تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ضرب عضب اور پاک،امریکہ ڈپلومیسی؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 23 جمادی الاول 1441هـ - 19 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 19 شعبان 1435هـ - 18 جون 2014م KSA 09:16 - GMT 06:16
ضرب عضب اور پاک،امریکہ ڈپلومیسی؟

اہل پاکستان کیلئے ایک اچھی خبر یہ بھی ہے کہ بروکلین نیویارک کی ایک دس سالہ پاکستانی نژاد ہدیٰ ایاز نامی بچی خود پانچویں کلاس کی طالبہ ہے مگر اپنی ذہانت کی بدولت وہ ابھی سے اپنی عمر کے بچوں کے لئے تخلیقی کہانیوں کی کتابیں بھی لکھ رہی ہے جسے امریکہ کا ممتاز پبلشنگ ہائوس تجارتی پیمانے پر شائع کررہا ہے۔ ہدیٰ ایاز کی انگریزی میں کہانیوں اور ذہنی صلاحیتوں کا اعتراف اس کے اساتذہ اور والدین ہی نہیں کرتے بلکہ امریکی پبلشنگ ہائوس کے نمائندے بھی مداح ہیں۔

دوسری اچھی خبر یہ ہے کہ 16 جون کو وہائٹ ہائوس میں صدر اوباما کے ہیلتھ کیئر پلان کے سلسلے میں امریکہ بھر سے جن 70 تا 80  افراد کو صلاح مشورے اور تعاون کے لئے شکریہ کے لئے مدعو کیا گیا تھا ان میں پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم ’’اپنا‘‘ کے موجودہ صدر ڈاکٹر آصف رحمان کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تین گھنٹے کے سیشن میں ڈاکٹر آصف رحمان کی شرکت اور اظہار خیال ’’اپنا‘‘ اور پاکستانی کمیونٹی کے لئے ایک اعزاز ہے کہ امریکہ میں رہنے والے پاکستانیوں کی صلاحیتوں سے ان کا آبائی وطن فائدہ اٹھانے سے کتنا ہی انکاری ہو امریکہ ان کی صلاحیتوں کا بھرپور اعتراف اور استفادہ کرتا ہے۔

بری خبر یہ ہے کہ مسلم دنیا کے ممالک کو مزید ابتری، بدامنی، تصادم اور تباہی کی صورت حال کا سامنا ہے۔ معاشی مشکلات کے شکار اور 12سال تک دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ملک کے طور پر امریکی اتحادی پاکستان کی فوج کو اب اپنے وسائل پر کلی انحصار کرتے ہوئے دہشت گردوں اور طالبان کے خلاف بھرپور فضائی اور زمینی جنگ لڑنا پڑ رہی ہے۔ اس فضائی اور زمینی آپریشن پر ایک دن کے اخراجات کتنے ہوں گے؟ یہ سوال تو آئی ایس پی آر سے پوچھنے کا ہے۔ فوج تو بیرونی خطرات اور دہشت گردوں کے خلاف مصروف کار ہو گئی اور ہمارے بعض لیڈران داخلی بحرانوں کا سلسلہ اور شدت قائم رکھنے کے لئے احتجاج اور ایجی ٹیشن کی سیاست کرنے کے لئے سرگرم ہو رہے ہیں۔ ایران، بھارت اور افغانستان کی غیردوستانہ سرحدوں سے گھرے ہوئے معاشی اور معاشرتی مشکلات کے شکار پاکستان کی نازک اور مشکل صورت حال سے بے نیاز ہمارے سیاستدان اپنے ایجی ٹیشن کی تیاریاں مکمل کرچکے۔ کیا نوازشریف حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی پاکستان میں عوامی انقلاب آجائے گا؟

امریکی صدر بش نے عراق پر امریکی حملہ سے قبل اعلان کیا تھا کہ صدام حسین کی آمرانہ حکومت کو ختم کرنے سے جمہوریت آئے گی اور عراقی عوام آزادی کی فضا میں سانس لے سکیں گے لہٰذا امریکہ عراقی عوام کی خدمت اور انقلاب کے لئے یہ جنگ کر رہا ہے۔ آج صدام حسین کے اقتدار اور زندگی کے خاتمے کو کئی سال گزر چکے ہیں لیکن عراقی عوام اور سرزمین ابھی تک تباہی اور انتشار کی گہرائیوں میں پڑے ہوئے ہیں بلکہ اب وہ فرقہ وارانہ تقسیم کے نام پر ایک اور جنگ کا شکار ہونے جا رہے ہیں لیکن صدر بش کا عراق میں جمہوریت، خوشحالی اور استحکام کا وعدہ پہلے سے بھی زیادہ ناممکن نظر آتا ہے۔ علامہ طاہر القادری کا نعرہ انٓقلاب تو ابھی سے وضاحتوں اور عملی مثالوں کا محتاج ہے۔ فوج کی موجودہ مصروفیت، داخلی انتشار، معیشت کی بدحالی، عدم استحکام کے اس ماحول میں گھرے ہوئے پاکستان میں فاشزم اور انارکی تو آسکتی ہے لیکن کسی روڈ میپ اور عملی ماڈل کے بغیر عوامی انقلاب اور آزادی کا تو کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ اگر عوامی انقلاب کے نام پر پاکستان کے مسائل میں اضافہ مقصود ہے تو پھر اور بات ہے۔ یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ سرحدوں پر مصروف پاکستانی فوج کو آپ کیا دے رہے ہیں؟

بری خبر یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف 12 سال تک امریکہ کے اتحادی پاکستان کو اب امریکی تعاون کی ضرورت آن پڑی ہے وہی ڈرون جن کے حق میں ہمارے حکمرانوں کی خاموش رضٗامندی اور تعاون جبکہ عوامی ڈپلومیسی کی سطح پر سخت پاکستانی احتجاج کا عمل جاری رہا، اب پاکستانی فوج کو انہی ڈرون کی ضرورت ہے۔ جنگی طیاروں کی بمباری کے اخراجات خطرات اور نتائج کے مقابلے میں ڈرون حملوں سے بہتر موثر اور اچھے نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ یہ جنگ بھی دہشت گردوں کے خلاف ہے لہٰذا بطور اتحادی امریکہ کو پاکستان سے تعاون کرنا ہوگا۔

اگر پاکستانی سفارتکار اور قائدین اور فوج باہمی مشاورت سے امریکہ سے تعاون حاصل کرنے کی حدود کا تعین کرلیں اور امریکہ سے دہشت گردوں کے خلاف تعاون کے لئے مذاکرات کرکے معاملات کی حدود اور مقاصد طے کرلیں تو پاکستان کے جنگی اخراجات میں کفایت اور ٹارگٹ کے حصول میں بڑا فائدہ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح امریکی وعدہ یہ تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات پاکستان کو امریکہ ادا کرے گا۔ اتحادی فنڈ یعنی کولیشن فنڈ اسی کا نام ہے چونکہ یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے لہٰذا امریکہ سے ایسے فنڈ کا پاکستانی مطالبہ جائز ہے۔ اب جب امریکہ افغانستان سے پیچھے ہٹ رہا ہے تو پھر پاکستان کو اپنے مفاد کے لئے امریکی تعاون طلب کرنے کے لئے مذاکرات میں حرج کیا ہے؟ انکار کی صورت میں امریکی امیج متاثر ہوگا اور دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی سنجیدگی کا بھی اندازہ ہوجائے گا۔ یوں بھی افغانستان سے رخصت ہونے والے امریکہ کے افغانستان اور اس کے اردگرد موجود جاسوسی و نگرانی کے نظام، ڈرون اور دیگر جنگی آلات و ہتھیاروں کے جنوبی ایشیا میں استعمال کا آخری موقع امریکہ کے لئے نئے نتائج اور مقاصد کا حامل ہوگا۔

ایک بری خبر یہ بھی ہے کہ موجودہ مسلم دنیا کے جغرافیہ کی عمر ابھی سو سال سے بھی کم ہے بلکہ پاکستان سمیت سعودی عرب مراکش، مصر، تیونس، شام، لبنان، اردن، عراق وغیرہ نامی ممالک پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئے تھے۔ ان ممالک کی جغرافیائی سرحدوں کا تعین بھی نوآبادیاتی عالمی طاقتوں نے اپنی مرضی کے تحت طے کیا تھا۔ بادشاہت کے خاندان بھی بطور حکمراں اسی طرح تیار کئے گئے تھے۔ آج پھر عالمی طاقتوں کے مفادات اور منصوبے اپنے ہی قائم کردہ ممالک اور ان کی جغرافیائی سرحدوں کو اپنی ضرورت کے تحت تبدیل و تقسیم کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔پانچ مسلم ممالک میں سے 14 ممالک بنانے کے جغرافیہ پر عمل ہو رہا ہے۔ پروٹسٹنٹ اور کیتھولک عیسائیوں کی تقسیم اور تاریخ کو مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ شام اور عراق عملاً تقسیم ہو چکے باقی مسلم ممالک کی باری بھی جلد آنے کو ہے۔ مسلم دنیا کا نقشہ ایک بار پھر تبدیل کیا جارہا ہے اور مسلمان حکمراں اپنے وسائل کی فراوانی کے باوجود عاقبت نا اندیشی، ہوس اقتدار کی روش پر چل رہے ہیں۔

مسلم ممالک وسائل کی بہتات کے باوجود ماضی کے 50 سالوں میں صنعتی میدان اور خود کفالت کے شعبے میں آگے نہ بڑھ سکے۔ مصنوعی امپورٹڈ خوشحالی اور انحصار کو کافی سمجھا گیا۔ اب ان کے وسائل بھی دوسروں کے تصرف میں ہوں گے اور سرزمین بھی دوسروں کے ایجنڈا کی تعمیل میں استعمال ہو گی۔ آج بھی پاکستان ان حالات کے باوجود مسلم دنیا کا ایک ایسا ملک ہے کہ اگر خدانخواستہ پاکستان کو کچھ ہوا تو پھر پوری مسلم دنیا میں کوئی ایک بھی مسلم ملک جو بھارت اور اسرائیل کے درمیان واقع ہے وہ اپنی سلامتی اور دفاع کی جنگ میں دو دن کے لئے بھی نہ تو لڑ سکے گا اور نہ ہی ٹھہر سکے گا۔ تاریخی ایران بھی خود کو اکیسویں صدی کی تبدیلیوں سے محفوظ نہ رکھ سکے گا۔ پاکستان کی بقا اور دہشت گردی کی جاری جنگ میں کامیابی افغانستان سمیت مسلم دنیا کے ممالک کے لئے ایک ڈھال بن کر خطرات کو ٹال سکتی ہے اور مسلم دنیا کے لیڈر اپنی مملکت اور قوموں کے بچائو کی تدابیر کرسکتے ہیں،کاش ایسا ہوسکے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند