تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مودی اور مسلمان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 19 شعبان 1435هـ - 18 جون 2014م KSA 09:09 - GMT 06:09
مودی اور مسلمان

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں اپنے پہلے خطاب میں جہاں اپنی حکومت کا ایجنڈا پیش کیا، وہیں ملک کی سب سے بڑی اقلیت (مسلمانوں) کا ذکر کرتے ہوئے انکے حالات کو بہتر بنانے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔ گو کہ ان ارادوں پر ابھی رائے بنانا قبل از وقت ہو گا، مگر مودی نے جس طرح ایک فلاحی حکومت کا خواب دکھانے کی کوشش کی ہے، اندیشہ ہے کہ کہیں یہ ایک مفروضہ ثابت نہ ہو جائے۔ اس سے قبل بھی کئی لیڈروں نے ماضی میں اسی طرح کے خواب عوام کو دکھائے ہیں، مگر جب انکا سامنا زمینی حقائق سے ہوا تو وہ آسمان سے زمین پر آ گئے۔

اس تقریر میں مودی نے مسلمانوں کے حوالے سے کہا کہ دہائیاں گزرنے کے باوجود ملک کی سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمان غربت کا شکار ہیں۔ نئی حکومت ملک کی ترقی میں اقلیتوں کو شریق بنانے کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔ اگر مودی حکومت واقعی مسلاموں کی ترقی اور انکی بہتری کیلئے کوئی ٹھوس قدم اٹھاتی ہے تو یہ قابل تعریف ہو گا۔

سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ نے 2005ء میں جسٹس راجندر سچر کی قیادت میں مسلمانوں کی اقتصادی اور سماجی صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے ایک کمیشن قائم کیا تھا، جس نے مسلمانوں کی پسماندگی کے حوالے سے کئی ہوشربا انکشاف کیے، جس کے نتیجے میں سابق حکومت نے ایک 15 نکاتی پروگرام کی منظوری دی جس کے تحت مسلم بچوں کو اسکالر شپ اور مسلم اکثریتی علاقوں میں خصوصی ترقیاتی اسکیموں کا نفاذ شامل تھا۔ مودی حکومت نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا ہے ، کہ آیا یہ اسکیمیں جاری رہیں گی یا ختم کی جائیں گی، کیونکہ مغربی صوبہ گجرات کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے انہوں نے ان اسکیموں کی مخالفت کی تھی اور ان میں سے اکثر اسکیموں کو گجرات میں لاگو نہیں ہونے دیا تھا۔

مودی کی تقریر سے قبل صدر جمہوریہ پرناب مکھرجی نے دونوں ایوانوں سے رسمی مشترکہ خطاب کیا، جو در اصل نئی حکومت کی پالیسیوں اور ترجیحات کا اعلان ہوتا ہے۔ صدر مملکت کی تقریباً پانچ ہزار الفاظ پر مشتمل تقریر میں پچاس نکات بیان کئے گئے ہیں۔ ان میں اقلیتوں کے بارے میں سرسری طور پر یہ کہا گیا :’’یہ افسوس کا مقام ہے کہ آزادی کے ایک طویل عرصہ بعد بھی اقلیتی فرقوں کے طبقات مفلسی اور بدحالی کا شکار ہیں کیونکہ سرکاری فلاحی اسکیموں کے ثمرات انتک نہیں پہنچے ہیں۔ حکومت تمام اقلیتوں کو ہندوستان کی ترقی کی دوڑ میں شامل کرنے کیلئے عہد بستہ ہے۔ حکومت اقلیتی فرقوں میں جدید اور ٹیکنیکل تعلیم کے فروغ کی طرف خصوصی توجہ دے گی اور اسے تقویت پہنچانے کیلئے اقدامات کرے گی اور نیشنل مدرسہ ماڈرنائزیشن پروگرام شروع کرے گی۔‘‘ اس مختصر سے اعلان میں کوئی ایسی بات نہیں جو قابل ذکر ہو اور جس سے اقلیتوں کی پسماندگی کے تیئں نئی حکومت کی فکر مندی کا اظہار ہوتا ہو۔ اس اعلان کو رسمی یا خانہ پری سے تعبیر کیا جا سکتا ہے تاکہ اہل ملک اور دنیا کے سامنے یا تاثر جائے کہ یہ ایک سیکولر حکومت ہے جو تمام فرقوں کی بہبود اور ترقی کیلئے کوشاں ہے۔

تاہم مدارس سے متعلق مودی حکومت کی فکر مندی چہ معنی دارد؟ نیشنل مدرسہ ماڈرنائزیشن پروگرام کا اعلان دراصل ایک تیر سے دو نشانے لگانے کی کوشش ہے۔ ایک یہ تاثر دینا کہ مسلمانوں کی اکثریت جدید یا عصری تعلیم حاصل نہیں کرتی، یہی انکی پسماندگی کی وجہ ہے، دوم یہ تاثر دینا ہے کہ وہ مدارس کے نظام میں اصلاح کیلئے کوشاں ہے جس کا مطالبہ فرقہ پرست تنظیموں اور عناصر کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ نئی حکومت بننے کے چند دن بعد آر ایس ایس کے رہنما اندریش کمار نے، جنکا نام مبینہ طور پر دہشت گردی کے واقعات میں آچکا ہے، جے پور میں کہا تھا کہ مدارس مذہبی جنون پھیلانے کی تعلیم دیتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ مسلمان ایسے مدرسے قائم کر کے دکھائیں جو قومی یکجہتی کا درس دیتے ہیں۔ مدرسہ ماڈرنائزیشن پروگرام کو ہندو قوم پرستوں کی مربی تنظیم آر ایس ایس کے دیرینہ مطالبہ کے تناظر میں دیکھنا چہیے۔

سچر کمیٹی کے مطابق مسلمانوں کا محض چار فی صد حصہ مدارس میں تعلیم حاصل کرتا ہے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق یہ تعداد 15 فیصد ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر بقیہ 96 یا 85 فیصد مسلم آبادی کیلئے مودی سرکار کے پاس کیا پروگرام ہے؟ اس سے قطع نظر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ مدارس کیلئے جدید کاری کا کونسا نیا پروگرام حکومت شروع کرے گی؟ یہ پروگرام تو نوے کی دہائی سے چلا آ رہا ہے۔ اس میں کسی نئی بات کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا۔ بہر حال جملہ معترضہ کے طور پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ مسلمانوں نے جس طرح دین کا تصور محدود کر دیا ہے ، اسی طرح انہوں نے تعلیم کا تصور بھی محدود کر دیا ہے، ورنہ آج یہ صورت حال نہیں ہوتی کہ ہر آنے والی حکومت کی ’’خصوصی عنایت‘‘ مدارس پر ہوتی ہے۔ چنانچہ مدارس کی شکل میں مسلمانوں کے اصل تعلیمی مسائل سے صرف نظر کرنے کا ایک بہانہ مل گیا ہے۔

علاوہ ازیں نئی حکومت نے اقلیتوں کو ترقی کی دوڑ میں بھی شامل کرنے کا وعدہ کیا ہے تاہم یہ اعلان بھی مبہم ہے۔ اس سلسلہ میں بھی کسی لائحئہ عمل کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ یہ صرف ہوائی باتیں ہیں جن کا مقصد صرف دنیا کے سامنے اپنا سیکولر میچ پیش کرنا ہے۔ اگر مودی حکومت واقعی اس سلسلہ میں سنجیدہ اور مخلص ہے تو اسے مساوی مواقع فراہم کرنے کیلئے اقلیتوں کو ریزرویشن دینے اور مساوی مواقع کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کرنا چاہیے تھا۔

صدر جمہوریہ کی تقریر میں جو دوسرا نکتہ اقلیوں کے متعلق بیان کیا گیا ہے، وہ فرقہ وارانہ فسادات کے سدباب کے سلسلہ میں ہے۔ حالانکہ فرقہ وارانہ تشدد ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے پورا ملک متاثر ہوتا ہے۔ اس بارے میں صدر جمہوریہ نے کہا ’’حکومت بائیں بازو کی انتہا پسندی سے نمٹنے اور فرقہ ورانہ تشدد ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے پورا ملک متاثر ہوتا ہے۔ اس بارے میں صدر جمہوریہ نے کہا ’’ حکومت بائیں بازو کی انتہا پسندی سے نمٹنے اور فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کے انسداد کیلئے ریاستی حکومتوں کے صلاح و مشورے سے ایک قومی حکمت عملی تیار کرے گی۔‘‘ تاہم اس بارے میں نئی حکومت کے وعدے پر زیادہ اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

عام انتخابات کے اختتام پذیر ہونے کے بعد سے اب تک ایک درجن سے زائد فسادات ہو چکے ہیں۔ منافرت پھیلانے والے عناصر اور تنظیموں کے حوصلے اتنے بلند ہوچکے ہیں کہ پونا میں ایک مسلم نوجوان پروفیشنل شیخ محسن صادق کو انتہائی بیدردی سے قتل کردیا گیا۔ انکی جماعت کے پونا سے رکن پارلیمان نے محسن کے قتل پر انتہائی اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہ ایسا ہونا ایک فطری رد عمل تھا جبکہ مظفر نگر فسادات میں ملوث انکی پارٹی کے ایک ایم ایل اے نے انکا مطالبہ تسلیم نہ کرنے پر نظم و نسق کا مسئلہ کھڑا کرنے کی دھمکی دی۔ ان واقعات کے تناظر میں حکومت کے ان اعلانات پر کون اعتبار کرے گا؟

چنانچہ اقلیتوں، کمزور طبقات، دلتوں اور دیگر طبقات کو اس حکومت کے وجود میں آنے کے حوالے سے جو خدشات لاحق تھے انکے زائل ہونے کا امکان کم نظر آ رہا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند