک تحریر ہے۔ اسے 35 سال کی سزا ہوئی ہے۔ اس نے وہ خفیہ دستاویزات الم نشرح کر دیں جس سے اس کا سرکاری حیثیت میں واسطہ پڑا۔ عراق کی جنگ میں اس نے دیکھا کہ کیسے اس کے ہم وطن سچ کا خون کر رہے ہیں۔ اس نے یہ انکشافات وطن کی محبت میں کئے، اگرچہ اسے علم تھا کہ اس سے قانون شکنی کا ارتکاب ہو رہا ہے۔ ایک انٹیلیجنس افسر کے طور پر اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ بہرحال اس میں ان صحافیوں کا تذکرہ ہے جنہیں Embeded کہا جاتا ہے۔ کیا ترجمہ کروں، ہم بستر کہوں۔ لفظ تو مل جائے گا، مگر اصل نیت اور ارادہ جاننے کے لئے یہی لفظ کفالت کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے، کبھی ان کی تعداد 12 سے زیادہ نہیں رہی۔ تین کروڑ سے زیادہ آبادی کے اس ملک میں ایک لاکھ 17 ہزار امریکی فوجی اور ان پر خبر دینے کے لئے صرف 12 ہم بستر صحافی، جو سفارش سے منتخب ہوئے یا جن کے بارے میں یقین ہوتا ہے کہ یہ حق ہی میں خبر دیں گے۔ ایسے میں صحافیوں میں بھی یہ ”اعزاز“ حاصل کرنے کی دوڑ لگی رہتی تھی۔ آخر صحافت اسی کا نام ہے۔

مجھے یقین ہے، ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ میدان جنگ کے اپنے تقاضے ہیں، مبادا ہماری دوڑیں لگ جائیں۔ اس سے بہتر ہے سرکاری اور عسکری ذرائع ہمیں درست خبریں دیتے رہیں۔ شاید ہم ”ہم بستری“ کے متحمل نہیں ہو سکتے اور تاریخ کبھی ایسے وقائع نگاروں کو معتبر نہیں سمجھتی۔ یہ بات ملک و قوم کے مفاد میں بھی نہیں گنی جاتی۔ یہ قوم اس جنگ کے بارے میں ایک طویل تذبذب کا شکار رہی ہے۔ آخر کوئی وجہ ہوگی۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوات آپریشن اور دوسری مختلف کارروائیوں کے بارے میں فوری خبریں ہی نہیں، اب تاریخی جانچ پڑتال بھی سامنے آ چکی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم اس جنگ میں ضرور سرخ رو ہوں گے۔ اس کی میرے نبی سے نسبت کر دی گئی ہے۔ جانے کس نے ڈھونڈ کر یہ لفظ ”عضب“منتخب کیا۔ میں نے اسے ضخیم اسلامی انسائیکلوپیڈیا میں تلاش کرنا چاہا جو پنجاب یونیورسٹی نے کوئی 25 جلدوں میں شائع کیا ہے۔ یہ اس میں موجود نہیں۔ اچھے اچھے ماہرین سوچ میں پڑ گئے۔ میں اسے نیک شگون سمجھتا ہوں۔ نبی کی تلوار کو شکست نہیں ہو سکتی۔ پر اس سے ہماری ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔

بشکریہ روزنامہ 'نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند